اسلامی نظریۂ ابلاغ میں فرض کی ادائی اور ذمّے داری کا تصوّر
اسلامی نظریۂ ابلاغ قرآن و سنّت کے بنیادی اصولوں، اسوئہ رسولﷺ اور تعلیماتِ نبویؐ پر مبنی ہے۔ حق و صداقت اور دیانت و امانت پر مبنی یہی ماڈل اسلامی نظریۂ ابلاغ کی بنیاد ہے اور اس نظریے کے بنیادی امور کو مختصر طور پر کچھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ ٭… اظہارِ رائے کی آزادی کا محتاط اور ذمّے دارانہ استعمال۔٭… عقیدۂ اسلامی کا غیر مبہم اظہار۔٭… اعلیٰ دینی و اخلاقی اقدار کا تحفّظ۔٭… اسلامی اخلاق کی توضیح۔٭… دعوت الیٰ اللہ کا فروغ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اسلامی فریضے کی ادائی)٭… اسلامی شعائر کا تحفّظ۔٭… دینی و دنیوی تعلیم کی نشر و اشاعت۔٭… مسلم تشخص کے حوالے سے سیاسی و اجتماعی شعور کا استحکام۔٭… دیانت و امانت کا اسلامی تصوّر اور حق و سچ کی گواہی۔٭… حق گوئی و جرأتِ اظہار۔٭… صاف ستھری تفریح۔
مختصر الفاظ میں اسلامی نظریۂ ابلاغ ایک ایسا نظریہ ہے، جس میں فرد کی عزتِ نفس، معاشرے کی اصلاح، ریاست کی تنظیم میں احتساب او ر جواب دہی کے اصول کار فرما ہیں اور اسلامی نظریۂ ابلاغ میں ریاست انہی حدود میں فرد کی آزادی کی ضامن ہوتی ہے۔
ان اصولوں کی روشنی میں سوشل میڈیا کے مفید استعمال اور ذرائع ابلاغ کی شناخت درج ذیل فرائض کی ادائی سے مستحکم ہوگی۔٭… احترام انسانیت اور تکریمِ بنی نوع آدم کا جامع تصوّر۔٭… لوگوں کے ذاتی اور نجی معاملات میں تجسّس اور دخل اندازی سے گریز۔٭… لعنت، ملامت اور فحش کلامی سے گریز۔٭… نیکی کی اشاعت۔٭… درست اور صحیح معلومات کا ابلاغ۔٭…دروغ گوئی اور غلط بیانی سے گریز۔٭…غیبت، بدگمانی اور تجسس سے گریز۔٭… بے بنیاد خبروں کی اشاعت، افواہ سازی اور سنسنی خیزی سے گریز۔٭… صالح معاشرے کے قیام میں تعاون۔٭… اخوت و یک جہتی کے قیام میں معاونت۔٭… اسلامی ضابطۂ اخلاق کی مکمل پاس داری۔٭… خبر کی نشر و اشاعت سے قبل مکمل تحقیق کی ضرورت و اہمیت۔٭… اظہارِ خیال میں متانت اور شائستگی۔٭… جذبۂ تعمیر شخصیت و فلاح انسانیت اور کردار سازی۔٭… خود احتسابی و جواب دہی کا تصوّر۔
’’تعلیم و تربیت‘‘ میں ریاست کا کردار و ذمّے داریاں
انسان نے اپنی اجتماعی زندگی کے قیام و استحکام اور نظم و ضبط کے لیے جو ادارے قائم کیے، ان میں ’’ریاست‘‘ کا ادارہ سب سے اہم اور بنیادی ہے۔ ریاست وہ ادارہ ہے، جس کے ذریعے ملک کے باشندے ایک باقاعدہ حکومت کی شکل میں اپنا اجتماعی نظام قائم کرتے اور اسے قوتِ نافذہ کا امین قرار دیتے ہیں۔
یوں سمجھیے،اجتماعی زندگی کے لیے ریاست کا وجود ناگزیر ہے۔ انسان جب دوسروں سے معاملات کرتا ہے، تو ان کی ضابطہ بندی کے لیے قانون اوراسے نافد کرنے والے ادارے کی ضرورت پہلے ہی قدم پر محسوس ہوتی ہے، اسی لیے پوری انسانی تاریخ ریاست کے استحکام، تنظیم و تہذیب اور فروغ و ارتقاء پر مبنی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا ادارہ انسانی سماج کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کے بغیر منظّم اجتماعی زندگی کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اسلامی ریاست کا مقصدِ وجود اور بنیادی فریضہ
اسلامی ریاست کا مقصدِ وجود اوربنیادی فریضہ کیا ہے، اس حوالے سے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر فرمایا گیا۔’’ وہ لوگ ہیں، جنہیں اگر ہم زمین میں تمکّن و حکومت عطا کریں، تو یہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم کریں گے اور بدی سے روکیں گے۔‘‘(سورۃالحج۔41)ایک اور مقام پر فرمایا گیا۔’’تم وہ بہترین جماعت ہو، جسے نوعِ انسانی کے لیے نکالا گیا ہے، تم نیکی کا حکم کرتے اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔(سورہ آلِ عمران110)۔
اسلام کے تصوّر پر قائم کردہ ریاست ایک مخصوص اخلاقی نظام کی حامل ہوتی ہے۔ اس میں حکومت کرنا اور اقتدار پر متمکن ہونا مقصود بالذّات نہیں، بلکہ ریاست کا مقصدِ وجود اسلام کے اصولوں کی عَلم برداری ہے۔ یہ ریاست نیکیوں کے فروغ اور بُرائیوں کے استیصال کے لیے قائم کی جاتی ہے۔ اقتدار کی ہوس، کشمکش سے پاک وصاف ماحول کا اہتمام اسلامی ریاست کی بنیادی ذمّے داری ہے۔
ذرائع ابلاغ، ملک و قوم کے لیے امین کا درجہ رکھتے ہیں اور اس امانت کی ذمّے داریوں کو ملحوظ رکھنا ذرائع ابلاغ کا اوّلین فریضہ ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں ذرائع ابلاغ کی بنیادی ذمے داری قوم کے اخلاق و کردار کی اصلاح ہے۔ ملک و قوم کی تعمیر و ترقی اور اس کی اصل منزل کی جانب پیش قدمی اس کا اہم فریضہ ہے۔ اس لیے ملک کے ذرائع ابلاغ اس مملکت کے نظریے اور مقصد کے تابع ہونے چاہئیں۔
اسلامی ریاست کا دائرۂ کار، ذمّے داریاں
ایک اسلامی ریاست میں اگر ہم ذرائع ابلاغ کے کردار اور ذمّے داریوں کا تعین کرنا چاہیں تو درج ذیل اصولی باتیں ازخود واضح ہوجاتی ہیں۔اسلامی معاشرے میں فرد، ریاست اور اداروں کا سرچشمۂ ہدایت ایک ہی ہے اور وہی ان کے حقوق و فرائض، مقاصد و نصب العین اور لائحۂ عمل کا تعین کرتا ہے۔ اس لیے ذرائع ابلاغ اور ریاست کے درمیان کسی تصادم اور کشمکش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تاہم، اگر ریاست، ذرائع ابلاغ اور کسی شہری کے درمیان کوئی تنازع اٹھ کھڑا ہو،تو اسے حل کرنے کا صحیح طریقۂ کار بھی اسی سرچشمۂ ہدایتمیں طے کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہے۔ ’’اگر کسی معاملے میں تمہارے درمیان تنازع ہو، تو اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف پھیر دو۔‘‘ اس ہدایت کے مطابق، معاملہ شریعت، اسلامی تعلیمات کے تحت ایسی مقتدرہ کے سپرد کردیا جائے گا، جو قرآن و سنت کے مطابق فریقین کے درمیان فیصلہ کرے گی۔ ذرائع ابلاغ کا کردار، رہنما اخلاقی اقدار اور اصولوں کا پابند ہوگا۔
جو فرد، ریاست اور ہر دوسرے ادارے پر عائد کیے گئے۔ ان کا حلقۂ اثر یقیناً اپنے اپنے وسائل و اختیارات کے لحاظ سے مختلف ہوگا، لیکن ان تمام سرگرمیوں کی سمت ایک ہی ہوگی۔ یعنی ہر حال میں خیر و بھلائی کا فروغ اور شر و فساد کا انسداد۔
فرد، ریاست یا ذرائع ابلاغ میں سے جو کوئی اللہ کی مقرر کردہ حدود توڑے گا، وہ خود بخود دوسروں کو مزاحمت کا حق دے گا۔ یہ پابندئ حدود میں باہم معاون ہوں گے اور انحراف کی صورت میں مزاحمت ان کا فرض بن جائے گی۔
فحاشی اور منکرات کو فروغ دینا ایک فرد کے لیے بھی ممنوع ہے اور تمام اداروں اور ریاست کے لیے بھی۔ اگر ریاست کا کوئی ذمّے دار فرد یا اس کا کوئی ادارہ اس کے فروغ میں مدد دے گا، تو ہر مسلمان شہری بالخصوص اسلامی ذرائع ابلاغ کا فرض ہے کہ وہ اس کی مزاحمت کریں۔ اسی طرح ذرائع ابلاغ یا کوئی شہری یہ حرکت کرے گا، تو ریاست کو اس پر قدغن لگانے کا پورا حق حاصل ہوگا۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کی جانب سے تحدید و توازن کا نظام ہے۔(محمد افتخار کھوکھر، ڈاکٹر/ اسلام کا نظریۂ ابلاغ،صفحہ 84)۔
اسلام نے تحفّظِ جان، مال، آبرو، نجی اور شخصی آزادی کے تحفّظ، ظلم کے خلاف احتجاج، آزادئ اظہار رائے، حصولِ انصاف، معصیت سے اجتناب، اجتماعی معاملات میں باہم صلاح و مشورہ اور اسی نوعیت کے دوسرے امور میں حقوق و فرائض کا جو دائرئہ کارمتعین کر دیا ہے، اس کا احترام فرد، ریاست اور ذرائع ابلاغ پر لازم ہوگا۔ اس سلسلے میں اسلامی ذرائع ابلاغ کی ذمّے داری، ان ضابطۂ ہائے اخلاق کی پابندی سے کہیں بڑھ کر ہے، جنہیں انسان خود وضع کرتا ہے۔
اسلام کا مقرر کردہ ضابطۂ اخلاق چوں کہ خود خالقِ کائنات، اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے، اس لیے اس کی پابندی محض اخلاقی معاملہ نہیں، بلکہ خالص قانونی اور دستوری ذمّے داری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں اس کے عطا کردہ اختیارات و وسائل، ہر اس قدر، اصول، عقیدے، روایت اور طرزعمل کو فروغ دیا جائے، جسے وہ خیر قرار دیتا ہے۔
اس مقصد کے لیے اسلامی ذرائع ابلاغ کو ہر فرد، ہر اس گروہ اور ہر اس قوت سے تعاون حاصل کرنا ہوگا، جو خیر اور بھلائی کی علَم بردار ہے اورایسی قوت کے خلاف جہاد کرنا ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کی حدود توڑنے، اس کے احکام پامال کرنے، اس کی ریاست میں ظلم و استحصال، جبرو استبداد اور فتنہ و فساد پھیلانے والی ہو۔(ایضاً، بحوالہ: اسلام کا نظریۂ ابلاغ، ص 85)۔
اسلامی ریاست کے ذرائع ابلاغ، درحقیقت اسلام کے فروغ و تحفّظ، اس کے دفاع اور اس کے دشمنوں سے معرکہ آرائی کا ایک مؤثر ہتھیار ہیں، لیکن اس کی کاٹ صرف اُسی صُورت برقرار رہ سکتی ہے، جب اس کی نیام قرآن و سنّت، اسوئہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور تعلیماتِ نبویؐ کے سوا کچھ نہ ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے بجائے اگر کچھ دوسرے عاقبت نا اندیش لوگ اپنی اطاعت کی زنجیروں میں جکڑ لیں یا پھر ان اداروں سے وابستہ افراد خود اپنے ماتحت کرنا چاہیں، تو درج بالا اصولی باتیں از خود واضح ہوجاتی ہیں۔
ہاتھوں اور پیروں میں مادی مفادات اور عارضی مصلحتوں کی بیڑیاں ڈال کر حصول منفعت میں لگ جائیں تو اسلام کی یہ تلوار نہ صرف کند ہوجاتی ہے، بلکہ دشمنانِ اسلام کا آستین کے نیچے چُھپا ہواخنجر بن جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ کوئی بھی نظریہ خلا یا ہوا میں پنپ نہیں سکتا۔
کسی بھی نظریے کو قابلِ عمل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست کا عملی وجود ہو، جہاں اسے رائج اور نافذ کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں، اس لیے اسلامی نظریۂ ابلاغ کے عملی نفاذ اور فروغ کے لیے اسلامی ریاست کا وجود بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر، لادین، سیکولر ریاست میں اس کا نفاذ بے حقیقت، بے جوڑ، بے سود ثابت ہوگا۔(ایضاً،ص 86)۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ عصرِحاضر میں جہاں انسان نے اپنی قابلیت و استعداد کے جوہر متعدد شعبہ ہائے زندگی میں دکھائے ہیں، ان میں ذرائع وسائل یا ذرائع ابلاغ کا کردار ایک اہم موضوع ہے، جو اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ میڈیا پر جس طبقے کا غلبہ ہوتا ہے، وہ بہرحال تعصّب و جانب داری کی دلدل سے نہیں نکل پاتا اور پھر اس کے مثبت اثرات و نتائج بھی مجروح ہونے سے بچ نہیں پاتے۔(فلاحی ،توقیر عالم ،/ میڈیا کا کردار اسلامی نقطۂ نظر سے، ترجمان القرآن، دسمبر 2013ء، ص 67)۔
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ اس گروہ کا جادو چل رہا ہے، جس کے ہاتھ میں ’’ابلاغ کے ذرائع‘‘ ہیں۔ اس دور میں ذرائع ابلاغ کے کرداراور سوشل میڈیا کی حدود و قیود، ضابطہء اخلاق پر عمل نہ ہونے اوراس کے مثبت، مفیداور تعمیری استعمال کی تعلیم و تربیت میں ریاستی ذمّے داریوں کے فقدان کے باعث منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔ آج سوشل میڈیا کے حوالے سے مثبت و منفی دونوں مظاہر ہمارے سامنے ہیں۔
ہم جس دینِ مبین اور جس شریعت کے پیروکار ہیں، وہ ایک کامل و مکمل اور ابدی ضابطۂ حیات ہے، اس کی تعلیمات ہمارے لیے راہ نمائی کا سرچشمہ اور دستورِ حیات کی حیثیت رکھتی ہیں، بالخصوص تعلیماتِ نبویؐ میں ہر دَور کے چیلنجز اور ہر عہد کے مسائل کا حل موجود ہے، یہ رُشد و ہدایت کا سرچشمہ اور حکمت و معرفت کا مینارۂ نور ہیں۔ ’’ذرائع ابلاغ بالخصوص سوشل میڈیاکا کردار اور ذمّے داریاں‘‘ موجودہ دَور کا ایک اہم موضوع اور اُمتِ مسلمہ کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے حوالے سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی سبب اس کے ایک ایک پہلو کا تفصیلاً جائزہ لیا جارہا ہے۔
اسلام کا لائحۂ عمل
جب صحافت کا مقصد رائے عامّہ کی تشکیل اور ترجمانی ہو، تو پھر اسلامی نظریے کے مطابق، ابلاغ ِعامہ کو ایسی رائے عامہ تشکیل دینے کا فریضہ انجام دینا ہوگا، جو اسلام کے ضابطۂ حیات سے متصادم نہ ہو۔ گویا ابلاغِ عامّہ کو رائے عامّہ کی تشکیل اس طرح کرنی ہوگی کہ جس سے خیر اور صداقت کو فروغ حاصل ہو، چناں چہ اسلامی معاشرے میں ایسے ابلاغ ِعامہ پر پابندی ہوگی، جس سے بے راہ روی، بے حیائی اور فواحش و منکرات پھیلیں۔
اسلامی معاشرے میں ’’ذرائع ابلاغ‘‘ کا کردار اس لحاظ سے کلیدی اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ایک نظریے کا محافظ اور ذمّے دارہے، جس کے مقاصد اسلامی فلاحی معاشرے میں دین کی بالادستی، اعلیٰ اسلامی اقدار کا تحفّظ، مسلّمہ اسلامی اقدار و نظریات کا فروغ، دینِ مبین کی ترویج و اشاعت، خیر و فلاح، معروف کی اشاعت، مُنکر کا تدارک و سدِّباب، صداقت و دیانت، حق گوئی و بے باکی، شہادتِ حق، دعوتِ دین، عزتِ نفس کا تحفّظ اور احترامِ آدمیت وغیرہ ہیں۔ (جاری ہے)