اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام ہر سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں 15مئی کو ’’خاندانوں کا عالمی دن‘‘ (انٹرنیشنل ڈے آف فیملیز) منایا جاتا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں خاندان کی اہمیت و مرکزی کردار اجاگر کرنا، خاندانی تعلقات مضبوط بنانا، اور ان چیلنجز پر بات کرنا ہے، جو جدید دَور میں خاندانوں کو درپیش ہیں۔
یہ دن ایک صحت مند اور متوازن خاندانی زندگی کی ترویج کرتا ہے۔ واضح رہے 1993ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کے ذریعے ہر سال یہ یوم منانے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد 1994ء سے یہ باقاعدہ طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں منایا جانے لگا اور اس حوالے سے دنیا بھر میں مختلف پروگرامز اور سیمینارز منعقد کیے جانے لگے۔
سال 2026ء میں اس عالمی دن کا موضوع ’’خاندان، عدم مساوات اور بچّوں کی بہبود‘‘ ہے۔ خاندانی روایات کے تناظر میں دیکھا جائے، تو مغربی معاشرے کے برعکس، مشرقی، خصوصاً اسلامی معاشرے میں ماضی کا سادہ خاندانی نظام، بنیادی طور پر مشترکہ خاندانی نظام (Joint Family System) پر مبنی تھا، جہاں کئی نسلیں (دادا، دادی، والدین، چچا، تایا اور ان کی اولاد) ایک ہی چھت تلے پیار و محبّت، اخوّت وا خلاص کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھیں۔
اس نظام میں گھر کے بزرگوں کی حکم رانی، سرپرستی حاصل ہوتی تھی اور بچّوں کی تعلیم و تربیت، اخلاقی اقدار اور سماجی ہم آہنگی پر خصوصی توجّہ دی جاتی تھی۔ خاندان کے فیصلے عموماً گھر کے بڑے بزرگ کرتے، جن کا حُکم سب کے لیے قابلِ قبول ہوتا۔ گھر کے تمام افراد کے لیے ایک ہی باورچی خانہ ہوتااور مشترکہ آمدن سے اخراجات پورےکیے جاتے، جس سے معاشی بوجھ بہت حد تک تقسیم ہو جاتا تھا۔ بچّوں کی تربیت صرف والدین نہیں، خاندان کے تمام بڑے مِل جُل کرکیا کرتے، جس میں اُنھیں مسائل سے نبرد آزما ہونا سکھایا جاتا تھا۔
اس نظام میں سب افراد ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کے ساتھی ہوتے، اور کسی بھی مشکل میں پورا خاندان ایک ڈھال کی طرح کھڑا ہوجاتا۔ خاندان میں بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت بنیادی اصول تھا، اور رشتوں کے تقدّس کو ہر حال میں برقرار رکھا جاتا۔ مختصراً، ماضی کا خاندانی نظام صرف ایک جگہ رہائش کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک مکمل معاشرتی، اخلاقی اکائی تھی، جو محبّت، ایثار اور احساسِ ذمّے داری پر قائم تھی۔
انسانی تاریخ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان کا تصوّر اتنا ہی قدیم ہے، جتنی خود انسان کی تخلیق۔ نوعِ انسانی کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا، اور یہی وہ وقت تھا، جب خاندانی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑکو تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ اُن کی فطری رفاقت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُن ہی کی جنس سے اُن کی زوجہ، حضرت حوّا علیہا السلام کو پیدا فرمایا، تاکہ باہمی محبّت، انسیت اور سکون کا رشتہ قائم ہو سکے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’اور وہی (اللہ) ہے، جس نے تم کو ایک جان سے پیدا فرمایا اور اسی میں سے اس کا جوڑ بنایا، تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے، پھر جب مرد نے اس (عورت) کو ڈھانپ لیا، تو وہ خفیف بوجھ کے ساتھ حاملہ ہوگئی، پھر وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہی، پھر جب وہ گراں بار ہوئی، تو دونوں نے اپنے ربّ اللہ سے دعا کی کہ اگر تُو ہمیں اچھا تن درست بچّہ عطا فرما دے، تو ہم ضرور شُکر گزاروں میں سے ہوں گے۔‘‘ (سورۃ الاعراف، آیت نمبر 189)۔
ایک اور مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ’’اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے، تاکہ تم اُن کی طرف سکون پائو، اور اس نے تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کردی، بے شک اس (نظامِ تخلیق) میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو غور و فکر کرتے ہیں۔‘‘(سورۃ الروم، آیت نمبر 21)۔
اس طرح پہلا خاندان اسی مقدّس بندھن سے وجود میں آیا، جو محبّت، رحمت اور باہمی سکون کا عملی نمونہ تھا۔ ابتدائی ادَوار میں انسان، سادہ زندگی بسر کرتا، جنگلات، غاروں اور کھلے میدانوں میں رہائش اختیار کرتا تھا، مگر وقت کے ساتھ جب اس کی ضروریات میں اضافہ ہوا، تو افراد نے باہم جڑنا شروع کیا، رشتے مضبوط ہوئے، نسلیں پروان چڑھیں اور یوں خاندان ایک باقاعدہ اور ناگزیر سماجی ادارے کی صُورت اختیار کر گیا۔ یہی خاندان انسان کے لیے تحفّظ، شناخت اور تربیت کا سب سے پہلا اور مضبوط ذریعہ بنا۔ ابتدائی ادَوار میں جب انسان، جنگلی درندوں اور بیرونی خطرات سے دوچار تھا، تو خاندان ہی اس کی پہلی ڈھال ثابت ہوا۔
افراد جب اکٹھے رہنے لگے، تو نہ صرف ایک دوسرے کی مددکرنے لگے، بلکہ اجتماعی طاقت کے ذریعے اپنی جان و مال کا دفاع بھی ممکن بنایا۔ جنگلات اور کُھلے میدانوں میں بسنے والے یہ ابتدائی انسان اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر خطرات کا مقابلہ کرتے، بچّوں، خواتین، بزرگوں اور کم زور افراد کی حفاظت کرتے اور یوں بقا کی جنگ میں کام یابی حاصل کرنے لگے۔ اسی اجتماعی زندگی نے انسان کو یہ شعور دیا کہ تنہائی، کم زوری اور اتحاد طاقت ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ خاندان شناخت کی بنیاد بن گیا۔ ایک فرد اپنے خاندان، قبیلے اور نسل کے ذریعے پہچانا جانے لگا۔ باپ سے بیٹے، بیٹے سے پوتے اور پھر آئندہ نسلوں تک یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا، یہاں تک کہ چھوٹے خاندان قبائل اور قبائل بڑی اقوام میں ڈھل گئے۔ ہر قبیلے کی اپنی شناخت، روایات اور اقدار وجود میں آئیں، جو اُنھیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتیں۔ یہی قبائل باہمی محبّت، اتحاد اور روایتی نظام کے تحت زندگی گزارتے اور مختلف خطّوں میں پھیل کر انسانی تہذیب کی بنیاد رکھتے گئے۔
تاہم ،تاریخ کے بعض ادَوار میں ایسا بھی ہوا کہ انسان، انسان کا دشمن بن گیا، اور طاقت، زمین اور وسائل کی خاطر قبائل اور خاندانوں کے درمیان خوں ریز معرکے برپا ہوئے۔ ایسے حالات میں بھی خاندانی نظام ہی وہ قوّت تھا، جو افراد کو متحد رکھتا، نوجوانوں کو دفاع اور بقا کی تربیت دیتا اور آنے والی نسلوں کو چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا رہا۔
تاریخ کے اوراق کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تہذیب، مسلسل ارتقاء، عروج و زوال، اور موافقت (Adaptation) کی ایک طویل داستان ہے۔ انسانی تہذیب نے بقا کی جنگ میں ہمیشہ نئی راہیں تلاش کیں۔ یہ سفر وحشیانہ زندگی سے شروع ہو کر منظم معاشروں، عظیم سلطنتوں اور پھر جدید ٹیکنالوجی تک پہنچا، جہاں ہر نئی تہذیب، پچھلی تہذیبوں کے تجربات اور شواہد کی بنیاد پر پروان چڑھی۔
قدیم ادَوار میں مختلف سلطنتیں اور ریاستیں وجود میں آئیں، جن میں حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کی حکومتیں عدل و حکمت کی مثال بنیں، جب کہ ابتدائی میسوپوٹیمین بادشاہتیں، قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا (بشمول بابل و آشور) انسانی تاریخ کی قدیم ترین اور اہم ترین تہذیبیں تھیں، جو دریائے نیل اور دجلہ و فرات کے کنارے پروان چڑھیں۔
قدیم وادئ سندھ کی تہذیب اور قدیم چین و ہندوستان کی تہذیبیں بھی خاندانی اور قبائلی نظام کے زیرِ اثر پروان چڑھیں۔ بعد ازاں، رومن اور فارسی سلطنتیں دنیا کی بڑی طاقتوں کے طور پر ابھریں، جہاں خاندانی ڈھانچے نے سماجی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر تاریخ نے وہ سنہرا دَور بھی دیکھا، جب سرورِ کونین، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے مدینۂ منورہ میں ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم فرمایا، جس کی بنیاد، مضبوط خاندانی نظام، عدل و مساوات اور باہمی احترام پررکھی گئی۔ آپ ﷺ نے بیٹیوں کو عزت، خواتین کو حقوق اور رشتوں کو تقدّس عطا فرمایا۔
آپ ﷺ کی تعلیمات نے خاندان کو محض ایک سماجی ضرورت نہیں، بلکہ عبادت اور ذمّے داری کا درجہ دیا۔ خلافتِ راشدہ کے دَور میں یہی نظام نبی کریم ﷺ کی ہدایات کے عین مطابق جاری و ساری رہا، جہاں حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ نے اسی خاندانی، اخلاقی اور سماجی نظام کو عملی طور پر نافذ فرمایا اور معاشرے کو ان ہی روشن اصولوں پر استوار رکھا۔
بعد کے ادَوار میں بھی اسلامی تہذیب و تمدّن کے مختلف مرحلوں میں یہی بنیادی اقدار اپنی مختلف صُورتوں میں برقرار رہیں۔ خلافتِ راشدہ کے بعد اسلامی دنیا میں جب ریاستی نظام وسیع ہوکر مختلف خطّوں تک دراز ہوا، تو عدل، علم، اخلاق اور خاندانی رشتوں کی مضبوطی کے وہی اصول معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد بنے رہے۔
علمی مراکز، نظامِ عدل و قضا اور سماجی اصلاحات نے خاندانوں کو ایک فکری و تہذیبی سہارا فراہم کیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دورِ خلافت نے ایک بار پھر خلافتِ راشدہ کی عملی جھلک کو تازہ کیا، جہاں عدل، سادگی اور خاندانی و معاشرتی انصاف،مضبوط بنیادوں پر نافذ کیا گیا۔
یوں اسلامی تاریخ کے مختلف ادَوار میں خاندانی نظام ایک مستقل ستون کی حیثیت سے موجود رہا۔ برِعظیم پاک و ہند میں بھی صدیوں تک مشترکہ خاندانی نظام نے معاشرتی استحکام کو برقرار رکھا، جہاں بزرگوں کا احترام، رشتوں کی پاس داری اور اجتماعی زندگی کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔
مختصر یہ کہ تاریخ کے ہر دَور میں، خواہ وہ قدیم زمانہ ہو یا عظیم سلطنتوں کا عروج، خاندان ہی وہ بنیادی اکائی رہا، جس نے انسان کو نہ صرف جینے کا سلیقہ سکھایا، بلکہ تہذیب، تمدّن اور انسانیت کے سفر کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جہاں بزرگ تجربے کا خزانہ ہوتے، والدین تربیت کا مرکز اور بچّے مستقبل کی اُمید سمجھے جاتے تھے۔
مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، صنعتی انقلاب، شہری زندگی، ٹیکنالوجی کی یلغار اور بدلتے معاشی تقاضوں نے خاندانی ڈھانچے کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹنے لگا، رشتوں میں فاصلے بڑھنے لگے اور وہ مضبوط بندھن، جو کبھی خاندان کی پہچان ہوا کرتے تھے، کم زور پڑنے لگے۔
آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، مگر اندر سے ایک گہرے خلا، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے۔ جدید دَور میں جہاں بے پناہ سہولتوں کی فراوانی ہے، وہیں خاندانی نظام اپنی روایات سے تیزی سے دُور ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی افرادِخانہ کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عصرِ حاضر میں خاندانی نظام کا یہ حال ہے کہ والدہ اپنی دنیا میں، والد اپنی مصروفیات میں اور بچّے موبائل فون کی اسکرینز کے سامنے محصور ہیں۔
یوں ایک ہی چھت تلے ہر فرد اپنی ایک الگ دنیا میں جیتا دکھائی دیتا ہے، اور یوں رشتوں کی وہ گرم جوشی اور باہمی وابستگی کم زور پڑتی جا رہی ہے، جو کبھی خاندان کی پہچان ہوا کرتی تھی۔ موجودہ دَور ماضی کے انسانوں کی دانش، ایجادات اور ثقافتی تخلیقات کا تسلسل ہے، مگرنوجوان نسل، جو کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتی ہے، تیزی سے ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈیپریشن جیسے مسائل کا شکار ہو رہی ہے۔
ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے جہاں معلومات اور رابطے کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں ایک نئی قسم کی تنہائی بھی پیدا کر دی ہے۔ بچّے اور نوجوان سوشل میڈیا پروفائلز، ویڈیو گیمز اور ورچوئل دنیا میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ حقیقی دنیا کے رشتے اور جذبات اُن کے لیے ثانوی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
بعض اوقات یہ لَت اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ ذہنی عدم توازن، جارحانہ رویّے اور خطرناک رجحانات جنم لینے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصّوں میں کم عُمری ہی میں بچّوں کے تشدّد، خودکشی یا غیرمعمولی واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اس رجحان کو اس بات سے جوڑتے ہیں کہ جب انسان حقیقی انسانی تعلقات سے کٹ جائے، تو اس کے اندر احساسِ تنہائی اور بے معنویت بڑھنے لگتی ہے، جو بالآخر نفسیاتی بگاڑ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
ماضی کے خاندانی نظام میں اس کے برعکس ایک مکمل تربیتی ماحول موجود تھا۔ بزرگ ایک زندہ کتاب کی حیثیت رکھتے تھے، جو اپنی زندگی کے تجربات، اخلاقی اقدار اور دینی و تاریخی کہانیوں کے ذریعے نئی نسل کی ذہنی و اخلاقی تربیت کرتے۔ دادا ،دادی اور نانا، نانی کی محفلیں علم، محبّت اور تہذیب کی منتقلی کا ذریعہ ہوتی تھیں۔
بچّوں کو انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرتِ پاک، صحابہ کرامؓ کی حیاتِ طیبّہ اور اپنے اسلاف کی داستانیں سنائی جاتیں، جو اُن کے کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی تھیں، مگر افسوس آج کے ڈیجیٹل دَور میں یہ سب باتیں قصّۂ پارینہ ہوگئی ہیں۔ تاہم، اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا بے قابو اور غیر متوازن استعمال، اصل بحران کو جنم دے رہا ہے۔
جب خاندان کا اجتماعی نظام ٹوٹتا ہے، تو فرد تنہائی کا شکار ہوتا ہے، اور یہی تنہائی ذہنی دباؤ، بے سکونی اور معاشرتی بگاڑ کی بنیاد بنتی ہے۔ نتیجتاً نہ صرف انفرادی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرتی ڈھانچا بھی کم زور پڑنے لگتا ہے۔لہٰذا ضرورت اس امَر کی ہے کہ خاندانی نظام کو دوبارہ اس کی اصل رُوح کے ساتھ زندہ کیا جائے۔
سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا حل نہیں، بلکہ اسے اعتدال اور شعور کے ساتھ محدود رکھنا ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچّوں کے ساتھ وقت گزاریں، انہیں براہِ راست تربیت دیں، اور گھر کے اندر ایک ایسا ماحول قائم کریں، جہاں مکالمہ، محبّت اور رہنمائی موجود ہو۔ خاص طور پر کم عمر بچّوں کو غیر ضروری ڈیجیٹل مصروفیات سے دُور رکھ کر اُن کی اخلاقی اور ذہنی تربیت پر توجّہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خاندانوں کے عالمی یوم کےموقعے پر 2026ء کے موضوع ’’خاندان، عدم مساوات اور بچّوں کی بہبود‘‘کا بھی یہی تقاضا ہے کہ عصرِ حاضر کے بدلتے ہوئے حالات میں خاندان کے سربراہان کو درپیش چیلنجز کا ادراک کرتے ہوئے نسلوں کے درمیان ہم آہنگی، استحکام و مضبوطی کو فروغ دیا جائے کہ یہی وہ راستہ ہے، جو نہ صرف فرد کو ذہنی سکون فراہم کر سکتا ہے، بلکہ پورے معاشرے کو بھی توازن، استحکام اور فکری پختگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔