ابھی جب کافی مبصر اپنے تجربے،ستارہ شناسی، امریکہ اور ایران کی قیادتوں کی ترجیحات کے حوالے سے کہہ رہے تھے کہ ایک بہت بڑی خبر’’ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے‘‘ تو اچانک امریکی نائب صدر نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ ہمارے ایران سے اکیس گھنٹے کے مذاکرات ہوئے اور بُری خبر یہ ہے کہ معاہدہ نہیں ہو سکا اور میں امریکہ واپس جا رہا ہوں اور حسبِ معمول یہ بھی کہا کہ یہ ایران کیلئے زیادہ بُری خبر ہے۔اس کے بعد تہران اور واشنگٹن کی مزاج شناسی کا دعویٰ کرنے والے کہے جا رہے ہیں کہ یہ مذاکرات ایک محدود جنگ کے بعد پھر سے شروع ہو سکتے ہیں۔ جب اسلام آباد مذاکرات جاری تھے تو بعض اچھی خبریں بھی آئیں کہ امریکہ نے ایران کے جو چھ ارب ڈالر کے اثاثے منجمد کئے تھے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کو واپس دئیے جا رہے ہیں،اس خبر کو تقویت بھی ملی کہ ایرانی ملی بینک کے سربراہ اچانک پاکستان پہنچ گئےپھر کچھ خبروں کا تانتا بندھ گیا اور دائیں بائیں مظلوموں کی فتح کے نعرے اور ترانے گونجنے لگے مگر کچھ واقفانِ حال کا کہنا تھا کہ ایک طرف ٹیکنالوجی کی برتری کی مدد سے ایک تہذیب کو مٹانے کے دعوے ہیں تباہ کن ہتھیاروں کو اور زیادہ ہلاکت خیز بنانے کا زعم ہے اور یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ امریکی صدر اپنے وزیرِ خارجہ کے ہمراہ باکسنگ کے مقابلے دیکھتے رہے جب کہ ایرانی قیادت شہادت کی طلب میں اپنا اضطراب یا اشتیاق دکھاتی رہی کچھ سمجھ دار انتباہ کرتے رہے ہیں کہ اتنے خونیں تصادم کے بعد ممکن نہیں کہ امریکی وفدپاکستان میں اپنا قیام بڑھا لیتا اور اعلان کرتا کہ ہم نے ایران کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ان پر عائد پابندیاں ختم کر دی ہیں آبنائے ہرمز پر ایران کے اختیار کو تسلیم کیا ہے اور ایران کی تعمیرِ نو کیلئے خصوصی فنڈ قائم کر دیا ہے ۔ماجرا یہ ہے کہ ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے اسلام آباد پہنچتے ہی بتایا تھا کہ امریکہ نے ہمارے ایک اسکول کے معصوم بچوں کو جس سفاکی سے شہید کیا ہے میں ان کی تصویریں لایا ہوں خون میں ڈوبے ہوئے انکے بستے اور آگ میں جھلسے ہوئے ان کے چھوٹے چھوٹے جوتے لایاہوں ان کی مائیں جس طرح ان کا نام لے کے نوحہ کر رہی ہیں ان کے آنسو اسلام آباد میں لے آیا ہوں۔ آپ میں سے جو جاپان میں گئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر جاپان کی فوج بے جگری سے لڑ رہی تھی کیونکہ وہ قوم خیال کرتی ہے کہ جاپان کا شہنشاہ اللہ کا خاص نمائندہ ہے اگر وہ کہتا ہے کہ جیت ہمارا مقدر ہے تو ہمیں شکست ہو ہی نہیں سکتی اس لئے امریکہ نے تین دن کے وقفے سے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے جس سے نہ صرف یہ دونوں شہر تباہ و برباد ہوئے بلکہ لاکھوں لوگ جھلس گئے ایسے کہ اپنے جھلسے ہوئے بدن کیلئے وہ پانی میں چھلانگ لگاتے تھے تو بدن کی پوری کھال ہاتھ میں آ جاتی یا پورے بدن پر چھالے پڑ جاتے۔ اس موضوع پر ناول لکھے گئے افسانوں کیساتھ فلمیں بھی بنیں ،دونوں شہروں میں میوزیم ہیں کئی بڑے کمروں پر مشتمل،جہاں دکھایاگیا ہے کہ اگست پینتالیس سے پہلے یہ شہر کس شکل کے تھے وہاں درخت اور سڑکیں کس طرح کی تھیں تعلیمی ادارے کتنے تھے وغیرہ پھر ایک کمرے میں بم کے بارے میں معلومات تصاویر کے ساتھ آواز کی ریکارڈنگ وغیرہ ایک کمرے کے شیشے کے شیلفوں میں بچوں کے بستے ہیں اور جھلسے ہوئے جوتے ہیں جن سے روتی کُرلاتی مائوں نے اپنے بچوں کو پہچانا اس کمرے کو دیکھنے کیلئے بہت حوصلہ چاہئے تاہم ان تصاویر اور نشانیوں کے آخر میں ایک درخت کا پتہ ہے جس کے نیچے لکھا ہے کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ کم از کم تیس برس تک یہاں سبزے اور روئیدگی کا نشان نہیں ہو گا مگر ایک برس کے اندر ہی ہیروشیما کے ایک درخت پر یہ پتہ پیغام لایا کہ ایسے شہر دوبارہ تعمیر ہو سکتے ہیں ،پھر انہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی کو دوبارہ تعمیر کیا،ایران میں جب میں گیا تو ایران عراق سے جنگ میں مصروف تھا مگر وہاں فخر سے بتایا گیا کہ مشہد کا کتاب خانہ ایک دن کیلئے بند نہیں ہوا۔ اسی طرح ہمارے صناع اور نقش گر جنگ کے شہدا کی یاد میں اطاق بزرگ یا بڑے ہال کی تزئین کاری میں مصروف رہےتاہم جب انہوں نے بتایا کہ ایران عراق جنگ میں ہمارے ہراول دستے میں بارہ،تیرہ سال کے بچے شہید ہوئے تو میرا دل مٹھی میں آ گیا کہ ان بچوں میں سے کتنے سائنس دان ،انجینئر ،ڈاکٹر یا استاد یا شاعر ہو سکتے تھے گویا قیادت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے بچے تو کیا بڑوں کو بھی جنگ کا ایندھن بننے نہ دے ،انسانی اقدار اور تہذیب کو مٹنے نہ دے۔بے شک چوکس رہیں مگر قیادت کو مشکل وقتوں میں بعض اوقات نامقبول فیصلے کرنے پڑتے ہیں جیسے جاپانی بتاتے تھے کہ ہمارے لئے دھماکے دو نہیں تین ہوئے تھے ہیروشیما اور ناگا ساکی کے بعد شہنشاہ نے خطاب کیا اور کہا کہ ہمیں شکست ہو گئی ہے ہماری فوج ہتھیار ڈالے میں خدا نہیں اور اس کا کوئی قریبی ہوں میں انسان ہوں۔ اب بھی ایرانی قیادت پر زیادہ ذمہ داری ہے آبنائے ہرمز کو بند نہ کرے،یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف استعمال نہ ہونے دے لبنان تو کیا بحرین ،کویت اور عراق میں بعض جنگ آزمائوں کو کسی ایسے ایڈونچر میں نہ پھنسنے دے کہ اکیس اپریل تک کی جنگ بندی ختم نہ ہو کہ پاکستانی قوم اپنے قومی شاعر علامہ اقبال کی یاد مناتی ہے وہی جن پر ڈاکٹر علی شریعتی نے کتاب لکھی تھی ’’ہم اور اقبال‘‘ وہی اقبال جس نے جاوید نامہ میں کہا تھا
حرفِ بد را بر لب آوردن خطاست
کافر و مومن ہمہ خلق خداست