آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان میں ان دنوں ایک طرف ”انقلاب“ کی آمد آمد ہے تو دوسری طرف ”سونامی“ کی لہریں ہلچل مچا رہی ہیں دونوں کا ہدف ملک کا سیاسی نظام اور اصل مقصد حکومت کی تبدیلی ہے اور حکومت ہے کہ پانچ سال مکمل کئے بغیر تبدیل ہونے کے لئے تیار ہی نہیں، ویسے جب سے یہ ملک بنا ہے اس کا اصل مسئلہ حکومتوں کی تبدیلی ہی رہا ہے قائداعظم کی وفات کے بعد حکومتوں کی تبدیلی کا کھیل اتنا مقبول ہوا کہ قوم کو ایک ایک سال میں دو دو حکومتیں بھگتنا پڑیں اسی بنا پر پنڈت جواہر لعل نہرو نے یہ پھبتی کسی کہ آزادی کے بعد میں نے اتنی دھوتیاں نہیں بدلیں جتنی پاکستان میں حکومتیں بدلیں اس پر ایوب خان نے ایک اور حکومت بدل کر اپنی حکومت قائم کر لی اور گیارہ سال تک حکومت کر کے پنڈت نہرو کے دعوے کو غلط ثابت کر دکھایا سیاستدانوں نے ان کی حکومت بدلنے کی بڑی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوئے تاآنکہ ایوب خان نے حکومت ایک یحییٰ خان کے ہاتھ پکڑا دی۔
یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان کو الگ کر کے ملک کی شکل ہی تبدیل کر دی اور حکومت بادل نخواستہ ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کر کے خود تبدیل ہو گئے بھٹو نے جیسے تیسے کر کے چھ سال گزارے یہ کسی سیاستدان کا طویل ترین عرصہ اقتدارتھا جو جنرل ضیاء الحق کو گوارا نہ ہوا انہوں نے اس حکومت کو تبدیل کر دیا جمہوریت ایسی گئی کہ گیارہ سال

تک واپس نہ آئی جب آئی تو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو بھی ایک دوسرے کی حکومتیں بدلنے کا موقع ملا تبدیلی کے اس عمل میں جنرل پرویز مشرف نے بھی اپنا حصہ ڈالا نواز شریف کی حکومت بدل کر 9 سال تک نہرو کی پھبتی کا مذاق اڑاتے رہے آصف زرداری قسمت کے دھنی تھے نواز شریف کو رام کر کے میثاق جمہوریت کے صدقے پانچ سال پورے کر لئے نواز شریف کی باری آئی تو انہیں اطمینان تھا کہ پیپلز پارٹی انہیں آئینی مدت پوری کرنے دے گی پیپلز پارٹی کو تو کوئی اعتراض نہیں مگر ”سونامی“ والے عمران خان اور ”انقلاب“ والے ڈاکٹر طاہرالقادری ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ طاہرالقادری کا انقلاب پچھلی مرتبہ مبارک سلامت کے شور میں حکومت تبدیل کئے بغیر واپس کینیڈا چلا گیا تھا مگر لوگ کہتے ہیں کہ اس بار وہ اپنی جرابیں بھی ساتھ لے آئے ہیں اس لئے تبدیلی لائے بغیر واپس جانیوالے نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جس روز میں انقلاب کا اعلان کروں گا حکومت بھی اسی روز تبدیل ہو جائیگی۔ پولیس کو بھی انہوں نے للکار کر حکم دیا ہے کہ انقلاب کے اعلان کے ساتھ ہی وہ اپنی وردیاں اتاردیں۔ اگر خود نہ اتاریں تو عوام ان کی وردیاں اتار دیں گے یہ نہیں بتایا کہ ان وردیوں کا وہ کریں گے کیا؟ طاہرالقادری سے تو عمران خان اچھے ہیں کہ انہوں نے وردیوں کی بجائے خود پولیس والوں کا حشر نشر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے لانگ مارچ پر بری نظر ڈالی تو انہیں اپنے ہاتھ سے پھانسی دینگے۔ ویسے تو اسلام آباد میں اہم تنصیبات کی حفاظت کے لئے فوج بھی تعینات ہے مگر غصہ سارا پولیس پر نکالا جا رہا ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے ”لسّے“ کو دیکھ کر غصہ آتا ہے اور ”ڈاہڈے“ پر ترس آتا ہے۔
ایک پولیس والے کو اس دھمکی پر رونے کی بجائے ہنستے دیکھا تو اس کی وجہ پوچھی اس نے بتایا کہ پہلے ہی ملک میں قتل اور دوسرے سنگین جرائم میں پھانسی کی سزا پانے والے سات آٹھ ہزار بندے کال کوٹھڑیوں میں ”عیش“ کر رہے ہیں کیونکہ یورپی یونین نے انہیں ”پھانسنے“ کی اجازت ہی نہیں دی یورپی ملکوں امریکہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی ’’زبردست فرمائش‘‘ پر پچھلی حکومت نے ان کی پھانسی تاحیات موخر کر دی تھی، موجودہ حکومت بھی اس فیصلے پر قائم ہے خطرہ یہ ہے کہ ان کی سزا پر عمل کیا گیا تو پاکستان کی تمام غیر ملکی امداد اور قرضے جو ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ ان قرضوں کی ادائیگی اور قوم کے خادموں اور نوکروں چاکروں کے گھروں کا خرچہ چلانے کے کام آتے ہیں بند کر دیئے جائیں گے عمران خان حکومت میں آئے تو پولیس والوں کو اور وہ بھی اپنے ہاتھوں سے کیسے پھانسی دیں گے؟ بے چارے ان ”مستحقین کا“ کیا ہو گا جو پھانسی کے انتظار میں بوڑھے ہو رہے ہیں؟ پھر کپتان صاحب خود پھانسیاں دینے لگے تو ان ”تارے مسیحوں“ کا کیا بنے گا جن کی روزی روٹی اس ”نیک کام“ سے وابستہ ہے؟
بات ہو رہی تھی حکومت کی تبدیلی کی اور نوبت پھانسی تک پہنچ گئی اسلام آباد سے سمندر ویسے تو کافی دور ہے مگر سونامی یہاں پانی کی بجائے سڑک کے راستے پہنچا ہی چاہتا ہے سونامی اصطلاحاً تباہی کے طوفان کو کہتے ہیں اسے لاہور سے تباہی مچاتے ہوئے اسلام آباد پہنچنا اور حکومت کو تبدیل کرنا ہے مگر سونامی والے کہتے ہیں کہ یہ بے ضرر سا، پرامن سونامی ہے جو اس کا ساتھ دے اسے کچھ نہیں کہے گا ، بس ڈی چوک پر اس وقت تک ٹھاٹھیں مارتا رہے گا جب تک حکومت نئے انتخابات کا اعلان کر کے اپنی تبدیلی کے ”پروانے“ پر دستخط نہیں کرتی ان کا کہنا ہے کہ یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اس نے دھاندلی سے 2013ء کے انتخابات جیتے، ایسا کہتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انتخابات تو میر ہزار خان کھوسہ کی ”متفقہ“ نگران حکومت فخرو بھائی کے ”متفقہ“ الیکشن کمیشن اور عدلیہ کے ’’متفقہ‘‘ ریٹرننگ افسروں نے کرائے تھے۔ مگر
ویسے تو تمہی نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا!
سو، الزام نواز شریف پر لگا دیا گیا۔ سونامی والوں نے انتخابات کے فوراً بعد دھاندلی کی ”تھرتھلی“ نہیں مچائی کہ اسے خیبر پختونخوا میں حکومت بنانا تھی یہ حکومت بن گئی تو انہوں نے لاہور کے چار حلقوں کا مسئلہ اٹھایا اس مسئلے کے حل میں تاخیرہوئی تو انہوں نے کہا بات اب چار حلقوں سے آگے بڑھ گئی ہے اب تو پورے ملک میں دھاندلی والے انگوٹھے چیک کراؤ اس بیان کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ جیسے حضرات کے اکسانے پر سرے سے انتخابات ہی دوبارہ کرانے کا مطالبہ کر دیا۔ ڈی چوک پہنچ کر شاید اپنے دس لاکھ، طاہرالقادری صاحب کے ”دو کروڑ“ چوہدری صاحبان اور شیخ رشید صاحب کے نامعلوم عوام کا ”ٹھاٹھیں مارتا سمندر“ دیکھیں تو کہہ دیں کہ انتخابات کا تکلف بھی کیا کرنا اب حکومت ہی ہمارے حوالے کر دو تا کہ تبدیلی کا عمل مکمل ہو جائے۔ رہے انیس کروڑ میں سے باقی 16 کروڑ 80 یا 90 لاکھ عوام تو وہ بھی کوئی ”عوام“ ہیں جو ان کی مرضی معلوم کی جائے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں