• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلقیس متین، کراچی

حمزہ نے اپنے دوست، عُمیر سے موٹر بائیک مانگتے ہوئے کہا۔ ’’بھائی! کل میرا جاب انٹرویو ہے، تو مجھے بیری والے پیر بابا سے دُعا کروانی ہے۔ سُنا ہے، بہت پہنچے ہوئے، صاحبِ کرامت بزرگ ہیں اور اُن کی دُعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ یاسر نے بتایا ہے کہ اُس نے بھی ایگزام کے لیے اُن ہی سے دُعا کروائی اور اُس کے بہت اچھے مارکس آئے۔ ظفر نے بھی بہن کی شادی کے لیے اُن ہی سے دُعا کروائی اور چند روز بعد ہی شادی ہوگئی۔ مَیں بھی انٹرویو میں کام یابی کے لیے اُن ہی کے پاس جانا چاہتا ہوں۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ آستانہ شہر سے کافی دُور ہے، کوئی پبلک ٹرانس پورٹ نہیں جاتی، اِس لیےتمہاری بائیک چاہیے‘‘ حمزہ کی ساری بات بہت سُکون سے سُننے کے بعد عُمیر نے نہایت متانت و سنجیدگی سے جواب دیا۔’’مُجھے موٹربائیک دینے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن پیر بابا کے آستانے پر جانے کی ضرور مخالفت کروں گا۔

یار حمزہ! مُجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ تم جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذی شعور لوگ اِن عاملوں، پیروں، فقیروں کے چکر میں کیسے پھنس جاتے ہیں۔ کیا تمہیں اپنے گھر میں موجود سرچشمۂ دُعا، اپنے والدین نظر نہیں آتے۔ یار! یہ یاسر اور ظفر کے مَن کی مُرادیں بھی کسی پیر، فقیر کی دُعا کا کمال نہیں، ماشاءاللہ دونوں کی مائیں حیات ہیں اور سارا محلہ اُن کی عبادت گزاری، بہترین طرزِ عمل کا گواہ ہے۔

محلے بھر کے نوجوان، بچّے اُن کے دستِ دُعا سے فیض یاب ہوتے ہیں، تو یہ کیسے ممکن ہے، وہ اپنی اولاد کے لیے دُعا نہ کریں ۔‘‘عُمیر کی باتیں حمزہ کو دل میں اُترتی محسوس ہو رہی تھیں۔ عمیر نے اُسے اپنی جانب متوجّہ دیکھا، تو بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔’’یارحمزہ! ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایک ماں کا اپنےربّ کے ساتھ براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔

وہ مجسّم دُعا، سرتاپا سوالی ہوتی ہے اور اپنی اولاد کی خاطر تواُس کا پورا وجودہمہ وقت دُعاگو رہتا ہے۔ اگر اولاد نیک، تابع فرماں ہو، تو اُس کے لیے اُس کے دل سے خُود بخود دعائیں نکلتی ہیں اور اگر خدانخواستہ نافرمان ہو، تو وہ اور بھی زیادہ دُعائیں کرتی ہے۔ تمہیں انٹرویو میں کام یابی کے لیے دُعا کروانی ہی ہے، تو اپنے والدین بالخصوص والدہ سے کرواؤ کہ ماں تو دُعاؤں کا منبع، سرچشمہ، مستجاب الدعوات ہے۔

یوں سمجھو، ماں دُعاؤں کا گھر ہے اور جسے اُس گھر کا دَرنصیب ہوجائے، اُسے دربدر کی خاک چھاننے کی ضرورت نہیں رہتی، وہ من کی مُراد پا ہی جاتا ہے، کیوں کہ ماں کی دُعا میں وہ طاقت ہے، جو قسمت کے فیصلے بھی تبدیل کرسکتی ہے۔ ماں کے منہ سے نکلا ایک جملہ اولاد کے لیے ڈھال بن جاتاہے۔ دُنیا کے سب دروازے بند بھی ہوجائیں، اولاد کے لیے ماں کی دُعا آسمان کے دروازے کھول دیتی ہے۔ میرے پیارے دوست! ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ماں کی قدر دان اولاد کے قدموں میں اللہ تعالیٰ خود دُنیا جہاں کے خزانے ڈالتا ہے۔

اُسے کام یابی، سکون، اطمینان، خوشی، عزّت، دولت اور وقار و مرتبہ سب کچھ میسّر آتا ہے۔ جو اولاد اپنی ماں کو خوش، راضی رکھنے کے لیے مستعد رہتی ہے، وہ اللہ کی بھی رضا کی حق دار ٹھہرتی ہے۔ اس کے برعکس جس کی ماں اُس سے ناخوش ہو یا جس کی وجہ سےماں کی آنکھ میں آنسو آئیں، تو اُس کی ہر کام یابی، سکون واطمینان کی راہ میں رکاوٹیں ہی رکاوٹیں کھڑی ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ناکامی، شکست، بےسکونی اس کامقدّر بن جاتی ہے۔‘‘

عُمیر نےحمزہ کی کلائی پکڑتے ہوئے بات آگے بڑھائی۔ ’’کبھی تم نے غور کیا ہے،جب کوئی ہمارا ہاتھ تھام کر ہماری کلائی پر اپنی انگلیاں رکھتا ہے، تو اُس کا یہ عمل محض نبض کی رفتار جانچنے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ یہ دل سے دل کا خاموش مکالمہ ہوتا ہے اور جب ایک ماں بخار میں تپتے بچّے کی کلائی تھامتی ہے، تو اُس کا مقصد نبض کی رفتار چیک کرنا نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے بچّے کی باطنی کیفیت، تکلیف دل سے محسوس کرنا چاہتی ہے اور یہ صرف ایک ماں ہی جان سکتی ہے۔ وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے، آنکھوں کا پانی اور دل کی کہانی ماں کے سوا کوئی بھی نہیں دیکھ، پڑھ سکتا۔

یاد رکھو، دُنیا میں صرف ایک ماں ہی ایسی ہستی ہے، جس کی اپنی اولاد کے حق میں کی گئی دُعا کبھی رد نہیں ہوتی اور ہم دونوں تو اِس اعتبار سے بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمیں دُعاؤں کے لیے یہ ہاتھ میسّر ہیں اور اگر ہم ان سے فیض یاب نہیں ہوتے، تو یہ سراسر کُفرانِ نعمت ہے، لہٰذا تمہیں کسی پیربابا کی بجائے اپنی والدہ کے قدموں میں بیٹھ کر اُن کی دُعائیں لینی چاہئیں۔ میرا اس بات پر ایمان و یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی دُعا کبھی رد نہیں کرے گااور تمہیں اپنے مقصد میں ضرور کام یابی ملے گی۔ ‘‘

عُمیر کی پُراثر گفتگو ختم ہوئی، تو حمزہ نے فرطِ جذبات سے اُسے یہ کہتے ہوئےگلے لگا لیا کہ ’’بے شک، اچھے دوست بھی کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے۔‘‘ اور تیز قدموں سےگھرکی جانب چل پڑا کہ جہاں ایک ’’مستجاب الدعوات‘‘ ہستی اُس کی منتظر تھی۔

سنڈے میگزین سے مزید