• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جرمن فلاسفر ہیگل نے کہا تھا کہ ’’تاریخ سے ہمیں صرف یہی ایک سبق ملتا ہے کہ قوموں اور حکومتوں نے تاریخ سے کبھی کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘‘یہ قول آج ہماری قومی زندگی، سیاسی رویوں اور اِدارہ جاتی طرزِ عمل پر کسی پیہم تازیانے کی طرح برستا محسوس ہوتا ہے۔ تاریخ محض قبرستان نہیں ہوتی،یہ ایک زندہ جاوید عدالت ہے جسکے فیصلے اٹل اور بے رحم ہوتے ہیں۔ جو قومیں اس عدالت کے فیصلوں سے آنکھیں چراتی ہیں وقت انہیں عبرت کی ایسی تاریک گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے تاریخ کو صرف رومانوی داستانوں اور فتوحات کے قصوں تک محدود کر کے ایک افیون بنا دیا ہے۔ عمرانیات کے مسلمہ اصولوں کے مطابق، معاشروں کی بقا کا دارومدار ان کے اجتماعی حافظے پر ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنی فکری، سیاسی اور انتظامی ناکامیوں کو یاد رکھتی ہیں، وہ دوبارہ اسی سوراخ سے نہیں ڈسی جاتیں۔ مگر ہم ہر عشرے بعد اسی پرانے بحران کا نیا روپ دیکھتے ہیں اور اس کا علاج بھی وہی تجویز کرتے ہیں جو پہلے کئی بار ناکام ہو چکا ہوتا ہے۔ معاشی خود انحصاری کے بجائے ادھار پر انحصار، داخلی پیداوار بڑھانے کے بجائے کشکول کا پھیلاؤ، اور اداروں کی مضبوطی کے بجائے شخصیات کی پوجا، یہ وہ تاریخی مغالطے ہیں جنہوں نے ہمیں ایک دائرے کا مسافر بنا دیاہے۔ ہم تاریخ کی کتاب کو کھولتے تو ہیں، مگر صرف اپنی پسند کے ابواب پڑھنےکیلئے، اور عبرت کے وہ صفحات جو ہمیں ہماری کوتاہیوں کا آئینہ دکھاتے ہیں، ہم نے انہیں تعصب، انا اور مصلحت پسندی کی گوند سے مستقل بند کر رکھا ہے۔ ریاست کا زوال کبھی یکدم بیرونی حملے سے نہیں ہوتا، بلکہ زوال ہمیشہ اندر سے جنم لیتا ہے۔ جب کسی معاشرے میں عدل کا ترازو طاقتور کے حق میں جھک جائے، میرٹ کی جگہ من پسند افراد کی سرپرستی لے لے، اور سیاسی و اِدارہ جاتی سمجھوتہ ریاست کی بنیادی ثقافت بن جائے، تو بڑی سے بڑی سلطنتیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔سیاسی اور عمرانی تجزیے ثابت کرتے ہیں کہ ایسے فکری و انتظامی بحرانوں کی اصل ذمہ داری معاشرے کے عام شہری پر نہیں، بلکہ ریاست کی مقتدر اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ پالیسیاں اور ترجیحات مقتدرہ ہی طے کرتی ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے تمام بحرانوں کا نقصان صرف عام عوام کو اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ مقتدر طبقے کیلئے یہ زوال بھی ایک انتہائی منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ہم نے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کا ایک مستقل اور مہلک شوق پال رکھا ہے۔ 1971ء کا المیہ ہماری تاریخ کا وہ بھیانک موڑ تھا جہاں ہم نے سیاسی بحران کا حل سیاسی طریقےسے نکالنے کے بجائے طاقت کےاستعمال میں ڈھونڈنا چاہا، اورنتیجتاًآدھا ملک گنوا دیا۔

پھر اسکے بعد حمود الرحمن کمیشن کی سچی اور حقیقت پسندانہ سفارشات کو تسلیم کرنے کے بجائے، ان دستاویزات کو ہمیشہ کیلئے دبا دیا۔ اسکا واضح مطلب یہ تھا کہ ہم نے عبرت کے صفحات خود اپنے ہاتھوں سے پھاڑ دیے اور یہ عہد کیا کہ ہم ماضی سے کبھی کچھ نہیں سیکھیں گے۔ نوے کی دہائی میں معاشی بدانتظامی کا جو طویل سلسلہ شروع ہوا، اسکے نتیجے میں ہم نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے متعدد بار قرض لیا اور ہر بار اس وقتی امداد کو مستقل کامیابی سمجھ کر جشن منایا۔ یہ طرزِ فکر دراصل فکری افلاس اور خود فریبی کی بدترین شکل ہے۔ خارجی سازشوں کے فرضی بیانیے کی آڑ میں اپنی داخلی جوابدہی اور بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے فرار اختیار کرنا ہماری مقتدر اشرافیہ کا مستقل وطیرہ بن چکا ہے، حالانکہ بیرونی سازشیں صرف وہیں کامیاب ہوتی ہیں جہاں اندرونی دراڑیں اور فکری تضادات پہلے سے موجود ہوں۔ اگر ہم نے تاریخ سے سیکھا ہوتا کہ داخلی استحکام، آئین کی حکمرانی اور سماجی انصاف ہی بقا کا واحد راستہ ہے، تو آج ہم عالمی نقشے پر کشکول لیے ایک تماشہ نہ بنے ہوتے،مستقبل کی بہتری کا اب صرف واحد راستہ یہ ہے کہ ہم تاریخ کے ساتھ اپنا رشتہ رومانوی اور جذباتی بنانے کے بجائے علمی، تحقیقی اور سائنسی بنائیں۔ ہمیں اپنی نصابی کتب سے لے کر ریاستی تھنک ٹینکس تک، ہر سطح پر ماضی کی غلطیوں کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنا ہوگا۔ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں تاریخ کو مسخ کر کے صرف چند مخصوص فتوحات اور بادشاہوں کی مدح سرائی تک محدود کر دیا گیا ہے، جسکی وجہ سے ہماری نئی نسل ’اس وجہ اور اثر‘ کے آفاقی قانون سے بالکل ناواقف رہ گئی ہے جو قوموں کے عروج و زوال کا حقیقی تعین کرتا ہے۔ جب تک ہم اپنی اِدارہ جاتی نااہلی کو مصلحت پسندی یا قومی مفاد کا مقدس نام دیتے رہیں گے، تب تک تاریخ ہمیں کوڑے مار کر اپنا سبق دہرانے پر مجبور کرتی رہے گی۔ سویلین بالادستی اور قانون کی یکساں حکمرانی ہی وہ واحد تاریخی راستہ ہے جو حقیقی استحکام کی ضمانت ہے۔ ادھار کی معیشت اور بیرونی امداد پر چلنے والے ڈھانچے کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا۔ رئیل اسٹیٹ، بڑے جاگیرداروں اور مقتدر کاروباری طبقے کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی سالانہ مراعات کو فوری طور پر بند کر کے اس سرمائے کو انسانی وسائل کی ترقی، جدید سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر لگانا ہو گا، تاکہ ملک کشکول کی تذلیل سے نجات پا سکے۔

پاکستان کے پاس اب یہ عیاشی باقی نہیں رہی کہ وہ مزید چند دہائیاں اسی فکری سستی اور تجرباتی نااہلی کی نذر کر دے۔ 71 کا جغرافیائی المیہ ایک سگنل تھا، اور موجودہ بحران غالباً آخری وارننگ۔ تاریخ کسی بھی ریاست کی بقا کا فیصلہ اس کے اداروں کے انصاف، معاشی برابری اور علمی فیصلوں کی بنیاد پر کرتی ہے۔تاریخ کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کیلئے اپنے آفاقی اصول بدلتی ہے۔ یہ ایک بے رحم آئینہ ہےاگر ہم اس میں اپنا چہرہ بدصورت نہیں دیکھنا چاہتے، تو ہمیں اپنے عمل کو خوبصورت بنانا ہوگا۔

تازہ ترین