• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صاحبو ! آج ہم آپ کو سُنانے والے ہیں، ایک حیرت انگیز، تحیّر بھرے گھرانے کا قصّہ۔ نگاہ دوڑائیے کہ حیرانی آپ کی منتظر ہے۔ سلیمہ ہاشمی، منیزہ ہاشمی، شعیب ہاشمی، عدیل ہاشمی، میرا ہاشمی، ڈاکٹرعلی مدیح ہاشمی اور یاسر ہاشمی۔

ایک کیاری میں سارےہی پھول خوش نُما، ایک لڑی میں سب ہی نگینے آب دار، ایک گھرانے میں سب فسانے ہی یادگار۔ کیا یہ اس گھرانے پر فیض کا فیض ہے کہ اس بلڈ لائن میں علم و ہُنر کے چشمے کبھی خُشک نہیں ہوتے؟ سوچنے کی بات ہے۔ دیکھیے، بات سے بات نکلتی ہے۔ بات کو کون روک سکا ہے۔ کیوں کہ بات نکلے گی، تو پھر دُور تلک جائے گی۔ فی الحال اِسی کیاری کا ایک خُوش نما پھول ہمارا موضوعِ سُخن ہے اور اُس گُلِ صد رنگ کا نام ہے، سلیمہ ہاشمی۔

سلیمہ سے میری پہلی ملاقات محض یادگار ہی نہیں، یادگار ترین تھی۔ قصّہ مقامی نہیں، بین البراعظمی ہے۔ سو، آپ بھاپ اُڑاتی کافی کا چھلکتا کپ تھام لیجے، ہوسکے تو آٹھ سات دانے مونگ پھلی بھی طشتری میں دھر لیجے کہ کافی کے ساتھ پھانکیے گا اور اس شہرِ فسانہ کی گلیوں میں جھانکیے گا کہ عُنوان جس کا سلیمہ ہاشمی ہیں اور راوی جس کا رحمان فارس۔ ہُوا کچھ یُوں کہ ہم شہرِ پری زاد یعنی واشنگٹن ڈی سی کے ایک عالی شان کُتب فروش ’’بارنس اینڈ نوبیل‘‘ کے ہاں گھوم جھوم رہے تھے کہ شوکیس میں سجی ڈھیروں کتابوں میں سے کسی نے ہمیں چُپکے چُپکے آواز دی۔

ہم ٹھہرے سدا کے متجسّس۔ ٹھٹک گئے، غور کرنے پر علم ہوا کہ پکارنے والی محترمہ تمام کتابوں میں سب سے چُنّی مُنّی والی ہیں، خالق اُن کے نوبیل انعام یافتہ ہسپانوی شاعر پابلو نرُودا ہیں اور نام ان کا Cien Sonnetos De Amor ہے۔ ارے صاحب! مت پوچھیے کہ کیا ہُوا۔ دل میں ہُوک کُوک اُٹھی کہ اس کتاب کو ترجمہ کرنا ہے۔ خیر قصّہ مختصر، مذکورہ کتاب کو سینے سے لگا کر پاکستان لَوٹے بلکہ واپسی کی پرواز ہی میں پانچ نظموں کا ترجمہ کر ڈالا۔

اگلے پچاس دن میں سَو سانیٹس کا منظوم ترجمہ مکمل کیا اور ’’محبت کی سَو نظمیں‘‘ کا فلیپ لکھوانے اُس شخصیت کے پاس جا پہنچے کہ جو شہرۂ آفاق مصورہ بھی ہیں، بےمثال معلمہ بھی۔ جنہوں نے فیض احمد فیض کی سب سے بڑی بیٹی ہونے کے اعزاز ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس گھنے چھتنار برگد تلے اپنے برگ و بار الگ نکالے۔ ماڈل ٹاؤن میں واقع اُس گھرتک پہنچے کہ جس کے آس پاس ’’رہگزر، سائے، شجر، منزل و در، حلقۂ بام‘‘ فیض کی خوشبو سے معطّر تھے۔

جہاں طوفاں بہ دل ہے ہر کوئی دل دار، دیکھنا! قدم قدم دیدہ و دل کے لیے نشاط کا سامان تھا۔ کہیں مصوری کے فن پارے، کہیں مجسمہ سازی کے شہکار، کہیں قدیم مخطوطے اور نادر کُتب، کہیں نایاب پھول پودے، کہیں انوکھی نرالی روشنیوں کا اہتمام۔ یہ کونا پُرانے گراموفون پر سہگل کے سُر بکھیر رہا ہے تو اُدھر وہ کُنجِ عافیت کسی دل آویز حسینہ کی مانند رنگ و نُور میں نہائے بیٹھی ہے۔ ابھی ہم ڈرائینگ روم کی ہمہ رنگی میں کھوئے تھے کہ ان رنگوں میں سے بہترین رنگ یعنی مصورہ خود داخل ہوئیں۔

سلیمہ کی شخصیت میں فطرتِ سلیمہ بھی عیاں ہے، ذوقِ سلیم بھی۔ ابّا ہی کی طرح بولتی سہج سہج ہیں۔ ویسے ابا سے وراثت میں غلافی پلکوں والی بڑی بڑی آنکھوں کے علاوہ دلآویز مسکراہٹ بھی لی ہے۔ ہم سُکڑے سمٹے بیٹھے تھے کہ اُن کی آمد سے یک لخت لگا، جیسے آٹھ سات چاند باجماعت دمک اُٹھے ہوں اور اُن کی امامت سلیمہ کررہی ہوں۔ ہم مزید با ادب بیٹھ گئے کہ ’’کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے‘‘۔ روشنی زیادہ ہوئی تو دیواروں پر لگے مصوری کے شہکار زیادہ بہتر دکھائی دینے لگے۔

وہ بامِ مینا سے مہتاب کی طرح اُتریں اور وہ بھی یُوں کہ ہماری ہر رگِ خوں میں چراغاں ہونے لگا۔ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہم فون پر عاجزانہ تعارف کروا چُکے تھے۔ سو، فیض سے بات شروع ہوئی اور سلیمہ سے ہوتی ہوئی فیض ہی پر ختم ہوئی۔ اجی ختم بھی کہاں ہوئی۔ سلیمہ بھی فیض ہی کا پرتَو ہیں کہ ’’اِک ہتھیلی پہ حنا، ایک ہتھیلی پہ لہو۔‘‘ فرمانے لگیں۔ ’’کچھ سُناؤ۔‘‘، حُکم حاکم پر ہم نےایک دو وہ نظمیں پیش کیں، جو خالصتاً فیض ہی کے رنگ ڈھنگ اور امنگ ترنگ میں کہی تھیں۔ سلیمہ نے اپنی دل آویز مسکراہٹ بھری داد دی۔ ہم نے ذکر کیا کہ پابلو نرودا کی نظموں کا منظوم ترجمہ کیا ہے اور مسوّدہ لے کرحاضر ہوئے ہیں۔ پابلو کے ذکر پر خُوب چہک اُٹھیں۔

کہنے لگیں کہ ’’بہت کم عُمری میں مَیں ’’سُوچی‘‘ گئی، جب فیض صاحب پاکستان سے اور نرُودا چلی سے اُٹھ کر سوویت یونین میں اکٹھے تھے۔ شام کے وقت غروبِ آفتاب سے لمحہ دو لمحہ بعد ساحلِ سمندر پر آرام دہ کرسیاں بچھا کر ابّا اور نرُودا انکل Shorts پہنے بیٹھتے، مشروبِ مغرب کے ساتھ ساحل کی لہروں کو تکتے، چاند کی باتیں ہوتیں، ایک دوسرے کو تازہ نظمیں سُنائی جاتیں۔

فیض چاند کی ملگجی روشنی اور شام کے گہرے سایوں کے درمیان مقامِ لامکاں پر پہنچ کر جب اپنے میٹھے آہنگ اور سکون آور آواز میں سُناتے کہ ’’مِرے دل، مِرے مسافر، ہُوا پھر سےحُکم صادر، کہ وطن بدرہوں ہم تم، دیں گلی گلی صدائیں، کریں رُخ نگر نگر کا، کہ سراغ کوئی پائیں، کسی یارِ نامہ بر کا، ہر اِک اجنبی سے پوچھیں، جو پتا تھا اپنے گھر کا، سرِ کوئے ناشنایاں، ہمیں دن سے رات کرنا، کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا-‘‘ تو نرودا کی آنکھوں میں چاند کی دمک اور سمندر بھر کی نمی اکٹھی ہوجاتی۔ نرودا اپنی دل نواز شریکِ حیات میٹیلڈا پر کہی نظم سُناتے تو فیض کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر جاتی۔ عالمی ادب کا فسانہ چِھڑتا۔‘‘

ہم مبہوت بیٹھے تھے۔ سلیمہ نے یادوں کی پٹاری یُوں کھولی کہ ہم نہال ہوکر رہ گئے۔ ہم نے مسوّدہ یہ کہہ کر اُن کے حوالے کیا کہ ’’سپُردم بتو مایۂ خویش را- تُو دانی حسابِ کم و بیش را‘‘ اور سلیمہ کے ساتھ یادگار تصاویر بنوا کر اجازت چاہی۔ اگلے ہی روز سلیمہ ہاشمی کی جانب سےہماری کتاب پروہ دل نواز اور حوصلہ افزا تحریر موصول ہوئی کہ جو ہم جیسے کج مُج بیان اور مُبتدی شاعر کے لیے بلاشبہ ایک سند ہے کہ فیض احمد فیض کی Bloodline کی گواہی ہے، جو معتبر بھی ہے، مُستند بھی، محترم بھی ہے اور مقدّم بھی۔

فلیپ حرف بہ حرف لکھے دیتے ہیں (تاکہ قارئین سمیت ہماری بیگم کوبھی خبر ہو)۔ ’’سترہ سال کی تھی، جب اپنے والد کے ہم راہ سابقہ سوویت یونین کے شہر سُوچی میں سمندر کے کنارے پابلو نرودا اور ان کی بیگم میٹیلڈا سے ملاقات ہوئی۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کتنے بڑے شاعر ہیں، لیکن جب دونوں شاعروں کو روز سمندر کے کنارے محوِ گفتگو دیکھا تو اندازہ لگایا کہ دونوں کے لیے یہ ملاقات اہم ہے۔

میٹیلڈا سمندر کی لہروں کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی اور مَیں بھی۔ رحمان فارس نے اُن اہم دنوں کی یاد کچھ ایسے دِلائی کہ نرودا کے Love Sonnets ایک بار پھر دل ودماغ پر چھا گئے۔ انہوں نے جب ترجمہ یُوں کیا کہ ؎

عُمر بھر تھک کے کیا ہے مِرے سازِ دل نے

مستقل نرم پڑاؤ تِری یادوں کے تلے

توخیال آیا کہ ترجمے کے ذریعے اگر میٹیلڈا کی محبّت کی خوشبو دُور دُور تک پھیل جائے تو کتنی مناسب بات ہوگی۔ فیض نے ایک مرتبہ اپنے بارے میں لکھا تھا۔ ’’اپنی صلاحیتِ ہُنر تو بہت محدود ہے۔ اور بہت سے لوگ مجھ سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

بات صرف محنت اورعرق ریزی کی ہے۔‘‘ تو یہ رحمان فارس نے بخوبی کی ہے۔‘‘ اب آپ خُود انصاف سے بتائیے کہ سلیمہ ہاشمی کی من موہنی شخصیت سے ملاقات اور ایسی دل آویز حوصلہ افزائی کے بعد ہماری جانب سے اُن پر ایک نظم بنتی تھی یا نہیں؟ یقیناً بنتی تھی سو، ہم نے کہی۔ آپ بھی پڑھ لیجے۔ عنوان تھا۔ ’’فیض کی بیٹی سے ملاقات‘‘۔ ؎

تِری رگوں میں رواں ہے وہی لہو جس نے

جنُوں پہ نظمیں تراشیں، وفا پہ شعر کہے

دمک رہی ہے اُسی دردِ دل سے تُو، جس نے

قفس میں بھی غمِ خلقِ خُدا پہ شعر کہے

اُسی جمال سے روشن ہیں تیرے خال و خد

کہ جس نے لاکھوں کروڑوں دِلوں پہ راج کیا

اُسی جلال سے کُندن ہیں تیرے قامت و قد

کہ جس نے دیکھا جہاں ظلم، احتجاج کیا

کبھی اسیر ہُوا گر وہ حُسنِ جاناں کا

تو ہنس کے عارض و لب پر کہی لطیف غزل

جہاں ستم نظر آیا امیرِ دوراں کا

گرج کے توڑ دیے ظلم کے بلند محل

وہ امتزاجِ جمال و جلال آج کہاں

کہ ویسا نکتہ ورِ عشق و غیض کوئی نہیں

دیارِ حرف و صدا اب وہ شہر ہے کہ جہاں

سخن تراش بہت سے ہیں، فیض کوئی نہیں

صاحبو! ’’فیض امن میلہ‘‘ ایک ایسی بہار ہے، جو ہر ماہِ فروری کے دوران چمکتی دمکتی تو لاہور کے اُفق پر ہے، لیکن اس کے رنگ و خوشبو دُنیا بھرمیں پھیل جاتے ہیں۔ حالیہ میلے میں ناچیز کو شاعرِ دل نواز اور افسرِ اعلیٰ محترم حامد عتیق سرور کی کتاب ’’خاکِ پریشاں‘‘ کی تقریبِ رُونمائی کی نظامت کی ذمّے داری سونپی گئی۔

تقریب میں جہاں نسائی لہجے کی پہچان شاعرہ حمیدہ شاہین اور انوکھے نظم نگار حارث خلیق اظہارِ خیال کرنے والوں میں شامل تھے، وہیں سامعین کی صفوں میں ایف بی آر کے موجودہ ممبر آپریشنز اور اعلیٰ ادبی ذوق کے حامل زبیر بلال سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔ ہم بھاگم دوڑ میں الحمرا آرٹس کونسل پہنچے تو سامنے ایک ہی جیسی رنگت اور تراش خراش کے لباس میں ملبوس سلیمہ ہاشمی اور منیزہ ہاشمی دکھائی دیں۔

ہم نے قریب جاکے عرض کیا کہ جُڑواں بہنیں لگ رہی ہیں، جس پر دونوں مُسکرائیں۔ میلےکےدنوں میں دونوں کی مصروفیت دیدنی ہوتی ہے۔ دیدنی سے یاد آیا۔ این سی اے کے ایک مشاعرے کے بعد ہمیں وہیں کی ایک چُلبلی طالبہ نے (جو خُود بھی بہترین مصورہ ہیں) بتایا کہ این سی اے کی راہ داریاں آج بھی سلیمہ ہاشمی کی راہ دیکھتی ہیں، برآمدوں سے اُنہی کی یادیں برآمد ہوتی ہیں، فرش اُنہی کے لیے دیدہ و دل فرشِ راہ کیے بیٹھا ہے اور دروازے اُنہی کے لَوٹ آنے کی آس میں نیم وا ہیں۔ طلبہ بتاتے ہیں کہ میڈم سلیمہ ہاشمی کے یہاں ہوتے ہوئے این سی اے کے رنگ زیادہ رنگیں، خوشبوئیں زیادہ معطر اور سُر زیادہ سُریلے ہوتے تھے۔

انہی طلبہ میں سے ایک نہایت قابلِ ذکر طالبِ علم یعنی بہترین اداکار و صداکار، ہمارے درویش منش نُور الحسن بھائی سے سلیمہ کے بارے میں ہم نے گفتگو کی تو کہنے لگے کہ ’’مَیں نے تو اپنی زندگی میں جو سب سے حسین اور باوقار ترین خواتین دیکھی ہیں، اُن میں سرِفہرست سلیمہ ہاشمی ہیں۔ اور ہاں، مجھے یہ بھی کہنے دیجے کہ دو اتنے حسین لوگوں کا جوڑا بھی چشمِ فلک نےکم ہی دیکھا ہوگا کہ نیلی آنکھوں والے شعیب ہاشمی بھی ہیں اور سلیمہ ہاشمی بھی۔

جیسے دستِ قدرت نے خُوب چھان پھٹک کے، تراش خراش کے، کاٹ چھانٹ کے خصوصاً ایک دوسرے کے لیے ہی بنائے ہوں۔ اور اگلی بات شاید ہمارے بہت سے قارئین کے علم میں نہ ہو کہ سلیمہ ہاشمی کی مصوّری کے تمام فن پاروں اور شہہ پاروں کے لکڑی کے فریم شُعیب ہاشمی نے خُود اپنے ہاتھوں سے سینت سینت کر، سنبھال سنبھال کر، دیکھ ریکھ کر بنائے تھے۔

تیسری بات یہ کہ جس صبر، جس خوش دلی اور جس محبّت کے ساتھ سلیمہ ہاشمی نے شعیب کے ہارٹ اسٹروک کے بعد اُن کا خیال رکھا، وہ بھی محبّت کی ایک بےمثل مثال تھا۔ وہ خُود تو یہ بات آپ کو شاید کبھی نہ بتائیں، لیکن گھر کے درودیوار ضرور بتائیں گے کہ کیسے شُعیب کو پھولوں کی طرح رکھا گیا۔ اور ہاں، یہ دونوں لوگ صحیح معنوں میں اساتذہ ہیں کہ خُدا نے پیدا ہی اُستاد کیے تھے۔ پنیریاں، بُوٹے لگانے کے لیے، اُن کو پانی دے کر پالنے پوسنے، اُن پر پھل پھول، برگ و بار لانے اور اُن کی باغ بانی کے لیے۔‘‘

ہمیں کہنے دیجے کہ سلیمہ کا نام فن کی دنیا میں چراغِ راہ بن کر روشن ہوا۔ سلیمہ محض ایک مصوّرہ نہیں بلکہ تخلیق، شعور اور حسنِ احساس کی جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ وہ ایک ایسی رہنما رُوح ہیں، جنہوں نے فن لوگوں کو صرف سکھایا نہیں بلکہ اسے جیا، سنوارا اور نئی نسلوں کے دِلوں میں محبّت کی طرح بسا دیا۔

لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونی ورسٹی میں’’مریم داؤد اسکول آف ویژول آرٹس اینڈ ڈیزائن‘‘ کی بنیاد رکھنے کا معرکہ ہو یا نیشنل کالج آف آرٹس میں تین دہائیوں تک رہبرِ روشن بننے کا، اُن کا وجود پاکستانی معاشرے کے لیے ایسے ہی ہے، جیسے کسی باغ میں مسلسل بہار۔

کبھی استاد، کبھی رہنما اورکبھی ایک مُشفق و مہربان سایہ۔ اُن کی مصوری میں رنگ صرف رنگ نہیں، جذبات کی ایک ایسی الگ تھلگ زبان ہیں کہ جو محض اہلِ دل سمجھ پاتے ہیں۔ یہ زبان سرحدوں سے ماورا، دنیا بھر میں محسوس کی گئی، کیوں کہ یہ آفاقی اور عالم گیری ہے۔ سلیمہ کی تحریریں مثلاً ’’ان ویلنگ دی وِزیبل‘‘ ایسے شفّاف آئینے ہیں، جن میں پاکستانی فن کار خواتین کی سچّی سُچّی رُوح اور جدوجہد کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔

سلیمہ نے اپنی مصوّری کی نمائشوں کو بھی محض تقریبات نہیں رکھا بلکہ وراثت سے عطا شُدہ حسِ جمالیات کے طُفیل انہیں احساسات کی نرالی کہانیاں بنا دیا۔ آپ خُود دیکھیے، نیویارک سے دہلی اور مُلتان سے میلان تک قریہ قریہ، نگر نگر اُن کی تخلیقی چھاپ ایسے سہج سہج محسوس ہوتی ہے، جیسے کسی دل نواز محبوب کی یاد۔ روہتاس گیلری کی بنیاد رکھ کر سلیمہ نے فن کو ایک ایسا گھر دیا، جہاں سدا رونق ہےاور روہتاس 2 کے ذریعے اُسی فن کو ایک نئی زندگی بخشی۔

اُن کی خدمات کے اعتراف میں ملنے والے اعزازات، پرائیڈ آف پرفارمینس سےلے کر عالمی اعزازات تک، دراصل اُسی رنگ و نُورکے چُنّے مُنّے عکس ہیں، جو وہ دنیا میں پھیلاتی رہی ہیں۔ پروفیسر سلیمہ ہاشمی آج بھی فن کی دنیا میں ایک زندہ روایت ہیں۔

ایک ایسی کہانی جو ختم نہیں ہوتی، بلکہ ہر نئے دل میں دوبارہ لکھی جاتی ہے۔ اُس داستانِ محبت کی مانند کہ جو ہر بار پڑھنے پر نئی لگتی ہے اور ازل سے ابد تک ہمیشہ موجود و میسّر رہتی ہے۔ نُسخہ ہائے وفا کے دیباچے میں رقم کردہ حافظ کے شعر میں جو محبّت ہے، وہ سراپا سلیمہ ہاشمی کی شخصیت کی تفسیر ہے۔ ؎

خلل پذیر بود ہر بنا کہ می بینی

بجُز بِنائے محبّت کہ خالی از خلل است

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں۔)

سنڈے میگزین سے مزید