• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صاحبو! کہانی ہے تو چُنی مُنی سی، مگر ہے سَچّی۔ ایک بڑی شخصیت کی کہانی کہ جو سچ میں بڑی ہیں اور اپنی عاجزی سے اُنہوں نے یہ بڑا پن ثابت بھی کیا۔ ہُوا یُوں کہ ہماری پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف دو ہزار تئیس میں اکیڈمی آف لیٹرز، اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی خاتون چئیر پرسن بنیں۔ اُن کے تعلیمی پس منظر، ادبی قدوقامت اور کام یابیوں سے تو خیر ایک زمانہ واقف ہے، مگر یہ کہانی کچھ الگ ہے۔ 2024ء میں محترمہ نے اکادمی میں ایوارڈز کی تقریب کروائی، جس میں اکادمی کے ’’کمالِ فن ایوارڈ یافتہ‘‘ متعدد نابغۂ روزگار ادیب تشریف لائے، جیسے کہ اسد محمد خان، زہرا نگاہ اور مُنیر احمد بادینی۔ 

بانو آپا بھی کمالِ فن ایوارڈ یافتہ تھیں، مگر تب تک وہ اشفاق صاحب کے پاس اگلے جہان جا چُکی تھیں۔ اسد محمد خان چوں کہ علالت کے باعث کھڑے نہیں ہوسکتے تھے، سو آخری سیشن کے بعد انہوں نے کُرسی پر بیٹھے ہی بیٹھے مختلف ایوارڈ یافتگان کو اُس سال کے ایوارڈ عطا کیے۔ تب نجیبہ عارف نے بطور چئیرپرسن سب شرکاء کو گروپ فوٹو کے لیے بلوایا۔

ہجوم میں سب کی خواہش تھی کہ اسد محمد خان، زہرا نگاہ اور منیر احمد بادینی کے آس پاس، نزدیک ترین کرسیوں پر بیٹھ کر یادگار تصویربنوائے۔ نجیبہ نے جب یہ حال دیکھا تو جا کر اسد محمد خان اور زہرا آپا کے قدموں میں بیٹھ گئیں۔ لوگوں نے چئیر پرسن کو یُوں زمین پر بیٹھے دیکھ کر کہا کہ یا کھڑے ہو کر تصویر بنا لیں یا اپنے لیے مخصوص کُرسی ہی پر آجائیں، لیکن موصوفہ کسی کو ہٹانے کی بجائے مُصر رہیں کہ مجھے یہیں بیٹھنا ہے۔

اُن کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگ بھی آس پاس پھسکڑا مار کر بیٹھ گئے۔ ایک بڑے انسان کی سچی عاجزی و انکساری کا یہ لمحہ کیمرے نے انوکھی تصویر کی صُورت محفوظ کیا اور مثال کی صُورت آئندہ زمانوں کو پیش کردیا۔ یہ ہیں، ہماری پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف، جو نجیب الطرفین عارفہ ہیں۔

وہ اندر کی بات جانتی ہیں، اور یہ جاننا اُنہیں محض طرفین یعنی دو ہی طرفوں کی عطا نہیں، ہر طرف کی عطا ہے۔ جاننے والا اگر اپنے علم کا رُعب جمانے کی بجائے محض ایک خاموش گہری مسکراہٹ پر اکتفا کرے تو جان لو کہ وہ عالی ظرف ہے۔ نجیبہ دھیمی ہیں، مگر اُن کا جُملہ بلند بولتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے دَور میں وہ ’’اصلی تے نسلی‘‘ وضع داری کی مثال ہیں۔

میری اُن سے پہلی ملاقات اُن سے ملنے سے کافی عرصہ قبل ہوئی۔ حیران نہ ہوں کہ یہ قبل از ملاقات ملاقات ایک پُراسرار وجہ سے ہوئی، جس کی داستان بہت دل چسپ ہے۔ مَیں بچپن، لڑکپن اور نوجوانی ہی کے دور سے اُس گروہِ درویشاں کا اسیر تھا کہ جن کے نام قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ تھے (بلکہ ہیں)۔ ’’شہاب نامہ‘‘ تو ہر پاکستانی نوجوان کے دل میں درویشی کے ساتھ ساتھ سی ایس ایس کرنے کی خواہش پیدا کرنے والی دستاویز بھی ہے۔

ممتاز مفتی نےمجھے ’’لبیک‘‘ اور’’علی پُور کا ایلی‘‘ کے ذریعے جکڑا ہُوا تھا۔ اشفاق صاحب اور بانو آپا کی جوڑی تو خیر ہر لحاظ سے میرے حواس پر چھائی رہتی۔ ایسے میں ایک روز مجھے اپنی بہن عائشہ ممتاز کے کتب خانے سے ابنِ ممتاز مُفتی یعنی عکسی مُفتی کی کتاب ’’تلاش‘‘ (اللہ:ماورا کاتعین) ہاتھ لگ گئی۔ اِسی کتاب کے اوراق میں میری ملاقات پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ہوئی، جو اس شاہ کارتحریرکی مترجّم ہیں اور مترجّم بھی ایسی بےلوث کہ سرِورق پر اپنا نام تک نہیں لکھوایا، فلیپ پر نہ جانے کیسے لکھا رہنے دیا۔

’’القادر، حُسَین روڈ، بنی گالہ، اسلام آباد‘‘ سے لکھی گئی عرضِ مترجّم پڑھی تومزید اشتیاق بڑھا کہ مادام کےہاں حاضری ضروربالضرور بنتی ہے۔ چوں کہ مَیں خود پابلو نرُودا کے شاہ کار ہسپانوی شعری مجموعےکاترجمہ’’محبت کی سَو نظمیں‘‘ کے عُنوان سے کر چُکا تھا، لہٰذا عکسی مُفتی جیسے پُراسرار شخص کی ترجمہ نگار سے میری دل چسپی فطری تھی۔

نجیبہ نے عرضِ مترجّم میں لکھا کہ ’’ترجمہ سراسر پرائی آگ میں جلنے کا نام ہے۔ مَیں نے اس آگ میں کُودنے کا ارادہ صرف عکسی مُفتی کی مدد کے لیے کیا تھا۔ مجھے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ آگ میرے اندر کسی چنگاری سے مل کر مجھے خُود اپنا ہی طُور بنا دے گی۔‘‘ یہ پڑھ کر تو میرا تجسّس مزید بڑھ گیا۔

کہانی آگے بڑھتی ہے۔ میری اسلام آباد میں تعیناتی ہوئی تو شوق کی ہلکی سلگنے والی دھیمی آنچ یک لخت تیز ہوگئی اور دل میں آلتی پالتی مارے بیٹھی آرزو یک دم اُٹھ بیٹھی۔ پوچھ پاچھ کر نجیبہ عارف کا موجودہ پتا معلوم کیا۔ خبر ہوئی کہ اکادمی ادبیات کی چئیرپرسن ہیں۔ نہایت خوشی ہوئی کہ ایسی مُعتبر ادیبہ ہی کو یہ عُہدہ زیب دیتا تھا۔

حق بہ حق دار رسید۔ پھر وہی ہوا، جو ہونا تھا۔ ناچیز پہلی ہی فُرصت میں ملاقات کے لیے پہنچ گیا۔ اُس ملاقات کا وسیلہ بنے سُلطان ناصر، جو کہ تب اُسی ادارے میں ڈائریکٹرجنرل تھے۔ایک بڑےسلسلےدار گھرانے کے گدی نشین چشم و چراغ، ہماری ہی سروس کے افسر، ایک بالکل مختلف مزاج کے گہرے، پُرتاثیر نظم گو اور ہمارے چھوٹے بھائی۔ وہیں بہت پڑھی لکھی ڈپٹی ڈائریکٹر بی بی امینہ سے بھی سرِ راہے ملاقات ہوئی کہ جنہیں آگے چل کراِس خاکے میں ہمارا خفیہ سہولت کار بننا تھا۔

مادام نجیبہ عارف کا دفتر اُن کےذاتی ذوقِ آرائش کی مثال ہے۔ آپ جونہی اس دفترمیں داخل ہوتے ہیں، آپ کا پہلا استقبال روشنی، دوسرا خوشبو اور تیسرا نجیبہ کی پُرخلوص مسکراہٹ کرتی ہے۔ مَیں بھی درجہ بدرجہ انہی دربانوں سے دُعا سلام کے بعد میزبان تک پہنچا۔ گفتگو کے آغاز ہی سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ مطالعے کی وسعت ہر جُملے بلکہ جُملوں کے درمیان آنےوالی خاموشی کے وقفوں سے بھی جھلک چھلک رہی ہے۔ 

مجھے اُن کے ہئیر اسٹائل سےاپنی تائی ساس کنول امین بھی یاد آئیں، جو اُنہی کے مانند پی ایچ ڈی ہیں اور فیصل آباد وومین یونی ورسٹی کی وائس چانسلر۔ نجیبہ کی آنکھوں میں ذہانت کا چراغاں ہے۔ یہ اُتھلا سطحی علم نہیں، جیسا کہ آج کل Gen-Z والے AI سے چار ساڑھے چار کتابوں کی تخصیص کروا کے حاصل کر لیتےہیں۔ یہ وہ عمیق ذہانت ہے، جو کئی دہائیوں کی خاموش عرق ریزی سے کشید کردہ عِطر ہے۔ آپ نجیبہ کے پاس کچھ ہی لمحے بیٹھ دیکھیے، ناممکن ہے کہ یہ عطر آپ کی یادداشت میں محفوظ نہ رہ جائے۔ 

ان سے مل کر اُردو کے سنہری دَورکے چوگوشی ٹوپیوں اور مخملیں انگرکھوں والے وہ ادیب، شاعر دھیان میں آتے ہیں کہ جن کے کُرتوں پر قیطون کی ڈوریوں سے زنجیر کا کام ہوتا تھا اور بیاضوں میں درجنوں طبع زاد اور ضرب المثل اشعار۔ یہ ملاقات یادگار تھی۔ کس واسطے کہ عاجز کو اپنی کتابیں پیش کرنے کاموقع میسرآیا۔ نہ معلوم یہ نجیبہ کی من موہنی موجودگی تھی یا اُن کے علم و حِلم کی خُوشبو کہ مَیں جب تک وہاں رہا، مَیں نہیں رہا۔ گفتگو اکادمی کے مختلف ادوار سے ہوتی ہوئی اُردو ادب کے ابد آباد اور اُس کے پار تک گئی۔

سچ کہوں تو مجھے بالکل کسی اجنبیت یا ناشناسائی کا احساس نہیں ہوا بلکہ یونہی لگا کہ جیسے مدتوں سے نیازمندی حاصل ہو۔ شاید عالی ظرفی کی نشانی یہی ہے کہ بڑے اپنے چھوٹوں کو اپنائیت کا احساس دلائیں۔ ملاقات کے آخر میں رخصت ہونے سے قبل مَیں نےعرض کیا کہ یہ مشفق و مہربان مادرانہ برتاؤ جاری رکھیے گا، جس پر نجیبہ اپنے Signature دھیمے انداز میں مُسکرائیں اور کہنے لگیں کہ نہ کہتے، تب بھی یہی ہوتا۔

کچھ ہی عرصے بعد برادرِعزیز وشاعرِ دل پذیر شکیل جاذب کی کال موصول ہوئی کہ اسلام آباد کے ریستوران 1969ء میں طعامِ شام کا اہتمام ہے۔ پروگرام،احمد عطا کا ترتیب شُدہ ہے کہ یارِ دم ساز بھی ہیں، شاعرِ دل نواز بھی۔ خبر گرم تھی کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف بھی وہاں موجود ہوں گی۔ سو، ہم ’’جیسے تھے، جہاں تھے‘‘ کی بنیاد پر گھر سے نکل لیے کہ ایسے مواقع روز روز تھوڑی ہاتھ آتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی باغ و بہار شخصیت کی اپنی ترنگ ہے۔

ڈنر پر شکیل جاذب بیگم کے ساتھ، حارث خلیق، احمد عطا اور بی بی امینہ موجود تھیں کہ جو اکادمی ادبیات میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ نجیبہ عارف کی من موہنی شخصیت کی مختلف پرتوں سے شناسائی میں بی بی امینہ ہماری مددگار بھی ہیں مُحسن بھی۔ اُس شام فضا میں خُنکی تھی اور دل میں حدّت۔ ہوا باہر چل رہی تھی اور پتّے اندر گر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحبہ جب بھی گفتگو میں شرکت کرتیں، موضوع کا کوئی نہ کوئی نیا پہلو سامنے آتا۔ بعد میں ایک روز ہم نے بی بی امینہ سے نجیبہ صاحبہ کا ذکر چھیڑا۔ ارے صاحب کیا بتاؤں کہ کتنی دل چسپ باتیں سامنے آئیں۔

امینہ کی ہماری ممدوحہ سے پہلی ملاقات اکتوبر 2002 ء میں ہوئی، جب کوریا میں کسی ٹریننگ کورس سے واپسی پر نجیبہ F-7/2کالج برائے طالبات، اسلام آباد میں اُستاد بن کر پلٹیں۔ یادش بخیر، تب کے پڑھ چُکے لوگ آج لہک لہک کر بتاتے ہیں کہ فرسٹ ائیر اُردو کی جماعت میں اس قدر دل چسپی پیدا کردینا نجیبہ ہی کا کمال تھا۔ بی بی امینہ نے اُن کی شاگردی میں آنے سے پہلے جس جس سے بھی اُن کے بارے میں دریافت کیا، یہی جواب ملا کہ تم بہت خوش قسمت ہو، تمہیں نجیبہ بطورِ اُستاد مل رہی ہیں۔

جب اصل میں ملِیں تو اس جواب پر مُہرِ تصدیق ثبت ہوگئی۔ تب نجیبہ کے بال شولڈر کٹ ہوا کرتے تھے، جو بعد میں”ڈیانا کٹ‘‘ کی شکل اختیار کرگئے اور آج تک ویسے ہی ہیں۔ چالیس اکتالیس برس کےآس پاس ہوں گی۔ لمبی قمیصیں پہنا کرتی تھیں، عمومی استادانہ رویوں کے برعکس بہت نرم مزاج تھیں۔ وہ یوں کہ بہت ہی مزے سے پڑھاتی تھیں۔ کبھی ماتھے پر شکن اورکلاس میں کتاب نہیں لاتی تھیں۔

اُن کے کسی طالبِ علم نے اُنہیں کسی سوال کے جواب میں لاجواب ہوتے نہیں دیکھا۔ عاجزی و انکساری اتنی کہ اگر سوال کا جواب معلوم نہ ہو تو بڑی سہولت اور پیار سے کہہ دیا کرتیں کہ ’’بھئی دیکھیے! ابھی میرے پاس فلاں سوال کا جواب نہیں ہے، تحقیق کر کے اور ڈھونڈ کر بتا دوں گی۔‘‘ اُن کی یہ خوبی آج تک بدستور قائم ہے۔ جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ نجیبہ جہاں جائیں، کچھ نہ کچھ نیا،انوکھا،نرالا ضرور کرتی ہیں۔ یعنی کوئی ایسی حیرت انگیز اختراع، جو پرانی روش پر اُن کے رنگارنگ نقشِ نَو چھوڑ دے۔

جہاں جاتی ہیں، اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ کس واسطےکہ نئے نئے رنگ ڈھنگ کے پھول ضرور کھلاتی ہیں۔ F-7/4 کے کالج میں گئیں تو ماسٹرز کا اجرا کیا۔ اسلامک یونی ورسٹی، اسلام آباد گئیں، تو وہاں پی ایچ ڈی شروع کروا دی۔ اُن کے اسٹوڈنٹس یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ایڈوائزر بہت زبردست ہیں۔ کہانی ہی کہانی میں بات ذہن نشین کروا دیتی ہیں۔ بی بی امینہ کے پی ایچ ڈی کے تین مضامین تھے۔

تب اسلامک یونی ورسٹی کی تاریخ میں پہلی اور آخری بار یہ ہوا کہ نجیبہ عارف نے اُردو پی ایچ ڈی والوں کو دو مضامین انگریزی والوں سے پڑھوائے۔ یُوں نت نئے تحقیقی طریقے سیکھنے کو ملے اور ادب کے نئے ٹرینڈز کو جانچنے پرکھنے کا نیا موقع ملا۔ یہ انوکھا کام اس سے پہلے یا بعد میں نہیں ہوا۔

نجیبہ جب بھی سفر کرتی ہیں، چاہے جہاز کا ہو یا ٹرین کا، کتاب کے بغیر سفر نہیں کرتیں۔ بی بی امینہ ایک اورقصّے کی راوی ہیں کہ اُن کے پی ایچ ڈی تھیسس کے سلسلے میں اُنہیں کراچی جانا تھا تحقیق کے لیے، مگر گھر والے اڑ گئے کہ ہم تو تنِ تنہا بچّی کو یُوں نہیں جانے دیویں گے۔ اکیلی لڑکی کہاں اتنی دُور جائے گی اورکیوں جائے گی۔

آج تک تو اکیلے سفر کیا نہیں۔ نجیبہ، بی بی امینہ کے گھر پہنچ گئیں اور اپنے دھیمے انداز میں گھر والوں کو سمجھایا بُجھایا کہ بچّی میں Spark ہے، اس کے پر مت کاٹیے۔ اور تو اور نجیبہ نے اپنی جیب سے پچاس ساٹھ ہزار سفر پر خرچ کیے، ساتھ گئیں، تھیسس کی تحقیق کےلیےشہربھرمیں گھومے پھرے کراچی یونی ورسٹی گئے، اُردو لغت بورڈ کا دورہ کیا۔ وہی بی بی امینہ آج پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں۔ نجیبہ کی شخصیت کا ایک اور من موہنا پہلو یہ ہے کہ چیریٹی بہت کرتی ہیں۔

کتنی ہی اسٹوڈنٹس ایسی ہیں کہ جن کی آٹھ آٹھ سیمیسٹرز کی فیس چُپکے چُپکے ادا کردی کہ بیٹا تم دھیان سے پڑھتی رہو۔ کتنے لوگوں کےعلاج کروادیے، وہ بھی خاموشی سے۔ موصوفہ پیسا بچانے کی قائل ہرگز نہیں ہیں۔ ہماری اُن سےجتنی بھی ملاقاتیں ہیں، یہ بات محسوس کی ہے کہ کبھی کسی کی بات نہیں کاٹتیں۔ مخاطب ملازم ہو یاافسر، تحمّل سے بات سنتی ہیں۔ خاص طور پر نائب قاصد، مالی، چوکی دار اور کلرک طبقے کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتی ہیں کہ اُن سب کو اپنی عزت کئی گُنا زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

تعلیمی کیرئیر میں شروع سے آخر تک ٹاپر ہی رہیں۔ ضلع خوشاب، پنجاب میں میر ظفر علی کے ہاں پیدا ہونے والی یہ بچّی ادب میں کیسے کیسے کارہائے نمایاں دِکھلا گئی اور ایں سفر ہنوز جاری است۔ ’’راگنی کی کھوج میں (روحانیت کی تلاش کی داستان)‘‘، ’’تاریخِ جدید (سفرنامہ منشی اسماعیل بہ انگلستان)‘‘، ’’میٹھے نلکے (افسانوی مجموعہ)‘‘، ’’نواحِ کاظمہ (قصیدہ بُردہ شریف کا اُردو ترجمہ)‘‘، ’’مکھوٹا (ناول)‘‘،’’اُردو فکشن: مظاہر و مباحث‘‘، ’’معانی سے زیادہ (شعری مجموعہ)‘‘ یہ اُن کے کچھ ایسے چُنیدہ کارنامے ہیں کہ جن پر ہم جیسے عاشقینِ اُردو فدا ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ خاتون نہ صرف چھے زبانیں جانتی ہیں یعنی اُردو،پنجابی، انگریزی، فارسی، عربی، سرائیکی بلکہ ہر زبان میں شیریں بیانی پر قادر بھی ہیں۔ ایسی کام یاب خواتین کے بارے میں اولیں تاثر ہوتا ہے کہ شاید گھر گرہستی اورامورِخانہ داری کو ٹھیک سے وقت نہ ہی دے پاتی ہوں، مگر نہیں جی! نجیبہ کےہاں ایسابالکل نہیں۔ 

موصوفہ نے جہاں اپنے ماں باپ کی اُن کی وفات تک خدمت کرنے کی سعادت حاصل کی، وہیں دو بچّوں کے کام یاب کیرئیر کی بھی معمار ہیں۔ ان کا بیٹا آئرلینڈ سے پی ایچ ڈی کررہا ہے، جب کہ بیٹی انجینئر ہے۔ شوہرِ نام دار محمّد عارف جمیل بھی ایک بہت کام یاب انسان ہیں۔ نجیبہ نے ’’ورک ہوم بیلنس‘‘ ایسا بنا رکھا ہے کہ ہر ورکنگ وومین اُن سے ہدایات لے سکتی ہے۔

ایک اور میٹھی بات نجیبہ میں یہ ہے کہ شعر و ادب کے حوالےسے ہم جیسا مُبتدی طالبِ علم اگر کوئی غلطی کرے، تو اُسے شرمندگی سے بچانے کے لیے پہلے اپنی مثال دیتی ہیں کہ ’’کوئی بات نہیں ہو جاتا ہے ایسا۔ مَیں بھی ایک عرصے تک ایسا ہی لکھتی تھی یا کرتی تھی۔ مَیں نے تو بہت بعد میں سیکھا۔ آپ تو خوش قسمت ہیں کہ جلدی اصلاح ہوگئی۔‘‘ بندہ اُلٹا اپنی غلطی ہی پر نہال ہوجاتا ہے۔ یہ نجیبہ کے اعلیٰ ظرف کا ثبوت ہے۔

موجودہ دَور میں یہ خوبی عَنقا ہے کہ آج کل تو کُھلے بندوں ایک دوسرے میں وہ عیب بھی نکالےجاتے ہیں، جو ہوتے بھی نہیں۔ نجیبہ ہنسی مذاق میں بھی تہذیب و شائستگی کا دامن نہیں چھوڑتیں اور کسی پھکڑ پن میں قطعاً شامل نہیں ہوتیں۔ ویسے اُن کے ساتھ خیروبرکت کا کوئی خاص معاملہ بھی ہے کہ پارس پتھر کی طرح جس کو چُھو لیں، وہ سونے کا ہوجاتا ہے۔ بغیر کاوش کے دِلوں کو جیت لیتی ہیں۔

آپ کا اگر اکادمی ادبیات، اسلام آباد آنا ہو تو ’’ہال آف فیم‘‘میں ضرور جائیے گا۔ وہاں پاکستانی ادب کے تاریخ کے مشاہیر و معمار، ستون و مینار اور یادگار و شہ کار سب موجود ہیں۔ جن نابغۂ روزگار شخصیات نے پاکستان کا ادبی ذوق نکھارا، شعری شوق سنوارا، کہیں چاند آویزاں ہےتو کہیں ستارہ۔ نہ جانے کیوں مجھے یقین ہے کہ دائیں والی دیوار کے آخر میں جو ایک چوکھٹا خالی ہے، ایک دن وہاں جو چمکتی دمکتی تصویر ہوگی، وہ ہماری دھیمے لہجے والی محبّتی، من موہنی ادیبہ، شاعرہ، پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف کی ہوگی۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید