السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
گزرے لمحات کا بھڑکتا الاؤ
آج بزرگوار پروفیسر منصور علی خان کی اعزازی چِٹھی نے کیا دَم بھرا کہ اپنے لیےگزرےزمانےکا وہ خراجِ تحسین، دُعا و سلام نظروں کے سامنے آگئے۔ فوراً ہی سبزی، دال، چاول، آٹے کی غوں غاں، لذتِ کام و دہن سے جان چُھڑاکے کچن سے نکلنے کا سوچا۔ مگر پھر چولھے پر رکھی ہنڈیا کے جلنے کی فکر دامن گیر ہوئی تو چارو نا چار چولھےہی کے پاس کرسی گھسیٹ، کفگیر چھوڑ، قلم پکڑلیا۔ آگ کے شعلوں میں بھی ’’سنڈے میگزین‘‘ کے ساتھ گزرے لمحات کا بھڑکتا الاؤ ہی رقصاں دکھائی دیا۔ ہائے کیا زمانے، علمی و ادبی محفلوں کا دَور تھا۔
وہ ’’رتّی کے جناح‘‘ کا طلسم، سلمیٰ اعوان کی تین سہیلیوں کے ساتھ سیر کا ہر ہفتے انتظار، عرفان جاوید کے’’عجائب گھر‘‘ میں بانسری بابا کی آخری دُھنیں، نرجس ملک کا اپنے استاد احفاظ الرحمٰن کو لازوال خراجِ عقیدت، اپنے صفحے کی محبّتوں کے چمن میں انہی اعزازی چٹھیوں، تحریروں کی تعریف و توصیف کے کِھلتے پھول، پروفیسر منصور علی خان کے خراجِ تحسین سے لے کر پرنس افضل کی قدردانی، خالدہ سمیع کا تاروں کے جھرمٹ میں چاند کہنا اور قلمی دوستی، اُمِ حبیبہ کا ہمارے خط کو قلمی چھکا قرار دینا اور محمد سلیم راجا کی خطوط کی گنتی۔
ہائے کیسے پیارے پیارے لوگوں کے الفاظ کی خُوش بُو قلب وجاں میں بسی ہے۔ آج یاد کرکے آنکھوں سے گنگا جمنا ہی بہہ نکلی۔ خیر، آنکھوں کی دھند صاف کرکے تازہ شمارے پر نظر ڈالی تو آج بھی سب کچھ وہی تھا۔ وہی ادبی دنیا کا شور وغل، سینٹر اسپریڈ پر نرجس ملک کے دودھیا سفید رنگ پر موتی جیسے دمکتے الفاظ، جن کی پوتّر خُوش بُو سے پورا جریدہ ہی مہکتا نظر آیا۔
مُلک و قوم کی فکر میں غلطاں قلم کار منور مرزا کا شان دار تجزیہ، ثانیہ انور کا منفرد اندازِ تحریر، ڈاکٹر عنبریں کے قلم سے نکلے اَن مول الفاظ۔ پچھلے سال کے اِسی تغیروتبدّل میں ؎ ہائے کس کس کا سوگوار ہوں میں…رنج و غم کے ساتھ نئے سال کے مسرتوں بَھرے پیغامات کہ زندگی غم و خوشی ہی کی تو دھوپ چھاؤں کا نام ہے۔
اپنے صفحے کی رونقوں نے پھر اپنے قدردانوں کی یاد دِلادی کہ آپ کے توسّط سے جانے کہاں کہاں سے تعریفی اسناد حاصل نہ ہوئیں۔ یہاں تک کہ اہلِ قلم کانفرنس میں’’جو اکادمی ادبیاتِ اطفال، تعمیرِ پاکستان پبلی کیشنز اینڈ فورم کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوئی) مجھے علمی و ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ سو، آج آپ کے توسط سےسبھوں کا تہہ دل سے شکریہ۔ (نازلی فیصل، ڈیفینس، لاہور)
ج: بہت مبارک ہو آپ کو۔ ویسے وقت جتنا بھی برق رفتار سہی، ’’سنڈے میگزین‘‘ آج بھی اپنی روایات و اقدار سے جُڑا، بہت حد تک وہی پرانا سنڈے میگزین ہے۔ ہر شے اپنے ’’اصل‘‘ کی طرف لوٹ رہی ہے، جب کہ ہم نے اپنےاصل کو کبھی چھوڑا، اُس سے تعلق توڑا ہی نہیں۔
شمارے کی جان ’’احسنِ تقویم‘‘
دو شماروں پر تبصرہ چاہتا ہوں۔ یکم فروری کےشمارے کی ابتدا شبِ برات کی مقدّس و منوّر و معطّر رات کی دلآویز و ضیاء بار و ضوفشاں تحریر، حافظ ثانی کے قلم کے اَن مول شاہ کار سے ہوئی۔ پھر حافظ بلال کا ’’یومِ یک جہتیٔ کشمیر‘‘ پر مضمونِ دل فگار، اسرار ایوبی کاشاہ فہد قرآنی کمپلیکس پر خیالات و احساسات کا اظہار، منور راجپوت کی سانحۂ گل پلازا پر تحریرِ اشک بار اور دلِ مضطرب و بے قرار اور بیچ میں رحمان فارس کا ’’شہرِسوختہ نصیب‘‘ کا رنج و اضمحلال۔
شمارے کی جان ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس کا انور مسعود سے متعلق اظہارِ خیال کا اَن مول طریقہ، بخدا ایسی نستعلیق، شُستہ، شائستہ، شگفتہ، مقفیٰ، مسجّع اور مصفیٰ اُردو مَیں نے آج تک نہ کہیں سُنی اور نہ پڑھی اس قدر فصیح، بلیغ، وقیع، عمیق اور دقیق اردو تو یو پی، سی پی اور اہلِ لکھنؤ بھی نہ بولتے، لکھتے ہوں گے بلکہ میرے تقریباً چالیس سال قیام اور تیرہ سال ملازمت کے دوران بھی کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص کے رہائشی اہلِ زبان بھی ایسی شان دار اُردو کبھی نہ بولتے تھے۔ ویل ڈن رحمان فارس! آپ نے اُردو کی جو تزئین، تنظیم اور تنویر وتوقیر کی، یہ کاوش سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کےقابل ہے۔
’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پر تبصرے کا حق جین زی کا ہے، ہم بابے خواہ مخواہ ہی دخل در معقولات کرتے ہیں۔؎ اور بھی غم ہیں زمانے میں ’’تبصرے‘‘ کے سوا۔ منور مرزا نےدنیاوی’’افراتفری‘‘ کا بخوبی احاطہ کیا اور متفرق میں دونوں ڈاکٹر صاحبان نے عام خرابیوں پر خُوب روشنی ڈالی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں دیگر خطوط کے ساتھ میرا خط بھی شامل تھا۔
صفدر ساغر نے میرے ’’تم‘‘ لکھنے پر تنقید کی،حالاں کہ ’’تم‘‘ کہنے میں جو اپنائیت، گہری وابستگی کا احساس ہے،’’آپ‘‘ میں اُس کا عُشرِ عشیر بھی نہیں۔ آپ سے اجنبیت، تصنّع کا اظہار ہوتا ہے، جیسے پنجابی میں ’’توں‘‘، ’’تیرا‘‘۔ یوں بھی اگر ایک 75؍ سالہ بزرگ نے، اپنے سے کہیں چھوٹی بیٹی جیسی کو ’’تم‘‘ لکھ دیا تو اِس میں کیا مضائقہ ہے؟ ویسے تم نے اِس کا جواب بڑا عُمدہ دیا۔ اگلا شمارہ اپنےجلو میں اعجازِ قرآن مجید کے انوار و برکات لیےتھا۔ منیر احمد خلیلی یمن میں سازشوں کے تانے بانے پر رقم طراز تھے۔
رستم و دانیال نے خطرناک بیماریوں پر خامہ فرسائی کی۔ ہوشیارباش! اس دفعہ رحمان فارس افتخارعارف کے ساتھ تحریرکی نغمگی، بےساختگی، شیرینی اور رس ملائی لیے حاضر تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں جب ماڈلز کے ایسے کپڑے اور فوٹو شوٹ ہوں گے، تو ہم جیسے ’’بابے‘‘ بھی پڑھے، دیکھے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر امیر حسن اچھا اضافہ ہے۔
یہ میرا کالج فیلو اور 6؍ سال جونیئر ہے۔ اختر سعیدی کی نظم نے محبّت کا صحیح مفہوم بتادیا اور’’آپ کا صفحہ‘‘ کو سنوارنے میں تمہارے قلم کا بڑا ہاتھ ہے۔ جیتی رہو، جو چاہے تمہارے قلم کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے۔ ہاں، سلیم راجا واقعی ایک بالکل منفرد بندہ ہے۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد)
ج: سر جی! آپ کے مضامین سے زیادہ طویل تو آپ کا تبصرہ ہے۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ سے متعلق آپ کی رائے سے سو فی صد اتفاق ہے۔ ہمارا اپنا خیال ہے کہ رحمان فارس جیسے شان دار شاعر و نثرنگار کا ہماری ٹیم میں شامل ہوجانا، خود ’’سنڈے میگزین‘‘ کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
کروڑوں روپے کی گُڈی، ڈور
دُعا ہے اللہ تعالی رحمتوں، رفعتوں سے ہرمسلمان کو مالامال کر دے۔ صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ سفید پوش طبقہ، جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اُسے تلاش کریں اور اُن کی ہر ممکن مالی معاونت کریں۔ سڑکوں کے کنارے بیٹھے وہ سیکڑوں مزدور، جو سارا دن مزدوری کی آس، تلاش میں رہتے ہیں۔ دیہاڑی کے انتظار میں دن ختم ہوجاتا ہے، تو خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ اُن مفلسوں کا سہارا بنا جائے، اُنہیں روزگار فراہم کرنےکےاقدامات کیےجائیں۔
حکومت بازاروں کے انعقاد کی بجائےغریب کی روٹی روزی کا مناسب بندوبست کرے تاکہ کسی کو بھی دو وقت کی روٹی کے لیے لنگرخانوں کے باہر گھنٹوں قطارمیں نہ کھڑا ہونا پڑے۔
پچھلے دِنوں لاہور، راول پنڈی، کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں بسنت منائی گئی، کروڑوں روپے کی گُڈی، ڈور ہوا میں اُڑا کے اسے ثقافتی تہوار کا نام دیا گیا۔ افسوس کسی نے بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے بارے میں نہیں سوچا۔ بہرکیف، ’’پتنگ بازی‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر حاضرِ خدمت ہے۔ (بابر سلیم خان، سلامت پورہ، لاہور)
ج: آپ کے خیالات، احساسات قابلِ قدر، مگر تحریر ناقابلِ اشاعت ہے۔
’’شاہ کار‘‘ سے کم نہ تھا
چمکیلی تیز دھوپ اپنے جوبن پر ہے اور قلم ہمارے ہاتھ میں۔ سنڈے میگزین سامنے کُھلا ہے، تو لگ رہا ہے،خوشیاں اِرد گرد رقصاں ہیں۔ ڈاکٹرحافظ محمد ثانی’’شبِ برات‘‘ جیسا پیارا موضوع زیرِ تحریر لائے۔ اس رات مالکِ کائنات سے مغفرت و رحمت طلب کی جانی چاہیے، نہ کہ آتش بازی سے رب کی رحمت سے دُور ہوا جائے۔ چکوال سے حافظ بلال بشیر ’’یومِ یک جہتیٔ کشمیر‘‘ کے موضوع پر قلم طراز تھے کہ کشمیری عوام کےحقِ خود ارادی اور جائز حقوق کو دنیا کے کونے کونے میں اجاگر کیا جائے۔
شاہ فہد قرآن کمپلیکس سے متعلق اسرار ایوبی نے بتایا کہ قرآن مجید کی طباعت و اشاعت اور ترجمے کا سب سے بڑا اور معتبر ادارہ ہے۔ اپنی طرز کے منفرد لکھاری، منور راجپوت سانحۂ گل پلازا کا نوحہ لیے حُکم رانوں سے پوچھ رہے تھے کہ عملے کی تعلیم و تربیت کا آئندہ کے لیے کیا انتظام کیا گیا ہے۔ ہر بارصرف بیانات اور اعلانات ہی سامنے آئیں گے کہ عملی طور پر بھی کچھ کیا جائے گا یاعوام بروزِ قیامت ہی اُن حکم رانوں کے گریباں پکڑیں گے۔
رحمان فارس کی خُون رلاتی نظم ’’شہرِ سوختہ نصیب‘‘ نے تو دل ہی چیر کے رکھ دیا۔ ’’قہقہہ واشک کا مرقع، انور مسعود‘‘ کے لیے اتنا لکھنا ہی کافی ہے کہ رحمان فارس کا ادب پارہ کسی ’’شاہ کار‘‘سےکم نہ تھا۔ جریدے کے بیچوں بیچ شائستہ قلم کی مالک، شائستہ اظہر صدیقی کا رائٹ اَپ جگمگا رہا تھا۔
حافظ بلال بشیر نے ’’مصنوعی ذہانت کا انقلاب اور 2026ء کا انسان‘‘ کے ٹائٹل سے اینٹری دی اور پوری دنیا پرکڑی نظر رکھنے والے قلم نویس منور مرزا، دنیا میں افراتفری سے متعلق سخت فکرمند تھے کہ ہم جو چاند پرجانے کی تمنّا رکھتے ہیں، اس دنیا ہی کو چاند کیوں نہیں بناتے۔
اگر قانون بالادست ہو، نہ کہ طاقت، تودنیا امن و امان کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں مدوّن ومرتّب عرفان جاوید مبین مرزا کی سرگزشت ’’بےدیارم‘‘ کے عنوان سے لائے۔ ڈاکٹر سکندر اقبال بحران زدہ شعبۂ تعلیم اور بےلگام نجی تعلیمی اداروں کی بابت قلم طراز تھے، تو پیارا گھرمیں انیلا خلیل کا کہنا صد فی صد درست کہ بچّوں کوآغاز ہی سے اخلاق و کردار، یقینِ کامل اور نظم وضبط کا عادی بنایا جائے۔
رانا محمّد شاہد ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی مسند پر رونق افروزہوئے، جب کہ برقی، ایمن علی منصور، ڈاکٹر اطہر رانا، پرنس افضل شاہین، محمد صفدر خان ساغر اور خاکسار ایڈیٹر صاحبہ کے کھٹے میٹھے جوابات سے مستفید ہوئے۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میر پور خاص)
فی امان اللہ
’’سالِ نو ایڈیشن‘‘ پیشِ نظر ہے۔ مدیرہ صاحبہ کے ’’حرفِ آغاز‘‘ سے آغازِ مطالعہ کیا، جس میں جہاں ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ جیسے قابلِ فخر لمحات گنوائے گئے، وہیں ہم وطنوں کے ’’عظیم کارنامے‘‘ بھی دہرائے گئے۔ گویا سال 2025ء کی خوش گوار و ناخوش گوار یادوں کا ایک مکمل متوازن سا گل دستہ نذرِ قارئین کیا گیا اور انتہا اس جذبۂ خیرسگالی پر ہوئی۔؎ ہو سالِ نوبہشت کادرپن خداکرے… ہر گھر مسرتوں کاہومسکن، خدا کرے۔ گل ہائے تہنیت سےصحنِ دل معطّر کرتے اگلے صفحے پر پہنچے۔
مضمونِ اوّل ’’اُمتِ مسلمہ‘‘ میں اُمّت میں پائی جانی والی ناچاقی ونااتفاقی کو بجاطور اجاگر کیا گیا۔ ؎ کوئی اُمید برنہیں آتی، کوئی صُورت نطر نہیں آتی۔ صفحۂ دوم پر ’’پاک افواج‘‘ کی پیشہ ورانہ قابلیت کی دھاک بخوبی منطبق کی گئی کہ ؎ ہماری فتح کے انداز دنیا سے نرالے ہیں۔ ’’عدالتِ عظمیٰ‘‘ کےصفحے پر ’’نیو پاور آرڈر‘‘ سے متاثرہ (متنازعہ) مُنصفین کی الوداعی آہیں سنائی دیں اوران آنیوں جانیوں میں؎ کٹہرے میں کھڑا رہا، عُمر بھر کا سوال۔
وطنِ عزیز کی مفاد پرستانہ سیاست سے، اگلا سلسلہ ’’خار زارِ سیاست‘‘ جابجا چھلنی پایا۔ جہاں فیض اور ’’بے فیض‘‘ کی اکٹھی تصاویر کے اوپر ہیڈنگ ؎ مَیں نے کوشش کی بہت، لیکن کہاں یک جا ہوا۔ انجامِ پُرآلام کی کُھلی چغلی کھارہی تھی۔ جمہور نواز، سیّد اعزاز نے پارلیمانی سالِ رفتہ میں تابڑ توڑ قانون سازی پر اپنے تاثرات و تشویش کو ’’ایوانِ نمائندگان‘‘ میں یوں لبادۂ الفاظ میں پیش کیا۔
؎ قانون جیسے کھو چُکا صدیوں کا اعتماد۔ اور سالِ نوایڈیشن کےمقام وسطیٰ پر مردِ باکمال، منور راجپوت نے سالِ گزشتہ کی ٹائم اسٹوری تصاویر کے آئینے میں باطریقِ احسن جوڑی۔ مبصرِعالم، منور مرزا کے تجزیوں میں سال بھر ٹرمپ کے چرچے رہے، لہٰذا ’’بساطِ عالم‘‘ میں 2025ء کو ’’ٹرمپ کا سال‘‘ قرار دینے میں بھلا اُن کا کیا خرچہ آنا تھا۔ رؤف ظفر نے ’’پنجاب‘‘ سے متعلق اپنی تجزیاتی رپورٹ میں جہاں صاحبِ اختیار کو آشیرباد دی۔
؎ شہرکے اندھیرے کو اِک چراغ کافی ہے۔ وہیں گویا یہ بھی استدعا کی ’’غربت مٹائیں، غریب بچائیں‘‘ ترجمانِ وادیٔ مہران، منور راجپوت نے حکومتِ سندھ کے کھیل و ثقافت پروگرامز کی ڈونڈی پیٹی، ساتھ ڈنکے کی چوٹ پریہ بھی کہا۔ ’’وہی مسائل، عوامی دُکھڑے اور ویسی ہی حکومتی بےنیازی‘‘اس پر مستزاد سُرخی؎ وقت نے قدم جمائے، خواب کہیں ٹھہرگئے۔ اور امین اللہ فطرت (فرام کوئٹہ) نے قرطاسِ ابیض پر جو الفاظِ سیاہ بکھیرے، اُنہیں نوحۂ بلوچستان کہنا بےجا نہ ہوگا۔
خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی گزشتہ بارہ سالوں سےاقتدار کےمزے لوٹ رہی ہے۔ وفاق پر چڑھائی اور دوسرے صوبوں میں گھمائی کے سبب درست ہیڈنگ جمائی گئی۔ ؎ نہ منزلوں کا پتا ہے، نہ راستوں کا یقین۔ اور صفحۂ آخر ’’سالانہ دربار‘‘ خُوب سجا تھا۔ صاحبانِ اسلوب خوش قسمت ٹھہرے، جن کی قدرافزائی کی گئی۔ محمّد سلیم راجا کا آنا اورآکر چھا جانا۔
رانا شاہد و شہزادہ بشیر، عُمدہ، شُستہ طرزِ تحریر۔ برقی، مُرلی، پرنس و نواب تابندہ تارے، زاہد، نازلی، شمائلہ وقرأت درخشندہ ستارےاور اعزاز یافتگان، عبارت جن کی بہت اچھی، 2025ء کا رشکِ قمر، ساحرہ شائستہ اظہر، جب کہ دی ایئرلی بیسٹ ای میل، فاردی ایسٹرن فی میل۔ مدیرہ نے بزمِ احباب کو سالانہ سمری میں جن چاہت بَھرے الفاظ سےنوازا، اُس پر ہم تہہ دل سے احسان مند و شُکر گزار ہیں۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
* باعثِ مسرت ہے کہ آپ کا سنڈے میگزین اہلِ قلم کے لیے ایک معیاری پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔ مؤدبانہ عرض ہے کہ مَیں نے تقریباً ڈھائی ماہ قبل اپنی تحریر بعنوان ’’موسمیاتی تبدیلی: ایک عالمی بحران اور اس کے اثرات‘‘ ارسال کی تھی، مگر تاحال اشاعت ممکن نہیں ہوسکی۔ اگر مناسب سمجھیں تو اشاعت کا شرف عطا کریں۔ (ساجد علی شمس)
ج: ہر قابلِ اشاعت تحریر باری آنے پربغیر کہے شایع کردی جاتی ہے، جیسا کہ قبل ازیں، آپ کی تحاریر شایع کی بھی گئیں۔ اگر نام ناقابلِ اشاعت کی فہرست میں شامل نہ ہو، تو تحریر کو قابلِ اشاعت ہی سمجھا جائے اور اپنی باری کا انتظار کیا جائے۔
* علامہ اقبالؒ کے ایک نعتیہ شعر کی اتنی محبّت اور اس قدر گہرائی میں جا کر کی جانی والی تشریح پڑھ کے دل خوش ہوگیا۔ ڈاکٹر عابد شیروانی ایڈووکیٹ کی تحریر دورِ حاضر میں اُمّت کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں تھی کہ فی الوقت مسلمانوں کی پستی، زوال کی وجہ علم، تحقیق و جستجو، سائنس اور ٹیکنالوجی سے دُوری ہی ہے اور ڈاکٹر صاحب نے تمام علوم کو مِن جانب اللہ ثابت کرکے اُمتِ مسلمہ کو ایک بڑی غلط فہمی سے نکالنے کی کوشش کی۔
میرے خیال میں تو اتنی اچھی تحریر کا مطالعہ تمام ترعلماء کے ساتھ ہر خاص وعام کو بھی کرنا چاہیے۔ کم از کم مَیں تو سنڈے میگزین کی اس کاوش پرتہہ دل سے شُکر گزار ہوں۔ (محمود احمد، واہ کینٹ)
* سنڈے میگزین میں ایک ’’گوشۂ فن پارۂ اطفال‘‘ بھی ہونا چاہیے، جس میں بچّے اپنی فنی صلاحیتوں (ڈرائنگ،پینٹنگ وغیرہ) بھیج سکیں۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جب اخبار بینی ناپید ہورہی ہے۔
مَیں خاص طور پرسنڈے میگزین کے لیے اتوار کو جنگ اخبار خریدتا ہوں کہ سنڈے میگزین علم و معلومات کا سرچشمہ ہے۔ (محمّد فیصل شہزاد، محلہ احمد پورہ، بھکھی روڈ، گلی سیداں، شیخوپورہ)
ج: اتوار کا اخبارخریدنےکا بےحد شکریہ۔ اتوار ہی کو کراچی سے بچّوں کا ایک بڑا رنگین صفحہ بھی شایع کیا جاتا ہے، جس میں بچّوں کی دل چسپی کا خاصا سامان (بشمول ڈرائنگز، پینٹگز) موجود ہوتا ہے اور یہ صفحہ ہمارے آن لائن ایڈیشن کا بھی حصہ ہے۔ سو، آپ اُس سے مستفید ہولیا کریں کہ فی الحال سنڈے میگزین میں ایسا کوئی گوشہ مختص کرنا تو ناممکن ہے۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk