• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے شک اچھے اچھے اعلان ہوئے کہ اسلام آباد کےایک بڑے ہوٹل میں مقیم غیر ملکی صحافیوں اور ایرانی اور امریکی وفود کے ساتھ آنے والے تکنیک کاروں کا بل کریم آغا خان ادا کریں گے تاہم آخری دھماکہ امریکی صدر نے یہ کہہ کے کر دیا کہ اسلام آباد میں ہی ایران،امریکہ مذاکرات کا’سیکنڈ راؤنڈ‘ ہوگا اوراب فریقین کسی حتمی معاہدے کی طرف بڑھیں گے۔آپ جانتے ہیں کہ مبصرین نے صدر ٹرمپ کی ایک بھتیجی تلاش کر لی جو ماہرِ نفسیات ہے اور جس نے کچھ لوگوں کی آنکھیں نم ناک کر دیں کہ ہمارے دادا سخت گیر تھے اور ٹرمپ سچے پیار کو ترسے ہوئے ہیں،یہ بات اس طرح کہی گئی کہ عین ممکن ہے کہ پوپ لیو بھی انہیں موقع دیں کہ وہ ان کے سامنےاعترافات کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں ۔

آپ میری طرح تیغوں کی بجائے کہانیوں کے سائے میں پل کر جوان تو کیا بوڑھے ہوئے ہیں تو سیکنڈ راؤنڈ سے آپ کو انتظار حسین کا ایک افسانہ یاد آیا ہو گا جو جنگ پینسٹھ کے بعد لکھا گیا تھا جب عوامی سطح پر لوگوں کی تسلی نہیں ہوئی تھی،کچھ تو نعمت اللّٰہ شاہ ولی کی پیش گوئی طاق پر دھری رہ گئی تھی دوسرے پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل کے قد،بُت اور ڈیل ڈول کے بارے میں ان کے الطاف گوہر کے پروپیگنڈے کے سبب بھی لوگوں کی تسلّی نہیں ہوئی تھی۔اجازت دیجئے کہ ایک پیراگراف اس افسانے سے لکھ دوں ’’ بھارت کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے ،میَں کہوں ہوں کہ دلّی ہمارا اٹوٹ انگ ہے،کیسے؟ اب گنتے جاؤ،لال قلعہ ایک،قطب صاحب کی لاٹھ دو،جامع مسجد تین،اولیا صاحب کا مزار چار.... علاقہ فتح ہو جائے تو بہت سی نئی الجھنیں مصروف رکھنے کیلئے پیدا ہو جاتی ہیں ،لیکن علاقہ بھی فتح نہ ہو اور جنگ بھی ختم ہوجائے،یہ نہایت بے لُطفی کی بات ہے‘‘ تاہم یہاں تو ماجرا اور ہے ایران نے بے پناہ مزاحمت دکھائی ہے،کہنے کو بھاری نقصان بھی اسی کا ہوا ہے پر اسے بھارت اور اسرائیل کے سوا تمام ملکوں کی اخلاقی تائید ملی ہے یہ اور بات کہ بھارت میں نریندر مودی ہی سبھی کچھ نہیں اور اسی طرح اسرائیل میں بھی نیتن یاہو سبھی کچھ نہیں وہاں بھی اسے سوشل میڈیا پر دکھایا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی میڈیا کے سامنے یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ لبنان میں حزب اللّٰہ کو ایران سے ہتھیار ملتے ہیں تو یمن میں حوثیوں کو بھی ایرانی تھپکی اسلحے کی صورت میں ملتی ہے۔ ادھر ڈاکٹر محمد علی صدیقی مرحوم(ایریل کے قلمی نام سےڈان میںلکھتےتھے،قائد اعظم اکیڈمی کے ڈائریکٹر تھے)انتباہ کرتےرہتےتھےکہ گوادر،کراچی اور جیونی کی بندرگاہوں کی فعالیت سے دبئی سب سے زیادہ متاثر ہو گا مگر خواجہ فرید کالج میں سیاسیات کے عبدالقادر،عربی کے علامہ اللّٰہ بخش قادری،انگریزی کے حسین احمد زبیراور اسلامیات کے محمد رفیق ،شیخ زید کے التفات(صحرا میں محل،رحیم یارخان میں ائیرپورٹ،یو بی ایل کے ذریعے مقامی فنکاروں کی سرپرستی) میں کمی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ہمارے کالج کی تعمیرات کے ساتھ کم و بیش پچاس طالب علموں کو میڈیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم کیلئے وظائف مل رہے تھے۔اب کچھ کچھ سمجھ میں آ رہا ہے کہ برس ہا برس کی خدمت گزاری کے باوجود ہم سے تین ارب ڈالر کا تکیہ یا کُشن کیوں چھینا گیا؟ ۔ایک وقت تھا وال اسٹریٹ جرنل کے حوالے سے ہی ہمارا دل لرز جاتا تھا اب تو نیو یارک ٹائمز کی فرنٹ پیچ اسٹوری سے کچھ زیادہ گھبراہٹ نہیں ہوتی کہ ساتھ ہی کوئی سرگوشی کرتا ہے کہ اسے جرمنی نے خرید لیا ہے گویا امریکہ کے روایتی حلیفوں میں بھی ڈرامائی تبدیلی آ رہی ہے پہلے نیٹو کے نام سے ہی کچھ دارالحکومت لرز جاتے تھے مگر اب ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ہم نے اربوں ڈالر اس پر بے کار ہی ضائع کئے۔ آبنائے ہرمز یا ایرانی افزودہ یورینیم کا معاملہ کوئی نیا مسئلہ نہیں،تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ صدر اوبامہ کے زمانے میں امریکہ اور ایران میں سمجھوتہ ہو چکا تھا اب ٹرمپ کی دھمکیاں اپنی جگہ مگر اندر سے وہ چاہتے ہیں کہ کم و بیش وہی معاہدہ بحال ہو جائے۔ ان کی کچھ شخصی کمزوریاں ہیں کہ وہ کالی رنگت کے اخلاص اور دانش مندی کو تسلیم نہیں کرتے شاید اسی وجہ سے انہیں متواتر کچھ صدمے سہنے پڑ رہے ہیں ۔اطالیہ کی بہت خوش شکل وزیر اعظم جورجیا میلانی کی صدر ٹرمپ نے بہت تعریف کی تھی مگر ان کے تازہ ترین موقف سے ان کا دل ضرور ٹوٹا ہوگا، دوسری طرف اسپین (اندلس)کے گورےوزیرِاعظم بیدرو سانچیز نےہمارے مستنصر حسین تارڑ (اندلس میں اجنبی) کی طرح کہہ دیا ہے کہ اسرائیل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے اس لئے اسے سزا ملنی چاہئے۔یہی نہیں پاکستان کے گندمی رنگ کے وزیر اعظم چار ملکوں کے دورے میں نکلے ہیں اور وہ سعودی عرب کے پیش قدم ولی عہد سے ملے ہیں ادھر ہمارے میرِ سپاہ ایران میں پہنچے ہوئے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ اسلام آباد میں ہی ہو جسکے بارے میں صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ فیصلہ کن ہو گا یعنی حتمی معاہدہ ہو جائیگا۔ اس اہم موقع پر پاکستان کا اہم دوست چین بھی متحرک ہے کہا جا رہا ہے کہ ایران کو چینی سیٹلائٹ سے اہم ترین معلومات دی گئیں اور پھر چینی صدر سے ملاقات کے بعد روسی صدر پیوٹن نے ایرانی افزودہ یورینیم کے بارے میں بھی ایک چونکا دینے والی تجویز دی ہے۔

تازہ ترین