• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محبت و انکسار کے یوسفِ لاثانی: یوسف رضا گیلانی

مُلتان، ملن کی تان سے بَھرا شہر ہے۔ ہمارا بس چلے تو ملتان کے تین نام رکھ چھوڑیں۔ درویش نگری، اولیاء آباد اورمحبّت پُور۔ یُوں تو یہ پُراسرار شہر اپنی گلی گلی میں حیرت کا سامان، کُوچے کُوچے میں تحیّر کا امکان اور گھر گھر میں کوئی انوکھا خاندان رکھتا ہے، لیکن ایک گھرانہ ایسا ہے کہ جس کی کہانی ملتان کی کہانی جیسی پُرانی بھی ہے، جانی پہچانی بھی۔ اور وہ ہے حیرانی بھرا گیلانی خاندان۔

اس خاندان کی رُوحانی لڑیاں اور کڑیاں سلسلہ در سلسلہ جا کر قادریہ سلسلے کے اوّلین بزرگ غوث الاعظم میراں محی الدین شیخ عبدالقادرجیلانی رحمہ اللہ علیہ سے ملتی ہیں۔ اِسی روحانی گھرانے میں مخدوم سیّد علم دار حُسَین گیلانی کے ہاں پیدا ہونے والے سیّد یوسف رضا گیلانی، سیّد غلام مُصطفٰے شاہ گیلانی کے پوتے اور پیر سیّد محمد صدرالدین شاہ گیلانی کے پڑپوتے ہیں۔

یوسف رضا نانا نانی کےگھرلارنس روڈ، کراچی میں پیدا ہوئے، تو نانا نےچاؤ سے نام میراں مُصطفٰے رکھا یعنی اپنا اور نومولود کے دادا کا نام یک جا کردیا، لیکن ہُوا یُوں کہ نومولود کی نانی کو اُسے پیار سے پکارتے ہوئے نانا کا نام لینے میں حیا آتی تھی۔ سو، اُنہوں نے پُرلطف حل یہ نکالا کہ بچّے کو یوسف کی حسِین و جمیل عُرفیت عطا کردی اور یہی بچّہ بڑا ہوکر مُلک کے کام یاب ترین سیاست دانوں میں سے ایک یعنی یوسف رضا گیلانی بنا۔

ملتان سے دھیان آیا کہ ہمیں سول سروس میں تئیس برس ہونے کو آئے اور مُلتان میں بھی سال بھر تعینات رہے۔ اُنہی دنوں اس شہرِ دل پذیر میں ایک نہایت وسیع حلقۂ احباب سے یوسف رضا گیلانی کا ذکرِ خَیر ہوتا رہا۔ صاحبو! عوام و خواص میں اِس نام کو یک ساں مُعتبر پایا۔ تعمیری ترقیاتی منصوبے تو اُن کی کام یابیوں کی فہرستِ طویل میں یقیناً ہیں ہی، لیکن ذاتی شخصی عزت و احترام کے حوالے سے ہم نے مُلتان بھر سے یہ جانا کہ یوسف رضا گیلانی کا ماتھا نہ تیوری کے لیے بنا ہے، نہ شکن کے لیے، لہٰذا مہمانوں اور مُلاقاتیوں کو اُن کے ماتھے پر محض محبت، کشادگی اور روشنی ہی نظر آتی ہے۔

اس حوالے سے کچھ دل چسپ واقعات آپ بھی سُن لیجے۔ مُرتضیٰ کھوکھر ہمارے چھوٹے بھائی اورملتان کے ہونہار نوجوان وکلاء کی فہرست میں اوّلین ہیں۔ اُن کا گھرانہ باپ، دادا کے دَور سے گیلانی خاندان کے ساتھ گہرا تعلق، علیک سلیک، دُعا سلام اور یادِ اللہ رکھتا ہے۔ اُن سے اور اُن کے والد سے ہماری اکثر ملاقاتیں رہتی تھیں۔ مُرتضٰی نے بتایا کہ اُن کے دادا ملک عُمرعلی کھوکھر کے ایک واقف دُنیا پور اسکول میں اُستاد تھے، جن کا تبادلہ علاقے کے بڑے زمین داروں نےزبردستی میاں چُنوں دریا کےکنارے ایک اسکول میں بطور سزا کروا دیا۔

ماسٹر صاحب ملک عُمر کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یوسف رضا کے والد سے کہہ کر میرا تبادلہ واپس کروا دیں۔ ملک صاحب نے کاغذ کی عدم دست یابی پر پاس پڑی ایک ماچس کی ڈبیا ہی پر سفارشی رُقعہ لکھ دیا اور حیرت انگیز بات ہے کہ یہی رُقعہ کام کروانے میں کام یاب رہا۔ ثابت یہ ہوا کہ وضع داری اِس خاندان کی عادت ہے۔ مُرتضٰی یوسف رضا گیلانی سے ملنے چیئرمین روم سینیٹ گئے تو چئیرمین سینیٹ کے ایک سیاسی مخالف بھی وہیں تشریف فرما تھے۔

مُرتضٰی نے انہیں اُن کے والد کا مذکورہ واقعہ یاد کروایا، تو یوسف رضا بولے کہ ’’بیٹا! مَیں ہر کسی کے کام آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ صاحب میری پارٹی کے نہیں ہیں، مگر میرے وزیرِاعظم بننے میں ان کا ووٹ شامل تھا۔ ان کا مجھ پر احسان ہے۔‘‘ اُسی ملاقات میں اُن کے کسی اسٹاف ممبر سے فون گر گیا، لیکن چیئرمین سینیٹ ہوتے ہوئے بھی یوسف رضا گیلانی کے ماتھے پر شکن تک نہیں آئی۔ یہ صبر و برداشت، حِلم اور بُردباری اب سیاست میں خال خال ہی ہے۔

ان کے قریبی کچھ احباب جیسا کہ معتمدِ خاص زُبیر شاہ، قریبی دوست نعیم خان، پرسنل سیکرٹری ضیغم اور خاکوانی صاحب اُن کی ایک عادت کے گواہ ہیں کہ یوسف رضا اسکول، کالج ہی کے دنوں سے مجلسی، محبّتی، یاروں کے یار اور محفل کے آدمی ہیں۔ بیٹھے تو ایک حُب دار حلقے کی صُورت، دوستوں کا حال احوال پوچھا، سائلوں کے کام نمٹائے، پنچایت کے فیصلے کیے، غرض کہ خُدا کی عطا کردہ توفیق سے خلقِ خدا میں آسانیاں، بھلائیاں اور بہتریاں بانٹیں۔

سب سے حیران کُن بات یہ ہے کہ اس عمل میں وہ موافق و مخالف، دوست دشمن اور اپنوں پرایوں کو یک ساں سمجھتے ہیں۔ طالبِ علمی ہی کے دَور میں یوسف رضا کی ایک بات ملتان میں بہت مشہور تھی۔ تب اُن کے والد بھی حیات تھے، یہ اپنے بھائی کے ساتھ تین گاڑیوں کا کارواں لیے لوگوں سے ملنے نکلتے تو مشہور تھا کہ تبھی واپس آتے، جب پیٹرول خاتمے کے نزدیک ہوتا۔ یعنی دُور دراز کے علاقوں میں بھی لوگوں کی مدد کو پہنچنے کی اُن کی عادت تب بھی مشہور تھی، آج بھی معروف ہے۔

آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں کہ ملتان شہر میں اگر کوئی ڈیویلپمنٹ ہوئی ہے، چاہے وہ ترقیاتی ہو یا تعمیراتی، گلی کُوچے ہوں، سِگنل فری شاہ راہیں، پُل یا انڈر پاسز، بازار، مارکیٹس ہوں یا اسکول، کالج، سب تعمیر و ترقی یوسف رضا گیلانی ہی کے دو ہزار آٹھ سے بارہ کے عرصے میں ہوئی۔ اور صاحب! اِس ترقی کے رنگ برنگ گُل بُوٹے صرف ملتان ہی میں نہیں، کافی باہر مضافات یعنی نواب پور، مظفّرگڑھ، وہاڑی اور آس پاس کے اضلاع میں بھی خُوب کِھلے۔

مشہور ہے کہ آپ بس ایک بار یوسف رضا کے پاس پہنچ جائیں، تو آپ چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، مزدور ہوں کہ مل مالک، کسان ہوں کہ کالج پروفیسر، عامی ہوں کہ ایم این اے، سفید پوش ہوں کہ سیٹھ، یوسف رضا آپ کو بھرپور عزت دیں گے، کام بھی کریں گے اور بوقتِ رخصت دروازے تک چھوڑنے بھی آئیں گے۔ اُنہی کے عزیز فیضان گیلانی کی زبانی ایک اور حیران کُن واقعہ سُن لیجے کہ یوسف رضا کے کزن تنویر گیلانی وفات پاگئے، تو حلقے سے کثیر تعداد میں لوگ اُن سے تعزیت کرنے گئے۔

اُنہی ملاقاتیوں میں چند لوگ ایسے بھی تھے کہ جو اس رسائی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بوقتِ تعزیت بھی کسی کام یا Favor کا کہنے سے باز نہیں آئے۔ بات نامناسب تھی، لیکن مجال ہے کہ یوسف رضا گیلانی کے چہرے پر شکن آئی ہو۔ اُنہوں نے وقتِ غم و اندوہ پر بھی اپنے گھر آئے مہمانوں کو ٹوکنا مناسب خیال نہیں کیا اور جس کا، جہاں، جتنا کام ممکن تھا، فوری کروایا۔

ہم چوں کہ شاعر بھی ہیں۔ سو، یونی ورسٹی، کالجز کے کھچا کھچ بھرے ہالز والے مشاعروں میں تواتر سے ہزاروں طلبہ سے براہِ راست آمنا سامنا رہتا ہے۔ مُلتان کی یونی ورسٹیز میں بھی یہی سلسلہ رہا۔ یقین کیجے کہ ان جامعات کی راہ داریاں ہوں کہ کالجز کے آڈیٹوریم، ہر مقام گیلانی گھرانے، خصوصاً یوسف رضا کی علم و تعلیم سے محبّت اور تعلیمی ادارے بنانے کی چاہت کا ثبوت ہے۔ ایک بارایک یونی ورسٹی میں ہال طلباء و طالبات سے اتنابھرا تھا کہ واقعی تِل دھرنےکو جگہ نہ تھی۔

ہم لڑکوں، لڑکیوں میں اپنی وائرل نظم ’’یونی ورسٹی‘‘ سُنا رہے تھے اور الحمدُللہ سامعین بےپناہ محبت کا اظہارکررہےتھے۔ واضح رہے، نظم میں یونی ورسٹی میں موجود مختلف من موہنے چہروں اور البیلی شخصیات پر مصرعے ہیں۔ سامعین ہر شخصیت کو پہچان کر تالیاں پیٹ رہے تھے۔ شریر طلباء و طالبات کا ذکر آیا، خُوب شور مچا۔ مُشفق و مہربان اساتذہ کا ذکر آیا، خُوب شور مچا۔ منتظمین کا ذکر آیا، خُوب شور مچا۔ یونی ورسٹی کے درودیوار کا ذکر آیا تو یقین کیجے کہ پورا ہال ایک نام کے نعروں سے گونج اُٹھا اور وہ نام تھا، یوسف رضا گیلانی۔

ہم حیران ہوئے کہ یاالہیٰ! یہ ماجرا کیا ہے؟ وہ تو ڈنر کےوقت ہیڈ ٹیبل پر اساتذہ و طلبہ اور شعرائے کرام نے ہمیں بتایا کہ مُلتان کے بیش تر تعلیمی اداروں کی طرح یہ یونی ورسٹی بھی یوسف رضا گیلانی کی محنت کا نتیجہ ہے سو، مُلتان کے باسی اُن سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے۔ ایک اور مزے کا قصّہ یاد آگیا۔ مُلتان کے مشہور بازار حُسَین آگاہی کے قریب ہی ایک شاعر دوست کے ہاں نشست میں کافی شعراء و شاعرات اور سول سروس کے ہمارے دوست یار جمع تھے۔ بات مُلتان کی سوغاتوں پر آن پہنچی تو ایک طرح دارسرائیکی شاعرہ فرمانےلگیں۔ ’’میڈا سائیں! ملتان دیاں ڈُو ای چیزاں پوری دنیا وِچ مشہور ہن۔ سوہن حلوا تے یوسف رضا گیلانی۔‘‘

سوہن حلوے کا ذکرآئے توہمارے میٹھےملتانی دوست شاکر حُسَین شاکر یاد آتے ہیں، جو کہ ملتان کا معتبر ادبی حوالہ ہیں۔ ہم ملتان میں تعینات ہوئے تو اُن کی مشہورِ زمانہ دکانِ کُتب و تحائف ملتان کینٹ میں ہمارے دفتر کے عین سامنےتھی، لہٰذا اکثر اُن سے ملاقات رہتی۔ موضوعاتِ سخن میں سے ایک، ملتان کے معتبر گھرانے اور اُن میں سرِفہرست گیلانی گھرانہ تھا۔ ایک بار ہم نے پوچھا کہ آپ کی تو سیّد یوسف رضا گیلانی سے متعدد ملاقاتیں ہیں، کچھ اندرکی بات بتائیے تو کہنے لگے۔ ’’حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی عہدہ یُوسف رضا کی شخصیت پر بھاری نہیں ہو سکا۔

اُن کی اپنی شخصیت ہمیشہ عہدوں پر حاوی رہی۔ چیئرمین ضلع کاؤنسل سے لے کر چیئرمین سینیٹ تک، اسپیکر قومی اسمبلی سے وزیراعظم پاکستان اور صدرِ پاکستان بننے تک مُلتان یا پاکستان بھر کا کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ فُلاں عہدے نے یُوسف رضا گیلانی کے مزاج میں فُلاں تبدیلی پیدا کردی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کےقول کی روشنی میں اختیار ملنے پر اصلیت ہی سامنے آتی ہے۔ یوسف رضا اپنی رُوح کی اصل ہی میں آئینے کی مانند صاف شفّاف، خلقِ خدا کے دردمند اور انسان دوست ہیں۔

وہ آج بھی پہلے دن کی طرح سادہ مزاج ہیں، اُن کی طبیعت میں عِجز ہے، رعونت نہیں۔ حِلم ہے،غرور نہیں۔ انکسار ہے، تکبر نہیں اوریہی عجزوانکسار اِنہیں سیّد یوسف رضا گیلانی بناتا ہے۔‘‘ یہاں ہم نے اُنہیں روک کر یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے کسی یادگار واقعے کا پوچھا تو کہنے لگے۔’’مجھے اچھی طرح یاد ہے، میرے بیٹے کی شادی کے دِنوں میں یوسف رضا اپوزیشن میں ہوتے تھے اور عین شادی کے دن اپوزیشن کا قومی سطح کا جلسہ ہورہا تھا۔

انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مَیں ولیمے پرپہنچوں گا۔ سو، مخدوم احمد محمود کےجہاز میں بہاول پور سے ملتان آئے، ملتان پہنچتے ہی مجھے فون کیا اور اپنی محبت چھلکاتی آواز میں بولے کہ ’’جب تک مَیں نہ آجاؤں آپ نے کھانا شروع نہیں کرنا۔‘‘ اصل میں یہ اُن کی محبّت کا ایک انداز تھا، کیوں کہ وہ چاہ رہے تھے کہ خُود پہنچ کر دولھا، دلہن کو دُعا و پیاردیں اورپھر ہم بیٹھ کراکٹھےکھانا کھائیں۔ ایسی شخصیت اور اس سطح کا محبت کا اظہار شاید ہی کوئی لیڈر کرسکے، کیوں کہ جس وقت اُنہوں نے یہ اظہار کیا، مَیں اُن کے حلقے کا ووٹر بھی نہیں تھا۔‘‘

ہم اسلام آباد میں تعینات ہوئے تو سینیٹر محترمہ روبینہ خالد سے تعارف کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چئیرپرسن، اَن تھک محنت کرنے والی اور ادب پرور شخصیت ہیں، جن کا میٹھا تذکرہ بانو قُدسیہ اپنی کتاب ’’راہِ رواں‘‘ میں بھی کرچُکی ہیں۔ اُن کا حُکم ہمیں موصول ہوا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی شہادت پر نظم چاہیے، جسے یوسف رضا گیلانی، چیئرمین سینیٹ کی صدارت و موجودگی میں ایک لائیو پروگرام میں ویڈیو کی صُورت دکھایا سُنایا جائے گا۔

ہم نے بی بی شہید کے لیے وہ نظم لکھ بھیجی۔ کچھ روز بعد معروف لکھاری و افسر قرات العین کی گواہی موصول ہوئی، جو کہ اُس پروگرام کی ناظمہ بھی تھیں۔ پتا چلا کہ نظم سُنتے وقت روبینہ خالد کی آنکھیں بھی اشکوں سے لب ریز تھیں اور یوسف رضا گیلانی بھی اشک بار تھے، جو اُن کے نرم دل اور رقیق القلب ہونے کے ساتھ ساتھ بی بی شہید سے عقیدت کی بھی دلیل ہے۔ نظم کچھ یُوں تھی۔ ؎

وہ صنفِ نازک میں استقامت کا استعارہ

ہر ایک طُوفاں کے سامنے پُرسکوں کنارہ

اندھیری راتوں میں ایک روشن سحَر کا تارہ

نہ آئے گا ویسا پیکرِ روشنی دوبارہ

وہ بے نظیر اور بے مثال اور باوفا تھی

وہ زحمتوں کے ہجوم میں رحمتِ خُدا تھی

وہ پھول ہو کر بھی عزم میں تھی چٹان جیسی

وہ شاخِ گُل تھی مگر تھی بالکل کمان جیسی

زمانۂ جبر میں تھی حق کے بیان جیسی

زمیں پہ موجود تھی مگر آسمان جیسی

تمام اہلِ وطن بھی اُس کے تھے اور وطن بھی

وہ ایک ماں بھی تھی، ایک بیٹی بھی تھی، بہن بھی

متانت و سادگی کا منبع جمال اُس کا

وہ دُخترِ مشرق اور عجب تھا کمال اُس کا

ہر ایک مُفلس سے رابطہ تھا بحال اُس کا

سو آج بھی ہے دِلوں میں روشن خیال اُس کا

درخشاں و ضوفشاں ابھی بھی عوام میں ہیں

وہ پانچ نُقطے جو اُس کے بے مثل نام میں ہیں

دیارِ ظُلمت میں اُس کے ہونے سے تھا اُجالا

وفا کے معیار پر تھی سب سے بلند و بالا

بہت گریزاں تھا اُس سے ہر ایک جبر والا

کِیا تھا اُس نے وطن سے ہر ظُلم کا ازالا

خُدا کرے دیس میں اب اُس کے اصُول مہکیں

ہمیشہ اُس کی لحَد پہ خوش رنگ پھول مہکیں

’’چاہِ یوسف سے صدا‘‘، یوسف رضا گیلانی کی سوانحِ حیات ہے، جس کی ابتدا احمد ندیم قاسمی کی نظم (زندگی کے جتنے دروازے ہیں، مجھ پر بند ہیں) سے ہوتی ہے اور اس نظم کا انتخاب موصوف کے ارفع شعری ذوق اور اعلیٰ انتخابِ سُخن کا مظہر ہے۔ اظہارِتشکّرمیں رقم یہ جُملے تو یقیناً یوسف رضا گیلانی کی زندگی کاخلاصہ ہیں۔ ’’حضرت مُوسٰی علیہ السلام سے کہا گیا تھا کہ فرعون سے بات نرمی سے کریں۔

اضطراب کا اظہار اپنی ناکامی اور باطل کی فتح تسلیم کرنے کے مُترادف ہے۔ سو، صعوبتوں کے سفر میں کبھی اضطراب کا اظہار نہیں ہوگا۔‘‘ اسی صبر وشُکر کا صلہ دیکھیے کہ ان کے چاروں صاحبزادگان میں سے تین ایم این اے اور ایک ایم پی اے ہیں۔ یعنی ماشااللہ پورا گھرانہ پارلیمان کا حصّہ ہے۔ 

عوام سے محبّت کے حوالے سے ایک اور حیرت انگیز واقعہ اُن کی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’میرے آبائی گھر پاک دروازے کے قریب ایک چھوٹی سی دُکان ہے، جس میں عرصۂ دراز سے تھومی نامی شخص نہایت لذیذ سری پائے پکاتا ہے اور دُور دراز سے لوگ اُس کا پکا ہوا کھانا لینے آتے ہیں، جو والد کو بھی بہت پسند تھا اور وہ اپنے دوستوں کو بھی یہ کھانا کھلاتے تھے۔ والد کی وفات پر تھومی نے بطور نیاز کھانا غریبوں کو تقسیم کرکے اُن سےعقیدت کا اظہار کیا۔‘‘ حیران ہُوں کہ آج کل بھی ایسے گھرانے اور ایسے افراد اس کُرۂ ارض پر موجود ہیں۔ صاحبو! دُنیا لمحہ بہ لمحہ تیزی سے بدل رہی ہے۔

اے آئی کے اس دور میں روایات دم توڑ رہی ہیں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ پاکستانی سیاست کی تاریخ میں جہاں جہاں محبّت، مروت، دھیمے پن، انکسار اور اخلاق کے الفاظ آئیں گے، وہاں وہاں ایک نام سرِفہرست ناموں میں شامل ہوگا۔ جی ہاں، پاکستان کے سولہویں اور سرائیکی بولنے والے پہلے اور ابھی تک کے واحد وزیرِاعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کا۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید