دنیا بھر میں جمہوریت، انسانی حقوق اور کثیرالثقافتی معاشروں کے دعوئوں کے باوجود یورپ اور امریکہ اس وقت شدید سماجی اور سیاسی تقسیم کا شکار دکھائی دیتےہیں۔ معاشی دباؤ، مہنگائی، بیروزگاری، غیرقانونی امیگریشن، ثقافتی و مذہبی شناخت کے خدشات اور عالمی تنازعات نے مغربی دنیا میں دائیں بازو کی سیاست کو غیر معمولی تقویت دی ہے۔ مغربی ممالک میں وہ جماعتیں تیزی سے مقبول ہورہی ہیں جو امیگریشن کیخلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں اور مسلمانوں و غیرملکی کمیونٹیز کو سماجی مسائل اور مذہبی شناخت سے جوڑ رہی ہیں۔ برطانیہ میں حالیہ بلدیاتی اور کونسل انتخابات میں Reform UK کی غیر متوقع کامیابی نے ملک کی روایتی سیاسی جماعتوں، لیبر اور کنزرویٹو پارٹی دونوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ برطانوی عوام کی ایک بڑی تعداد اب یہ محسوس کررہی ہے کہ گزشتہ برسوں میں قانونی و غیر قانونی امیگریشن سے مہنگائی،بے روزگاری ،صحت، جرائم اور رہائشی بحران جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ تیزی سے مقبول ہوتی ریفارم پارٹی خود کو سفید فام عام برطانوی شہری کی آواز کے طور پر پیش کررہی ہے۔ پارٹی کے سربراہ نائیجل فراج اور دوسرے قوم پرست مسلسل یہ مؤقف اختیار کررہے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں لاکھوں افراد برطانیہ آئے، جن میں سے بڑی تعداد کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی راستوں سے پہنچی۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے ان افراد کو مفت رہائش، الاؤنسز اور دیگر سہولیات دی گئیں جبکہ ان امیگرنٹس میں سے صرف سولہ فیصد کام کر رہے ہیں۔ ریفارم پارٹی یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ اگر وہ اقتدار میں آئی توOperation Restoring Justice کے تحت امیگریشن کیسز کا دوبارہ جائزہ لیا جائیگا، غیر شہریوں کیلئے فلاحی فوائد محدود کئے جائینگے اور جرائم یا انتہاپسندی میں ملوث افراد کی بے دخلی تیز کی جائیگی۔ برطانوی لیبر حکومت نے عوام میں پھیلی بے چینی کو بھانپتے ہوئے سخت اقدامات کیے ہیں ۔ وزیر داخلہ شبانہ محمود نے تیسری دنیا کے ممالک کیلئے ویزا قوانین سخت کرنے اور امیگریشن اسکریننگ بڑھانے پر کام شروع کردیا ہے جبکہ ورک ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا اور سیاسی پناہ کے کیسز کے ذریعے برطانیہ میں انٹری اور امیگریشن کا حصول مشکل تر کر دیا گیا ہے۔ لیبر حکومت امیگریشن اصلاحات اور سماجی انضمام کے معاملات کو متوازن انداز میں سنبھالنے کی کوشش کررہی ہے کہ ان پر ایک طرف دائیں بازو کے سخت دباؤ اور دوسری طرف انسانی حقوق کے حلقوں کی تنقید موجود ہے۔ برطانوی سیاست میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہی بن چکا ہے کہ قومی سلامتی، امیگریشن کنٹرول اور کثیرالثقافتی معاشرے کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ بعض مسلم اور امیگرنٹ کمیونٹیزپر خود برطانوی معاشرے میں مکمل طور پر ضم نہ ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ بعض علاقوں میںمذہبی انتہاپسندی، علیحدہ سماجی ڈھانچے اور شریعت کے نفاذ سے متعلق بیانیے نے مقامی آبادی میں خدشات کو جنم دیا۔ اگرچہ اکثریتی مسلمان قانون پسند اور پرامن شہری ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مقامی آبادی کیساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں، مگر چند شدت پسند واقعات یا غیر قانونی حرکات پورے طبقے کیخلاف منفی تاثر پیدا کردیتی ہیں۔ یہی صورتحال دائیں بازو کی جماعتوں کو سیاسی فائدہ پہنچاتی ہے، جو ان مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں۔ اصل مسئلہ صرف مذہب یا نسل نہیں بلکہ بڑھتے ہوئے معاشی اور معاشرتی مسائل ہیں۔جب مقامی شہریوں کو ملازمت، رہائش، علاج اور تعلیمی سہولیات میں دباؤ محسوس ہوتا ہے وائلنٹ کرائم بڑھ جاتا ہے تو وہ سیدھا سیدھا امیگرنٹس کو ذمہ دار سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ امریکہ سمیت کئی مغربی ممالک میں امیگریشن مخالف سیاست اب ایک طاقتور انتخابی ہتھیار بن چکی ہے۔ اربوں پاؤنڈ، ڈالر مذہبی ، سماجی اور نظریاتی تفریق کیلئے خرچ کیے جا رہے ہیں ،ایسے ماحول میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور دیگر مسلم کمیونٹیز کو بھی حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ جس ملک میں رہتے ہیں، وہاں کے سماج کے ساتھ جڑنا ناگزیر ہے۔ مقامی زبان اور لہجے پر عبور حاصل کرنا، قوانین کا احترام کرنا، ٹیکس نظام اور شہری ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا اور مقامی آبادی کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مذہبی آزادی ہر جمہوری معاشرے کا حق ہے، مگر مذہبی سرگرمیوں میں اعتدال، نظم و ضبط اور مقامی حساسیت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔دنیا اس وقت ایک ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں خوف، معاشی دباؤ اور شناخت کی سیاست نئی تقسیم پیدا کررہی ہے۔ اگر مغربی معاشرے میں موجود کچھ لوگ نفرت اور انتہاپسندی کو مزید جگہ دیتے رہے تو اسکے نتائج صرف مسلمانوں یا امیگرنٹس تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خود مغربی جمہوریتوں اور سماجی استحکام کیلئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو اپنی کمیونٹی کو بند معاشرے میں تبدیل کرنے کے بجائے مقامی سماج کا فعال حصہ بننا ہوگا۔ مقامی تقریبات، چیریٹی، سماجی و سیاسی سرگرمیوں اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں شرکت سے مثبت تاثر پیدا ہوتا ہے۔ محنت، حسن سلوک، دیانت داری ، وفاداری اور قانون پسندی وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی معاشرے میں عزت دلاتے ہیں۔ مقامی رسم و رواج سے ہم آہنگی ، مناسب مغربی لباس پہننے کا مطلب اپنی مذہبی یا ثقافتی شناخت چھوڑ دینا نہیں بلکہ اس معاشرے کی حساسیت اور ماحول کو سمجھنا ہے جہاں انسان رہ رہا ہو۔ اسی طرح سوشل میڈیا یا محفلوں میں میزبان ممالک کی پالیسیوں، مذہبی وابستگیوں یا قومی علامات کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے بھی گریز ضروری ہے۔ جس ملک میں انسان رہتا ہے، اسکے قانون، جھنڈے اور قومی اداروں کا احترام بنیادی شہری ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے۔ مسلم کمیونٹیز کو خصوصاً جذباتی ردعمل کے بجائے مثبت کردار، سماجی انضمام، تعلیم، قانون پسندی اور اعتدال کے ذریعے اپنا مقام مضبوط بنانا ہوگا۔ موجودہ حالات میں تصادم نہیں بلکہ مکالمہ، برداشت اور باہمی احترام ہی وہ راستہ ہے جو آنے والے وقت میں مختلف تہذیبوں اور معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔
(صاحبِ مضمون سابق وزیر اطلاعات پنجاب ہیں)