• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بذریعہ اے آئی، جنگوں میں اہداف کا تعین

کسی زمانے میں جنگیں تلواروں، تیرکمانوں، نیزوں اور منجنیقوں سے لڑی جاتی تھیں۔ ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ طرفین کی طرف سے ایک، ایک جرّی پہلوان یا شہہ سوار میدان میں انفرادی مقابلے کے لیے اُترتا اور جس کا پلّا بھاری رہتا، وہ جنگ جیتنے میں اہم کردار ادا کرتا۔ پھر بارود کی ایجاد نے جنگوں کی حکمتِ عملی اور نوعیت ہی بدل دی۔ بارود کے استعمال سے راکٹوں کی بنیاد پڑی۔

اِسی دوران جنگی طیاروں، بحری جہازوں، آب دوزوں، توپوں اور میزائلوں نے تو گویا جنگوں کا پانسا ہی پلٹ دیا۔ دوسری جنگِ عظیم میں ایسے ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کا ہول ناک اختتام جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بموں کے استعمال پر ہوا۔ بعض ماہرین کے مطابق، دوسری جنگِ عظیم ہی میں ہدف کے انتخاب کے لیے خودکار نظام شروع ہوگیا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگی تیاریاں پس منظر میں چلی گئیں، لیکن اب تقریباً 8دہائیوں بعد جب امریکا/ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چِھڑی، تو اچانک ایسے فوجی ہتھیار دیکھنے میں آئے، جو پوری دنیا کے لیے باعثِ حیرت تھے۔ ان میں کئی کئی منزلہ عمارتوں جتنے ہزاروں میل دُور تک مار کرنے والے میزائل، پہاڑوں کے دل چیر دینے والے بم بار طیارے، چار، چار ہزار فوجیوں کے مسکن طیارہ بردار بحری جہاز اور جانے کیسی کیسی تباہ کاریوں کے حامل عجیب و غریب ہتھیار شامل ہیں۔

دوسری طرف، اِن ہتھیاروں کے پس منظر میں ایک ایسی نادیدہ قوّت بھی اُبھر کر سامنے آئی، جس کا چند سال قبل تک تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یہ مستقبل میں جنگ کا اہم ترین ہتھیار بنے گی اور وہ ہے، آرٹیفیشل انٹیلی جینس، جسے عرفِ عام میں’’مصنوعی ذہانت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اِس نظام میں تمام تر بنیادی معلومات کمپیوٹر کو فراہم کر دی جاتی ہیں اور پھر اُن ہی کی جس کی بنیاد پر اے آئی فیصلہ کرتی ہے اور یہ فیصلہ لاکھوں صفحات پر مبنی معلومات کے تجزیے کی روشنی میں محض چند سیکنڈز ہی میں ہو جاتا ہے۔

اہداف کا انتخاب

امریکا/ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ جُوں جُوں طویل ہوتی گئی، آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا کردار بھی کُھل کر سامنے آتا گیا، مگر اِس کردار کے مثبت پہلو بہت کم اور منفی زیادہ اُجاگر ہوئے، حتیٰ کہ ایران میں180 سے زاید معصوم بچّوں کی بم باری میں ہلاکت سے متعلق کہا گیا کہ اُس میں انسانی فیصلوں کے ساتھ اے-آئی کا بھی کردار تھا، جس نے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر غلط فیصلے کیے اور ہوا بازوں نے اُس پر بھروسا کرتے ہوئے بم برسا دیئے۔

بعد میں معلوم ہوا کہ اے-آئی کو جو معلومات فراہم کی گئیں، وہ بہت پرانی تھیں۔اِس ضمن میں اے آئی کے ایک بین الاقوامی ماہر اور سابق امریکی فوجی کا کہنا ہے کہ حالیہ ایران، اسرائیل جنگ میں طرفین کی طرف سے جو تباہ کاریاں ہوئیں، اُن میں اے-آئی باقاعدہ حصّے دار تھی، حالاں کہ ابھی اس ضمن میں ایک سنگین مسئلہ یہ درپیش ہے کہ امریکی فوج جو ہتھیار استعمال کررہی ہے، اگرچہ وہ بہت ایڈوانس ہیں، لیکن ابھی وہ اُس سطح تک نہیں پہنچے، جہاں یہ کہا جاسکے کہ انسانی فیصلوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

یعنی ان پر کامل بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ ماہرین کے مطابق، امریکی حکومت اے-آئی کے جو آلات یا ٹُولز استعمال کررہی ہے، وہ’’ The Maven Smart System ‘‘کے نام سے موسوم ہیں۔ بہرکیف، جنگ میں ہزاروں ایرانیوں کی ہلاکت سے امریکی فوج کے نئے اے آئی سسٹم کی کم زوریاں پوری دنیا پر عیاں ہوگئی ہیں، خصوصاً قانون سازوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ اِس سسٹم سے جو ہول ناک غلطیاں سرزد ہورہی ہیں، اُن کا ذمّے دار کون ہے، کمپیوٹر یا انسان؟ اِس سلسلے میں امریکا کے سابق فوجی افسران کا کہنا ہے کہ جنگ میں اے-آئی کو جن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، امریکی ہتھیار اُس سے ہم آہنگ نہیں تھے۔

امریکا کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل، جیک کا کہنا ہے کہ’’امریکی فوج اِس سلسلے میں غیر ضروری عجلت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ جنگ کے دوران درست فیصلے کی جانچ بہت مشکل ہے۔ ممکن ہے کہ انسان یہ فیصلہ کرے کہ اے آئی کو ایسا کرنا چاہیے، جب کہ اے-آئی کا اپنا فیصلہ ہو کہ اُسے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ اُن کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کے دوران کسی بھی مرحلے پر انسانوں اور مشینوں کے درمیان فیصلوں کا تصادم ہوسکتا ہے۔

یعنی فوجی ماہرین کوئی فیصلہ کریں اور وہ اے آئی کو جو معلومات فراہم کریں، اُس کی بنیاد پر وہ کوئی اور فیصلہ کرے۔ ایران کا کہنا ہے کہ25 مارچ کو امریکی مسلّح افواج کے رہنماؤں کا بند کمرے میں جو اجلاس ہوا، اُس میں قانون سازوں کو بریفنگ دی گئی کہ جنگ میں اے آئی کا استعمال صرف معلومات کی فراہمی (ڈیٹا مینجمینٹ) کی حد تک ہورہا ہے۔ جہاں تک فائنل اہداف کے چنائو کا تعلق ہے، تو وہ امریکی فوجی افسران خود کرتے ہیں، لیکن کئی اے آئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔

اِس سلسلے میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر، ریڈم بریڈ کوپر نے 11مارچ کو ایک ویڈیو اَپ ڈیٹ میں کہا کہ امریکی فوجیوں کو اے آئی کے متعدّد نئے آلات سے واسطہ پڑتا ہے، لیکن یہ فیصلہ انسان ہی کریں گے کہ کسے نشانہ بنانا ہے اور کس کو نہیں۔ لیکن بلاشبہ، ایڈوانس اے آئی ٹولز ایسے مراحل کو بدل سکتے ہیں کہ پہلے جو فیصلے گھنٹوں، بلکہ دنوں میں ہوا کرتے تھے، اب چند سیکنڈز میں ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے12گھنٹوں میں 12000سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں ایک ہزار اہداف ایسے تھے، جو اے آئی کی مدد سے منتخب کیے گئے تھے۔ ان اہداف میں ایک ایرانی اسکول بھی شامل تھا، جس میں لگ بھگ 175 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، جن میں زیادہ تعداد معصوم بچیوں کی تھی۔

امریکی مبصّرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حتمی فیصلہ ہمیشہ انسان ہی کرتے ہیں، لیکن اے آئی سسٹمز سیکڑوں صفحات پر پھیلی پیچیدہ انفارمیشن کو منٹس بلکہ سکینڈز میں تجزیاتی مراحل سے گزار کر مختصر رپورٹ مرتّب کرتے ہیں، جس سے سیاسی رہنمائوں کو فیصلہ کرنے میں آسانی رہتی ہے اور اُنہیں پیچیدہ معلومات میں سَر نہیں کھپانا پڑتا۔

دریں اثنا، مغربی ممالک میں شائع ہونے والی رپورٹس میں تصدیق کی گئی کہ اسرائیل نے غزہ پر حملوں کے دَوران اے آئی سے مدد لی تھی، جس میں72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، حالیہ جنگ کے دَوران ایران کی20 ہزار سویلین عمارات کو نقصان پہنچا، جب کہ 77شفا خانے بھی نشانہ بنے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران میں وسیع پیمانے پر تباہ کاریوں کے ضمن میں امریکا میں اے آئی کے کردار پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ بیش تر امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ انسانوں کی ہلاکت کا کام مشینز یا کمپیوٹرز پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ دریں اثنا، اے-آئی سے وابستہ بہت سی کمپنیز نے، جن کے پینٹاگون کے ساتھ کانٹریکٹس ہیں، امریکی فوجی حکّام کو کہا ہے کہ وہ اُن کے ٹُولز اور ماڈلز مکمل طور پر آٹومیٹک ہتھیاروں اور سرویلنس کے لیے استعمال نہ کریں۔

تاہم اِس بحث مباحثے سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ حالیہ جنگ میں امریکا اور اسرائیل نے فضائی حملوں میں اے-آئی کا بھرپور استعمال کیا اور اگر بعض اے-آئی کمپنیز نے اپنے سسٹمز کے ناجائز استعمال پر شکوہ کیا، تو اُنھیں پینٹاگون کی جانب سے برہمی کا سامنا کرنا پڑا۔

چین کی وارننگ

چین نے بھی امریکا کو متنبّہ کیا ہے کہ وہ جنگ میں اے-آئی کے استعمال سے گریز کرے۔ چین کی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے کہا کہ اے آئی کا فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ صرف دوسرے ممالک کی خودمختاری کو مجروح کرنا ہے، بلکہ اسے زندگی اور موت کے فیصلے کا حق دینا ہے، جو اخلاقیات کی پامالی کے مترادف ہے۔

یہ عمل، جنگی جرائم کے محاسبے کی صف میں آتا ہے۔ اے آئی کا یہ رجحان سائنسی فلم’’ The Terminator ‘‘کا رُوپ دھارنے کے مترادف ہے، جس میں اے آئی پروگرام نصب ہوتا ہے۔ اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے، جیسے ایٹمی جنگ کا افسانوی خطرہ حقیقی معنوں میں وارد ہوگیا ہو۔

کیا ایران بھی جنگ میں آرٹیفیشل انٹیلی جینس کا استعمال کررہا ہے؟ اِس ضمن میں ماہرین حتمی طور پر کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔ تاہم، امریکا کو یہ شک ضرور ہے کہ ایران میزائل حملوں میں اس کا استعمال کررہا ہے یا کم از کم ایران اِس شعبے میں ایڈوانس ریسرچ ضرور کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی طیاروں نے تہران میں شریف یونی ورسٹی آف ٹیکنالوجی سینٹر میں قائم اے آئی کے ڈیٹا بیس سینٹر پر خاص طور پر بم باری کی اور اُسے تباہ کردیا۔

یونی ورسٹی کا یہ شعبہ ایران میں اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ تاہم، ایران کی نیوز ایجینسی نے بم باری سے متعلق خبر دیتے ہوئے یہ نہیں بتایا کہ اُس سے ڈیٹا بیس سینٹر کو کتنا نقصان پہنچا۔ تہران کی یہ شریف یونی ورسٹی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے اور یونی ورسٹی کے صدر مسعود تہرانچی نے امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمّت کی۔

انسانی غلطی یا کمپیوٹر کا غلط فیصلہ

ایران اور امریکا/ اسرائیل جنگ کے ابتدائی دنوں میں28 مارچ کو ایک ایرانی ایلیمینٹری اسکول پر امریکی بم باری کے نتیجے میں 150 سے زائد بچیوں کی ہلاکت کا دل خراش واقعہ پوری دنیا کے میڈیا میں بحث مباحثے کا موضوع بنا رہا۔ بعض ماہرین کا خیال تھا کہ امریکی فوجی حکّام نے اے آئی کو جو معلومات فراہم کیں، اُسی بنیاد پر امریکی بم باروں نے ایک غلط ہدف کا انتخاب کیا۔ کئی مبصّرین کے مطابق یہ خالصتاً انسانی غلطی تھی۔

نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی افسران نے کہا کہ وہ اس واقعے کی تفتیش کررہے ہیں، جب کہ ابتدائی تحقیقات میں امریکی فوجیوں ہی کو اِس واقعے کا ذمّے دار ٹھہرایا گیا۔ کہا گیا کہ ہدف منتخب کرتے وقت جو ڈیٹا فراہم کیا گیا، وہ کئی برس پرانا تھا۔

واضح رہے، اِس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ’’ ہوسکتا ہے، یہ خُود ایران کا کیا دھرا ہو۔‘‘ لیکن جب رپورٹرز نے کہا کہ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق امریکی حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے، تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’مجھے اس کا علم نہیں ہے۔‘‘ امریکی مبصّرین کے مطابق’’یہ بات واضح ہے کہ بم باری سے پہلے فراہم کردہ ڈیٹا کی تصدیق نہیں کی گئی۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید