• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوں کے شیلف میں ہے، عشق کی کتاب میں ماں...

تحریر: نرجس ملک

عکّاسی و اہتمام: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

؎ اِس ظلم کی دنیا میں فقط پیار مِری ماں

ہے میرے لیے سایۂ دیوار مِری ماں

نفرت کے جزیروں سے محبّت کی حدوں تک

بس پیار ہے، ہاں پیار ہے، بس پیار مِری ماں

ایک بار پھر ’’ماؤں کا عالمی یوم‘‘ ہے اور ہم حسبِ روایت ایک بار پھر ایک بہت پیاری ماں کے، اپنی بہت پیاری بیٹی کے ساتھ کچھ حسین و دل نشین لمحات کی عکس بندی لیے حاضرِ خدمت ہیں۔ یوں تو اس ماں سے ایک دنیا واقف ہے، مگر بحیثیت ماں نہیں، بلکہ بطور ایک ’’اسٹار کرکٹر‘‘۔ بسمہ معروف، پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان (آئی سی سی کے ڈویلپمنٹ اسکواڈ کی بھی کپتان) بہترین آل راؤنڈر، جنہیں ODI اورT-20 فارمیٹس میں پاکستان کی سب سے زیادہ رنز بنانے والی کھلاڑی کا اعزاز حاصل ہوا، تو 2023ء میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے تمغۂ امتیاز سے بھی نوازی گئیں۔

یہ پہلی خاتون کھلاڑی ہیں، جنہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی ’’پیرنٹل سپورٹ پالیسی‘‘ سے استفادہ کیا، جس کے تحت خواتین کرکٹرز کو تن خواہ کے ساتھ ایک سال کی میٹرنٹی لِیوز کی سہولت دی گئی۔ بسمہ اِس وقت دو بہت پیارے پیارے بچّوں4 سالہ فاطمہ اور4 ماہ کے آحل کی ماں کے منصب پر فائز ہیں۔ آحل تو ابھی بہت چھوٹے ہیں، مگر فاطمہ پیدائشی سلیبریٹی ہیں کہ بسمہ نے اپنے کیریئر کے عروج پر 2021ء میں ایک ٹوئیٹ کے ذریعے ماں بننے کی خوش خبری سنائی اور پھر فاطمہ کی پیدائش تک کرکٹ سے دُوری بھی اختیار کی۔

بعدازاں، ننھی مُنّی فاطمہ کے ساتھ 2022ء کے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں بطور کپتان، پاکستان کرکٹ ٹیم شریک ہوئیں، تو دورے کے لیے پی سی بی نے بسمہ کو خصوصی طور پر ایک سپورٹ ممبر ساتھ لے جانے کی اجازت دی اور وہ یقینی طور پر بسمہ کی والدہ تھیں۔ نیوزی لینڈ میں منعقد ہونے والے اس ورلڈ کپ ایونٹ میں بسمہ کے ساتھ اُن کی بیٹی فاطمہ اور والدہ بھی مرکزِ نگاہ رہیں، خاص طور پر جب انڈین ویمن کرکٹ ٹیم فاطمہ سے ملاقات کی خاطر ہوٹل گئی، تو اِس خیرسگالی کے اظہار (Positive Gesture) کو دنیا بھر کے میڈیا نے نمایاں کوریج دی۔ اور یوں ننّھی فاطمہ محض چھے ماہ کی عُمر ہی میں ایک اسٹار بن گئی۔

بسمہ نے مئی 2024ء میں انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ اور فی الوقت اپنے دو بچّوں کے ساتھ بہت خوش گوار، مگر خاصی مصروف زندگی گزار رہی ہیں کہ گھر، فیملی، بچّوں کے ساتھ اپنا ایک پیڈل کورٹ، ’’پرائم پیڈل ہاؤس‘‘ بھی چلا رہی ہیں۔ ہم نے ’’مدرز ڈے‘‘ کی مناسبت سے بسمہ سے بحیثیت ماں کچھ سوال و جواب کیے، جن کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

بسمہ سے ہمارا پہلا سوال تھا کہ ’’ایک کرکٹ اسٹار کی زندگی زیادہ ہنگامہ خیز، بھرپور، زیادہ چیلنجنگ تھی یا ایک ماں کی؟‘‘ تو اُنہوں نے مُسکراتے ہوئے کہا۔ ’’دونوں کا اپنا اپنا چارم، اپنے اپنے مسائل، چیلنجز ہیں۔ اپنی مرضی کے پروفیشن میں کام یابیوں کے حصول کی خوشی کا بھی کوئی مول نہیں اور اپنے جگر گوشوں کے لیے خُود کو وقف کردینا، اُنہیں اپنے سامنے پل پل پَھلتے پُھولتے دیکھنا، اُن کی بہتر نشوونما، تعلیم و تربیت کی خاطر دن رات ایک کرنا بھی ذہنی و روحانی سُکون و طمانیت کا باعث ہے۔

بطورکرکٹر بھی، خصوصاً عورت ہوتے ہوئے، زندگی پھولوں کی سیج نہیں تھی اور ایک ماں کی حیثیت سے بھی تمام تر فرائض، ذمّےداریاں نبھانا قطعاً آسان نہیں۔ اور مَیں چوں کہ بچّوں کے معاملے میں میڈز وغیرہ پر انحصار نہیں کرتی۔ دوم، کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بعد بھی محض ہاؤس وائف نہیں، اپنا بزنس بھی دیکھ رہی ہوں، تو تمام تر معاملات سے بحسن و خُوبی نمٹنا اتنا ایزی ٹاسک نہیں، لیکن الحمدُللہ، مَیں ہر اعتبار سے انتہائی خوش قسمت ہوں کہ ایک بہت مختلف، معاشرے میں نسبتاً کم قابلِ قبول پروفیشن کا انتخاب کیا، تو فیملی، بعد ازاں شوہر نے بے حد سپورٹ کیا، اور آج بھی اِک اِک قدم ساتھ دینے، رہنمائی کرنے والےموجود ہیں۔ ٹھیک ہے، میری محنت، جدوجہد بھی کم نہیں، لیکن مَیں آج جو کچھ بھی ہوں، اپنے پیاروں کی بےلوث محبّت اور بے پناہ تعاون ہی کی بدولت ہوں۔ وہ کیا ہے کہ زندگی کے ساتھ ’’کام یاب‘‘ کا سابقہ یوں ہی نہیں لگ جاتا۔ 

؎ اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔‘‘ ’’بچوں کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں کیا پلاننگز ہیں؟ فاطمہ تو ابھی سے لائم لائٹ میں ہے، تو کیا اُس کے لیے بھی کسی چیلنجنگ پروفیشن کے انتخاب کا سوچتی ہیں؟ نیز، بچّوں کے حوالے سےآپ دونوں (میاں بیوی) نے کچھ ذمّے داریاں تقسیم کر رکھی ہیں یا بیش تر امور خُود ہی دیکھتی ہیں؟‘‘ ’’ہمارا اگلا سوال تھا، جس کا بسمہ نے برجستہ جواب دیا کہ ’’چھوٹے بچّے تو ماؤں ہی کے ہوتے ہیں اورمیرے دونوں بچّے ابھی چھوٹے ہی ہیں۔

گرچہ فاطمہ اپنی عُمر سے کہیں زیادہ سمجھ دار، ذمّے دار بچّی ہے، مونٹیسوری بھی جارہی ہے، لیکن میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے بچّوں کا ہر ہر کام خود کروں، خصوصاً فاطمہ کے ساتھ وقت گزارنا، اُس کے ساتھ کھیلنا کودنا، گھومنا پِھرنا، مونٹیسوری کے لیے پک اینڈ ڈراپ دینا، کِھلانا پلانا، نہلانا دُھلانا، سُلانا جگانا یہ سب کام میرے اپنے دل کی راحت و خوشی کا سامان، میری مینٹل پیس تھراپی ہیں۔

میرا ماننا ہے کہ ایک ماں، جب اپنے بچّے پر اپنی پوری ممتا نچھاور کرتی ہے، اُس کے سب چھوٹے چھوٹے کام اپنے ہاتھوں سے کرنے میں خوشی محسوس کرتی ہے، تو درحقیقت تب ہی دونوں کے بیچ وہ بانڈ بنتا ہے، جو پھر زندگی کی آخری سانس تک مضبوط و مستحکم رہتا ہے۔ میری امّی آج بھی میرا سب سے بڑا سپورٹ سسٹم ہیں۔ مَیں اُن کے بغیر نہ تو فیلڈ میں کام یاب ہوسکتی تھی اور نہ ہی نجی زندگی میں۔

فاطمہ کی پیدائش کے بعد کرکٹ کیریئر میں جو کچھ کیا، میری ماں کا مرہونِ منّت ہے۔ وہ اپنا گھربار، باقی سب بچّوں کو چھوڑ کر میرے ساتھ ٹورز پرگئیں، فاطمہ کو پھولوں کی طرح رکھا اور آج بھی رکھتی ہیں۔ میرے شوہربہت سپورٹیو ہیں، لیکن اُن کی مصروفیات کی نوعیت کے سبب اُنہیں زیربار یا پابند نہیں کرتی۔ دونوں بچّے میری پہلی ترجیح، میری کُل وقتی ذمّے داری ہیں اور مَیں بس اُنہیں ایک اچھا، کام یاب انسان دیکھنا چاہتی ہوں۔ اللہ نے مجھے ماں کا درجہ عطا کیا، تو اِس کا بہترین شُکرانہ یہی ہے کہ مَیں معاشرے کو اچھے انسان دوں۔ جہاں تک بچّوں کے لیے پروفیشن کے انتخاب کا سوال ہے، تو وہ میرے بچّوں کا استحقاق ہے۔

مَیں اُن کے ہر فیصلے، خوشی میں اُن کے ساتھ کھڑی ہوں گی، جیسے میرے والدین نے اُس وقت میرا ساتھ دیا، (خصوصاً والد نےجس طرح مجھے ہمّت وحوصلہ دیا بلکہ باقاعدہ پُش کیا) جب خواتین کے لیے بطور پروفیشن کرکٹ کا انتخاب قطعاً آسان فیصلہ نہ تھا۔ اپنی 14 سال کی بیٹی کو گھر سے دُور کیمپ بھیجنا، سخت ٹریننگ، غیر مُلکی دورے اور پھرلوگوں کی باتیں بھی… یہ تو کچھ اُن ہی کا دل جانتا ہوگا کہ وہ یہ سب کیسے سہتے رہے۔ اب خُود ماں ہوں، تو اندازہ کرسکتی ہوں کہ بعض اوقات اولاد، والدین کو کیسی سخت آزمائش میں بھی ڈال دیتی ہے، مگر وہ اپنی اُس محبت کے ہاتھوں، جو اللہ نے اولاد کے لیے اُن کے دل میں بو رکھی ہے، سب کر گزرتے ہیں۔‘‘

’’فاطمہ، بھائی کےآنے پرخوش ہیں، کیسا ردِعمل رہا اور آپ ایک بیٹی اور ایک بیٹے کی پرورش میں کیا فرق محسوس کر رہی ہیں؟‘‘ ’’فاطمہ بہت خوش ہیں (بسمہ نے کِھلکھلاتے ہوئے بتایا) چھوٹے بھیا کو بڑی خوش دلی سے ویلکم کیا گیا اوراب بہت محبت اور ایکسائٹمینٹ کے ساتھ بھاگ بھاگ کر ایک آپی کی ذمّے داریاں نبھائی جاتی ہیں۔ الحمدُللہ، دونوں کا ایک دوسرے سے بہت پیار ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ والدین، اولاد کی طرح بہن بھائیوں کا رشتہ بھی اَن مول ہے۔ مجھے اگر بچپن میں بڑے بھائی نے بیٹ پکڑ کرکرکٹ کھیلنا نہ سکھایا ہوتا، میرے ساتھ صُبح و شام اتنی تگ و دو نہ کی ہوتی، تو یقیناً آج مَیں وہ بسمہ معروف نہ ہوتی، جو ہوں۔

اِسی طرح بہن کا رشتہ بھی دُنیا کا حسین ترین رشتہ ہے کہ بہنوں کے تو سب دُکھ سُکھ ہی سانجھے ہوتے ہیں۔ گرچہ میری زندگی کا بڑا حصّہ فیملی سے زیادہ کرکٹ ٹیم کے ساتھ گزرا۔ ٹیم، کوچ، بورڈ ہی ہماری فیملی تھے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ خون کے رشتوں کا کوئی نعم البدل ہی نہیں۔ آپ گھر سے دُور بھی ہوں، پیچھے دستِ دُعا بلند ہوں تو یقین کریں، کئی اُٹھتے طوفان تھم جاتے ہیں۔ مصائب، پریشانیاں آپ ہی آپ ٹل جاتی ہیں اور میرا تو اِس بات پر یقین و ایمان ہے کہ اگر والدین کی دُعائیں ساتھ ہوں، تو بڑی سے بڑی ناکامی بھی آپ کو ہرا نہیں سکتی۔ اور بیٹی، بیٹے کی پرورش و تربیت کے فرق کی جہاں تک بات ہے، تو ابھی تو کچھ خاص فرق محسوس نہیں ہوا، تھوڑے بڑے ہوں گے، تو اندازہ ہوگا۔ ‘‘

’’مدرز ڈے کی مناسبت سے بطور بیٹی اپنی والدہ، بطور ماں اپنی اولاد اور بطور ایک رول ماڈل عام خواتین کے لیے کچھ کہنا چاہیں گی؟‘‘ ہم نے گفتگو کو سمیٹا تو بسمہ نے قدرے جذباتی انداز میں اتنا ہی کہا کہ ’’والدین کی عظمتوں، قربانیوں، بے لوث، بےغرض محبّتوں اور اولاد کے لیے تن من دھن وار دینے کے جذبے کی تو دنیا میں کوئی مثال ملنا ممکن ہی نہیں اور نہ ہی دنیا کی کسی لغت میں وہ الفاظ موجود ہیں کہ جن سے اُن کی محبت و شفقت کا صحیح معنوں میں حق ادا ہوسکے۔

ماؤں کے عالمی یوم کی مناسبت سے اپنی ماں کو اِن اشعار کی صُورت خراجِ تحسین پیش کرنا چاہوں گی کہ ؎ ’’تمام لفظوں میں روشن، ہر ایک باب میں ماں..... جُنوں کے شیلف میں ہے، عشق کی کتاب میں ماں..... اے ماں! تُو خُوشبو کا نایاب استعارہ ہے..... اے ماں! تو عُود میں، عنبر میں، تُو گلاب میں ماں ..... خُود اپنی ممتا میں ہی نُور کا سمندر ہے..... نہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماں..... وہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میں..... تھی پہلے صرف سوال، اب ہے ہر جواب میں ماں۔‘‘ اولاد کے لیے اتنا ہی کہوں گی کہ ؎ ’’مَیں نے ماں کا لباس جب پہنا..... مجھ کو تتلی نے اپنے رنگ دیئے‘‘۔

اور ؎ ’’پہلے ڈرتی تھی اِک پتنگے سے..... ماں ہوں، اب سانپ مار سکتی ہوں‘‘۔ مَیں جب تک ماں نہیں بنی تھی، دنیا کے اِس سب سے حسین رشتے میں گندھی الوہیت، اِس کی قدر و قیمت، اِس کے سبب عطا ہونے والی ہمّت و طاقت سے ناآشنا ہی تھی۔ اب میری اولاد میری زندگی کا سب سے بڑا مقصد، میرا سرمایۂ حیات ہے اور مَیں اپنی آخری سانس تک قدم قدم اُن کے ساتھ، اُن کے پیچھے کھڑی ہوں۔ میرے بچّوں کو جب جب اور جہاں جہاں میری ضرورت ہوگی، وہ مجھے اپنے ساتھ موجود پائیں گے۔

اور رہی عام خواتین کی بات، تو مَیں خواتین سے ہمیشہ کہتی ہوں کہ وہ اپنے آپ کو پہچانیں۔ اپنی صلاحیتیں آزمائیں، اپنے خوابوں کو تعبیر دیں۔ زندگی کا ہر رشتہ پورے خلوص، ایمان داری، اپنی ہمّت و استطاعت کے مطابق ضرور نبھائیں، مگر خُود کو بھی زندہ رکھیں، زندہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو مرنے دیں، نہ کسی کے پیچھے فنا کر ڈالیں۔ آپ کا اپنی ذات پر بھی اُتنا ہی حق ہے، جتنا کسی کا بھی آپ پر۔ اقبال نے ایسے ہی نہیں کہا تھا کہ ؎ وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ تو جب اِس کائنات کے تمام تر رنگ، روشنیاں اِک عورت ہی کے دم قدم سے ہیں، تو پھراُس کے وجود کا قوسِ قزح جیسا سَت رنگا، ہرا بھرا ہونا تو لازم، ناگزیر ہی ٹھہرا۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید