• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ضیاء الحسن ، مظفرگڑھ

کمرے کے کونے میں پڑی وہ پرانی لکڑی کی کرسی اب بابا جی کی زندگی کا مستقل حصّہ بن چُکی تھی۔ اِس کرسی کی چرچراہٹ ہی اُن کے گھر میں موجود ہونے کا واحد ثبوت تھی۔ کھڑکی سے باہر آسمان پر چھائی سُرخی بتاتی تھی کہ سورج ایک بار پھر تھک کر اپنے گھر لوٹ رہا ہے، لیکن بابا جی کے لیے ہر شام ایک نئی تنہائی کا پیش خیمہ ہوتی۔

باہر ہال سے قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اُن کا بیٹا، جو اب شہرکا جانا مانا انجینئر تھا، اپنےدوستوں کے ساتھ کسی نئے پراجیکٹ پر بحث مباحثے میں مصروف تھا۔ بہوباورچی خانے میں کسی غیرمُلکی ڈش پرطبع آزمائی کر رہی تھی، اور پوتا حسبِ معمول اپنے کمرے میں ڈیجیٹل دنیا کا قیدی تھا۔ اس گھر کے درو دیواربنانےمیں بابا جی نے اپنی ریڑھ کی ہڈی کا گُودا تک جلا دیا تھا، لیکن آج وہی دیواریں اُنہیں اجنبی لگتی تھیں۔

’’ابّاجی! آپ ابھی تک جاگ رہے ہیں؟‘‘ بیٹے نے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔ آواز میں ہم دردی تو تھی، لیکن وہ اپنائیت نہیں تھی، جو بچپن میں بڑے مان سے ’’ابّو‘‘ پکارتے ہوئے ہوتی تھی۔ ’’ڈاکٹر نے کہا ہے، آپ کو زیادہ آرام کرنے کی ضرورت ہے۔ کل ہم آپ کو وہ ’’نیو ہوم‘‘ دکھانے لےجائیں گے، جہاں آپ کے ہم عُمر بہت سے لوگ رہتے ہیں، وہاں یقیناً آپ کا دل لگ جائے گا۔‘‘ 

بابا جی کےلب ہلے، جیسےکچھ کہنا چاہتے ہوں، مگر لفظ حلق ہی میں اٹک گئے۔ نیو ہوم۔ یعنی وہ جگہ، جہاں عُمر رسیدہ لوگ اپنے ماضی کے ساتھ چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے میز پر رکھی اپنی پرانی ڈائری کو چُھوا، جس میں اُن کے بیٹے کے بچپن کی پہلی تحریر محفوظ تھی۔ ایک ٹیڑھا میڑھا سا جملہ، جس پرکبھی بہت فخر سے اُن کی آنکھیں بھرآئی تھیں۔

رات کے پچھلے پہر،جب پورا گھر سوگیا، بابا جی آہستہ سے اُٹھے۔ اپنا وہ پرانا جھولا (تھیلا) اٹھایا، جس میں اُن کی زندگی کا کُل اثاثہ تھا۔ ایک پرانی عینک، چند اسلامی کتابیں اور اپنی مرحومہ بیوی کی ایک دھندلی سی تصویر۔ اُنہوں نے بیٹے کے کمرے کے باہر رُک کر ایک لمبا سانس لیا۔

وہ اُسے بتانا چاہتے تھے کہ جس ’’نیو ہوم‘‘ کی وہ بات کر رہا ہے، وہ وہاں نہیں بلکہ اِس گھر کی یادوں میں رہنا چاہتے تھے، لیکن وہ جانتے تھے کہ اب وہ اس جدید گھر کے نقشے میں ایک ’’اضافی کمرا‘‘ ہی بن چکے ہیں۔ سو، خاموشی سے گھر سے باہر نکل آئے۔

باہر سڑک پر اسٹریٹ لائٹس کی زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اُنہوں نے مُڑ کر اس مکان کو دیکھا، جسے انہوں نے خود ’’گھر‘‘ بنایا تھا۔ اچانک انہیں محسوس ہوا کہ وہ آزاد ہوگئے ہیں۔ وہ کسی ’’اولڈ ہوم‘‘ کی طرف نہیں بلکہ اُس راستے پر چل پڑے تھے، جو اُن کے آبائی گاؤں کی طرف جاتا تھا، جہاں کی مٹّی کی خوشبو میں اب بھی وفا باقی تھی۔

اگلی صبح بیٹے نے کمرا کھولا، تو وہاں صرف خالی لکڑی کی کرسی تھی، جو اب چرچرا بھی نہیں رہی تھی۔ میز پر ایک چھوٹا سا رقعہ رکھا تھا۔ ’’بیٹا! انجینئرنگ میں ہر چیز کا ناپ تول ہوتا ہے۔ شاید تمہارے نئے نقشے میں میری جگہ نہیں بن رہی تھی۔

تو مَیں اپنے آخری پڑاؤ کی طرف جا رہا ہوں، جہاں زمین مجھ سے کرایہ نہیں مانگے گی۔‘‘ بیٹے کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے ندامت کی لہر آئی، لیکن پھر فون کی گھنٹی بجی اور وہ ایک بار پھر اپنی ’’کام یاب دنیا‘‘ میں مگن ہوگیا۔ باہر لان میں ایک سوکھا ہوا پتّا درخت سے ٹوٹ کر گرا۔ مالی نے جھاڑو سے اُسے ایک طرف کر دیا، کیوں کہ وہ اب ہریالی کا حصّہ نہیں رہا تھا۔

سنڈے میگزین سے مزید