بڑے گھر میں رہنے سے کیا انسان بڑا یاعظیم ہو جاتا ہے ؟ہمارے ہاں اب بڑے بڑے گھروں کا رواج عام ہے، ایک ایسا ملک جہاں براہِ راست ٹیکس دینے والےصرف ستر لاکھ ہیں اور وہ بھی اپنی درست آمدن سرکار کو نہیں بتاتے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ پاکستان مڈل کلاس کے حوالےسے جنوبی ایشیا میں اب بڑا ملک ہےاور ’’سیاہ معیشت‘‘ پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہے ،اور یہ سیاہ معیشت ہی اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔تحقیق کے مطابق شہروں میں 70 فیصد سے زائد لین دین جو رئیل اسٹیٹ ،تعمیرات اور دیگر کاروباروں میں ہوتا ہے، وہ سرکار کے ریکارڈ سےچھپایا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں پاکستان کی بالغ آبادی میں سے 90فیصد کے پاس ایک فیصد سے کم ملکیت ہے۔ جبکہ دیہات میں رہنے والوں کی تعداد 62فیصد ہےجبکہ پاکستان کی شفاف معیشت کے دو اہم ستون میںہیں، زراعت اور بیرون ملک سے ترسیلات زر، یاد رہے کہ بیرون ملک سے جو ہمارے ملک میں رقم آتی ہے۔
وہ مغرب میں مستقل قیام کرنے والوں کی نہیں بنیادی طور پر یہ رقم خلیجی ممالک میں 45درجۂ حرارت سےاوپر کے گرم ممالک میں محنت مزدوری کرنے والوں کی ہوتی ہے اور یہ سب پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز ہیں، نہ کہ برطانوی،امریکی یا کسی خوشحال ملک کے۔ ایک ایسے غریب ملک میں جب جدید آبادیوں میں کئی کئی کروڑ اور اب تو اکثر ایک ایک ارب روپے کا گھر عام دیکھنے کو ملتا ہے تو یہ سوال کا خود جواب ہے کہ پاکستان کی معیشت محنت کر کے کمانے والوں کے ہاتھوں میں نہیں،بلکہ پاکستان کی معیشت نہ کمانے والوں اور بلیک اکانومی والوں کے ہاتھوں میں ہے،یعنی جن کا پاکستان میں پیداواری عمل سے کوئی تعلق ہی نہیں۔
پاکستان ابھی تک ترقی پذیر ممالک میں شمار ہوتاہے ،پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری اور اندرونی سرمایہ کاری بھی صنعت میں نہیں بلکہ یہ سرمایہ کاری Financial Capitalismمیں ہی گھومتی ہے، یعنی ہمارے ہاں سرمایہ کاری غیر صنعتی شعبوں میں زیادہ ہے، اسلئے ہم صنعتی ملک نہیں ہیں اور نہ ہی بن سکتے ہیں۔اس سبب سےپاکستان کی ریاست صنعت، جدید ٹیکنالوجی اور نہ ہی صنعتی مزدوروں کی نوکریوں کے اسباب پیدا کرنے سے قاصر ہے اور اسی وجہ سےپاکستان کی جمہوریت ،صنعتی جمہوریت جیسی جڑیں نہیں پکڑ سکی ۔
پاکستانی جمہوریت کے تین ستون ہیں کلونیل جمہوریت ،فیوڈل جمہوریت اور قبائلی جمہوریت حتیٰ کہ شہروں میں رہنے والے بڑے بڑے لیڈر بھی انہی’’ تین ستونوں ‘‘کے شاخسانے ہیں۔ اسی لیے ان تمام لیڈروں کا طرز زندگی فیوڈل اور قبائلی ہے وہ چاہے مغرب کی جدید یونیورسٹیوں سے ہی کیوں نہ تعلیم یافتہ ہوں۔ اگر ہم غیر جانبداری سے بس ہلکی سی نظر دوڑائیں تو تقریباً تمام چوٹی کے لیڈر بڑے بڑے گھروں میں رہتے نظر آتےہیں۔
اشتراکی فلسفے میں اوپری طبقےکوبورژوا کہتے ہیں، جو کہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جبکہ اس کا اوریجن لاطینی زبان ہے، جس کے معنی ہی ’’بڑا محل‘‘ہے۔ محلات اور حویلیاں، قبائلی اور جاگیردارانہ روایات کی امین ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف، سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا صرف لاہور میں گھر جو ’’جاتی امرا‘‘ کہلاتا ہے وہ00 17 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے، جبکہ اس رقبے میں تعمیر شدہ ایریا اڑھائی ہزار کنال ہے۔
صدر آصف علی زرداری صاحب کا لاہور میں گھر’’ بلاول ہاؤس‘‘ 25ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے سابق وزیراعظم اور آج کل پسِ زنداں عمران خان کا ’’بنی گالہ‘‘ میں گھر 35ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔
متحدہ ہندوستان یعنی بر صغیر کا عظیم مغل شہنشاہ اکبر اعظم لاہور قلعے میں 18 سال رہا ،جو کہ 50 ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔ یعنی آج کی جدید دنیا جسے ہم سرمایہ دارنہ جمہوریت کا زمانہ کہتے ہیں ،اس سے تقریبا ساڑھے چار سو سال قبل جو برصغیرکا بادشاہ تھا اس کا گھر بھی آج کے جدید و جمہوری لیڈروں کے مقابلے میں چھوٹا تھا۔ تو اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے ہاں حکمرانوں کا طرزِ زندگی کتناشاہانہ ہے،یعنی بڑے گھروں میں رہنے والے چھوٹے لیڈر، جبکہ برطانیہ، جس نے دنیابھر کےبیشتر ملکوں پر حکمرانی کی اس کے وزیراعظم کا گھر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے نام سے ساری دنیا میں جانا جاتا ہے جو 1735 ءسے ابھی تک زیرِ استعمال ہے،برطانیہ کا وزیرِ اعظم اس کمپلیکس کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہتا ہے۔
بڑے گھروں میں رہنے سے ’’قلبی سکون‘‘ حاصل کرنے والے پسماندہ قوموں کے لیڈر کی نفسیات کیا ہے ؟ یہ کوئی مشکل سوال نہیں۔ یہ درحقیقت قبائلی،جاگیردارانہ اور شاہی طرزِ زندگی کی نفسیات ہے آج کی جدید دنیا میں پسماندہ قوموں کے لیڈروں کے بڑے محلات اور حویلیاں درحقیقت ان کی فکری بلوغت کی آئینہ دار ہیں ۔ اگر ہم آج کی جدید اور کامیاب قوموں کے بڑے لیڈروں کے گھروں پر نظر دوڑائیں تو بڑے لیڈر چھوٹے گھروں میں رہتے تھے اور رہتے ہیں۔اس حوالے سے آئندہ کسی کالم میں بیان کروں گا۔ چھوٹے گھروں میں رہنے والے بڑے لیڈرز۔