صنوبر خان ثانی
عشق ہے مجھ کو اپنے نبیؐ سے
اس کی پوچھو نہ کیا انتہا ہے
وہ تو رہتے ہیں ہر وقت دل میں
ان کا نامِ گرامی لکھا ہے
اُن کی چوکھٹ پہ جا کے تو دیکھوں
اپنی بگڑی بنا کر تو دیکھوں
مجھ کو حیرت سے سب تک رہے ہیں
اِس کو دو دن میں کیا ہوگیا ہے
اُن کے روضے پہ مَیں جُھومتا ہوں
جالیوں کو بھی مَیں چُومتا ہوں
مجھ کو بےخُود کیا ہے کسی نے
اِس میں میری خطا ہے، تو کیا ہے
سیکڑوں عیب مجھ میں بھرے ہیں
اور باقی سرہانے کھڑے ہیں
تم سا عاصی نہیں کوئی ثؔانی
اُس کی رحمت کا بس آسرا ہے
یہ تمنّا ہے اب میری ثؔانی
ختم ہو جائے میری کہانی
اُن کے قدموں میں جاں اپنی دے دوں
اس سے بڑھ کر وفا اور کیا ہے