کلثوم پارس
بیڈ پر لیٹے لیٹے جب میری آنکھ کُھلی، تو سامنے چہرے ہی چہرے تھے۔ کالے، گورے، چھوٹے، بڑے…وہ سب چہرے مجھ پر ہنس رہے تھے، میری بےبسی و لاچارگی کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ ’’زندگی بہت تلخ ہے‘‘ ایسا سُنا تھا مگر… سمجھا اُس وقت، جب میرے اپنے سر پر آپڑی۔ زندگی کی اِس چلچلاتی دھوپ نے میرا حلق بالکل خشک کردیا تھا۔
اندر تک کانٹے چُبھنے لگے تھےاور کبھی تو پانی مل جاتا تھا اور کبھی پانی کا بھرا بھرایا گلاس مجھ سے پہلے کوئی اور اُٹھا کر پی جاتا… اور ایسا اکثر ہی ہوتا تھا۔ کبھی تو مَیں خود ہی چھوٹے بہن بھائیوں کی پیاس بجھانے کے لیے اپنا پانی اُنھیں دے دیا کرتا، تو کبھی اسکول کے دوست پوری بوتل چھین کرغٹاغٹ پی جاتے اور مَیں بس سٹپٹاتا ، پیچ و تاب کھاتا ہی رہ جاتا۔ یہ دنیا شاید صرف چالاک، شاطر لوگوں ہی کی ہے۔ اُس کو گرائو، اُس کو لتاڑو اور آگے نکل جاؤ…یہ خیال کئی بار میرے دل میں بھی آتا، مگر مَیں ذہن سے جھٹک کر آگے بڑھ جاتا تھا۔
مَیں اپنی اچھی فطرت، عادات کے ہاتھوں مجبور تھا۔ ہر کسی کے لیے اُس کے مانگنے سے پہلے ہی جگہ چھوڑ دیتا۔ مَیں دوسروں کی مدد کرنے، اپنی ضرورت، کسی دوسرے کی ضرورت پر قربان کردینے کو ثوابِ دارین سمجھتا تھا اور یہ سب کرنے کے چکر میں، مَیں اکثر ’’فوٹو فریم‘‘ سے باہر ہی نظر آتا تھا، جب کہ میری جگہ لینے والے باقی سب تصویر میں خُوب ہنستے مُسکراتے دکھائی دیتے تھے۔
مگر… اب یہ مُسکراتے چہرے مجھے اپنا مذاق اڑاتے نظر آتے تھے، جیسے کہہ رہے ہوں۔ ’’بےوقوف!! احمق کہیں کا…‘‘ مَیں انہی سوچوں میں غلطاں و پیچاں اپنے گھر کے سامنے والے پارک میں ایک بینچ پر بیٹھا تھا۔ میرے سامنے چند بچّے کھیل رہے تھے۔ اُن میں سے ایک چھوٹا بچہ کھیلتے کھیلتے گرگیا۔ اُسے گرتا دیکھ کر سب بچّے ہنسنے لگے۔
مجھے بھی ہنسی آگئی۔ پہلے تو مَیں آگے بڑھ کر بچّے کو اُٹھانے لگا، مگر اِسی اثناء اونچی ہیل کی سینڈل پہنے ایک عورت میرے سامنے سے گزری۔ اُس کا پاؤں چلتے چلتے مُڑا اور وہ بمشکل گرتے گرتے بچی۔ اُسے اِس حالت میں دیکھ کر مَیں اپنی ہنسی روک نہ پایا۔ اپنے گرنے پر تو سب کو افسوس، شرمندگی ہوتی ہے، تو پھر دوسروں کے گرنے پر بےاختیار ہنسی کیوں چُھوٹتی ہے، مجھے آج سمجھ آیا۔ آج مَیں نے پہلی بار کسی کے گرنے سے اِس قدر لُطف اُٹھایا۔ اور، اِسی خوش گوار موڈ کے ساتھ مَیں گھر چلا آیا۔ اور پھر میرے کمرے میں پڑے خط نے میری طبیعت کی خوش گواریت مزید بڑھا دی۔ مجھے نوکری مل گئی تھی۔
عام دفاتر کی طرح میرے دفتر میں بھی بہت ذہین، کم ذہین، چند قسمت کے مارے اور کچھ قسمت کے دھنی بیٹھے تھے۔ اور مجھے اِن سب سے اونچا مقام پانا تھا۔ مگر کیسے؟؟ یہ ابھی مجھے بھی معلوم نہیں تھا۔ مجھے ایک دن شرارت سوجھی اور مَیں نے اپنے ساتھی کی میز اور کرسی کے ساتھ ایک باریک سی رسّی باندھ دی۔ وہ جونہی اپنی کرسی سے اُٹھ کر باس کے دفتر کی جانب مُڑا۔
رسّی سے اُس کا پاؤں ٹکرا گیا اور وہ بمشکل گرتے گرتے بچا۔ وہ فوراً واپس اپنی کرسی پرجا کر بیٹھ گیا۔جب کہ اتنی دیر میں، مَیں اپنا کام مکمل کر کے باس سے بھرپور داد سمیٹ چُکا تھا۔ مجھے اپنی اِس حرکت کا اِس قدرلُطف آیا کہ بس، اُس دن کے بعد سے مَیں ہر روز غیر محسوس طریقے سے کسی نہ کسی کے آگے، کسی نہ کسی طرح کی رسّی باندھ دیتا۔ مجھے سچ مُچ دوسروں کو گرانے میں بہت مزہ آنے لگا تھا۔ اب ایسا بھی نہیں تھا کہ مجھے صرف گرانا ہی آتا تھا۔ جہاں مجھے خود ضرورت پڑتی، وہاں مَیں ہاتھ بڑھا کر کسی گرتے کوسنبھال بھی لیتا تھا۔
کئی روز گزرگئے تھے۔ مَیں نے کسی کو رسّی سے گرایا نہیں تھا۔ مَیں کتنے ہی دِنوں سے نوٹ کررہا تھا کہ میری دائیں جانب بیٹھا میرا آفس کولیگ میری بائیں جانب بیٹھی دوشیزہ کو اشاروں کنایوں میں محبّت بھرے پیغامات بھیج رہا ہے اور وہ بھی جواباً مسکراہٹ کے لفافے میں بند پیغام ہی ارسال کرتی ہے، اور مجھے یہ بات بالکل ہضم نہیں ہو رہی تھی۔ مجھے لگا، پھر کوئی مجھے پھلانگ کر اپنے مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سو، اُس روز میں نے آفس آتے ہی بائیں جانب بیٹھی لڑکی کی کرسی اور اپنی کرسی کی ٹانگ سے ایک باریک سی رسّی باندھ دی۔ اور بس، میری اس حرکت کے ساتھ ہی دوشیزہ کی نگاہیں بدل گئیں۔ لیکن جب دائیں جانب والا اُس کی کج نگاہی کی وجہ جاننے کے لیے آگے بڑھا، میری باندھی ہوئی رسّی سے اُس کا پاؤں اِس زور سے اُلجھا کہ سیدھا دوشیزہ کے اوپر ہی جا پڑا۔
کوئی بھی اچھی لڑکی اس قسم کی حرکت برداشت نہیں کرسکتی، اور اُس نے بھی وہی کیا۔ اپنے عاشق کے منہ پر ایک ایسا زوردار تھپڑ رسید کیا کہ جس کی آواز پورے آفس نے سُنی اور ساتھ ہی ساتھ اُسے ہمیشہ کے لیے اپنے دل و دماغ سے بھی لات مار کے نکال باہر کیا۔ وہ جن ستائشی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی، وہ گویا میرے دل پرچسپاں ہوگئیں۔
سچ تو یہ تھا کہ یہ رسّی باندھنے والا کام مجھے بہت ہی منفرد اور دل چسپ معلوم ہو رہا تھا کہ کسی کی نظر میں بُرا بنے بغیر بس اُسے ایسا گراؤ کہ اگلا اپنی چوٹیں سینکنے میں لگ جائے اور اِتنے میں آپ اپنا کام سیدھا کرلو۔ اب مجھے یہ سب کرنے میں بہت ہی مزہ آنے لگا تھا۔ دفتر کے کچھ ذہین، صاحبِ بصیرت لوگ میری اس حرکت سے واقف بھی ہوگئے تھے۔
ایسا نہیں کہ مَیں نے اُن کی اور باقی لوگوں کی کرسیوں کے درمیان رسیاں نہیں باندھیں، مگر وہ ہمیشہ بڑی چالاکی، بڑی احتیاط کے ساتھ رسّی سے اپنا پاؤں بچاتے ہوئے اُسے پھلانگ کر گزر جاتے۔ یہاں تک کہ مجھے اپنے ہنر پہ شک ہونے لگا کہ کہیں مَیں خدا نخواستہ رسّی باندھنا بھول تو نہیں گیا ہوں۔ اپنی صلاحیت کو چیک کرنے کے لیے مَیں نے ایک نہایت باریک سی رسّی باس کے کمرے میں بھی باندھ دی، اور پھر وہی ہوا، جو میں چاہتا ہے۔
مَیں نے جسے گرانا تھا، وہ اُس سے الجھ کر لُڑھکتا ہوا سیدھا باس کی ٹیبل پر جا گرا۔ اور جب وہ بوکھلایا ہوا الٹے پاؤں واپس ہوا، تب مجھے یقین ہوگیا کہ مَیں اپنا فن بالکل نہیں بھولا، بلکہ کچھ اور طاق ہوگیا ہوں۔ ہاں، اتنا ضرور تھا کہ کچھ لوگوں نے میری رسّی کو پھلانگنا شروع کردیا ہے۔ مگر خیر، مجھے جب جب، جہاں جہاں موقع ملتا، مَیں اپنا یہ منفرد کھیل ضرور کھیلتا۔ ہاں ’’کھیل‘‘ کہ پہلے پہل تو مجھے یہ کھیل ہی لگا، پھر شوق بنا۔
اُس کےبعدعادت بن گئی اور پھر یہ عادت ایسی پختہ ہوئی کہ نشے، لت کی شکل اختیار کرگئی۔ اب مجھے رسّی باندھے بغیر مزہ ہی نہیں آتا تھا۔ کبھی کبھار تو مَیں خود بھی اپنی ہی رسّی سے الجھ کر گرنے لگتا، مگر پھر فوراً سنبھل جاتا کہ یہ تو میرا اپنا ہی پھیلایا ہوا جال ہے۔
بیڈ پر لیٹے لیٹے جب میری آنکھ کُھلی، تو سامنے چہرے ہی چہرے تھے۔ کالے، گورے، چھوٹے، بڑے…وہ سب چہرے مجھ پر ہنس رہے تھے، میری بےبسی و لاچارگی کا مذاق اُڑا رہے تھے۔ ’’حسد‘‘ نے میرا پورا وجود نوچ نوچ کر کھا لیا تھا۔ بس صرف ایک گردن اور چہرہ ہی بچا تھا۔ اُن سب چہروں نے مل کر اور اُن ساری رسّیوں کو مِلا کر ایک بہت موٹی رسّی تیار کرلی تھی، جو یقیناً مجھے لٹکانے، پھانسی چڑھانے کے لیے کافی تھی۔