کسی کے لیے بھی اپنی ماں کی بےغرض ، بےلوث محبّت کا قرض ادا کرنا بھلا کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے کہ ہم ماؤں کی زندگی میں تو اُن کی ممتا، دستِ شفقت سے محظوظ ہوتے ہی ہیں، لیکن جدید سائنسی تحقیق کچھ ایسےحقائق بھی سامنے لائی ہے، جو بہت ہی حیران کُن، تعجب انگیز ہیں۔
یوں تو ماں اور بچّے کا ساتھ، پیدائش سے نو ماہ قبل ہی شروع ہو جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ساتھ ماں کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔ یہ بات سائنس کچھ اِس طرح ثابت کرتی ہے کہ ماں کے خلیات، اولاد کے جسم میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ جنہیں مائکرو کائمیریزم (micro chemirism) کہا جاتا ہے۔
حمل کے دوران، جنین کے کچھ خلیے نال (placenta) کے ذریعے ماں کے جسم میں داخل ہو کر اُس کے ٹشوز میں بس جاتے ہیں، تو ماں کے بھی کچھ خلیات بڑھتے ہوئے بچّے کے جسم میں منتقل ہوتے ہیں اور پھر یہ خلیات دہائیوں تک بلکہ پوری زندگی وہاں موجود رہتے ہیں۔ یہ خلیات خون، بون میرو (ہڈیوں کے گودے)، جِلد، جگر، اور حتیٰ کہ دماغ میں بھی پائے جاتے ہیں۔
یہ نہ صرف مختلف قسم کے مخصوص ٹشوز میں تبدیل ہو کر زخم بھرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام منظّم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یعنی ماں وہ ہستی ہے، جو دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اولاد کے زخم بھرنے اور بیماریوں سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ہم اپنی ماؤں کے کن کن احسانات اور احساسات کے مقروض ہیں، سائنس بھی ابھی پوری طرح واضح نہیں کرسکی، مگر تحقیقات کے مطابق بچّوں کی ذہانت میں بھی ماں کا کردار مسلمہ ہے کہ بچّے میں ذہانت، ماں کے جینز (ایکس کروموسوم) ہی سے منتقل ہوتی ہے۔
ماں کی ذہنی صلاحیت، غذائیت اورجذباتی تربیت بچّوں کے آئی کیو (IQ)، دماغی نشوونما پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ بچّے ماں سے دو ایکس کروموسوم حاصل کرتے ہیں، جب کہ باپ سے ایک ایکس اور ایک وائے کروموسوم۔ اور ذہانت سے متعلق زیادہ تر جینز ایکس کروموسوم پر ہوتے ہیں۔
اسی سبب ذہانت کا موروثی تعلق ماں سے زیادہ ہوتا ہے۔ مطلب، بچّوں کی ذہانت کا اندازہ ماں کے آئی کیو سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ذہین ماؤں کے بچّوں کے ذہین ہونے کے امکانات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر ماں کا دودھ بچّے کے دماغی خلیات کی بہترین غذا ہے، جو ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگرچہ باپ بھی ذہانت میں حصہ ڈالتے ہیں، لیکن جینیاتی طور پر ماں کا اثر نمایاں پایا گیا۔
پس، یہ بات مان لینی چاہیے کہ مائیں ہمیں محبّت و شفقت، بے پناہ چاہت و الفت کے ساتھ اور بھی بہت کچھ دیتی ہیں ۔ اور اگر ان سب کے بدلے وہ ہم سے صرف ہمارا تھوڑا وقت، تھوڑی توجہ اور تھوڑی سی قدر مانگتی ہیں، تو کیا یہ اُن کا استحقاق اور اختیار نہیں۔
٭اگر والدین کی دُعائیں ساتھ ہوں تو پھر کسی اور دُعا کی ضرورت نہیں رہتی۔ اپنے اردگرد حفاظت کی لاکھ لکیریں کھینچ لو، اُن میں سے ایک بھی اُن کی دُعا سی مضبوط نہیں ہوسکتی۔
٭ بڑے بڑے درویشوں سے زیادہ طاقت وَر دُعا تمھارے والدین کی ہے، جنہیں تم نظر انداز کرکے پیر، فقیر تلاش کرتے پِھرتے ہو۔
٭اگر اللہ کو دیکھنا چاہتے ہو تو صُبح اُٹھ کر مُسکراتی ہوئی ماں کو دیکھو کہ ماں بھی خدا کا ایک رُوپ ہے۔
٭ماں، باپ کو نظرِ رحمت سے دیکھنے کا ثواب، ایک مقبول حج کے برابر ہے۔
٭جس کے دل میں والدین کے لیے محبّت ہو، وہ زندگی کے کسی موڑ پر شکست نہیں کھا سکتا۔
٭ماں واحد ہستی ہے، جس کا دامن دُعاؤں کے لیے کبھی چھوٹا پڑا اور نہ اپنی اولاد کے دُکھ، پریشانیاں سمیٹنے کے لیے۔
٭اپنی زبان کی تیزی اُس ماں پرمت آزماؤ، جس نے تمہیں بولنا سکھایا۔
٭ماں اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ تحفہ ہے۔ اُس کی قدر اُن سے پوچھو، جن کی مائیں دنیا سے جا چُکی ہیں۔ جن کے والدین نہیں، وہ گھر سے نکلیں تو زمانے کی دھوپ سے بچنے کے لیے دُعاؤں کی کوئی چھتری نہیں ہوتی، مگر جن کے والدین حیات ہیں، اُنہیں دیر سے گھر آنے پر بھی انتظار کرنے، دروازہ کھولنے والے جاگتے ملتے ہیں۔
٭بس اتنی سی دُعا ہے’’کوئی گھر، ماں کے بناء نہ ہوں اور کوئی ماں، بناء گھر کے نہ ہو‘‘۔