ہیٹ ویو……
سخت گرمی میں وہ پسینے سے شرا بور اپنی ریڑھی دھکیل رہا تھا۔
وہ گلی گلی گھوم کر سودا بیچنے کیلئے آوازیں لگایا کرتا،
مگر آج سبزیوں کی فروخت معمول سے کم رہی۔
ہیٹ ویو کی وجہ سے لوگ باہر نکلنے سے اجتناب کر رہے تھے۔
آخر تھکن نے پاؤں پکڑ لیے، پیاس سے گلا چٹخنے لگا، آواز بیٹھ گئی۔
اس مایوس کن لمحے ا س کے سامنے اپنے بیٹے کا چہرہ گھوم گیا۔
بچے کی آج سالگرہ تھی ، اور اس نے کھلونے کی فرمائش کی تھی۔
بیٹے کی فرمائش پیاس پر غالب آگئی۔
اور وہ پھر سے گلیوں میں سبزی بیچنے نکل پڑا۔
شام ڈھلے کھلونا لے کر گھر لوٹا، تو بیٹا سینے سے لگ کر بولا:
’’بابا، آپ اتنی گرمی میں باہر مت جایاکریں۔‘‘
ایک پل کواُسے لگا، جیسے مو سم خوشگوار ہوگیا ہو۔