آج کل پوری قوم مئی2025ءمیںہونیوالے معرکہ ء حق کی پہلی سالگرہ منا رہی ہے۔ جس میں افواجِ پاکستان خصوصاً ہماری ایئر فورس نےخود سے سات گنا بڑی فوجی طاقت کو شکست فاش دی ۔ ایک ایسے وقت میں اس فوجی اور سیاسی کامیابی کا حصول ایک اچنبھے سے کم نہ تھا، جب غیر تو غیر اپنے بھی پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال سے دلبرداشتہ تھے ۔ پراجیکٹ عمران نے ملک کو دیوالیہ پن کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ اس پر پاکستانی تاریخ کی نفرت پر مبنی بدترین تقسیم دیکھنے میں آئی کہ جب جھوٹ اور اخلاقی گراوٹ اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھی جو پی ٹی آئی کی سیاست کا طرہءِ امتیاز بن چکی ہے ۔کسی سیاسی ویژن کے بغیر صرف مسائل کو اجاگر کر کے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنا آسان تو ہے لیکن وہ اس خوفناک کیفیت کو جنم دیتا ہےجسے فاشزم کہتے ہیں ۔جو بالآخر کسی بھی معاشرے کو خانہ جنگی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ جب پی ٹی آئی کے دوستوں سے پوچھا جاتا ہے خان کا بطور اپوزیشن اور بطورِ حکمران رہنما کوئی ایک کارنامہ بتا دیںتو وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عوام کو سیاسی شعور دیا ہے۔ اب انہیں کون بتائے کہ پاکستانی عوام کو سیاسی شعور تو اسی وقت مل گیا تھا جب قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سیاست دانوں کی کردار کشی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔جب 1956 کا دستور توڑ دیا گیا تھا۔
جب جنرل ایوب نے مختلف بہانوں سے ملک میں مارشل نافذ کر دیا تھا ۔جب 1971 میں دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کے نام پر ایسا اہتمام کیا گیا تھا کہ اقتدار عوامی نمائندوں کو منتقل نہ کیا جا سکے ۔ عوامی سیاسی شعور تو سقوطِ مشرقی پاکستان اور بقیہ پاکستان میں جناب بھٹو اور ان کی پارٹی پر دہائیوں تک ہونیوالے ظلم و ستم کے دوران بھی پیدا ہو چکا تھا۔ جس میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاسی لیڈر اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کو شہید کر دیا گیا تھا ۔شاید پی ٹی آئی کے دوستوںکے نزدیک سیاسی شعور کی تعریف کچھ اور ہے ۔بہرحال ایسی خوفناک صورتحال میں جب پاکستان ہر لحاظ سے اپنی کمزور ترین پوزیشن پر تھا اور پی ٹی آئی والےآئی ایم ایف سے احتجاج کر رہے تھے کہ وہ پاکستان کو مالی امداد نہ دےتاکہ وہ ڈیفالٹ ہو جائے۔ یوں لگتا تھا کہ وفاقِ پاکستان ایک گرتی ہوئی دیوار ہے جسے صرف ایک ہلکے سے دھکّے کی ضرورت ہے اور پاکستان کی اسی کمزوری کو دیکھتے ہوئے بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے نہایت متکبرانہ انداز میں پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ لیکن اس کمزور حالت کے باوجود پاکستان نے جس طاقت اور پھرتی سے اس حملے کا جواب دیا، اس نے پوری دنیا کو ورطہ ءِ حیرت میں ڈال دیا۔ بلاشبہ 10 مئی 2025 ءہمارے نئے قومی جنم کا دن ہے اگر بعد کے واقعات کو ملا کر دیکھا جائے تو تصویر اس سے بھی بھیانک تر دکھائی دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انڈیا کا پاکستان پر حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کا ایک پیشگی حصہ تھا تاکہ ایران پر حملے سے پہلے دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان کو خوفزدہ کر کے جھکایا جائے تاکہ ایران بھی خوف کا شکار ہو کر جلدی ہتھیار ڈال دے۔ اس کا ثبوت مودی کا اسرائیل کا وہ دورہ ہے جس میں اس نے اسرائیل سے اپنی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا۔ خوش قسمتی سے جو دشمن چاہتے تھے ویسا نہ ہو سکا۔
جس نے نہ صرف ایران کی اخلاقی پوزیشن کو مضبوط تر بنا دیا بلکہ امریکہ کو بھی ظاہری طور پر پاکستان کی فوجی طاقت کی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا اور وہ پاکستان کے ذریعے ثالثی کے دروازے کھولنے کی کوششیں کرنے لگا تاکہ وہ کسی طرح اس جنگ سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے۔ جس میں وہ ناکام ہو چکا ہے۔ معرکہءِ حق میں اس عظیم الشان کامیابی نے خطے اور عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہی نہیں کیا بلکہ بھارت کو بھی حاشیے پر دھکیل دیا جس پر وہ شدید مضطرب ہے ۔ پاکستان کی انتھک اور کامیاب سفارت کاری نے 50 سال کے بعد جہاں امریکہ اور ایران کو بات چیت کیلئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بٹھا دیا اور ان کے درمیان کسی امن معاہدے کے امکانات کو روشن تر کر دیا ہے وہیں ایران اور پاکستان کے تعلقات کو بھی بے یقینی کی اس گہری دھند سے باہر نکال دیا ہے جسکے وہ برسوں سے شکار تھے اور جس کی وجہ سے ایران کا واضح جھکاؤ بھارت کی طرف تھا۔ لیکن بھارت کے ایرانی ملاحوں پر امریکی حملے سے، جو بھارت میں بحری مشقوں کے بعد واپس آ رہے تھے، بھارت کے سرد ردِ عمل ،امام خامنہ ای کی شہادت پر بھارت کی خاموشی اور ایران کے خلاف اسرائیلی جاریت کی کھل کر حمایت نے، خطے میں بھارت اور ایران کے تعلقات کو بری طرح متاثر کر دیا ہے جسکے نتیجے میں پاکستان اور ایران نے ایک دوسرے کیلئے اپنے بارڈر کھول دیے ہیں جس سے نہ صرف گوادر بندرگاہ پہلے سے زیادہ فعال ہو گئی ہے بلکہ بلوچستان میں علیحدگی پسندی کو روکنے میں بھی کافی مدد ملنے کا امکان ہے۔ یہی نہیں پاکستان ایران پائپ لائن کا منصوبہ جو کافی عرصے سے اختلاف اور التوا کا شکار ہو چکا تھا۔ دوبارہ سے فعّال ہونے کی صورت میں پاکستان کیلئے توانائی کے مسئلے کو حل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ معرکہ ءِ حق کے ذریعے حاصل ہونے والی ان کامیابیوں کے مستقل حصو ل کیلئے ہمیں اس معرکہ ءِ حق سے آگے سوچنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بھارت جیسے ازلی دشمن کی موجودگی میں ہمیں ہر لحاظ سے ایک متحد قوم بننے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم معاشی محاذ پر بھی بھارت کے ہم پلّہ ہو سکیں۔ کیونکہ حقیقی طاقت مضبوط معیشت سے ملتی ہے جس کی شرطِ اوّل عوامی حمایت ہے جو صرف عوامی اتحاد اور سیاسی استحکام سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ ہمارے اربابِ اختیار کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں بشمول پی ٹی آئی کو واپس قومی ادارے میں لائیں اور ایسا مضبوط جمہوری بندوبست کریں کہ جمہوری ادارے مضبوط ہوں اور سیاسی نفرتیں دور ہو سکیں کہ اس کے بغیر کوئی کامیابی بھی مستقل کامیابی نہیں بن سکتی ۔آج کا شعر۔
کوئی ہے صلیب اپنی جو اٹھا کے جان آئے
سرِ بزم یہ تماشا بھی ہم ہی دکھا سکیں گے