یہ ایک اہم سوال ہے کہ آخر مسلم دنیا ہر عالمی تنازعے میں کیوں موجود ہوتی ہے، کبھی کوئی مُلک براہِ راست، تو کبھی اُس کی پراکسیز۔ اِس صُورتِ حال سے کئی مسلم ممالک کے عوام سخت مایوس ہیں وہ سوچتے ہیں کہ اپنا مُلک چھوڑ کر کہیں اور بھاگ جائیں۔اُنھیں یہ بھی شکوہ ہے کہ اُن کے حکم ران باہمی مشاورت سے اُن کی خوش حالی کا کوئی حل نہیں نکالتے۔
ہر بیان اگلے پانچ سالہ منصوبے کی نوید دیتا ہے، تاہم پانچ سال بعد مزید پیچھے چلے جاتے ہیں۔ عوام یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ کیا عروج کا خواب کبھی حقیقت بھی بن پائے گا۔ عروج کا مطلب دنیا کو مفتوح کرنا نہیں، بلکہ اُس کے برابر کھڑا ہونا ہے، جیسے ماضی میں مسلم سلطنتیں، غیر مسلم سلطنتوں کے ساتھ رہیں۔ کیا عثمانی خلافت اور یورپی سلطنتیں ایک دوسرے کی دوست نہیں تھیں یا مغل سلطنت، چین کی اچھی ہم سایہ نہیں رہی؟
یوکرین اور غزہ کی جنگیں ہی کیا کم تھیں کہ ایران پر بھی جنگ مسلّط کردی گئی، جس کے عالمی اقتصادی صُورتِ حال پر گہرے منفی اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔ مسلم ممالک جو پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار تھے، مزید دباؤ میں آگئے۔ تیل کی ترسیل میں رکاوٹ اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتیں بھی بڑا مسئلہ ہیں، لیکن اِس جنگ سے جغرافیائی مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ جنگ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان ہے، آبنائے ہرمز ایران اور امریکا نے بند کی، لیکن اصل ضرب اُن عرب ممالک پر پڑی، جو مسلم دنیا کے خوش حال ترین ممالک ہیں اور دوسرے پس ماندہ مسلم ممالک کی مدد بھی کرتے ہیں۔
اِن عرب ممالک سے حاصل ہونے والا زرِ مبادلہ کئی مسلم ممالک کی لڑکھڑاتی معیشتوں کو سہارا دیتا ہے۔ نہ ایران میں اور نہ ہی امریکا میں اِتنے مسلمان تارکینِ وطن ہیں، جتنے اِن عرب ممالک میں برسرِ روزگار ہیں۔ عام طور پر اِس’’لائف لائن‘‘ کا ذکر ہی نہیں ہوتا۔ پاکستان سمیت کئی ممالک اِن عرب ریاستوں ہی کی وجہ سے دیوالیہ ہونے سے بچے۔
جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش سے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقا کے مسلم ممالک میں اقتصادی بحران نے جنم لیا، جس کے اثرات برسوں محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ ہمارے اہلِ دانش اور تجزیہ کار تو بس امریکا کی بربادی کا رونا روتے رہتے ہیں اور اُس کی تباہی کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں، مگر سمجھ سے بالاتر ہے کہ اِس سے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے ہمیں کیا ملا، حالاں کہ ہم افغان جنگ کا اہم حصّہ تھے۔ ہمارے حصّے میں تو لاکھوں مہاجرین، معاشرتی مسائل، کلاشن کوف کلچر، ہیروئن، اسمگلنگ، قبائلی عصبیت اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی ہی آئی۔
ماضی کی حکومتیں غلط اندازوں پر مبنی جذباتی فیصلے نہ کرتیں، تو آج مُلک و قوم اِس اذیّت میں نہ ہوتے۔ ایک نسل کا بویا، تین نسلیں کاٹ رہی ہیں۔ جنگ، سفارت اور سیاست میں کیا سچ، کیا جھوٹ ہے، یہ تو پردہ اُٹھنے کے بعد ہی پتا چلے گا، لیکن اِس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایران کی معیشت غیر معمولی دبائو میں ہے، کرنسی گراوٹ کی انتہا کو چُھو گئی ہے، لیکن پھر بھی بہت سے تجزیہ کار’’سب اچھا ہے‘‘ بتاتے ہیں، حالاں کہ 9کروڑ ایرانی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
جنگِ عظیم دوم، دنیا کی حالیہ تاریخ کی سب سے تباہ کُن جنگ تھی، جس میں تقریباً سات کروڑ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ کئی ممالک مکمل طور پر تباہ اور اکثر کی معیشتیں بیٹھ گئیں۔ برطانیہ جیسا سُپر پاور سُکڑ کر جزیرہ بن گیا۔ تاہم، اِس جنگ کے بعد ایک عالمی اتفاقِ رائے ہوا کہ ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا جائے، جس میں تنازعات بات چیت کے ذریعے طے ہوں اور کسی مُلک پر مستقل قبضہ نہ کیا جاسکے۔
اِس عالمی اتفاقِ رائے سے چھوٹے، بڑے ممالک میں ترقّی کی رفتار تیز ہوئی۔ یہ اقدامات جس عالمی نظام کے تحت کیے گئے، اُس میں اقوامِ متحدہ سب سے نمایاں تھی اور اُسی کے ذریعے بین الاقوامی تعاون، جوہری ہتھیاروں پر پابندی اور عالمی معاشی نظام کی تعمیر ہوئی۔ عالمی مالیاتی ادارے اور بینکس اِس ترقّی کی بنیاد بنے۔ روس اور چین جیسے کمونسٹ ممالک بھی ترقّی کے لیے اِس نظام کا حصّہ بن کر کُھلی مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ یہ بڑے ممالک اُسی اتفاقِ رائے کے پابند رہے ہیں، وگرنہ اِن سب کے پاس ایٹم بم تھے اور تنازعات میں کیا کچھ نہیں کرسکتے تھے۔
اِسی لیے عراق، افغانستان، وسط ایشیائی ریاستیں اور مشرقِ وسطی کے ممالک آزاد ہیں۔ حملوں اور جنگوں کے باوجود کسی مُلک نے قبضہ کرکے اِنہیں اپنا باقاعدہ حصّہ نہیں بنایا۔ سرد جنگ، گرم جنگ میں تبدیل ہوئی، سوویت یونین بکھر گئی، لیکن ایٹم بم دھرے کے دھرے رہے، کسی نے اِن کے استعمال کا سوچا تک نہیں۔ پہلے زمانے میں چنگیز خان، ہلاکو اور تیمور انسانی کھوپڑیوں کے مینار اور شہر کے شہر نذرِ آتش کردیا کرتے تھے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کو تو دو ماہ ہی گزرے ہیں، جب کہ ماضی کے فاتحین کے نزدیک برسوں محاصرہ کر کے دشمن کو بھوکا مارنا جنگی حکمتِ عملی کہلاتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر نے اسٹالن گراڈ کا سالوں محاصرہ کیا، وہ تو بھلا ہو برف باری اور سردی کا، جس نے اِس بڑی تعداد میں جرمن فوجی ہلاک کیے کہ ہٹلر کو مجبوراً محاذِ جنگ چھوڑنا پڑا۔ حالیہ شامی خانہ جنگی میں اسد افواج نے اپنے شہریوں کو حلب میں ایک سال تک محصور کیے رکھا اور شہری زندہ رہنے کے لیے درختوں کی جڑیں کھاتے رہے۔ اِس قدر اسباق اور اقدامات کے باوجود بھی جنگیں جاری ہیں۔
کشمیر، فلسطین، ایران، یوکرین سامنے کی بات ہے۔ پھر یمن، سوڈان، لیبیا، نائیجیریا اور افریقا کے بہت سے ممالک میں جاری خانہ جنگیاں ہیں، جن سے بدترین انسانی المیے جنم لے رہے ہیں۔ میانمار ہی کو دیکھ لیجیے کہ وہاں روہنگیا مسلمان کس مشکل سے گزر رہے ہیں۔ شام کی گیارہ سالہ جنگ میں ساڑھے پانچ لاکھ مسلم شہری ہلاک اور ایک کروڑ بے گھر ہوئے، جہاں ایران سے لے کر روس تک، اور تمام علاقائی طاقتوں، ملیشیاز نے اپنا اپنا کھیل کھیلا۔
یوکرین، روس جنگ میں ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ہوچُکی ہیں۔ یمن میں پانچ لاکھ، غزہ میں اَسّی ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ ایران اور لبنان میں بھی خاصی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اِن ممالک میں شہر کھنڈر بن گئے اور انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا۔ ایران، عراق دس سالہ جنگ میں ایک ملین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اِسی طرح بوسنیا میں مسلمانوں کا قتلِ عام بھی عوام کو یاد ہوگا۔
یہ سب امن کی شان دار اور دل پذیر باتوں کے باوجود جاری رہا۔ ہوتا یہ ہے کہ کسی جنگ یا قتلِ عام کا میڈیا پر خُوب ذکر رہتا ہے۔ وار روم وغیرہ بنتے ہیں، عوام کو خبروں سے آگاہ رکھا جاتا ہے، ہر طرف اُس جنگ کے چرچے ہوتے ہیں، مگر جنگ ختم ہوتے ہی سب کچھ بُھلا دیا جاتا ہے اور کسی نئی جنگ یا خانہ جنگی کے تذکرے ہونے لگتے ہیں۔ یعنی نیا محاذ اور نئی کہانیاں۔ اِس ضمن میں عوامی رویّے بھی دل چسپ صُورتِ حال کی عکّاسی کرتے ہیں۔
جس مُلک کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں، اُس کے سفارت خانے تک پر دھاوا بول دیتے ہیں، اُسی کے سامنے ویزے کے لیے قطار میں بھی لگے ہوتے ہیں۔ ایک کروڑ سے زیادہ پاکستانی، دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہیں اور اِسی طرح دس لاکھ ایرانی صرف امریکا میں رہتے ہیں۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ آزادی کے وقت مختلف ممالک کو جو تنازعات وَرثے میں ملے، اُن ممالک کے حکم رانوں نے وہ مسائل حل کرنے کی بجائے، اُنہیں اپنے مفادات کے حصول، عوامی جذبات بھڑکانے اور اپنے اقتدار کو طوالت دینے کے لیے استعمال کیا۔
سوال یہی ہے کہ مسلم دنیا ہی اِن تنازعات کی لپیٹ میں کیوں ہے؟ اِس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں ماضی میں جھانکنا ہوگا۔ مراکش سے انڈونیشیا تک پھیلی مسلم دنیا میں بہت سے علاقائی تنازعات موجود ہیں، جن میں سے بیش تر وہ ہیں، جو استعماری ممالک یہاں سے جاتے ہوئے چھوڑ گئے تھے۔ ایسا لگتا ہے، برطانیہ اور فرانس وغیرہ کو اِن ممالک کی آزادی میں کچھ زیادہ ہی جلدی تھی، جس کی وجہ سے وہ تنازعات حل کیے بغیر ہی چلتے بنے۔
یہ قابض ممالک عالمی جنگ کے بعد مزید کسی ایڈوینچر کے متحمّل نہیں ہوسکتے تھے، اِس لیے نئے ممالک کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ پھر یہ بھی کہ اِن استعماری ممالک کو حُکم رانی میں تو دل چسپی تھی، تاہم مفتوح اقوام کی تعمیرِ نو مقصود نہیں تھی۔ جن خطّوں کو اِن نوآبادیاتی حُکم رانوں نے لکیریں کھینچ کر مُلک بنایا، اُن میں کلچر، زبان اور مذہب کے توازن کا خیال نہیں رکھا گیا۔ غلامی کے دَور میں تو یہ طبقات متحد رہے، مگر آزاد ہوتے ہی بکھرنے لگے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جو ممالک وجود میں آئے، وہ پہلے بڑی اسلامی سلطنتوں کے صوبے تھے اور ان میں مختلف مذاہب، کلچر اور فرقوں کے پیروکار رہتے تھے۔ صوبے میں برتر طاقت کے زیرِ اثر تو یہ بہت حد تک متحد رہے، لیکن آزادی کے بعد وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ’’ قومی ریاست‘‘ میں ضم ہونے کا یورپی نظریہ کیا ہے، یوں ہر گروہ الگ مُلک بننے کا خواہاں ہوا، جس سے اندرونی کش مکش بڑھی۔
اِس ضمن میں ہندوستان کی مثال بھی لی جاسکتی ہے، جہاں مسلمانوں کی سات سو سالہ حُکم رانی اور بعدازاں انگریزوں کی حکومت کے دَوران آبادی کے بڑے گروہ کچھ استثنات کے ساتھ، مِل جُل کر رہتے چلے آ رہے تھے، مگر جب دوسری عالمی جنگ کے بعد آزادی کی فضا بنی، تو مسلمان اور ہندو الگ الگ ہوگئے۔
بعد میں پاکستان دولخت ہوا اور بنگلا قوم پرستی غالب رہی۔ اِسی پس منظر میں کشمیر کا مسئلہ آج تک حل طلب ہے۔ باوجودیکہ کہ دونوں ممالک کے عوام اور حُکم ران جانتے ہیں کہ اِن کی دوستی پورے خطّے کے معاشی مسائل حل کرنے میں اہم ہے، لیکن پھر بھی ایک دوسرے کے قریب نہیں آ پا رہے۔ فلسطین میں اسرائیل کا زبردستی قیام بھی اِسی نوعیت کے تنازعات میں شامل ہے۔
مسلم دنیا میں شامل ممالک کی تعداد تو پچاس سے زیادہ ہے، لیکن ان میں تعلیم، ٹیکنالوجی، گڈ گورنینس اور جمہوریت کا فقدان ہے۔ پھر یہ کہ اِن ممالک میں آمریتوں نے بھی شدید مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ پس ماندگی، غربت اور بُری حُکم رانی، عوام کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرتی ہے اور مسلم دنیا میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔
پھر مذہب کو بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں القاعدہ، ٹی ٹی پی، داعش اور ایرانی پراکسیز وغیرہ وجود میں آئیں، جنہیں کئی حُکم ران اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، جب کہ یہ بین الاقوامی طاقتوں کی آلۂ کار بھی بنتی ہیں۔ اِن چند لاکھ انتہا پسندوں کی وجہ سے پوری مسلم دنیا کو معذرت خواہانہ انداز اپنانا پڑتا ہے۔ تعلیم، بہتر حُکم رانی، جمہوریت اور احساسِ کم تری سے نکلنا ہی مسائل کا حل ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ مسلم دنیا مختلف تہذیب و ثقافت کا مجموعہ ہے۔ اِسے زبردستی کسی نظریے سے ہم آہنگ نہیں کیا جاسکتا اور اِس طرح کی کوششیں مزید مسائل جنم دیتی ہیں۔ آخر پہلے بھی تو یہ مسلمان اپنی علاقائی شناخت کے ذریعے مسلم دنیا سے جُڑے ہوئے تھے۔
بظاہر ایک خطّے کے تنازعات، دوسرے خطّے کے لیے غیر اہم ہوتے ہیں، لیکن اِن اثرات سے محفوظ رہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مسلمان ممالک ایک دوسرے سے برسرِ پیکار رہتے ہیں، جس سے اُن کی ہوا اکھڑ جاتی ہے اور بڑی قوّتوں کو مداخلت کا موقع مل جاتا ہے۔ شام، یمن، لیبیا، عراق وغیرہ کی مثالیں سامنے ہیں۔
عرب، ایران کنفلکٹ تو ابھی کل کی بات ہے، جس کا مظاہرہ حالیہ جنگ میں بھی دیکھا گیا۔ ایران نے امریکی مفادات پر حملوں کے نام پر آبنائے ہرمز بند کی، جہاں سے عرب ممالک کا تیل گزرتا ہے۔ اِسی طرح عرب ممالک یو اے ای، سعودی عرب، قطر، اومان اور کویت پر ڈرون اور میزائل برسائے۔
یہ بڑی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان، عرب اور ایران کا دوست ہونے کے باوجود ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے نہ روک سکا اور نہ ہی عرب ممالک پر ایرانی میزائل حملے رکوا سکا، جب کہ امریکا نے، جسے پاکستانی عوام اپنا دشمن قرار دیتے ہیں، پاکستان کو عالمی ثالث جیسا محترم، اعلیٰ سفارتی مقام دیا اور صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی بہت سے باتیں بھی مانیں۔
مثال کے طور پر اُنھوں نے ایرانی جہاز کا گرفتار عملہ پاکستان کے حوالے کیا۔ سیز فائر کی مدّت میں توسیع بھی پاکستان کے کہنے پر ہوئی۔ بہرکیف، قصّہ مختصر، اگر مسلم ممالک ترقّی کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں، تو اُنہیں فی الحال سب کچھ بھول بھال کر امن قائم کرنا ہوگا۔ اب یہ امن چین کے ذریعے ہو یا روس اور امریکا کے ذریعے، اِس سے غرض نہیں ہونی چاہیے۔
کیا2015ء میں ایران نے امریکا، روس، چین، برطانیہ اور یورپ سے نیوکلیئر ڈیل نہیں کی تھی، جس پر تہران میں رات بھر جشن منایا گیا۔ تو اب ایسا کیا ہے کہ یہ عمل دُہرایا نہیں جاسکتا۔ جہاں امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ ہر مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہوتا، وہیں ایران کو بھی ماضی کی طرف پلٹ کر کوئی درمیانی راہ نکالنی ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ کی ترقّی کو دوبارہ فعال کرنا ضروری ہے، کیوں کہ وہاں کی معاشی سُست روی سے باقی مسلم ممالک بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ باقی ترقّی یافتہ دنیا کا غم چھوڑیں، وہ خُود اپنے معاملات سے نمٹ لے گی۔