سعد علی چھیپا، کراچی
’’آج کیا پکاؤں؟‘‘ یہ سوال کم و بیش ہر روز ہی خواتین کی زبان پر ہوتا ہے اور یہ استفہامیہ جملہ روزانہ اس قدر تواتر سے ادا کیا جاتا ہے کہ گویا یہ خواتین کے کسی پسندیدہ نغمے یا قومی ترانے کے بول ہوں، جسے گنگنائے بغیر اُن کا دن ہی نہیں گزرتا۔ گھریلو خواتین کے لیے پُرانے اجزائے ترکیبی کے ساتھ روزانہ کوئی نیا، منفرد پکوان بنانا اس قدر کٹھن کام ہوتا ہے کہ جیسے کسی جاسوسی فلم کا ہیرو ’’مِشن امپاسیبل‘‘ میں مصروف ہو۔
پہلی آزمائش: اِس ضمن میں خواتین کی پہلی آزمائش اُس وقت شروع ہوتی ہے، جب وہ فریج میں موجود اشیاء کا معائنہ کرتی ہیں۔ خواتین کی یہ ادا بھی خُوب ہے کہ وہ عموماً فریج کا دروازہ اِس طرح کھولتی ہیں، جیسے کوئی خزانہ اُن کے ہاتھ لگنے والا ہو، لیکن جب اندرجھانکتی ہیں، تو اکثر لہسن، ادرک کا پیسٹ، چند ٹماٹر اور بچے ہوئے سالن، چاول کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
ایسے میں دماغ میں وہی رٹا رٹایا سوال کوندتا ہے کہ ’’آج کیا پکایا جائے؟‘‘دل سے صدا آتی ہے’’کچھ نیا بنا لو۔‘‘، جب کہ دماغ کہتا ہے کہ ’’آلو یا قیمے کے پراٹھے ہی ٹھیک رہیں گے۔ اہلِ خانہ کا پیٹ بھی بھرجائے گا اورعزّتِ سادات بھی رہ جائے گی۔‘‘
دوسری آزمائش: خواتین کی دوسری آزمائش اُس وقت شروع ہوتی ہے کہ ابھی وہ کسی ’’نتیجے‘‘ پر پہنچنے ہی والی ہوتی ہیں کہ اچانک بچّے پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ ’’مما!آج کیا بنے گا؟‘‘ اور اُن کے جواب دینے سے پہلے ہی ایک بچّہ کہہ بھی دیتا ہے۔ ’’آج پِزا بنالیں۔‘‘
دوسرا فوراً کہہ اٹھتا ہے۔’’نہیں، برگر…!‘‘ اور سب سے چھوٹا کیوں پیچھے رہے ’’ساتھ فرینچ فرائز بھی…‘‘ کہہ کراپنا حق جتلاتا ہے۔ اور اس موقعے پر بےچاری ماں کو ان بدیسی کھانوں کے ’’لوازمات‘‘ کا خیال ہی بےحال کیے دیتا ہے۔
کڑا امتحان: بہرکیف، خواتینِ خانہ بچّوں کو توکسی نہ کسی طرح کچھ نہ کچھ کھانے پرآمادہ کرہی لیتی ہیں، لیکن سب سے بڑا امتحان شوہر کا پسندیدہ کھانا ہے اور اُن کی پسند کا کھانا پکانا گویا ایک آرٹ ہے۔
یعنی ’’کچھ ہلکا سا ہو، لیکن ذائقے دار ہو۔ مسالا بھی زیادہ نہ ہو، لیکن مزے دار ہو۔‘‘ اب بھلا کوئی بتائے کہ ایسا کھانا کون سی ترکیب سے بنے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ شوہر کی سب فرمائشوں کو پورا کرنا ایسا ہی ہے، جیسے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنا۔
نئی تخلیق: آخرکار، تنگ آکر خاتونِ خانہ ایک نیا فارمولا ایجاد کرتی ہیں، جسے ’’جادوئی ترکیب‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ فریج میں موجود پیاز، ٹماٹر اورپچھلے ہفتے کے بچے کُھچے سب سالن ملا کر وہ ایک نئی ڈِش تخلیق کی جاتی ہے، جسے بظاہر ’’سبزی قورما فش کریمی پاستا‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، جو سُننے میں، تو کسی منہگے ہوٹل کا کھانا لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اُس کے سارے اجزائے ترکیبی فریج ہی سے برآمد کردہ ہوتے ہیں۔
کھانا تیار، رائے کا انتظار: جب کھانا تیار ہوجاتا ہے، تو تمام اہلِ خانہ چمچوں، کانٹوں سے لیس اُس نئی، منفرد ڈِش کی ’’پہلی دعوت‘‘ اُڑانے کے لیے میزکے گرداگرد جمع ہوجاتے ہیں، جب کہ خاتونِ خانہ ساتھ ساتھ بچّوں اور خاوند کے چہروں کا بغور معائنہ بھی کیے جاتی ہیں۔
اِدھرکسی نے پہلا نوالہ لیا، اُدھراُن کا دل تیزی سے دھڑکا کہ کہیں بھانپ ہی نہ جائیں اور سارے کیے کرائے پر پانی پِھر جائے، لیکن جیسے ہی بڑے بچّے نےکہہ دیا۔ ’’واہ مما! کیا مزے دار ڈش بنائی ہے۔‘‘ تو بس، سانس میں سانس آگئی۔ دل کو ایسے قرار آتا ہے، جیسے کسی نےخوش خبری سُنادی ہوکہ ’’آپ امتحان میں پاس ہوگئیں۔‘‘
زندگی ایک دل چسپ ریسیپی: بالآخر خواتین کو یہ سمجھ آہی جاتا ہے کہ یہ زندگی بھی ایک دل چسپ ریسیپی ہی کی طرح ہے کہ جہاں ’’گھر کی مرغی دال برابر‘‘ سمجھی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی محنت ومحبّت سے ہر روز کچھ نیا بنانے کی کوشش ضرور کرتی ہیں۔
سو ہماری مانیں، اگلی بار جب آپ کی اہلیہ، والدہ یا ہم شیرہ پوچھیں کہ’’آج کیا بناؤں؟‘‘ تواُنہیں بہت مسکراتے ہوئے جواب دیں کہ ’’جو دل چاہے، بنا لیں، ہم سب کھا لیں گے کہ آپ کے ہاتھوں میں تو جادو ہے۔‘‘