مصنّف: شہریار احمد خان
صفحات: 194، قیمت: درج نہیں
ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور۔
شاعری کی طرح افسانہ نگاری بھی ایک تخلیقی عمل ہے۔ فرق یہ ہے کہ شاعری تو چلتے پِھرتے، اُٹھتے بیٹھتے بھی ہوجاتی ہے، لیکن افسانہ تخلیق کرنے کے لیے جَم کر بیٹھنا ہوتا ہے۔ گہرے سماجی شعور، فکری وفور، عملی بصیرت اور جذبوں کی فراوانی کے بغیر اچھے افسانے کا وجود میں آنا ناممکن ہے۔ ہمارے پیشِ نظر شہریار احمد خان کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے، وہ کب سے افسانہ نگاری کررہے ہیں، ہمیں نہیں معلوم، لیکن ان کے اسلوبِ نگارش اور طرزِ تحریر سے ان کی مشّاقی جھلک رہی ہے۔
زیرِ نظر کتاب میں 28افسانے شامل ہیں اور ہر افسانہ سماجی و معاشرتی زندگی کا آئینہ دار ہے۔ گو کہ ان کی ہر کہانی حقیقت نگاری کا مرقّع ہے، تاہم ہمیں ان کے افسانوں صوفی، انوبھک، ٹوتھ فیری، بڑا بھائی، بالیتھری، محبّت اور زندگی نے بہت متاثر کیا۔ شہریار احمد خان فلاحی اور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں۔ اُن کی زندگی کا یہ رُخ بھی اُن کے افسانوں سے عیاں ہے۔ افسانے کو حقیقت بنانا بھی ایک فن ہے اور مصنّف اِس ہنر میں طاق ہیں۔
عموماً افسانوں کو طول دے کر کتاب کی ضخامت بڑھائی جاتی ہے، لیکن زیرِ نظر کتاب کا کوئی افسانہ طوالت کا شکار نہیں ہوا، جب کہ زبان بھی سادہ اور شستہ ہے۔ بھاری بَھر کم الفاظ سے گریز کیا گیا ہے اور یہ ایک ایسی خُوبی ہے، جو قاری اور مصنّف کے درمیان فاصلہ کم کرتی ہے۔
شہریار احمد خان کے دیباچے سے اندازہ ہوا کہ وہ معروف کہانی کار، فرحت پروین سے بے پناہ متاثر ہیں، غالباً اِسی لیے اُنہوں نے فرحت پروین سے کتاب کا پیش لفظ لکھوایا۔ فرحت پروین افسانوی ادب پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ اُن کی تحریر کردہ چند سطور ملاحظہ فرمائیں۔’’شہریار احمد خان کے افسانوں میں موضوعات کا تنوّع حیران کُن ہے۔
مَیں ادبی دنیا میں اُنھیں خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کی مزید تحقیقات کا انتظار کروں گی۔‘‘ اُن کے یہ الفاظ مصنّف کے لیے سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ قارئین، بے شک بڑے لوگوں کے افسانے پڑھیں، لیکن اُنہیں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئے آنے والوں کا بھی خیرمقدم کرنا چاہیے۔ چراغ سے چراغ جلانا، اِسی کو کہتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ ایک اچھا افسانوی مجموعہ ہے، جو خُود کو پڑھوالے گا۔