اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور جبر و استبداد کی حکمت عملی کے باعث مشرق وسطی کئی دہائیوں سے امن و سلامتی کے گمبھیر میں مسائل میں گھراہوا ہے۔ آج جب ایران اور امریکہ برسر پیکار ہیں کسی ایک فریق کی ہٹ دھرمی یا غلط فیصلہ پورے خطے کو جنگ کی ایسی آگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے شعلے خلیج فارس سے بحیرۂ روم تک محسوس کیے جائیں گے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش، خلیجی ریاستوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات، اسرائیلی جارحانہ حکمتِ عملی، عالمی تیل کی منڈیوں میں بے چینی، اور عالمی طاقتوں کی صف بندی نے دنیا کو ایک بار پھر ایک بڑے تصادم کے خدشے سے دوچار کر دیا تھا۔لیکن ایسے ماحول میں ایک ملک خاموشی سے، مگر غیر معمولی اعتماد کے ساتھ، پسِ پردہ سفارت کاری میں مصروف رہا۔ وہ ملک پاکستان تھا۔ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ پسِ پردہ رابطوں کا پہلا اہم مرحلہ پاکستان میں منعقد ہونے والی اسلام آباد ٹاکس تھیں۔ بظاہر یہ کوئی باقاعدہ عالمی کانفرنس نہیں تھی، مگر سفارتی حلقوں کے مطابق یہ وہ بنیادی پلیٹ فارم ثابت ہوا جس نے دونوں متحارب فریقوں کو براہِ راست تصادم سے وقتی طور پر روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ مختصر مگرانتہائی نتیجہ خیز دورۂ تہران خطے کی سفارت کاری میں ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق اس 24 گھنٹے کے دورے میں ایرانی صدر، اسپیکر، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔پاکستانی ذرائع کے مطابق اس دورے کے بعدفائنل انڈرسٹینڈنگ کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی۔یہ محض ایک فوجی سربراہ کا دورہ نہیں تھا بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان اب صرف سرحدی دفاع تک محدود قوت نہیں بلکہ خطے کے توازن کا اہم ترین ضامن بنتا جا رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نےبھی حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکہ اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔اسی طرح مارکو روبیو کے بیانات میں بھی یہ اشارے ملے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے ماحول کو نرم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ذرائع کے مطابق مجوزہ مفاہمت میںآبنائے ہرمز کی مرحلہ وار بحالی،بعض ایرانی اثاثوں کی جزوی بحالی، محدود اقتصادی ریلیف، اور مستقبل کے مذاکرات کے فریم ورک پر اتفاق شامل ہے۔اگر یہ پیش رفت کامیاب ہوتی ہے تو یہ صرف ایک سفارتی معاہدہ نہیں ہوگا بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈی، اور مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے ایک بڑا موڑ ثابت ہوگا۔اس تمام سفارتی پیش رفت کا ایک اورنمایاں پہلو پاکستان کا جیو اکنامک ابھار ہے۔ کویت اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں اسٹرٹیجک آئل ذخائر کے قیام میں دلچسپی معمولی خبر نہیں۔17 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کے منصوبےپاکستان کو توانائی راہداری میں مرکزی حیثیت دے سکتے ہیں، عرب دنیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان معاشی پل بنا سکتے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لا سکتے ہیں اور پاکستان کو ایک علاقائی انرجی حب میں تبدیل کر سکتے ہیں۔اگر قطر بھی اس منصوبے میں شامل ہوتا ہے تو پاکستان کی اسٹرٹیجک اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔یہ تمام پیش رفتیں اس حقیقت کی غمازی کرتی ہیں کہ دنیا اب پاکستان کو محض امداد لینے والا ملک نہیں بلکہ خطے کے استحکام، تجارت، توانائی اور دفاع کا مرکز سمجھنے لگی ہے۔ ان مذاکرات میں بھارت کے لیےبھی واضح پیغام ہے ۔مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرون وارفیئر، الیکٹرانک وارفیر، اسپیس ٹیکنالوجی، ایئر ڈیفنس، اور نیٹ ورک سینٹرک آپریشنز نے دنیا کی توجہ حاصل کی۔بھارتی دفاعی ماہرین کی جانب سے بھی پاکستان کی عسکری تیاریوں اور ٹیکنالوجیکل برتری کے اعتراف نے یہ واضح کر دیا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔پاکستان اب صرف روایتی عسکری طاقت نہیں بلکہ جدید جنگی حکمتِ عملی، سائبر، ڈرون اور ملٹی ڈومین آپریشنز میں بھی اہم مقام حاصل کر رہا ہے۔
’’پاکستان دنیا کے امن کا نیا مرکز‘‘کچھ عرصہ پہلے تک یہ تصور شاید مبالغہ محسوس ہوتا، مگر آج حالات بدل چکے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے، سعودی عرب اور ایران کے درمیان نرم رویہ، خلیجی ریاستوں کا پاکستان پر اعتماد، عالمی میڈیا کی توجہ، اور پاکستان کی مسلسل متوازن سفارت کاری ،یہ سب اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ اسلام آباد واقعی خطے کے نئے سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔پاکستان نے یہ مقام صرف طاقت سے نہیں بلکہ تحمل، توازن، عسکری اعتبار، جغرافیائی اہمیت، اور سفارتی حکمت سے حاصل کیا ہے۔آخری کچھ سوال:کیا ایران واقعی پاکستان کو ایک مستقل اسٹرٹیجک پارٹنر سمجھے گا یا صرف بحران کے وقت ایک سفارتی سہارا؟کیا امریکا اور ایران واقعی کسی مفاہمت تک پہنچ جائیں گے؟کیا سعودی عرب، کویت اور قطر کی سرمایہ کاری پاکستان کو خطے کا سب سے بڑا انرجی حب بنا دے گی؟اور سب سے بڑھ کر…کیا پاکستان آنے والے برسوں میں واقعی دنیا کے امن کا نیا ہیڈکوارٹر بن سکتا ہے؟
یہ سوالات ابھی کھلے ہیں، مگر ایک حقیقت اب واضح ہو چکی ہےکہ پاکستان اب صرف واقعات کا تماشائی نہیں رہا…پاکستان اب خطے کے مستقبل کی تشکیل میں ایک فعال، بااعتماد اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔پاکستان زندہ باد۔افواجِ پاکستان پائندہ باد۔
( مصنف ستارۂ امتیاز (ملٹری)، پاک فوج کے سابق افسر(بریگیڈیئر) سیکورٹی و انتظامی امور کے ماہر اور ادیب و شاعر ہیں)