• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی تحقیقاتی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران امریکہ ڈیل کے معاملے پر صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایک مشکل ٹیلی فون کال ہوئی ہے۔ مشکل اس لئے کہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے واضح اختلاف کیا۔ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے خواہشمند ہیں جبکہ نیتن یاہو ایرانی حکومت کے مکمل خاتمے تک امریکہ سے فوجی کارروائی چاہتے ہیں۔میرا مشاہدہ ہے کہ اس سارے معاملے میں پاکستان کہیں بہت زیادہ موجود ہے۔ گزشتہ ایک سال سے صدر ٹرمپ نے جس طرح پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف مسلسل سراہا ہے وہ بہت حیران کن ہے۔انٹرنیشنل ریلیشنز کے ماہرین کے مطابق پاکستان کا سفارتی و عسکری قد مئی دوہزار پچیس کی جنگ کے بعد ابھرنا شروع ہوا جب پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ثالثی کا کھلے عام اعتراف کیا اور انہیں امن کے نوبل انعام کے لئے نامزد کیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان ٹرمپ کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بارہ روزہ ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے دوران صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک غیر معمولی لنچ کیا۔ اور پھر آپریشن ہیمر اور قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی میزائلوں کے علامتی جواب کے بعد یہ خطرناک تنازع بغیر کسی نمایاں نتیجے کے اچانک ختم ہو گیا۔ اندازہ ہے کہ یہی وہ وقت تھا جب ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کے اہم کردار کو دونوں اطراف یعنی ایران و امریکہ میں ایک قابل بھروسہ ثالث تسلیم کیا گیا۔

گزشتہ سال ستمبر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی مذاکراتی ٹیم پہ اسرائیلی فضائی حملے کے دوران امریکی کردار سے گلف اتحادیوں کو اپنے حقیقی دشمن کا ادراک ہوا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب گلف نے اپنے تحفظ کیلئے امریکہ کی فوجی طاقت سے باہر سوچنا شروع کیا۔ اسی دوران سعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان مشرق وسطیٰ میں قابل بھروسہ سیکورٹی پارٹنر اور واضح اسٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آیا۔

پاک سعودی دفاعی معاہدے پر ایرانی حکومت کا خیر مقدم یہ واضح کر رہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پاکستانی فوجی موجودگی کو ایران کی انقلابی حکومت اپنے لئے کوئی خطرہ نہیں سمجھتی۔ بلکہ یہ اندازے بھی لگائے گئے کہ اگر ایران امریکہ تنازع سفارتی طور پہ حل ہوجاتا ہے تو اس عسکری اتحاد میں ترکیہ، مصر، قطر بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر موجودہ اسرائیلی عزائم دیکھے جائیں تو یہ عسکری اتحاد نوشتہ دیوار ہے۔ بعید نہیں کہ ایران تک اس اتحاد میں شامل ہو جائے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران عرب تنازع میں پاکستان کا سفارتی ماضی بہت حد تک غیر جانبدار رہا ہے۔ ایران میں شیعہ انقلاب کے بعد سعدوی ایرانی مناقشے میں پاکستان فریقین کے مابین جاری فرقہ وارانہ کشمکش کا میدان جنگ تک بنا مگر اس سے قطع نظر کہ پاکستان میں کس کی حکومت تھی پاکستان نے کبھی کھلم کھلا کسی ایک کیمپ کی طرفداری نہیں کی۔

پی ڈی ایم حکومت کے پہلے دور میں اگر بلاول بھٹو نے ایک طرف انڈیا میں ہونے والے ایس سی او اجلاس میں خطے کے جیو پولیٹکل لینڈ اسکیپ پاکستان کا سفارتی قد کاٹھ اونچا کیا تو یہی وہ دور تھا جب پاکستان عالمی دنیا میں کلائمیٹ ڈپلومیسی کا نمایاں فریق تھا۔ اب گزشتہ ایک سال کے دوران ہندوستان کے خلاف عسکری کامیابی نے پاکستانی خارجہ پالیسی کا اعتماد اس قدر بڑھا دیا ہے کہ اب پاکستان گلوبل ساؤتھ میں مسلم دنیا کے نمایاں مسائل فلسطین و کشمیر کے سوال کو ہمیشہ کے لئے حل کروانے کیلئے سرگرم نظر آتا ہے۔

جب غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب فلسطینیوں کی نسل کشی امریکی عوام کے غم و غصے کا باعث بننے لگی تو صدر ٹرمپ جو خود کو پریذیڈنٹ آف پیس کہلوانا پسند کرتے ہیں انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کو روکنے کے لئے ایک نام نہاد پیس بورڈ کا اعلان کیا تو اس مضحکہ خیز سفارتی سرکس میں بھی پاکستان صدر ٹرمپ کو انگیج رکھنے میں کامیاب رہا اور شرم الشیخ میں ہونے والے اس پیس بورڈ اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کے بلاوے پہ ساڑھے چار منٹ اتنی شاندار گفتگو کی کہ صدر ٹرمپ کو یہ کہنا پڑا ، ’’میرا خیال ہے کہ اب یہ تقریب ختم کر دینی چاہئے وزیر اعظم پاکستان کی اس قدر شاندار گفتگو کے بعد کچھ اور کہنے کی کیا گنجائش ہے؟ “یہ منظر نامہ سامنے رکھا جائے تو نائن الیون کے بعد کا وہ زمانہ ایک پرانا ماضی لگتا ہے جب اوبامہ انتظامیہ پاکستان کو افغانستان کے زاوئیے سے دیکھتی تھی۔ ایف پاک اور رچرڈ ہالبروک کے زمانے کی تاریخ ایک ماضی ہے۔ سوویت افغان جنگ، افغانستان کی خانہ جنگی اور نائن الیون کے بعد کا افغانستان اور وار آن ٹیرر، جنگ کے اس تھیٹر میں موجود عناصر اور ان کے مفادات، اس خطے میں سرد جنگ اور بعد کے یونی پولر امریکی ورلڈ آرڈر میں پاکستان کا کردار، صرف اس کے جغرافیے اور ڈیورنڈ لائن کے اطراف رہنے والی پشتون مسلم کیمونٹی کے سبب اہم تھا۔

مشرق وسطی میں پاکستان ان تمام محدود شناختوں سے آزاد ہو کر بطور غیر جانبدارمسلم عسکری طاقت، نیوکلیئرہتھیاروں کا حامل، ایسا ملک ہے جو انڈیا سے روایتی جنگ جیت کر مڈل ایسٹ کا سیکورٹی پارٹنر بن کے ابھرا ہے۔ یار لوگ صدر ٹرمپ کو شخصیات پسند کہتے ہیں اور یہ مشہور ہے کہ ٹرمپ ممالک کے مابین تعلقات کی بجائے ذاتی تعلق کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران تنازع پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی کوششوں کے درمیان ہے کہ اب دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ اس جنگ کے اگلے مرحلے میں کس کی بات سنتے ہیں۔

تازہ ترین