• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرکاری محکموں کے احتساب اور شہریوں کی شکایات پر داد رسی کے لیے قائم کیے جانے والے ادارے محکمہ احتساب (Ombudsman,s Secretariat) کی ابتدا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئی۔ انہوں نے امراء اور گورنرز کے خلاف عوامی شکایات کے ازالے اور احتساب کے لیے خصوصی افسران (نگراں) مقرر کیے۔ جدید مغربی تناظر میں اس کی ابتدا1809ء میں سوئیڈن سے ہوئی، جب کہ پاکستان میں وفاقی محتسب کا ادارہ 1983ء میں قائم کیا گیا۔

متاثرہ اور بے بس عوام النّاس کی آواز سُننے، عوامی اداروں کے خلاف شہریوں کی شکایات پر داد رسی اور اُن کے مسائل کے حل کے لیے یہ خود مختار ادارہ، سرکاری محکموں یا عوامی اداروں کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے بعد شہریوں کو مفت اور فوری داد رسی فراہم کرتا ہے۔ اس ادارے کی جڑیں1713ء میں شاہ چارلس بارہویں کے قائم کردہ ’’دفترِ محتسب ِاعلیٰ‘‘ سے ملتی ہیں۔

انتظامی ناانصافی کے خلاف شہریوں کے حقوق کا محافظ تصوّر کیا جانے والا یہ ادارہ برطانیہ کے بعد 1919ءمیں فن لینڈ، 1952ءمیں ڈنمارک اور 1962ء میں ناروے تک وسعت اختیار کر گیا۔1960ءکی دہائی میں دنیا کے دیگر ممالک، خصوصاً یورپ میں اس ادارے کو مقبولیت حاصل ہوئی تو اس مقصد کے تحت 1978ء میں ویانا، آسٹریا میں ’’انٹرنیشنل محتسب انسٹی ٹیوٹ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کے پاکستان سمیت 200سے زائد ارکان ممالک ہیں۔ 2001ء تک احتساب کا نظام دنیا کے 110سے زائد ممالک میں رائج ہوچکا تھا۔

پاکستان میں ’’وفاقی محتسب ِاعلیٰ‘‘ کے نام سے خود مختار ادارہ ایک صدارتی حکم نامےکے تحت 24 جنوری1983ء کو عمل میں آیا اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، سردار محمد اقبال کو پہلا وفاقی محتسب ِاعلیٰ مقرر کیا گیا۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد وفاقی حکومت کے محکموں کی بدانتظامی کی نشان دہی، تحقیق اور اصلاح، نیز عوام النّاس کو مفت اور فوری انصاف کی فراہمی سمیت عوامی شعبے میں احتساب اور انصاف یقینی بنانا اورشہریوں کو سرکاری اداروں کی انتظامی کوتاہیوں کے باعث پیدا ہونے والی شکایات کے مفت، فوری ازالے کا مؤثر ذریعہ فراہم کرنا بھی تھا۔

وفاقی محتسب ِاعلیٰ سیکریٹیریٹ، اسلام آباد مُلک میں وفاقی حکومت کے محکموں کی غیر تسلّی بخش خدمات، ناقص کارکردگی اور غفلت سے متاثرہ شہریوں کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کےسبب ’’غریبوں کی عدالت‘‘ بھی کہلاتا ہے، جس کا نصب العین ہے ’’فوری انصاف آپ کا حق، فراہم کرنا، ہماری ذمّے داری۔‘‘ موجودہ وفاقی محتسب، نوید کامران بلوچ ایک سینئر ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں، جو گریڈ 22 میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔

وفاقی محتسب، نوید کامران بلوچ
وفاقی محتسب، نوید کامران بلوچ

پاکستان کے کابینہ سیکرٹری، فنانس سیکرٹری اور دیگر اہم عہدوں پر فائز رہے، بشمول چیف سیکریٹری، خیبر پختون خوا، اور ایگزیکیٹو ڈائریکٹر، ورلڈ بینک۔ واضح رہے صدرِمملکت آصف علی زرداری نےفروری 2026ء میں وزیرِاعظم کی ایڈوائس پر اُن کی تقرری کی منظوری دی اور یہ تقرری 4سال کے لیے کی گئی ہے۔ وفاقی محتسب کی ویب سائٹ پران کا عوام النّاس کے نام خصوصی پیغام درج ہے کہ ’’وفاقی محتسب ِاعلیٰ کی ویب سائٹ پر آپ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ مَیں اور میرے رفقائے کاروفاقی حکومت کے اداروں کے خلاف آپ کی شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کے لیے موجود ہیں۔‘‘

یاد رہے، وفاقی حکومت کے ماتحت اداروں یعنی، بجلی، سوئی گیس، نادرا، پاکستان ریلوے، پاکستان پوسٹ ، پاکستان بیت المال، پاسپورٹ آفس، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اورای او بی آئی سمیت دیگر وفاقی اداروں کے خلاف اگر کسی شہری کو کوئی شکایت درپیش ہو تو وہ بلاجھجک وفاقی محتسب ِاعلیٰ سے رجوع کرکے گھر بیٹھے مفت اور فوری انصاف حاصل کرسکتا ہے۔ تاہم، کچھ معاملات وفاقی محتسب کے دائرۂ اختیار میں نہیں بھی آتے۔ 

مثلاً:وہ معاملات، جو کسی عدالتِ قانون میں زیرِ سماعت ہوں۔خارجہ تعلقات سے متعلق معاملات، مُلکی دفاع سے متعلق امور اورملازمتی امور، یعنی وہ ذاتی شکایات، جو کسی ایسے ادارے کے خلاف ہوں، جہاں شکایت کنندہ ملازمت کر رہا ہو یا کر چکا ہو اور جو ملازمت سے متعلق ہوں۔ البتہ مرحوم ملازم کی بیوہ یا اہلِ خانہ کی جانب سے دائر کی گئی شکایات آرٹیکل 9(2) صدارتی آرڈیننس نمبر 1مجریہ1983ءکے تحت، ملازمتی امور کے زمرے میں شمار نہیں ہوں گی، خواہ شکایت اسی ادارے کے خلاف کیوں نہ کی گئی ہو، جہاں مرحوم ملازم ملازمت کر رہا تھا۔

تاہم، درج ذیل معاملات میں اگر شکایت کنندہ نے اس ادارے کے علاوہ کسی دوسرے ادارے کے خلاف شکایت کی ہو، جہاں وہ ملازمت کر رہا ہو یا کر چکا ہو، تو ایسی شکایات کو سروس کامعاملہ تصوّر نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً: پینشن، گریجویٹی، جی پی فنڈ اور سی پی فنڈ، گروپ انشورنس، بینیولنٹ فنڈ، سفری رعایت، ریٹائرڈ ملازمین کے لیے طبی سہولتیں، ملازمین کے بڑھاپے کے فوائد (ای او بی آئی)، قابلِ قبول مراعات اور سہولتوں کی فراہمی سے انکار، سروس کے دوران کے دعوے، طبی اخراجات کی واپسی کے دعوے، قابلِ قبول مراعات اور سہولتوں کی فراہمی سے انکار، مختلف ایڈوانسز کی منظوری میں تاخیر یا امتیازی سلوک، مثلاً موٹرکار ایڈوانس، موٹر سائیکل ایڈوانس، ہاؤس بلڈنگ ایڈوانس اور جی پی فنڈ ایڈوانس،رہائشی و ہاؤسنگ سہولتوں کی الاٹمنٹ اورملازمین کے بچّوں کے لیے تعلیمی اور دیگر مراعات وغیرہ۔

یاد رہے، وفاقی محتسب ِاعلیٰ کے پاس شکایت درج کروانے کی باضابطہ نہ تو کوئی فیس مقرر ہے، نہ ہی شکایت کی پیروی اور ازالے کے لیے کسی وکیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ وفاقی محتسب اعلیٰ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وفاقی محکمے میں بدانتظامی کے باعث ناانصافی کا شکار ہونے والے متاثرہ شہری کے کیس کے متعلق معلومات حاصل کرکے اس کی تحقیقات کرے اور اس شہری کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی فوری طور پر دادرسی کرے۔ وفاقی محتسب کی غیر معمولی کارکردگی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قابلِ فخر محکمہ مُلک کے عام آدمی کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔

وفاقی سرکاری اداروں کی بدانتظامی یا ناانصافی کے شکار متاثرہ شہری کو وفاقی محتسب ِاعلیٰ سے رجوع کے لیے محض ایک سادہ کاغذ پر تحریری شکایت درج کروانا ہوگی یا بذریعہ آن لائن رجوع کیا جاسکتا ہے۔ شکایت موصول ہونے پر وفاقی محتسب ِاعلیٰ کی جانب سے شکایت کے ازالے کے لیےفوری کارروائی کرتے ہوئے شکایت نمبر جاری کرکے شکایت کنندہ اور متعلقہ ادارے کے مجاز افسر کو ایک ہفتے کے اندر ریکارڈ کے ساتھ وفاقی محتسب ِاعلیٰ کےقریبی دفتر طلب کیا جاتا ہے اور متاثرہ شہری کی جائز شکایت کا باریک بینی سے جائزہ لینے اورسماعت کے بعد فیصلہ صادر کردیا جاتا ہے۔ وفاقی محتسب ِاعلیٰ مُلک کا وہ واحد ادارہ ہے، جہاں فوری طریقۂ انصاف کے تحت متاثرہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ60دن کے اندر کردیا جاتا ہے اورجس کی تعمیل ہر وفاقی محکمے پر لازم قرار دی گئی ہے۔

وفاقی محتسب ِاعلیٰ سیکریٹیریٹ 36،شاہ راہِ دستور سیکٹرG-5/2اسلام آباد میں واقع ہے اور اس کی ویب سائٹ www.mohtasib.gov.pk ہے، جب کہ متاثرہ شہریوں کے لیے برائے عام معلومات ای میل info@mohtasib.gov.pk اور شکایات درج کروانے کے لیے بذریعہ ای میل complaints@mohtasib.gov.pk رجوع کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں، وفاقی محتسب اعلیٰ کی ہیلپ لائن1055 اور بچّوں کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1056بھی قائم ہیں۔

جب کہ عوام النّاس کی سہولت کے لیے وفاقی محتسب کے28علاقائی دفاتر کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، فیصل آباد، پشاور، سوات، ڈیرہ اسماعیل خان، حب، خاران، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں قائم ہیں۔ جہاں عدلیہ اورانتظامی شعبے کے نہایت آزمودہ کار اور قابل و اعلیٰ افسران شکایت کنندہ اور متعلقہ محکموں کے ذمّے دار افسران کو ایک دوسرے کے رُوبرو بٹھاکر دستاویزی ثبوتوں کی روشنی میں فریقین کا موقف سننے کے بعد مقررہ قواعد و ضوابط کی بنیاد پر منصفانہ فیصلے صادر کرتے ہیں۔

پھر وفاقی محتسب ِاعلیٰ سیکریٹیریٹ، اسلام آباد میں ہر فیصلے پر عمل درآمد کی سخت نگرانی، مسلسل پیروی اور عمل درآمد کی تصدیق کا مربوط نظام بھی قائم ہے، جب کہ وفاقی محتسب ِاعلیٰ کے زیر ِاہتمام کھلی کچہریوں، سرکاری اداروں کے دفاتر کے معائنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ سرکاری اداروں کی غیر تسلی بخش خدمات اور ناقص کارکردگی کے احتساب کا یہ قومی ادارہ محض شکایات وصول کرنے کاادارہ ہی نہیں، مُلک میں بہتر طرزِ حکم رانی کے قیام کے سلسلے میں ایک انتظامی معمار کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔

وفاقی محتسب ِاعلیٰ کی 2025ءکی مجموعی کارکردگی رپورٹ کے مطابق 261,101 شکایات کے فیصلے ہوئے،جن میں96.8فی صد پر عمل درآمد بھی ہوگیا، جب کہ91فی صد فیصلے 60دن کی مقررہ مدّت کے دوران کیے گئے اور 137,152 بیرون ِ مُلک مقیم پاکستانیوں کے مسائل بھی حل کیے گئے۔ اس طرح وفاقی محتسب نے مجموعی طور پر چار لاکھ سے زائد شکایت کنندگان کو فوری اور مفت داد رسی فراہم کرتے ہوئے 10.2ارب روپے مالیت کے فیصلے کیے۔

یہ امر قابلِ ستائش ہے کہ یہ ادارہ اپنے قیام سے اب تک 25لاکھ سے زائد شکایت کنندگان کی مفت دادرسی کرچکاہے۔ مزید برآں، وفاقی محتسب کے زیرِاہتمام اب تک مختلف قومی اداروں کے متعلق 27مطالعات اور رپورٹس بھی مکمل کی جا چکی ہیں، جو عمل درآمد کے مراحل میں ہیں۔ ان میں نیشنل سیونگز ڈائریکٹوریٹ کی کارکردگی، ای او بی آئی کے نظام کی اصلاح، سرکاری خریداری کا نظام، کے۔

الیکٹرک، وفاقی سرکاری ملازمین کی پینشن، ماحولیاتی آلودگی، جیل اصلاحات اور جیلوں میں خواتین و بچّوں کے حالات کی بہتری شامل ہیں، جب کہ تازہ ترین مطالعات میں آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور سڑکوں پر رہنے والے بچّوں کے مسائل کے حل سے متعلق رپورٹس بھی شامل کی گئیں۔ وفاقی محتسب کا ادارہ درحقیقت مُلک کے کم زور، غریب طبقے کی عدالت ہے، جہاں شکایت درج کروانے کے لیے وکیل کی خدمات حاصل کرنا ضروری نہیں، نہ ہی یہاں شکایت کنندگان کو طویل قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران تقریباً19 لاکھ گھرانوں نے اس ادارے کی خدمات سے استفادہ کیا، جو اس کی افادیت اور عوامی اعتماد کا مظہر ہے۔ انتظامی زیادتی، امتیازی سلوک، استحصال، غفلت اور نااہلی کے شکار افراد کو بروقت انصاف فراہم کرنا محتسب کے تصوّر کا بنیادی جزو ہے اور اچھی حکم رانی کے حتمی مقصد کے حصول کا ذریعہ بھی۔ وفاقی محتسب، صدرِ پاکستان کے حکم نامہ نمبر1 بابت 1983 ء میں درج اہداف اور مقاصد کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔

دیانت داری، شفّافیت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور سب سے بڑھ کر انصاف اور منصفانہ طرزِ عمل سے وابستگی کے باعث اس ادارے نے عوام کا جو اعتماد حاصل کیا ہے، وہ مستقبل میں بھی اس کی عملی سرگرمیوں کے لیے محرک ثابت ہوتا رہے گا۔ واضح رہے،وفاقی محتسب ہر سال صدر مملکت کو اپنے ادارے کی خدمات اور کارکردگی پرمشتمل سالانہ رپورٹ بھی پیش کرتا ہے۔

پاکستان کو 15 تا 16 اپریل1996ء میں اسلام آباد میں پہلی ایشیائی محتسب کانفرنس کی میزبانی کا شرف بھی حاصل ہے۔ اس کانفرنس میں ایشیائی محتسب ایسوسی ایشن (AOA) کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کا سیکریٹریٹ اسلام آباد میں وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کے احاطے میں قائم ہوا۔ پاکستان کے وفاقی محتسب کو 1998ءمیں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا پہلا صدر منتخب کیا گیا، بعد ازاں انہیں مسلسل آئندہ مدّت کے لیے بھی دوبارہ منتخب کیا جاتا رہا۔

اس وقت47محتسب اداروں کی رکنیت کے ساتھ ایشیائی محتسب ایسوسی ایشن، ایک بڑی غیر سیاسی، خودمختار، جمہوری اور پیشہ ورانہ بین الاقوامی تنظیم ہے، جو دنیا کی آبادی کے دو تہائی سے زائد حصّے کی نمائندگی کرتی ہے۔ایشیائی محتسب ایسوسی ایشن کے مقاصد میں دیگر امور کے ساتھ محتسب کے تصوّر کو فروغ دینا اور ایشیا میں اس کے ارتقا کی حوصلہ افزائی کرنا شامل ہے۔ یہ تنظیم خطّے میں محتسب کے مابین پیشہ ورانہ معیار کے فروغ، معلومات کے تبادلے اور تجربات کے اشتراک کے لیے بھی کام کرتی ہے۔

اب تک ایسوسی ایشن بورڈ آف ڈائریکٹرز کے24اجلاس ہوئے ہیں، جب کہ جنرل اسمبلی کے 17اجلاس اور مختلف پیشہ ورانہ موضوعات پر 17بین الاقوامی کانفرنسز منعقد کی جا چکی ہیں۔11ستمبر 2023ءکو پاکستان کے سابق وفاقی محتسب، اعجاز احمد قریشی کو چار سالہ مدّت کے لیے ایشیائی محتسب ایسوسی ایشن کا دوبارہ بلا مقابلہ صدر منتخب کیا گیا، جب کہ دیگر منتخب ہونے والے عہدے داران میں نائب صدر (آذربائیجان سے)، سیکریٹری (ہانگ کانگ سے) اور خزانچی (ایران سے) شامل ہیں، جب کہ چین، جاپان، کوریا، ترکیہ اور تاتارستان سے پانچ ڈائریکٹرز منتخب کیے گئے تھے۔

جدید دور میں محتسب کے فرائض میں خاصی وسعت آچکی ہے اور اب یہ ادارہ دنیا بھر میں انسانی حقوق، بینکاری، انشورنس اور مقامی حکومت جیسے مخصوص شعبوں میں بھی خدمات انجام دے رہا ہے، جب کہ پاکستان میں وفاقی سطح پر بینکنگ محتسب، ٹیکس محتسب، انشورنس محتسب اور خواتین کے جائے کار پر ہراسانی سے بچاؤ کی شکایات کے لیے وفاقی محتسب کے علیحدہ علیحدہ خودمختار اور آزاد ادارے قائم ہیں۔ اسی طرح مُلک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بھی احتساب کے ادارے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

(مضمون نگار، سابق افسر تعلقات ِعامّہ ای او بی آئی،ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ ورک، پاکستان ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید