سفر ہمیشہ سے میرے لیے صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ انسانوں، تہذیبوں، سوچوں اور شناختوں کو سمجھنے کا ایک ذریعہ رہا ہے۔ شاید اسی لیے جب میں آٹھویں جماعت میں تھی اور پہلی بار مستنصر حسین تارڑ کا شہرۂ آفاق سفرنامہ پاسکل میرے ہاتھ میں آیا، تو میرے اندر ایک عجیب سی بےچینی نے جنم لیا۔ ایک ایسا شوق جو محض دنیا دیکھنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ دنیا کو سمجھنے اور خود کو پہچاننے کی خواہش بھی تھا۔پھر کتابوں اور سفر ناموں کے سلسلے سے میری زندگی کے سفر کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کے دوران سفر مشاہدے اور تجربے پر گہری نظر رکھنی شروع کر دی۔والد صاحب کی عراق اور پھر امریکہ پوسٹنگ کی وجہ سے ابتدائی زندگی میں سفر کا آغاز شروع ہوا۔ میں نے خلیجی ممالک سے لے کر یورپ، امریکہ اور کینیڈا تک بے شمار اوورسیز پاکستانیوں سے ملاقاتیں کیں۔ کچھ رشتے دار تھے، کچھ کاروباری حلقوں سے وابستہ، کچھ سیاسی یا سماجی سرگرمیوں کے باعث ملے، اور کچھ محض سفر کے دوران۔ اور کچھ چیمبر آف کامرس کی تجارتی دوروں کی بنیاد پر ملے ۔ مگر ایک چیز ہمیشہ مشترک رہی... پاکستان سے محبت۔بیرون ملک مقیُم پاکستانی کو پاکستان کا درد اور محبت شدت سے ہے۔مجھے آج بھی وہ دن یاد ہیں جب خلیجی ممالک میں انڈیا پاکستان کے کرکٹ میچ ہوتے تھے۔ ہمارے ہندوستانی دوستوں سے چاہے کتنی ہی گہری دوستی کیوں نہ ہو، دیواریں مشترک ہوں، کھانے ایک دوسرے کے گھروں میں کھائے جاتے ہوں، مگر میچ کے دن سب سے پہلے اپنے اپنے وطن سامنے آ جاتے تھے۔ اگر پاکستان ہار جاتا تو دل دکھتا تھا، اور اگر جیت جاتا تو خوشی بے اختیار چہروں پر آ جاتی تھی۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران میرے مشاہدے نے مجھے اندر تک بے چین کیا۔میں نے دیکھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے درمیان وہ مشترکہ شناخت دھندلانے لگی ہے۔ سیاسی وابستگیاں اس قدر گہری ہو چکی ہیں کہ پاکستان ایک مشترکہ وطن کے بجائے مختلف سیاسی خانوں میں تقسیم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اختلافِ رائے ہمیشہ زندہ معاشروں کی خوبصورتی رہا ہے، مگر جب اختلاف نفرت میں بدلنے لگے اور جب بیرونی دنیا کے سامنے ہم خود اپنے وطن کی تضحیک کرنے لگیں، تو یہ لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔
اٹلی کے ایک اجتماع میں مختلف قومیتوں کے درمیان بیٹھے ہوئے میں نے کچھ پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک کے بارے میں انتہائی تلخ اور سخت جملے کہتے سنا۔ ان جملوں سے زیادہ تکلیف دہ وہ مسکراہٹیں تھیں جو وہاں موجود بعض بھارتیوں کے چہروں پر ابھر رہی تھیں جب ہم خود اپنے ملک کی برائی کرتے ہیں تو ہم کہیں دشمن کی روح کو تسکین دیتے ہیں ۔ میں نے اسی لمحے خود سے سوال کیا کہ آخر ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ ۔
اختلاف ضرور کیجیے، سوال بھی اٹھائیے، اصلاح بھی مانگیے، مگر اپنی قومی شناخت کو کمزور کر کے نہیں۔یہی وہ لمحہ تھا جب میرے ذہن میں ’’پہچان پاکستان‘‘ کا تصور واضح ہوا۔ہمیں شاید دوبارہ یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ ہماری پہچان سیاسی جماعتیں نہیں پاکستان ہے۔ ہماری پہچان وہ قربانیاں ہیں جو 1947 میں ہمارے آباؤ اجداد نے دیں۔ ہماری پہچان وہ سبز ہلالی پرچم ہے جو دنیا کے کسی بھی ایئرپورٹ پر ہمیں ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔ ہماری پہچان وہ لہجہ، وہ دعا، وہ اذان، وہ محبت ہے جو ہمیں دنیا بھر میں ایک قوم بناتی ہے۔سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس تقسیم نے صرف نظریات کو نہیں، رشتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ میں نے اوورسیز پاکستانی خاندانوں کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر بکھرتے دیکھا۔ دوستیاں ختم ہوتی دیکھیں، تعلقات ٹوٹتے دیکھے۔یہ صورتحال صرف جذباتی نقصان نہیں، بلکہ معاشی اور سماجی سطح پر بھی خطرناک ہے۔ اوورسیز شہری کسی بھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی ترسیلات، ان کی سرمایہ کاری، ان کا عالمی اثرورسوخ اور ان کی نئی نسلیں ملک کا مستقبل ہیں۔ اگر یہی نسل اپنی جڑوں سے کٹتی گئی، تو آنے والے وقت میں اس کے اثرات نہایت سنگین ہوں گے۔اسی لیے میری نظر میں اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف بڑی بڑی کانفرنسوں اور رسمی تقریبات تک محدود نہ رہیں، بلکہ عام پاکستانی تک پہنچیں۔ ٹریول بلاگرز، وی لاگرز، ٹور آپریٹرز، کاروباری وفود، طلبہ اور وہ تمام لوگ جو دنیا میں پاکستان کا چہرہ بنتے ہیں، انہیں ایک شعوری اور فکری انداز میں تیار کیا جائے۔ انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ جب وہ بیرونِ ملک قدم رکھتے ہیں تو وہ صرف ایک فرد نہیں رہتے، بلکہ پاکستان کے نمائندے بن جاتے ہیں۔
’’پہچان پاکستان‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک احساس ہونا چاہیے۔ ایک سوچ کےنام پہ احساس کا نام اور یہ شعور اور آگاہی کہ ہماری پہچان کیا ہے بس پاکستان ۔ ایک ایسا احساس جو ہماری رگوں میں دوڑتا رہے۔ جو ہمیں یاد دلاتا رہے کہ ہم دنیا کے کسی بھی حصے میں کیوں نہ ہوں، ہماری جڑیں اسی سرزمین میں پیوست ہیں۔ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اس محبت کو محفوظ بنانا ہوگا، اس دھندلے ہوتے رشتے کو دوبارہ شفاف کرنا ہوگا۔ جیسے روح کو معطر کیا جاتا ہے، ویسے ہی قومی شناخت کو بھی مسلسل تازہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ اگر ہم نے اپنی پہچان کھو دی، تو شاید آنے والی نسلیں صرف زبان اور نام سے پاکستانی رہ جائیں... احساس سے نہیں۔