• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں اخبارات بڑے غور سے پڑھتا ہوں، اگرچہ کالموں پر زیادہ توجہ نہیں دیتا۔ بھلا ہو ہمارے ایک کرم فرما دانشور کا کہ انہوں نے اپنے کالم میں پاسبان کا ذکر کیا۔ہماری جماعت کی پالیسی جواب در جواب کے سلسلے جاری رکھنے کی نہیں۔ تاہم چونکہ یہ بات پاسبان کی بنیاد اور تاریخ سے متعلق تھی، اسلیے وضاحت ضروری محسوس ہوئی۔ یوں سمجھئے ،صرف تاریخ کی درستی مقصودہے،جواب نہیں۔ہمارے محترم دانشورنے اپنے 14 مئی کے کالم ’’مزاحمت اور اسٹیٹس کو‘‘ میں ابتدا حضرت عیسیٰؑ سے کی، لیکن اختتام پاسبان پر آ کر کیا۔ وہ لکھتے ہیں:"پاسبان،کی جب جماعت اسلامی سے علیحدگی ہوئی تو سوال اٹھا کہ ایک تنظیم کھڑی ہو گئی ہے، اب اس کا کیا کیا جائے؟ ہم جانتے ہیں کہ قاضی حسین احمد کی قیادت میں قائم ہونیوالے پاکستان اسلامک فرنٹ پاسبان ہی ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھےکہ"ظالمو! قاضی آ رہا ہے"۔ راولپنڈی کا معروف آسیہ ایوب کیس پاسبان کی ملک گیر شہرت کا باعث بنا۔جب فرنٹ کی صف لپیٹ دی گئی اور جماعت اسلامی نے پاسبان کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا تو ان نوجوانوں کو اپنے مستقبل کی فکر لاحق ہوئی۔ میں اس مشاورتی مجلس میں شریک تھا جس میں اسکے مستقبل کا سوال اٹھا۔ ملک کے ایک معروف کالم نگارو دانشور"پاسبان" کے فکری رہنما تھے۔ انہوں نے"پاسبان" کیلئے مستقبل کا لائحۂ عمل تجویز کیا۔ انکی ایک تجویز یہ تھی کہ"پاسبان" کو ایک باقاعدہ سیاسی جماعت بنا دیا جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ" یہ سودا ذہن سے نکال دو کہ تم ظلم ختم کرنے کیلئے اُٹھے ہو، تم دراصل نئے ظالم پیدا کرنے کیلئے نکلے ہو۔" یہ تاریخی عمل کا نچوڑ ہے کہ ظلم کیخلاف اٹھنے والی مزاحمت خود ظلم کی قوت میں بدل جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ میں اس کا کوئی استثنا بھی ہے؟میرا خیال ہے کہ دو طرح کے استثنا موجود ہیں۔ ایک یہ کہ عوام اور قیادت کا اخلاقی معیار بہت بلند ہو جائے، اقتدار میں بھی انکا اخلاقی شعور اتنا تربیت یافتہ ہو کہ زمین زبانِ حال سے پکار اٹھے"سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے، شاہی نہیں"۔ میں نے صرف پاسبان سے متعلق پیراگراف نقل کیا ہے۔ محترم دانشور! ہم بھی اسی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے جس دانشور کا ذکر ’’فکری رہنما‘‘ کے طور پر کیا، یہ بات بالکل غلط ہے۔ پاسبان کے فکری رہنما پروفیسر خورشید، خرم مراد اور قاضی حسین احمد تھے۔اس محفل میں وہ دانشور بطور مہمان لائے گئے تھے، اور جو کچھ انہوں نے فرمایا اور آپ نے نقل کیا، ان دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ دانشور کہہ رہے تھے:"نوجوان ایسی قوت ہیں کہ پورا نظام الٹ سکتے ہیں۔ یہ نظام سڑ چکا ہے، اسکی بدبو معاشرے کو متعفن کر رہی ہے۔ آپ اس سے بغاوت کر دیں، اس کیخلاف خلاف طوفان کھڑا کر دیں۔ خواہ اس کیلئے جھوٹ ہی کیوں نہ بولنا پڑے۔ اتنے جھوٹ بولو کہ نظام دھڑام سے گر جائے۔ اس کے قوانین ماننے سے انکار کر دو۔ بھاٹی اور لوہاری پر ٹریفک قوانین کی پابندی کرنے والا بیوقوف اپنی جگہ کھڑا رہ جائیگا۔ آپکے پاس ایک بہت بڑا سچ ہے، اور اس بڑے سچ کی خاطر سو جھوٹ بھی بولنے پڑیں تو بول دو۔"انہوں نے کہیں بھی پارٹی بنانے کی بات نہیں کی۔ جونہی انکی تقریر ختم ہوئی مظفر اعجاز کھڑے ہوگئے اور انہوں نے سوال کیا:"آپ پاسبان کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ مانا کہ پاسبان کے پاس بہت بڑا سچ ہے، لیکن جب وہ سو جھوٹ بولنے والے خدا کی قسمیں کھا کھا کر بھاٹی چوک پر الٹے لٹک کر بھی کہیں گے کہ اب میں سچ بول رہا ہوں، تو لوگ ہمیں جھوٹا کہہ کر جوتے ماریں گے۔ جناب! اس سے کہیں زیادہ گندے معاشرے میں ہمارے پیارے رسول ﷺ سب سے بڑا سچ لے کر آئے تھے۔ انکی زندگی نے انہیں صادق و امین بنایا تھا۔ آپ ہمیں سچا بنانے کے بجائے جھوٹا بنانا چاہتے ہیں؟"یہ سننا تھا کہ دانشور صاحب بول اٹھے: "درانی!یہ تمہارے منہ چڑھے لوگ تمہیں آگے نہیں بڑھنے دئینگے۔" یہ کہہ کر وہ اٹھے اور بولے: "میں یہاں نہیں بیٹھ سکتا۔"انکے جانے کے بعد محمد علی درانی نے وضاحت کی کہ "ہمارے دوست ہیں، محبت میں آ گئے تھے، ویسے شام بھی ہو چکی تھی، شاید ہوش میں بھی نہیں تھے۔" اس پر جملہ کسا گیا: "بھائی! آئندہ ہوشمندوں کو بلایا کریں۔"تو بھائی، ایسے دانشور ایسی ہی باتیں کر سکتے ہیں۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ظلم کے خلاف اٹھنے والی پاسبان خود ظالم بن گئی، تو یہ حقیقت کے بالکل برعکس ہے۔ شاید بدمعاشوں کو انجام تک پہنچانا بعض لوگوں کو ظلم لگتا ہو۔صرف آسیہ ایوب کیس ہی نہیں، کراچی میں ابراہیم نامی مظلوم ماہی گیر کے خاندان کو انصاف دلانے کیلئے ایس ایچ او راؤ انوار کو اسی کے تھانے میں لاک اپ کروایا گیا تھا۔ اسکے علاوہ بھی درجنوں لوگوں کو انصاف دلایا گیا۔ہمارے محترم دانشورکے کالم کے باقی حصوں پر میرا کوئی تبصرہ نہیں، صرف پاسبان کے حوالے سے غلط معلومات کی تصحیح ضروری تھی۔ہاں، ایک بات اور۔ جب عمران خان جمائما بھابھی کے ساتھ وطن واپس آ رہے تھے اور درانی صاحب ان پر سواری گانٹھنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، تو عمران خان کی آمد سے ایک روز قبل پاسبان کی سپریم کونسل نے بھاری اکثریت سے درانی صاحب کو معزول کر کے الطاف شکور (مجھے)کو عبوری صدر منتخب کیا تھا۔آخر میں یہ بھی عرض ہے کہ پاسبان نے اسٹیبلشمنٹ کے مہروں کے خلاف یہ پہلی بغاوت کی تھی۔ بعد میں بھی بارہا اسٹیبلشمنٹ کی پیشکشیں ٹھکرائی گئیں۔ یہ ایک الگ داستان ہے، اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔

(صاحب مضمون،پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین ہیں)

تازہ ترین