’’پتھرکا دَور اِس لیے ختم نہیں ہوا تھا کہ دنیا میں پتھر ختم ہوگئے تھے، اِسی طرح تیل کا دَور بھی اِس لیے ختم نہیں ہوگا کہ تیل ختم ہو رہا ہے۔‘‘ یہ الفاظ شیخ یمنی کے ہیں، جو سعودی عرب کے عالمی شہرت یافتہ وزیرِ تیل تھے۔ اُنہی کے مشورے پر شاہ فیصل نے 1974 ء کی عرب، اسرائیل جنگ کے بعد’’آئل امبارگو‘‘ کی حکمتِ عملی اپنائی، جس نے مغربی اور عالمی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
کیمپ ڈیوڈ سے لے کر اب تک مشرقِ وسطیٰ اس کے اثرات سے گزرتا رہا ہے۔ تیل پر پابندی سے دنیا کو پہلی مرتبہ’’تیل کی سیاست‘‘ کا ادراک ہوا۔ ترقّی یافتہ ممالک کے پیٹرول پمپز پر لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ بعدازاں، دنیا میں تیل کے متبادل ذرائع وجود میں آنے لگے، جن میں ایٹمی بجلی گھر، سولر انرجی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے جیسے ذرایع شامل ہیں۔
آج سولر سسٹم پاکستان میں جگہ جگہ نظر آتا ہے، تو الیکٹرک گاڑیوں کے اشتہارات بھی عام ہیں۔ جاپان جیسے ایٹم بم مخالف مُلک میں دنیا کے سب سے زیادہ ایٹمی پاور پلانٹس بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ جرمنی کی بھی یہی صُورتِ حال ہے۔ جاپان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ ہر ماہ ایک سو ایٹم بم بنا سکتا ہے، مگر نہیں بناتا۔
گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات نے خلیج تعاون کاؤنسل کے اجلاس کے موقعے پر اوپیک(Organization of the Petroleum Exporting Countries)چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ امارت کا کہنا ہے کہ دنیا میں تیل کی بڑھتی طلب کو اِس فیصلے سے دُور کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ اوپیک گروپ کے لیے ایک بڑے صدمے سے کم نہیں، یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے بریگزٹ نے یورپی یونین کو ہلا دیا تھا۔
یو اے ای کا یہ بھی کہنا ہے کہ اوپیک کی بندشوں سے آزاد ہونے کے بعد وہ تیل کی کُھلی مارکیٹ میں بہتر کردار ادا کرسکے گا۔ واضح رہے، عرب امارات کے پاس اوپیک کے کُل تیل کا پندرہ فی صد ہے اور اس سے محرومی کے اثرات، تنظیم سمیت دنیا کو برداشت کرنے پڑیں گے۔ کچھ تجزیہ کار اِسے ایران جنگ کے اثرات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
جنگ کے اثرات تو ہیں، تاہم صرف اتِنے کہ یو اے ای کو جو فیصلہ بعد میں کرنا تھا، وہ جنگ کے دوران ہی کردیا۔ یہ امریکی صدر ٹرمپ کی، جو بنیادی طور پر ایک تاجر ہیں، ایک بڑی فتح ہے، جو اوپیک سے مسلسل مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ وہ تیل کی پیداوار بڑھائے اور قیمتیں کم کرے، کیوں کہ اُن کے مطابق بڑھتی قیمتوں سے دنیا کی معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے تیل کا بِل ادا کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکا، یو اے ای تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا، جب کہ اوپیک تنظیم کے باقی ارکان پر اس کے منفی اثرات مرتّب ہوں گے، کیوں کہ اب اس کے مقابل ایک ایسا مُلک آگیا ہے، جس کا تعلق اسی خطّے سے ہے۔
اوپیک، تیل پیدا کرنے والے ممالک کی ایک عالمی تنظیم ہے، جس میں زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک شامل ہیں۔ اس کے بانی ممالک سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور وینزویلا ہیں۔ تقریباً 66 برس قبل1960 ء میں اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔ جب کہ اوپیک پلس ایک بڑا اتحاد ہے، جس میں12 اوپیک ممالک کے ساتھ،11 دیگر ممالک، جیسے روس، میکسیکو، قازقستان، آذربائیجان، انڈونیشیا اور انگولا وغیرہ بھی شامل ہیں۔
اِس طرح اوپیک اور اوپیک پلس کی ایک عرصے سے تیل کی قیمتوں اور سپلائی پر اجارہ داری ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کی صُورت اِسی تیل کے راستے پر رکاوٹیں کھڑی کرکے دنیا میں توانائی کی قیمتوں میں ہلچل مچا رکھی ہے کہ اِس راستے دنیا کا بیس فی صد تیل گزرتا ہے۔ اوپیک کے وجود میں آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جن عالمی کمپنیز نے خلیج اور ایران میں تیل نکالا تھا، 1958ء تک اُن کی اجارہ داری قائم تھی، یہ مغربی ممالک اور روس سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ کمپنیز اِن ممالک پر دبائو ڈال کر اپنے حق میں فیصلے کرواتیں اور منافع بٹورتیں، تاہم تیل کی صنعت قومیانے کے بعد یہ مناپلی اوپیک کی شکل میں علاقے کے ممالک نے حاصل کر لی۔ یہ علاقہ تو تیل کی آمدنی سے گل وگلزار ہوتا گیا، جب کہ دوسرے ممالک توانائی کے لیے اوپیک کے محتاج رہے۔
امریکا ایک عرصے تک اکیلا اِتنا تیل استعمال کرتا رہا، جتنا ساری دنیا مِل کر کرتی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب سب سے زیادہ تیل پیدا کرتا ہے اور اُس کے بعد متحدہ عرب امارت کے پاس سب سے زیادہ تیل کے محفوظ ذخائر ہیں، جو وہ کبھی بھی منڈی میں لاسکتا ہے، بلکہ لانا چاہتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، تیل سپلائی بڑھا کر قیمتوں میں کمی لانے میں وہ دوسرا اہم مُلک ہے۔ یاد رہے، عرب امارات سے قبل قطر، انڈونیشیا اور انگولا بھی اوپیک چھوڑ چُکے ہیں۔
اوپیک ایک تو عالمی قیمتیں طے کرتی ہے، تو دوسری طرف تیل سپلائی کو بھی منظّم رکھتی ہے۔ اوپیک میں ہر رُکن مُلک کا کوٹا مخصوص ہے، اِسی لیے ان کی تیل آمدنی بھی ایک حد میں رہتی ہے۔ یواے ای نے اپنی پیداواری پوزیشن کو اِس کوٹے کے مطابق درست نہیں سمجھا اور یوں اکیلے ہی تیل کی مارکیٹ میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے قرضوں کی واپسی پر کافی باتیں ہو رہی ہیں، تاہم یو اے ای کے اوپیک سے متعلق فیصلے کے پس منظر میں اُس کی فوری ضروریات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ہر مُلک کی اپنی ضرورتیں ہوتی ہیں اور ہر کوئی اپنے عوام ہی کو ترجیح دیتا ہے۔ ہماری طرح نہیں کہ دوسروں کے تنازعات میں ٹانگ اَڑانے کو اوّلیت، جب کہ اپنے مفادات اور عوام کی ضروریات کو ثانوی مقام پر رکھتے ہیں۔ عموماً یہ اُمّہ، اتحاد اور دوسرے ناموں پر ہوتا ہے، جسے جذباتی عوام خُوب خریدتے ہیں، لیکن جب منہگائی کا طوفان آتا ہے، تب خیال آتا ہے کہ کاش، یہ کرلیتے، وہ کرلیتے۔ افغان جنگوں کے قصّے ہمارے سامنے ہیں، لیکن سبق پھر بھی نہیں لیا۔ اپنا مُلک ویران، دوسروں کی فتح کے جشن، ہمارا منشور بس یہی ہے۔
ویسے اب تیل کی صُورتِ حال یک سَر بدل چُکی ہے کہ امریکا، سعودی عرب اور روس کو ملا کر بھی اُن سے زیادہ تیل پیدا کرتا ہے۔ اِسی لیے اوباما کے زمانے سے امریکا کا علانیہ مؤقف رہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا سے جنوب مشرقی ایشیا جارہا ہے، جسے وہ’’انڈو پیسیفک‘‘ کہتا ہے۔ وہی اس کا اصل’’ زون آف انفلوینس‘‘ بھی ہے کہ وہیں چین کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ اِس ضمن میں افغانستان اور عراق سے واپسی پہلا قدم تھا۔
جوبائیڈن کے دورِ حکومت میں امریکا کی نظر میں پاکستان کی کم اہمیت کی بھی یہی وجہ تھی کہ اُس کی علاقے میں کوئی دل چسپی نہیں رہی تھی، جب کہ امریکا کے بھارت سے قریبی تعلقات کا پس منظر یہی انڈو پیسیفک پالیسی ہے۔ چین نے یہ خلا پُر کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کروائے، جب کہ خود بھی عرب ممالک اور ایران سے مزید قریب ہوا۔ ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی، جس کا محور اس کی پراکسی ملیشاز تھیں، اِسی لیے فعال ہوئی کہ امریکا وہاں سے جا رہا تھا۔
تاہم، امریکا اور شاید مشرقِ وسطیٰ کو بھی کسی دوسرے پولیس مین کی بالادستی قبول نہیں تھی اور خطّے میں گزشتہ پندرہ سالوں کے تنازعات کی ایک بڑی وجہ بھی یہی کھینچ تان رہی۔ اوپیک کی اصل اہمیت تیل اور رُکن ممالک کا جغرافیائی محلِ وقوع ہے۔ حالیہ جنگ میں ایرانی حملوں سے سب سے زیادہ نقصان یو اے ای میں ہوا اور جب آبنائے ہرمز بند ہوئی، تو یو اے ای نے سمجھا کہ یہ اوپیک کو خیرباد کہنے کا ایک اچھا موقع ہے اور اس نے فوری فیصلہ بھی کرلیا۔ یو اے ای کے اوپیک کی جانب سے تیل سپلائی کی حد مقرّر کرنے پر شدید اختلافات تھے۔
عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوچُکے ہیں اور حالیہ جنگ میں ایران نے اسرائیل کے بعد سب سے زیادہ میزائل اور ڈرون اسی پر پھینکے، جس کا نشانہ تیل تنصیبات کے ساتھ، سِول آبادی بھی بنی۔ ایران کے اِس غیردانش مندانہ اقدام کی کچھ جذباتی لوگ تعریف کرتے رہے، میڈیا میں دبئی پر حملوں کو ایران کی فوجی صلاحیت کی مضبوطی بتایا گیا۔ ماہر ستارہ شناسوں کی طرح دُبئی کا بیڑہ غرق ہونے کی پیش گوئیاں کی گئیں، جب کہ اِن’’ماہرین‘‘ نے یہ نہیں دیکھا کہ اِس اقدام سے خود ایران کو کتنا نقصان ہوا۔
مسلم اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔ نیز، علاقے اور دنیا کا ایران پر بھروسا نہ ہونے کے برابر رہ گیا۔ متحدہ امارات اب کُھلی مارکیٹ میں اپنا تیل اپنی مرضی سے فروخت کرے گا اور وہ بھی اپنی قیمت پر۔ جو بھی ہو، اِس معاملے میں اوپیک ممالک کی ہار اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت ہوئی ہے۔ اُن کا مارکیٹ میں زیادہ تیل لانے اور قیمتیں کم کرنے کا مطالبہ پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ اگلے سال 50ڈالر فی بیرل پر آجائے گا۔
مارکیٹ میں اِسی طرح مقابلے ہوتے ہیں۔ یہ عشق کی بازی ہے اور نہ ہی آگ کا دریا کہ ڈوب کے جانا ہو، یہ تو عقل اور مارکیٹ کیلکولیشن کا معاملہ ہے۔ چین اِسے شروع سے استعمال کر رہا ہے اور آج دوسری بڑی عالمی طاقت بن چُکا ہے۔ روس کبھی شام، تو کبھی یوکرین میں اُلجھا ہوا ہے۔ گیس، تیل، گندم کے ساتھ دنیا کے سب سے زیادہ ایٹم بم رکھنے باوجود، امریکا اور چین کے سامنے جُھکنے پر مجبور ہے۔ چین نے اس کا سستا تیل خرید کر اس کی اکانومی کو سہارا دیا اور ساتھ ہی اس کی اقتصادی قوّت خرید لی۔ عالمی سیاست کا سبق صدیوں سے ایک ہی ہے کہ ہر وقت جنگ کا نہیں ہوتا۔ وقفہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ طاقت منظّم اور یک جا کی جاسکے۔
غور طلب امر یہ ہے کہ کیا خودمختاری اور بقا کے نام پر تیل یا اس کی گزرگاہوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا مناسب فیصلہ ہے اور کیا بین الاقوامی میری ٹائم قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔ 1958 ء میں مصر کے انقلابی لیڈر، جمال ناصر نے سوئز کینال بند کی، لیکن1967 ء میں اسرائیل نے یہ حربہ ایک گھنٹے میں ناکام بنادیا اور سوئز کینال کُھل گئی، جب کہ ساتھ ہی یروشلم، گولان کی پہاڑیاں، غزہ، شرم شیخ اور غربِ اردن عربوں کی مشترکہ کمان سے نکل گئے۔
تیل کی قیمتیں جب چڑھتی ہیں، تو تیل پیدا کرنے والوں کی چاندی ہوجاتی ہے، جیسے اوباما دَور میں 120ڈالر فی بیرل تیل مل رہا تھا، لیکن جب قیمتیں گرتی ہیں، جیسے بعدازاں34 ڈالر پر آگیا تھا، تو اِن ممالک کو سوچنا پڑتا ہے کہ تیل پر مستقل انحصار مشکلات لارہا ہے۔ روس کچھ عرصہ قبل دیوالیہ ہوتے ہوتے بچا، جب کہ آج ایران کی معیشت ناگفتہ حالت میں ہے۔ توانائی کے متبادل ذرایع تیل کی صنعت کے لیے بڑا چیلنج بن چُکے ہیں۔
سولر نے گھریلو صارفین کو آزاد کرنا شروع کردیا ہے۔ گزشتہ سال چین اِتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیاں مارکیٹ میں لایا کہ ایک ملین بیرل سے زیادہ تیل کم استعمال ہوا اور اب یہ تعداد بڑھتی جائے گی، جب ایسی گاڑیاں ماس پروڈکشن کی وجہ سے سَستی ہوتی جائیں گی۔ سعودی عرب جیسے آئل پروڈیوسر تک نے اپنی اکانومی تیل سے دوسری سمت منتقل کرنی شروع کردی ہے۔ شہزادہ محمّد بن سلمان کا ویژن2030 اِسی سوچ کی عکّاسی کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات کو یہ برتری حاصل ہے کہ اُس کے پاس تیل کے علاوہ بھی آمدنی کے ذرائع ہیں، جیسے دبئی کا بین الاقوامی فنانشل کیپیٹل۔ جنگ نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی، لیکن یہ عارضی ہے۔ تاہم، یو اے ای، ایران کے اِس طرزِ عمل کو مشکل سے بھولے گا اور مشرقِ وسطیٰ کے پڑوسیوں کا جو باہمی اعتماد ٹوٹا ہے، اسے جوڑنا مشکل ہوگا۔ ایرانی صدر اس پر معذرت کرتے رہے، لیکن ایرانی حکومت کے سخت عناصر نے اُن کی کوشش ناکام بنادی۔
چین نے سعودیہ، ایران سفارتی تعلقات قائم کروا کے اسرائیل کا راستہ روکا، حالاں کہ چین اور اسرائیل کے قریبی تعلقات ہیں، لیکن ایران کی بقا کے نام پر عرب ممالک پر حملوں نے گہرے زخم لگائے ہیں اور اب وہ پھر اسرائیل کے قریب ہوں گے۔ مسلم دنیا سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مُلک سے اپنی بات طاقت سے منوائی جائے۔ پاکستان کے لیے یہ صُورتِ حال اچھا شگون نہیں۔ یو اے ای نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا۔ ’’دبئی چلو‘‘ ایک عرصے سے ہماری خوش حالی کا استعارہ رہا ہے۔ آج بھی دبئی میں ملازمت حاصل کرنے والوں کو لوگ حسرت سے دیکھتے ہیں۔
ہمارے تاجروں کا دُبئی نہ صرف دوسرا گھر ہے، بلکہ اُنھیں جو سہولتیں وہاں دی گئیں، وہ کم ہی کہیں ملیں۔ متحدہ عرب امارات کے حُکم رانوں نے ہمیشہ پاکستانوں کو بھائیوں کی طرح سمجھا۔ سات لاکھ پاکستانی وہاں ملازمت کرتے ہیں اور اربوں روپے پاکستان بھجواتے ہیں۔ دیوالیہ ہونے کے وقت یو اے ای نے پاکستان کی گرتی اکانومی کو اربوں ڈالرز اور اپنے اثر و رسوخ سے سنبھالا۔ یہ کہنے میں معمولی بات لگتی ہے، لیکن ذرا دوستوں اور مسلم ممالک کی فہرست نکالیں اور دیکھیں کہ کِن دو، چار ممالک نے ہماری ایسی مدد کی۔
ایران ہمارا دوست اور پڑوسی مُلک ہے، تاہم وہاں کی حکومت چابہار پورٹ، جو ہماری گوادر پورٹ کی متبادل ہے، بھارت سے بنواتی ہے، بلکہ اُسے چلانے کے لیے پچیس سالہ پٹے پر بھی دیتی ہے۔ نیز، وہ بھارت کو سستا تیل بھی فراہم کرتی ہے۔ ہم نہ لوگوں کی قدرو قیمت پہچانتے ہیں، نہ ممالک کی، بس ایک خود ساختہ پیمانہ بنالیتے ہیں، جس سے اپنے عوام اور مُلکی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دنیا میں کوئی مُلک نہیں چاہتا کہ کوئی دوسرا مُلک اُس سے زیادہ طاقت وَر بن جائے، لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا جائے اور مشترکہ مفادات کے تحت فوائد اُٹھائے جائیں۔ یو اے ای کے اوپیک سے نکلنے کو عرب دنیا میں دراڑ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ پاکستان اگر ان ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی ہم آہنگی پیدا کرسکتا ہے، تو اِسے فوراً آگے بڑھنا چاہیے۔