کافی برس پہلے کی بات ہے۔ قصّہ ایک شام کا ہے اور بات ایک کام کی۔ آپ روزنامہ جنگ کا ’’سنڈے میگزین‘‘ تو اُٹھا ہی چُکے ہیں۔ اب ایک کپ گرما گرم چائے یا کافی بھی لیجیے اور مزے لے کر کہانی سُنیے۔ اگر آپ شاہی قلعہ لاہور گئے ہیں تو آپ نے لازماً دیکھا ہوگا کہ دنیا کی سب سے بڑی Picture Wall سے آگے ایک بہت بڑا اونچا میدان ہے۔
اسی پُراسرار جگہ پر کسی زمانے میں بادشاہ، ملکہ اور شہزادے، شہزادیاں سیر کیا کرتے تھے۔ جس شام کی یہ کہانی ہے، تب والڈ سٹی اتھارٹی کی طرف سے’’دی ون اینڈ اونلی‘‘ کامران لاشاری نے ایک بہت بڑے افطار ڈنرکا اہتمام کررکھا تھا۔ نظامت ناچیز کو سونپی گئی۔ شام قمقموں سے بَھری پُری، خوشبوؤں سے مہکتی دہکتی اور رنگوں سے لب ریز تھی۔ ہمیں شاعری بھی سُنانا تھی۔
میز، کرسیاں دائروں میں تقسیم تھیں۔ ویسے تو ہرسُو ستاروں جیسے انسان تھے، لیکن اسٹیج کے نزدیک ترین میز پر اُن شخصیات کی کہکشاں تھی کہ جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ چاند تھا اور اُس پہلے دائرے میں مرکزِ نگاہ تھے، چوہدری اعتزاز احسن۔ وہ اپنے مخصوص میٹھے لہجے میں بول رہے تھے اور سب پلکیں جھپکائے بِنا سُن رہے تھے۔ مجھے خُود اشعار سُنانے کے بعد اعتزاز احسن کو اسٹیج پر دعوت دینا تھی۔
تب تک یہ حیرت انگیز حقیقت مجھ پر عیاں نہ تھی کہ اعتزاز شعر بھی کہتے ہیں۔ اُنہیں اسٹیج پر بُلوایا تو اپنے خاص عاجزانہ انداز میں تشریف لائے۔ بڑا آدمی اپنے بڑے پن کو بُھول کر، آس پاس کے لوگوں کو اُن کے بڑے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔
عظمت کا پیڑ چل نکلے تو اُس پر سب سے پہلے عجز کے پُھول کھلتے اور انکساری کے پھل لگتے ہیں اور پھر یہ پیڑ چھتنار ہو کر خلقِ خدا کو خدا ترسی کا سایہ فراہم کرنے لگتا ہے۔ عظمت کبھی بےفیض،بےحس اور بےلحاظ نہیں ہوسکتی، ہمیشہ باوقار، باذوق اور باادب ہوتی ہے، جیسے کہ اعتزاز احسن ہیں۔
وہ مجھ سے یوں گلے ملے، جیسے میں اُن کا لنگوٹیا ہوں۔ مُسکرائے، جی بھر کر ہاتھ ملایا، کاندھا تھپتھپایا۔ گفتگو میں شعر کا تذکرہ آیا توکہنے لگے کہ کبھی ہم بھی شعر کہتے تھے۔ ’’ارے باپ رے‘‘، مَیں تو پیچھے ہی پڑ گیا کہ کچھ سُنائیے۔ خیر، ایک مطلع موقعے ہی پر برآمد کروا کے کثیر تعداد میں موجود حاضرین کے سپرد کیا تو داد کا ایسا غلغلہ بلند ہوا، جو تھامے نہ تھما۔ برآمدگی کا ثبوت حاضر ہے۔ ؎
نہیں ہے دعویٰ سخن وَری کا نہ حُسن لفظوں کی کاٹ میں ہے
مگر کہاں وہ سخن شناسی، جو اعتزاز ایسے جاٹ میں ہے
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ستمبر 1945ء میں مَری کے مقام پر محمداحسن علیگ اوررشیدہ احسن کےگھر پیدا ہونے والے اعتزاز احسن شعر بھی کہتے ہیں۔ ہم اُن گنے چُنے خوش قسمتوں میں سے ہیں کہ جو اعتزاز کے اشعار اور اُن کی نظموں کے سامع و عاشق ہیں اور اُن کا شعری مجموعہ چھپوا کر ہی دَم لیں گے۔ ’’مگر کہاں وہ سخن شناسی، جو اعتزاز ایسے جاٹ میں ہے۔‘‘ یہ سُتھرا مصرعہ کہنے والے جاٹ سیاست دان، دانش وَر، مفکّر اور شاعر اعتزاز احسن کا یہ دعویٰ غلط نہیں۔
کامران لاشاری کے ہاں ’’صحنِ لاشاری‘‘ مشاعرے میں (کہ جس کا نام رکھنے کی سعادت ناچیز کو حاصل ہے) اعتزاز کے شعروں پر ہم نے خلقت کو جُھومتے دیکھا ہے۔ آج کل سہج سہج چلنے والا یہ من موہنا شخص اپنی جوانی میں بھرپور سیاسی کیرئیر گزار چُکا ہے اور کیرئیر بھی ایسا شان دار کہ آئندہ کئی نسلوں کے لیے مثال۔ ذہانت کا یہ عالم کہ سول سروس کے امتحان میں بیٹھے تو مُلک بھر میں ٹاپ کرلیا، مگر جوائن ہی نہیں کیا۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی گئے تو اپنی خداداد ذہانت کی داستان یونی ورسٹی کے درودیوار پر کندہ کرآئے۔
صوبائی اسمبلی ہو، قومی اسمبلی یا سینیٹ، جہاں جہاں بھی عوام کے نمائندہ بن کر گئے، ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور بھرپورخدمت کا حق ادا کیا۔ متعدد بار حق گوئی کی پاداش میں پابندِ سلاسل اور زیرِعتاب بھی رہے، مگرحق بات کا ساتھ نہ چھوڑا۔ سیاست ناممکنات کا نام ہے۔
اعتزاز کو دیکھ، سُن اور پڑھ کر یُوں لگتا ہے کہ میدانِ سیاست میں ایسے زیرک شہ سوار کا بار بار آنا ناممکن نہیں، تو بہت مشکل ضرور ہے۔ صاحب الرائے بھی ایسے کہ ہر رائےصائب، شعر گوایسےکہ ہرشعر گویا موتی، نثرنگار ایسے کہ سطروں پر لوگ نثار، مقرّر ایسے کہ سُنتے ہی لوگ کہیں مکرّرارشاد۔
لوگ اعتزاز کو محض سیاست دان سمجھتے ہیں، حالاں کہ سیاست محض اُن کی شخصیت کی ایک جھلک ہے۔ اصل اعتزاز سیاست سے بہت ماورا، بہت اوپر اور بہت گہرا ہے۔ مختلف جہتوں سے ہو کر آئیے، آپ کو اعتزاز کی شخصیت کےہر پہلو میں شائستگی ملے گی۔
رستہ چاہے کوئی بھی، منزل شُستگی ہی پر ہوگی۔ سُر چاہے کوئی بھی ہوں، تان اِن کے اِخلاص پر ہی ٹُوٹے گی۔ اب بات یہاں تک آ ہی گئی ہے تو ایک قصّہ اور سُن لیجے۔ صباحت رفیق ناصر کاظمی کے اِس چُنّی مُنّی سی بحر والے شعر کی چلتی پھرتی مثال ہیں کہ ؎
دوستوں کے درمیاں
وجہِ دوستی ہے تُو !
اُنہی کے ہاں پچھلے دِنوں اعتزاز احسن سے ہماری تازہ ترین ملاقات ہوئی۔ ہم نے پورا اہتمام بلکہ ضد کرکے اُنہیں ڈائننگ ٹیبل کی کرسئ صدارت پر بٹھال دیا کہ یہی اُن کا مقام و مرتبہ ہے۔ صباحت اور نوید بھائی کا دل، دروازہ اور دستر خوان بہت کشادہ ہے۔ ضیافت کی اس میز پر بھی ڈاکٹر نوید شیروانی (ہلالِ امتیاز) کی محبتی میزبانی میں راجا یاسر ہمایوں سرفراز (سابقہ وزیر تعلیم، سیاحت اور آئی ٹی پنجاب)، رانا مشہود احمد خان (چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام)، کامران لاشاری (سابق ڈی جی لاہور والڈ سٹی اتھارٹی) اور دوسرے چُنیدہ حضرات و خواتین موجود تھے۔
گپ شپ کا سلسلہ یُوں جاری تھا کہ سب کی نگاہیں اور سماعتیں پہلے نوید بھائی پر مرکوز رہیں کہ جنہوں نے ہر علمی سوال کے جواب میں چھا جانے کی خفیہ ذاتی تراکیب بتائیں اور پھر تمام تر توجّہ اعتزاز احسن کی طرف مبذول ہوگئی۔ اُن سے پوچھا گیا کہ نوید صاحب نے تو اپنی خفیہ ترکیب بتا دی، آپ بھی کچھ بتائیے۔ آج کل کے طالب علموں کے لیے بہت ہی دل چسپ بات ہے۔
اعتزاز نے بتایا کہ لندن سے بار ایٹ لا کرنے سے لے کر سول سروس آف پاکستان کے مقابلے کے امتحان میں ٹاپ کرنے تک انہوں نے ہر وہ مرحلہ محض مہینوں ہی میں عبور کرلیا کہ جس کے لیے لوگ سال ہا سال لگا دیتے ہیں۔ ’’وہ کیسے؟‘‘ سب کے کان کھڑے ہوگئے۔ ’’وہ ایسے‘‘، اعتزاز بولے۔ ’’کہ محنت اپنی جگہ سب کرتے ہیں لیکن ممتحن کو قابو کرنا ایک راز ہے۔
اُسے روز کے چھے سات سو پرچے چیک کرنا ہوتے ہیں، جس میں سب کے جوابات کم و بیش ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، لہذا یک سانیت سے تنگ، زندگی سے بورممتحن سب کو چار بٹا دس دے کر محض پاس کرتا چلا جاتا ہے۔ مَیں یُوں کرتا تھا کہ پہلے جُملے پر بھرپور وقت اور دماغ صرف کرتا تھا۔ آپ کو پہلا جملہ سب پرچوں کے سب جوابوں سے مختلف بنانا ہے۔ تاکہ اونگھتا ہوا ممتحن چونک کر جاگ اُٹھے۔ اُس کی غنودگی کو جھٹکا اور نیند کو دھکا لگے۔ پہلا جملہ کاٹ دار، تیکھا، پُرلطف، انوکھا اور نرالا لکھیے۔ ممتحن جاگ جائے گا اور مُسکرائے گا۔
اُس کی تمام ترتوجّہ آپ کو مل جائے گی۔ اور جانتے ہو فارس! کہ ایک جاگا، مُسکراتا ہوا، متوجّہ ممتحن کتنے نمبر دیتا ہے؟‘‘’’کتنے؟‘‘، ہم نے معصومیت سے پوچھا۔’’آٹھ بٹا دس۔‘‘، اعتزاز مُسکرائے۔’’اب مجھے چانپیں پاس کرو۔‘‘ ایک قہقہہ لگا اور بات کھانے پینے کی جانب مُڑگئی لیکن ہم سوچ میں پڑ گئے کہ پاکستانی سیاست کا یہ انوکھا کردار مجسّم ذہانت ہے۔
کچھ عرصہ قبل ہم نے موصوف کو اپنا تازہ ترین شعری مجموعہ ’’یاد آباد‘‘ پیش کیا تھا۔ وہیں کُرسئ صدارت پر بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ’’فارس! ایک ہی زمین میں 72 غزلیں لکھنا تو ادبی معرکہ ہے ہی، مگر یہ پیدائش سے قبل کی یاد یعنی اپنی موجودگی سے پہلے کی یاد کیسے لکھ ڈالی ؟‘‘ ہم ان کلماتِ تحسین پر جھوم ہی رہے تھے کہ انہوں نے اُسی کتاب سے دو شعر زبانی پڑھ دیے۔ ؎
کہیں نہاں تھا مَیں آوازِ کُن سے پہلے بھی
سو چُپکے چُپکے صدائیں لگایا کرتا تھا
مُعمّا یہ ہے کہ اُس وقت وقت تھا ہی نہیں
تو ایسا وقت مَیں کیسے بِتایا کرتا تھا
اپنے اشعار اُن کی زبانی سُن کر خوشی تو ہوئی، اُن کے حافظے پر حیرت بھی ہوئی۔ پوچھا، تو کہنے لگے کہ ’’یہ والد کا فیضان ہے، کیوں کہ اُردو شاعری سے محبّت مجھے اُنہی سے ملی، جو بچپن میں جب بھی سفر پر لے کے جاتے تو میر، غالب اور اقبال کے اشعار پڑھ کرسُناتے اور آسان، سلیس الفاظ میں سمجھاتے بھی۔ تب سےآج تک جو شعردل کو اچھا لگتا ہے، وہ دو ایک قرات میں ذہن نشین ہوجاتا ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں کہ آج کل کے بچّوں کو کتاب سے محبّت میں مبتلا کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔
کہانیاں اور شاعری۔ یہ تو ہوئی اعتزاز کے حافظے اور اُردو ادب سے محبّت کی بات۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ کامران لاشاری اپنے والدمجید لاشاری کی یادمیں اپنےہاں ایک سالانہ مشاعرہ کرواتے ہیں کہ نام جس کا ’’صحنِ لاشاری مشاعرہ‘‘ رکھنے کا اعزاز ناچیز کا ہے۔ نظامت بھی ناچیز ہی کے سپُرد ہوتی ہے۔ اس سال کے مشاعرے میں اعتزاز احسن نے ایسی کمال شاعری سُنائی کہ قریب بیٹھے سرمد صہبائی بھی پھڑک اُٹھے کہ جو بلاوجہ پھڑک اُٹھنے کووقت کا زیاں سمجھتے ہیں۔
اُن کے ساتھ بھی اعتزاز کی پرانی یاد اللہ گورنمنٹ کالج کے دَور سے ہے، کیوں کہ اعتزاز بتاتے ہیں کہ جب وہ گورنمنٹ کالج گئے تو وہ طالب علموں میں سرمد صہبائی کا دَور تھا، جو کینٹین میں بیٹھ کر کالج بھر کے ادبی ماحول پر حاوی ہوتا۔ اعتزاز بھی تب چُپکے چُپکے شعر کہا کرتے تھے۔ وہ تو کہیے کہ سیاست دان اعتزاز، شاعر اعتزاز پر حاوی ہوگیا، وگرنہ اردو شاعری کوایک ایسا فُل ٹائم شاعر نصیب ہو جاتا کہ جس کا رنگ ڈھنگ ہی جُداگانہ ہوتا۔
بُشریٰ آپا یعنی بُشریٰ اعتزاز اکثرمحافل میں اپنے شوہرِ نام دار کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل اعتزاز تھوڑے بہت علیل رہے تو ہم نے ہر محفل میں یہی دیکھا کہ آپا کتنی محبّت سے اُن کی دیکھ ریکھ کرتی ہیں اور کس چاہت سے اُن کا دھیان رکھتی ہیں۔ اپنے ہاتھ سے کھانا نکال کے دیتی ہیں۔ اُنہیں اعتزاز کی ڈائیٹ کا بھی خیال رکھنا ہے، دوا، نیند کا بھی اور چہل قدمی کا بھی۔
کچھ ماہ قبل ہمارے عزیز دوست مُعین اسد اور غزالہ معین بھابھی کے سجے سجائے نئے گھر میں ڈنر کے ساتھ شامِ موسیقی برپا کی گئی۔ وہیں ہم نے دیکھا کہ بُشریٰ آپا کتنی مسلسل توجّہ دیتی ہیں اعتزاز پر۔ باربار پوچھتی ہیں۔ ”بھنڈی گوشت کھائیں گے کیا ؟‘‘، ’’کوفتے بہت اچھے بنے ہیں، چکھ لیجے‘‘، ’’کولڈ ڈرنک کی طرف ہاتھ ہولا رکھیے‘‘، ’’رس ملائی اتنی ہی بہت ہے‘‘۔ بعد ازاں، محفلِ موسیقی کے دوران ہم اعتزاز احسن کے ساتھ ہی بیٹھے تھے، تو ہمیں خبر ہوئی کہ موصوف کو نہ صرف محمد رفیع، لتا منگیشکر کے گانوں کے بول یاد ہیں بلکہ انگریزی کلاسیک گیتوں کے بھی۔
گانوں کے درمیان وقفے پر میوزک سے متعلق گفتگو ہوئی تو پتا چلا کہ اچھا خاصا ذوق رکھتے ہیں۔ ہاتھوں میں ہلکی سی لرزش اور چال میں خفی سی کم زوری کی جھلک در آئی ہے، جو شاید عُمر کےباعث ہے یا بیماری کے بعد کی نقاہت۔ یہ الگ بات کہ جونہی کوئی علمی گفتگو، ادبی مباحثہ یا شعری مچیٹا شروع ہو، اعتزاز سب نقاہت بھول کر میدانِ سخن میں کُود پڑتے ہیں اور دلیل کے زور پر فاتح بن کر ہی نکلتے ہیں۔ ’’سندھ، ساگر اور قیامِ پاکستان‘‘ اُن کی اِسی ذہنی صلاحیت کی کتاب کی صُورت میں مرتب کردہ شکل ہے۔ اُن کا ایک اور کتابی معرکہ Divided by Democracy ہے، جو لندن اسکول آف اکنامکس کے لارڈ میغماد ڈیسائی کے ساتھ مل کر تحریر کی گئی۔
’’اعتزاز احسن اور ایسوسی ایٹس‘‘ موصوف کی قانون میں ذہانت کی ادارہ جاتی شکل ہے۔ یہ وہ چیمبر ہے، جو اعتزاز نے قائم کیا اور جس نے بےمثال تاریخی، قانونی کام یابیاں حاصل کیں۔ اعتزاز کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے عہدے پرفائز رہنے کے ساتھ ساتھ تین پاکستانی وزرائے اعظم یعنی میاں محمّد نواز شریف، محترمہ بےنظیر بھٹو شہید اور یوسف رضا گیلانی کے ذاتی قانونی مُشیر ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ صدرِ پاکستان یعنی آصف علی زرداری کوبھی قانونی مشاورت فراہم کرتے رہے، جوکہ آئین و قانون کے حوالے سے اُن کی ذہانت و مہارت کامنہ بولتاثبوت ہے۔
موصوف کی برجستگی، حاضر جوابی اور جملےکی کاٹ کے گواہ وہ کئی ٹیلی ویژن اینکرز ہیں، جن کے ساتھ کئی مواقع پر اعتزاز کا ’’تبادلۂ خیال‘‘ ہوا۔ ایک بار ہم نے اعتزاز سے اُن کی زندگی کا کوئی دل چسپ واقعہ سُننے کی فرمائش کی تو کہنے لگے کہ’’اُنیس سو پچاس کی دہائی بھی عجیب ناممکنات کے مُمکن ہونے کی دہائی تھی۔ میری دو بہنیں لڑکیوں کےاسکول، کوئین میری کالج لاہور، میں پڑھتی تھیں جب کہ میری والدہ بھی اُسی ادارے کی طالبہ رہی تھیں، لہذا مجھے بھی اُسی میں داخل کروا دیا گیا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ اُس عُمر میں مجھے لڑکیاں ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں۔ پورے کے پورے تین سال کا عرصہ گزار چُکنے کے بعد جب صنفِ نازک اچھی لگنے لگی تو مجھے لڑکیوں کے اُس اسکول سے اٹھا کر خالصتاً لڑکوں کے اسکول یعنی ایچی سن کالج، لاہور میں داخل کروا دیا گیا۔ متعدد دہائیوں کے بعد ایک بار یوں ہوا کہ مجھے کوئین میری کالج کی گریجویشن کی ایک شان دارتقریب میں مہمانِ خصوصی کے طور پر بُلوایا گیا تو مَیں نے اپنی تقریر کا آغاز اِس شعر سے کیا۔ ؎
شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ
محفل میں اِس خیال سے پھر آ گیا ہوں مَیں
اعتزاز آج بھی اُس دَورکو یاد کر کے ایک لمبی آہ بھرتے ہیں اور ناسٹلجیا کےگہرے دریا میں غوطہ زن ہوجاتے ہیں کہ جہاں سے انہیں صرف کوئی اچھا شعر ہی کھینچ کر سطح پر واپس لا سکتا ہے۔ ویسے آج کل ہم ہولے ہولے، چُپکے چُپکے غیر محسوسانہ طریقے سے موصوف کو بہلا پُھسلا کر اِس بات پر آمادہ کررہے ہیں کہ اپنا شعری مجموعہ لائیے تاکہ اچھی شاعری پڑھنے کے شوقین افراد کے لیے لذتِ کام و دہن کا سامان ہو۔ ویسے اعتزاز کی ذہانت اگلی نسل کو بھی وَرثے میں ملی ہے۔ اُن کے دونوں بچے یعنی زینب اعتزاز اور چوہدری علی اعتزاز احسن بھی اپنے والد اور والدہ کی مانند ذہین فطین ہیں۔
صاحبو! آپ خُود اندازہ لگائیےکہ اُنیس سو پینتالیس میں پیدا ہونے والی یہ شخصیت پاکستان کے کن کن سیاسی تاریخی واقعات کی نہ صرف چشم دید گواہ بلکہ تاریخ ساز فیکٹر بھی ہے۔ پچھلی تین چار دہائیوں میں آپ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے کسی بھی اہم واقعے کو اُٹھا کر دیکھ لیجیے، آپ کو ایک کردار نہایت اہم اور مرکزی نظر آئے گا۔
کہیں اُس کا نظریۂ شعری چھایا ہوگا، کہیں نُقطۂ سیاسی، کہیں اُس کی تحریر اساس ہوگی، کہیں تقریر، کہیں اُس کی قانونی ذہانت شاملِ حال ہوگی، کہیں آئینی فطانت۔ اور وہ نام ہے، چوہدری اعتزاز احسن۔
(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)