• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افشاں نوید، کراچی

پہلے ماں اور اولاد کے مابین اِبلاغ کے لیے ہمیشہ الفاظ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ بس اِک نظر، اِک لمس، اِک آہٹ، اِک مسکراہٹ، اِک آنسو…اوردل کی بات دل تک پہنچ جاتی تھی۔ ماں چہرہ دیکھ کر بچّے کے دل کی اندرونی کیفیت جان لیتی تھی اور مضطرب و بے چین بچّہ ماں کی آغوش میں آکر پُرسکون، شانت ہوجاتا تھا، لیکن پھر آہستہ آہستہ سب کچھ بدلنے لگا اور یہ بدلاؤ، تغیّر نہایت خاموشی سے گھروں میں بھی سرایت کرگیا۔ اور اِس تبدیلی کا سبب چند انچ کی وہ ’’ڈیوائس‘‘ ہے، جس نے ہماری ہتھیلیوں پر پوری دُنیا سمیٹ رکھی ہے۔

آج فخریہ طور پر کہا جاتا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے فاصلے کم کر دیے ہیں، مگر اس حقیقت سے بھی مفر ممکن نہیں کہ اسی موبائل فون نے ایک چھت کے نیچے رہنے والوں میں ایک وسیع خلیج بھی قائم کردی ہے اور یہ کم و بیش ہر گھر ہی کی کہانی ہے۔ ماں اور بچّے ایک ہی کمرے میں، ایک ہی صوفے پر بیٹھے ہیں، لیکن ان کا آپس میں کوئی جذباتی ربط و تعلق نہیں۔ بچّوں کی نگاہیں اسکرین پرجمی ہیں، انگلیاں اسکرولنگ میں مصروف ہیں اور ذہن اپنے گرد و پیش سے بےنیاز کسی اور ہی دُنیا میں بھٹک رہا ہے۔

ماں اپنے بیٹے سے بات کرنا چاہتی ہے، لیکن اُسے یہ دھڑکا لگا ہے کہ ’’دخل درمعقولات‘‘ سے کہیں بیٹا ناراض نہ ہو جائے۔ تاہم، وہ ہمّت کر کے گفتگو کا آغاز کرتی ہے۔ ’’بیٹا! آج تم نے کھانا ٹھیک سے نہیں کھایا، حالاں کہ مَیں نے تمہاری پسندیدہ ڈِش بنائی تھی؟‘‘ بیٹا اسکرین سے نظریں اُٹھائے بغیر ہی جواب دیتا ہے،’’اوں… ہاں…جی امّی…‘‘۔ بیٹےکےاس ردِعمل پر ماں کلیجا مسوس کر رہ جاتی ہے، مگر کوئی شکایت زبان پر نہیں لاتی۔

بس یہ سوچ کر خُود کو طفل تسلیاں دیتی ہے کہ اب زمانہ بدل گیا ہے، بچّوں کی مصروفیات بڑھ گئی ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج کی مائیں زندگی کی اِس تیز رفتاری سے خوف زدہ ہیں کہ اُن کا ’’دلِ ناداں‘‘ کوئی دلیل نہیں مانتا۔ اُنہیں ہر لمحہ اپنے بچّوں کی فکر کھائےجاتی ہے، جو اُن کی آغوش میں پروان چڑھے۔ جو ناتوانی کی حالت میں اُن کی ایک لمحے کی دُوری بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے، مگر آج قریب رہ کر بھی بہت دُور ہیں اور یہ دُوری جغرافیائی یا جسمانی نہیں، احساسات و جذبات اورتوجّہ کی ہے۔

موبائل فون نے ہمیں دُنیا سے تو جوڑ دیا ہے، مگر قریبی رشتوں کےدرمیان ایک طویل فاصلہ پیدا کردیا ہے۔ ہر آن بدلتی اور چمکتی دمکتی اس آن لائن دُنیا نے اولاد کو اپنی اُس شفیق ماں سے بھی بےگانہ کردیا ہے کہ جس کی ممتا، والہانہ پن اور محبّت آج بھی جوں کی توں ہے۔ سچ تو یہ ہےکہ موبائل فون اور ماں کے مابین اس غیرمساوی مقابلے میں مامتا بلامقابلہ ہی ہارجاتی ہے اور شاید یہی اُس کی عظمت کی دلیل ہے۔ تاہم، ماں اپنی اولاد کی خوشی کی خاطر ہار کر بھی جیتنا چاہتی ہے۔

اُس کے دِل و دماغ میں بار بار یہ سوال جنم لیتا ہے’’کیا میرے پاس ایسا کچھ بھی نہیں، جو میرے بچّوں کی توجّہ حاصل کر سکے؟‘‘ اور یہ سوال ماں کے وجود کو آہستہ آہستہ گُھلارہا ہے۔ اُس نے اُداس مسکراہٹ، ادھوری باتوں کے ساتھ ایک طویل خاموشی بھی اختیار کرلی ہے۔

گرچہ اولاد اُس سے بےخبرنہیں، مگر بےنیاز ضرور ہوچُکی ہے، کیوں کہ آن لائن دُنیا نے اُسے فوری خوشی و تسکین کا عادی بنا دیا ہے۔ وہ انٹرنیٹ کی رنگین دُنیا، تیزی سے بدلتے’’ٹرینڈز‘‘اور دِل چسپ و حیران کُن مواد میں کھو چُکی ہے۔ اُسے تو یہ سب سوچنے سمجھنے ہی کی فُرصت نہیں، جب کہ ماں توجّہ، دھیان اور دل کی حاضری مانگتی ہے اور اس کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔

کوئی بیٹا چھےماہ بعد دوسرے شہر سےماں سے ملنےآتا ہے۔ دو روز ماں کے پاس ٹھہرتا ہے، مگر سارا وقت اُس کی نظریں اسکرین ہی سے نہیں ہٹتیں، یہاں تک کہ بیٹے کے روانہ ہونے کے بعدبے چاری ماں سوچتی رہ جاتی ہے کہ ’’پتا نہیں، اُس نے مُجھے نظر بَھر کردیکھا بھی یا نہیں۔‘‘ اگر والدین اور اولاد ہی ایک دوسرے کے لیے وقت نہ نکال پائیں، تو پھر یہ اَن مول رشتہ بھی محض ’’رسمی‘‘ ہی رہ جاتا ہے۔

آج نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ماں بچّوں سے کوئی سوال پوچھتی ہے، تو وہ نظریں اسکرین سے ہٹائے بنا ’’ہاں، ہوں‘‘ میں جواب دے کر جان چُھڑا لیتے ہیں۔ ماں دُعا دیتی ہے، تو بچّے نظریں ملائے بغیر اور بِلا سوچے سمجھے ’’آمین‘‘ کہہ دیتے ہیں۔ اب ماں، اولاد کی آنکھوں میں اپنے لیے اپنائیت ایسے تلاش کرتی ہے، جیسے کوئی تاریکی میں فرش پر گری سوئی ڈھونڈ رہا ہو۔

لیکن…اب بھی بہت دیر نہیں ہوئی۔ نظامِ کائنات چل رہا ہے، رُکا نہیں۔ سو، اولاد کو کم ازکم اتنا تو کرنا ہی چاہیے کہ اپنے والدین کو دیکھتے ہی اپنے موبائل فون یا لیپ ٹاپ ایک طرف رکھ دے اور پوری توجّہ، احساس، شعور، اپنائیت اور والہانہ پن کے ساتھ اُن کی جانب متوجّہ ہوجائے۔ اپنی ماں کوایسی محبت پاش نظروں سے دیکھے کہ برسوں کے فاصلہ سمٹ جائیں، اُس کے دل کی ساری کسک مٹ جائے۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں، اولاد سے کوئی حساب کتاب نہیں مانگتی۔

وہ صرف اپنے بچّوں کی توجّہ اور محبّت کی طالب ہوتی ہے۔ ماں تو دے کے امیر ہوتی ہے۔ وہ صرف ایک پُرخلوص سامع چاہتی ہے۔ یعنی جب اولاد اُس کے پاس ہو، تو واقعتاً اُس کے قریب ہو۔ ایک ماں کے لیے، اولاد کی طرف سے ’’ماؤں کے عالمی یوم‘‘ کا سب سے قیمتی تحفہ یہی ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ دیر کے لیے اسکرینز سے نظریں ہٹا کر مُسکراتے ہوئے اُن کے شفیق و پُرنور چہرے کی طرف دیکھیں۔ توجّہ سے اُن کی باتیں سُنیں اور اُنہیں گلے سے لگائیں۔ یاد رکھیں، اگر اب بھی آپ نے یہ نہ سمجھا، تو ایک دن آپ کے پاس سب کچھ ہوگا، ماسوائے ماں جیسے مقدّس رشتے کے۔

سنڈے میگزین سے مزید