اسرائیل اپنے قیام کے فوراً بعد ہی کرہ ارض پر مستقل فساد اور جنگ و جدل کا مرکز بن گیا تھا۔ جس میں وقت کے ساتھ تیزی آتی گئی اور یہ امنِ عالم کیلئےایک مستقل خطرہ بنتا گیا جسکی وجہ سے مشرقِ وسطی میں 1967، ,1973 2025 اور اب 2026 میں خون ریز جنگیں ہوئی ہیں۔ مارچ اپریل 2026میں ہونیوالی یہ حالیہ 40 روزہ جنگ جو امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف لڑی ہے اور جس میں فی الحال 15 روزہ عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے، دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی جنگ ہے جو تیسری عالمی جنگ کا روپ اختیار کر سکتی ہے اور جسے روکنے کیلئے پوری دنیا فکر مند ہے ۔ اس میں پاکستان کی کامیاب سفارت کاری بھی تاریخی نوعیت کی ہے جسے پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے پہلے مرحلے پر دن رات دوڑ دھوپ کر کے امریکہ اور ایران کو 15 روزہ عارضی جنگ بندی کیلئے تیار کیا اور ساتھ ہی اسلام آباد میں دونوں ممالک کے چوٹی کے لیڈروں کو تقریبا 49 سال کے بعد ایک میز پر بٹھا دیا تاکہ وہ مذاکرات کے ذریعے آپس کے اختلافات حل کر سکیں ۔ یہ ایک تاریخی سفارتی کامیابی ہے کہ انقلاب ایران کے تقریبا ًنصف صدی بعد امریکہ اور ایران جو ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں مذاکرات کیلئے آمادہ ہو گئے اور انہوں نے ساری دنیا میں ثالثی کیلئے صرف پاکستان کا انتخاب کیا جو اس حقیقت کا غماز ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت دنیا میں اہم ترین مقام حاصل کر چکی ہے ۔ اس جنگ نے جہاں پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے وہیں تیسری عالمی جنگ کی صورت میں اس کرہ ارضی کی بقا کا سوال بھی پیدا کر دیا ہے۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران دونوں ممالک کا اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کا تجربہ اچھا رہا ہے اور غالب امکان یہ پیدا ہو گیا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور بھی اسلام آباد میں ہوگا ۔جسکے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات کافی روشن ہیں ۔ اگر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور ان کے نتیجے میں کوئی معاہدہ انجام پاتا ہے تو اس کا سارا کریڈٹ پاکستان کو جائیگا ۔ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہوگا جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔اسرائیل نے اس سے پہلے عارضی جنگ بندی کو ناکام بنانے کیلئے لبنان پر خوفناک بمباری کر کے چند دنوں میں سینکڑوں بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا تھا جسکے خلاف پوری دنیا میں اسرائیل کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ 1948ءمیں قائم ہونیوالی اسرائیلی ریاست ایک چھوٹی سی ریاست تھی جسے اس وقت کی مغربی دنیا خصوصاََ برطانیہ اور امریکہ کی اس وجہ سے حمایت حاصل تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمنی نے یہودیوں کی نسل کشی کی کوشش کی تھی ۔ ان کی مظلومیت نے امریکہ اور یورپ میں ان کیلئے اتنی ہمدردی اور اپنے لیے ایسا احساس جرم پیدا کر دیا کہ مغربی عوام تو اسی جذبے کے تحت اسرائیل کو سپورٹ کرتے رہے جبکہ مغربی حکمرانوں نے اپنے قومی اور معروضی مفادات کیلئے اسرائیل کو اپنے مہرے کے طور پر پالنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف شاطر صہیونی حکمرانوں نے امریکی اور یورپی حکمرانوں اور عوام کیلئے خود کو اتنا اہم بنا دیا کہ اسرائیل ان کی کمزوری اور مجبوری بن گیا۔ جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل نے عربوں کے ساتھ ہونے والی ہر جنگ میں جس علاقے پر قبضہ کیا اسے اقوام متحدہ کے تمام تر قوانین اور قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل میں ضم کرنا شروع کر دیا اور آئے دن مقامی فلسطینیوں کی نسل کشی ہونے لگی غزہ میں ہونے والی اسرائیل کی دو سالہ بمباری نے سفاکی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ تمام دنیا نے اس پر واویلا کیا مگر امریکی اور اسرائیلی درندوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا لیکن یہ ضرور ہوا کہ ان معصوم بچوں اور بے گناہ انسانوں کے قتل عام نے تمام عالمی رائے عامہ کو اسرائیل کے خلاف اس حد تک کر دیا کہ امریکہ اور یورپ میں اسرائیلی بربریت کے خلاف مظاہرے ہونے لگے ۔ مغرب کی نئی نسل نے اسرائیل کا وہ چہرہ پہلی مرتبہ دیکھا جو انتہائی مکروہ اور خوفناک تھا اور یہ اس تصور کے بالکل الٹ تھا جسکے بارے میں وہ سنتے آئےتھے اسی کا نتیجہ ہے کہ حالیہ تاریخ میں پہلی مرتبہ امریکہ اور اسرائیل دنیا بھر میں اکیلے ہو گئے ہیں اور ان کے کسی سابق حلیف نے ان کا ساتھ دینے کا وعدہ نہیں کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یورپی قیادت بجا طور پر اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اسرائیل اب مظلوم نہیں رہا ،قاتل ہے اور اس کرہ ارضی پر بوجھ بن گیا ہے جس کا مزید دفاع کرنا ناممکن ہوگا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل کا وجود امریکہ اور یورپ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان کی مدد کے بغیر اپنے دشمن عرب ممالک میں گھرا ہوا اسرائیل اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا اس وقت اسرائیل یورپی ممالک کی ہمدردیاں تو کھو چکا ہے اور جس تیزی سے امریکی سامراج زوال پذیر ہے وہ بھی اسرائیل کے مستقبل اور وجود پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ آخر بے گناہ معصوم بچوں کا خون کبھی تو رنگ لائے گا ۔
پھولوں کا قتل ہے کہ ہے انسانیت کی موت
آنکھوں سے اب تلک وہ نظارہ نہیں گیا
ہر دور میں ہوا یہاں بچوں کا قتلِ عام
موسی مگر فرعون سے مارا نہیں گیا