• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کم سن بچیوں کی تربیت و حفاظت، اہم ترین ذمے داری

عندلیب زہرا، راول پنڈی

کومل ہمارے پڑوس میں رہائش پذیر ایک بہت ہی پیاری، معصوم، بھولی بھالی سی بچّی تھی۔ پانچ، چھے برس کی اِس شوخ و چنچل، ہنس مُکھ ننّھی سی پری سے اُس کے والدین خُوب لاڈ پیار کرتے تھے۔ وہ جب سج دھج کر باہر نکلتی، تو بالکل باربی ڈول کی مانند دکھائی دیتی تھی۔

ہم اُسے اکثر دوپہر کے وقت سنسان گلی میں اکیلے کھیلتے اور دن ڈھلنے کے بعد تنہا دُکان کی طرف جاتا بھی دیکھتے تھے اور تب دل میں خیال آتا تھا کہ پتا نہیں، والدین، خصوصاً مائیں اپنے کم سِن بچّوں کی حفاظت اور تربیت سے اس قدرغافل کیسے رہتی ہیں اور پھر ایک روز اچانک وہ ننّھی پری لاپتا ہوگئی۔ تلاشِ بسیار، ان گنت دُعاؤں، وظائف کے بعد وہ مل تو گئی، لیکن اب وہ معصوم کلی بالکل کُملا، مُرجھا چُکی ہے۔ یوں لگتا ہے، جیسے کسی نے اُس پُھول کو یک سر مسل ڈالا ہے۔

اُس کے سارے رنگ، خوش بُو ہی چُرا لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ نرم ونازک کلیوں سی ’’بیٹیاں‘‘جو والدین کے چمن کی زینت، گھر بھر کی رونق، آنگن کا اُجیارا ہوتی ہیں، اگر کسی کی بھی غفلت، کوتاہی کے سبب کوئی ظالم، سفاک اُن کے رنگ، خوش بُو ‎چُرا لے جائے، تو کیا پھر وہ اپنے والدین کے چمن، آشیانے کی زینت بھی نہیں رہتیں۔

ایسے اَن گنت واقعات اور خبریں آئے روز ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ ہم ایک لمحے کو کانپ کر بھی رہ جاتے ہیں، مگر پھر ”الہیٰ خیر، توبہ استغفار، قرب ِ قیامت ہے“ جیسے الفاظ ادا کر کے دوبارہ دُنیا کے ہنگاموں کا حصّہ بن جاتے ہیں، جب کہ متاثرہ بچّی اورخاندان کے لیے یہ سانحہ کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ مگر بات یہ ہے کہ اس ضمن میں والدین، خاص طور پر مائوں کی غیر ذمّے داری کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جنّت یونہی ماں کے قدموں تلے نہیں رکھی گئی۔

رب تعالیٰ کی طرف سے اِس رُتبے کی عنایت کے ساتھ بڑی ذمّے داریاں بھی عاید کی گئی ہیں۔ اولاد کو محض پیدا کرنا، کھلانا پلانا اور پڑھانا لکھانا ہی کافی نہیں، اُس کی بہترین تربیت اور مکمل حفاظت بھی انتہائی ضروری ہے، بالخصوص ایک ایسے وقت میں کہ جب الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا ’’سِلو پوائزن‘‘ کی مانند ہمارے بچّوں کو اُن چیزوں کا عادی بنا رہا ہے، جو قبل ازوقت بھی ہیں اور غیر ضروری بھی۔ ‎

ہمارے خیال میں تو آج اگر کم سِن بچّیاں غیرمحفوظ ہیں، تو اِس کا ایک بڑا سبب والدین کی اپنے فرائض سے غفلت ہی ہے۔ عاقل و بالغ بچیوں کو تو والدین اشاروں کنایوں میں سمجھا سکتے ہیں اور پھر عُمر کے اس مرحلے میں وہ خود بھی فطری طور پر کوئی خطرہ بھانپنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن اصل حفاظت کی ضرورت تو اُن ننّھی مُنی، معصوم کلیوں کو ہے کہ جنہیں ہلکا سا گرم جھونکا، لُو کا تھپیڑا مُرجھا کے رکھ دیتا ہے۔

یہ معصوم پریاں ناپاک نظروں سے ناواقف، غلیظ اذہان سے ناآشنا ہوتی ہیں۔ والدین کو اُنہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ ٹافی، چاکلیٹ دینے والا کوئی اجنبی کبھی قابلِ بھروسا نہیں ہوتا۔ ہرانکل، ماموں، چچا یا کزن باپ یا بڑے بھائی جیسا نہیں ہوتا۔ ‎اگر یہ کم سِن بچیاں خوف زدہ، گھبرائی ہوئی، گم صُم سی رہتی ہیں، تومائیں ‎اُنہیں ڈانٹے ڈپٹنے کی بجائے اُن کی سہیلیاں بنیں۔ اُنہیں اپنے رویے سے یقین دلائیں کہ ”امّی ہی آپ کی سب سے اچھی، پکی سہیلی ہیں اور ماں سے کبھی کوئی بات نہیں چُھپانی۔“

یاد رہے،‎ جو محبّت، توجّہ اور جذباتی آسودگی آپ اپنی اولاد یا آپ کے والدین آپ کی اولاد کو دے سکتے ہیں، وہ دوسرے کبھی نہیں دے سکتے اور اگر کوئی ایسا کررہا ہے، تو یقینا ًاس کے پس پردہ اُس کا کوئی ”مفاد“ ہے۔ ‎اِسی طرح والدین بالخصوص مائوں کو اپنی بچیوں کی سہیلیوں اور ان کے اہلِ خانہ سے متعلق مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔

نیز، اپنے بچّوں کی جائز خواہشات، فرمائشیں ہمیشہ خُود پوری کرنے کی کوشش کریں۔ اُنھیں بھارتی اورمغربی ثقافتی یلغار سے محفوظ رکھنےکی ہر ممکن سعی کریں۔ اپنا بیش تروقت موبائل فون اور ڈراموں پرضائع کرنے کی بجائے اپنے بچّوں کی اسلامی اصولوں کےمطابق تعلیم وتربیت پر صرف کرنے کی جدوجہد کریں۔

درحقیقت اولاد، بالخصوص بیٹیاں بہت بڑی ذمّےداری ہیں۔سو،یہ خصوصی محبّت، انتہائی توجّہ کی مستحق ہیں-خدارا!اِنہیں ایک اَن چاہا وجود، بوجھ سمجھ کرکبھی نظرانداز مت کریں اوراگر خدانخواستہ، خدانخواستہ کوئی معصوم کلی کسی نقصان سے دوچار ہو بھی گئی ہے، تو اسے گناہوں کی سزا سمجھیے اور نہ طعنوں تشنوں کی مستحق، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اُس کے لیے رحم اور عافیت طلب کریں۔ اُس کی ہر ممکن دل جوئی کریں، تاکہ اُس کی جسمانی و روحانی اذیتوں کا مداوا ہو سکے۔ اُسے اس بات کا یقین دلائیں کہ ’’قصوروار، سزاوار اور گناہ گار تم نہیں، بلکہ وہ ہیں، جنہوں نے نفسانی ہوس کا شکار ہوکر ہمیشہ کا عذاب خریدا ہے۔“‎

واضح رہے، اسلام کے اصول آفاقی اور عین انسانی نفسیات کے مطابق ہیں اورجب تک ہم اسلام کے متعین کردہ اصولوں پر عمل پیرارہتے ہیں، گویا ایک قلعے میں محفوظ رہتے ہیں۔ اکثر مائیں یہ سوچ کراپنی کم سن بچیوں کو مغربی یا نامناسب لباس پہنا دیتی ہیں کہ ’’ابھی تو بہت چھوٹی ہیں، ابھی سے کیا اِنہیں اوڑھنا لپیٹنا۔‘‘ حالاں کہ یہی عُمر ہے کہ جب اُن میں شرم و حیا کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

قصّہ مختصر، ماؤں کو اپنی بیٹیوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد دوست کی طرح ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی ہر بات ان سے شیئر کرسکیں اور اُنہیں اِس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ’’میری امّی ہی میری سب سے اچھی، سب سےمخلص سہیلی ہیں“ یا ’’میری ماما میری بیسٹ فرینڈ ہیں۔‘‘‎ قدم قدم پر اُن کے ساتھ رہیں۔ ناصح بن کر اور نہ ہی نگراں بن کربلکہ ایک ہم جولی، رہنما بن کر، تاکہ دونوں کے بیچ اعتماد اور یقین کارشتہ قائم ہوسکے۔ بیٹیاں نرم و نازک کلیوں، رنگ برنگی تتلیوں کی مانند چمن کی زینت ہیں‎، تو اُن کے رنگ، خوش بُو، شوخی و شرارت، نزاکت و طراوت اور سُندرتا و پوتّرتا ہر حال میں قائم رہنی چاہیے۔

سنڈے میگزین سے مزید