مشاعرہ……
شہر کے مرکزی آڈیٹوریم میں مشاعرہ بپا تھا۔
جون بھائی صدارت کر رہے تھے۔
پہلے شاعر نے پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر کلام سنایا،
اور حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔
دوسرے نے بجلی کے نرخوں کو موضوع بنایا، اور میلہ لوٹ لیا۔
تیسرے نے اسکول کی بھاری فیسوں کا ذکر کیا،
اور حاضرین آبدیدہ ہوگئے۔
اب مجو کی باری تھی، اس نے مائیک پر آنے کے بعد کہا:
’’حضرات، کیوں کی تمام اشیا کے مہنگے ہونے پر اشعار سنائے جاچکے ہیں،
اس لیے میں فقط انسان کے ارزاں ہونے پر شعر سنا سکتا ہوں۔‘‘
ان جملوں کے ساتھ داد و تحسین کا ایک طوفان اٹھا،
اور مجو نے مشاعرہ لوٹ لیا۔