• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمۂ موسمیات کی مشترکہ رپورٹس ایک ایسے سنگین موسمیاتی چیلنج کی نشان دہی کر رہی ہیں، جو نہ صرف انسانی صحت بلکہ مُلکی معیشت، زراعت، توانائی کے نظام اور شہری انفرا اسٹرکچر کے لیے بھی ایک بڑے خطرے کی علامت ہے۔

این ڈی ایم اے کی ایڈوائزری کے مطابق، اِس وقت عالمی موسمیاتی تبدیلیوں اور مقامی ماحولیاتی عوامل کے زیرِ اثر مُلک کا ایک بڑا حصّہ شدید گرمی کی لہر، یعنی ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے۔ محکمۂ موسمیات نے درجۂ حرارت کے معمول سے 6سے8 درجے اوپر جانے کی پیش گوئی کی ہے۔ ماہِ جون میں جنوبی پنجاب، بالائی سندھ اور مشرقی بلوچستان جیسے علاقوں میں پارہ52 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ صُورتِ حال اِس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ ہوا میں نمی کا تناسب اور تپش مل کر’’ہیٹ انڈیکس‘‘ کو اُس سطح پر لے جاتے ہیں، جہاں انسانی جسم کا قدرتی طور پر خُود کو ٹھنڈا رکھنے کا نظام جواب دے دیتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے اسے’’ہیلتھ ایمرجینسی لیول-3‘‘ قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے، بڑے پیمانے پر اموات کا خطرہ۔ کراچی ایک بار پھر شدید ہیٹ ویو کے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چُکا ہے۔

جون2026ء کے پہلے عشرے کے دَوران درجہ حرارت 45ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی اور ایسا ہی ہوا۔ بازاروں، بس اسٹاپس اور مصروف شاہ راہوں پر لاکھوں افراد کی آمد و رفت، کُھلے آسمان تلے گھنٹوں کھڑے رہنا اور دن بھر نقل و حرکت ہیٹ اسٹروک کے خطرے کو کئی گُنا بڑھا دیتی ہے۔

جون اور جولائی کے مہینے میں خطرہ صرف دوپہر تک محدود نہیں رہتا۔ شہر میں کُھلے مقامات پر کام کرنے والے لاکھوں مزدور، دہاڑی دار، ریڑھی بان، ڈیلیوری رائیڈرز، ٹریفک پولیس اہل کار اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد صبح سے شام تک شدید دھوپ میں مصروف رہتے ہیں۔

اِس کے علاوہ بچّے بھی کھیل کے میدانوں میں دھوپ کا سامنا کرتے ہیں اور خواتین گھروں میں یا باہر روزمرہ امور کی انجام دہی میں اِسی صُورتِ حال سے دوچار ہوتی ہیں۔ کُھلے آسمان تلے گھنٹوں کھڑے رہنے، جسمانی مشقّت اور پسینے میں بھیگے کپڑوں میں کام کرنے سے ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ محکمۂ موسمیات، کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر کے مطابق، اِس بار سب سے خطرناک عُنصر’’سمندری ہواؤں کی مکمل بندش‘‘ہے۔

عام طور پر مئی، جون میں دوپہر کے بعد جنوب مغرب سے چلنے والی سمندری ہوائیں درجۂ حرارت کو 2 سے3ڈگری کم کر دیتی ہیں، مگر اِس سال ایک ہائی پریشر سسٹم بحیرۂ عرب پر موجود ہے، جو سمندری ہواؤں کو روک رہا ہے۔ اِس کے ساتھ، ہوا میں نمی کے70سے75فی صد تک بڑھنے کے امکانات صُورتِ حال مزید سنگین کر دیتے ہیں۔ جب درجۂ حرارت45 اور نمی70فی صد ہو، تو انسانی جسم پر اس کا اثر’’ہیٹ انڈیکس‘‘کی صُورت میں54ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔

یہ وہ سطح ہے، جہاں15 سے20 منٹ دھوپ میں کھڑا ہونا بھی براہِ راست ہیٹ اسٹروک، بے ہوشی اور اموات کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ صرف ایک موسمی تبدیلی نہیں، مکمل شہری اور صحتِ عامّہ کا بحران ہے، جس کی جڑیں انتظامی کم زوری، ماحولیاتی بگاڑ اور شہری منصوبہ بندی کی ناکامی میں پیوست ہیں۔ کراچی ایک ایسے شہر میں تبدیل ہو چُکا، جہاں’’اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ‘‘ شدّت اختیار کر چُکا ہے۔

کنکریٹ کے بڑھتے ڈھانچے،2010 ء کے مقابلے میں60 فی صد درختوں کی کمی اور غیر منصوبہ بند شہری ترقّی نے شہر کو ایک ایسا ماحول دے دیا ہے، جہاں گرمی جذب تو ہوتی ہے، مگر خارج نہیں ہو پاتی۔ سیٹیلائٹ ڈیٹا بتاتا ہے کہ کراچی کے مرکزی علاقوں جیسے صدر، لیاقت آباد اور گلشنِ اقبال میں رات کا درجۂ حرارت ارد گرد کے دیہی علاقوں سے5 سے 7ڈگری زیادہ رہتا ہے۔ نتیجتاً رات کے وقت بھی درجۂ حرارت کم نہیں ہوتا، جو انسانی جسم کے لیے مزید خطرناک ہے کہ جسم کو ریکور کرنے کا وقت نہیں ملتا۔

جب کراچی قبرستان بن گیا تھا

اس صُورتِ حال کو سمجھنے کے لیے2015 ء کا سانحہ ایک دردناک مثال کی حیثیت رکھتا ہے، جب کراچی نے اپنی تاریخ کی بدترین ہیٹ ویو کا سامنا کیا۔17 سے 24جون2015 ء کے دَوران رمضان المبارک میں شہر میں درجۂ حرارت44 سے45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور حبس کی شدّت نے صُورتِ حال مزید سنگین بنا دی۔

اُس وقت بھی سمندری ہوائیں بند تھیں اور نمی65فی صد سے اوپر تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اِس دوران1,200 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ غیر سرکاری رپورٹس، ایدھی اور چھیپا کے ریکارڈ کے مطابق، یہ تعداد 2,000 سے 2,500تک تھی۔

اس کے علاوہ65,000 سے زائد افراد ہیٹ اسٹروک، شدید ڈی ہائیڈریشن اور بے ہوشی کے باعث مختلف اسپتالوں میں لائے گئے۔ یہ صرف اعداد وشمار نہیں، ایک ایسے شہر کی تصویر ہے، جو چند دنوں کے اندر انسانی بحران کا شکار ہو گیا۔ اِس دوران کراچی کی سڑکیں عجیب ویرانی کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ایم اے جناح روڈ، شاہ راہِ فیصل، لیاری ایکسپریس وے اور صنعتی علاقوں جیسے کورنگی، سائٹ اور لانڈھی کی سڑکیں دن کے وقت تقریباً سنسان ہو جاتی تھیں۔

شدید گرمی اور12سے14گھنٹے کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو گھروں میں محصور کر دیا تھا۔ کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلّت نے صُورتِ حال مزید بگاڑ دی۔ واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز بجلی نہ ہونے سے بند تھے، تو ٹرانسپورٹ نظام مفلوج اور معمول کی شہری سرگرمیاں تقریباً ختم ہو چُکی تھیں۔

فرش بھی بیڈ بن گئے

اسپتال اس بحران کا سب سے بڑا مرکز بن گئے تھے۔ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، سِول اسپتال اور عباسی شہید اسپتال میں مریضوں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ جناح اسپتال میں22 جون2015 ء کو ایک دن میں300سے زائد ہیٹ اسٹروک کے مریض لائے گئے۔ ایمرجینسی وارڈز میں جگہ کم پڑ گئی اور مریضوں کو فرش اور راہ داریوں میں رکھا جا رہا تھا۔ طبّی عملہ مسلسل18سے20 گھنٹے بغیر آرام کام کر رہا تھا۔ ڈاکٹرز اور نرسز خود ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہو رہے تھے۔

کولنگ سسٹمز ناکافی تھے اور کئی جگہوں پر مریضوں کو برف اور پانی کی مدد سے عارضی طور پر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ IV فلوئڈز اور او آر ایس کا اسٹاک3 دن میں ختم ہو گیا۔ ایمبولینس سروسز پر اِس قدر دباؤ تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق، اُن کی60 ایمبولینسز24 گھنٹے سڑکوں پر تھیں، پھر بھی کئی مریض بروقت اسپتال نہیں پہنچ سکے۔

افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ کئی اموات گھروں کے اندر ہوئیں، جہاں بزرگ افراد اور تنہا رہنے والے بروقت مدد حاصل نہ کر سکے۔ لیاری، لیاقت آباد اور اورنگی کی کچّی آبادیوں میں چھوٹے کمروں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے صُورتِ حال گویا تندور جیسی تھی۔ فلاحی اداروں کے سرد خانے لاشوں سے بَھر گئے۔

ایدھی کے سرد خانے میں400 لاشوں کی گنجائش ہے، مگر23 جون کو وہاں650 لاشیں موجود تھیں۔ شہر میں ایک غیر معمولی ہنگامی کیفیت پیدا ہو چُکی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا، جب کراچی نے پہلی بار اجتماعی سطح پر موسمیاتی بحران کی سنگینی محسوس کی۔

ایک کے بعد دوسرا عذاب

شہر ابھی اِس ہیٹ ویو کے اثرات سے مکمل طور پر باہر نہیں آیا تھا کہ27 جون سے مون سون بارشوں نے صُورتِ حال مزید پیچیدہ کر دی۔ نکاسیٔ آب کے ناقص نظام کی وجہ سے کئی علاقے زیرِ آب آ گئے۔ گجر اور اورنگی نالے اوور فلو کر گئے۔ سڑکیں، ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، ٹریفک نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا اور کئی علاقے دنوں تک پانی میں ڈوبے رہے۔

نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، سرجانی ٹاؤن اور گلستانِ جوہر میں3 سے4 فٹ پانی کھڑا تھا۔ اِس دوران کرنٹ لگنے سے42 افراد جاں بحق ہوئے، کیوں کہ پانی میں بجلی کے پول اور تاریں گر گئی تھیں۔ ڈوبنے اور مکانات گرنے سے مزید 18 اموات رپورٹ ہوئیں۔

بجلی، پانی اور صحت کا ٹرپل بحران

اب2026 میں صُورتِ حال ایک بار پھر اُسی طرف بڑھتی دِکھائی دے رہی ہے، بلکہ کچھ پہلوؤں سے زیادہ خطرناک ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق، آبادی2015 کے مقابلے میں1.6کروڑ سے بڑھ کر2.2 کروڑ ہو چُکی ہے۔ جب کہ دیگر ذرائع کے مطابق کراچی کی آبادی 3کروڑ سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ توانائی اور پانی کا بحران صُورتِ حال کو مزید بگاڑ رہا ہے۔ کے-الیکٹرک کے مطابق، جون میں طلب3800 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جب کہ پیداوار2,900 میگاواٹ ہے۔

یعنی900 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے، جس کا مطلب8 سے 10گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے۔ جب کہ عوام کے مطابق، متعدّد علاقوں میں20گھنٹے سے زیادہ بجلی نہیں ہوتی۔ لوڈشیڈنگ کے باعث گھروں اور اسپتالوں میں کولنگ سسٹم، پنکھے، اے سی وغیرہ، غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ واٹر بورڈ کے پمپنگ اسٹیشنز بند ہونے سے شہر کو روزانہ550 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہوگا۔ پانی کی کمی جسم میں ڈی ہائیڈریشن بڑھاتی ہے، جو ہیٹ اسٹروک کا بنیادی سبب ہے۔

خاص طور پر کچّی آبادیوں میں رہنے والے60لاکھ افراد، دیہاڑی دار مزدور، رکشہ ڈرائیورز، ریڑھی بان اور کُھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بازاروں اور صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد شدید دھوپ میں 12سے14 گھنٹے کھڑے رہتے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔ اِن مقامات پر سایہ، پانی اور طبّی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صحت کے نظام کی کم زوریاں بھی اِس بحران کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔

اگرچہ ہیٹ اسٹروک سینٹرز اور ایمرجینسی منصوبوں کے دعوے کیے گئے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آبادی کے تناظر میں سہولتیں ناکافی ہیں۔ کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں مجموعی طور پر ہیٹ اسٹروک کے لیے بیڈز کم مختص کیے گئے ہیں۔ اسپتالوں میں او آر ایس، IVفلوئڈز، کولنگ بلینکٹس اور بنیادی ادویہ کی کمی ایک مستقل مسئلہ بن چُکی ہے۔ جب مریضوں کی تعداد اچانک بڑھتی ہے، تو نظام مکمل طور پر دباؤ میں آ جاتا ہے۔ 2015 ء میں یہی ہوا تھا اور2026 ء میں خطرہ اِس سے بھی بڑھ کر ہے۔

این ڈی ایم اے اور حکومت کی حکمتِ عملی

این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی حالیہ ایڈوائزری اِس امر کی واضح نشان دہی کرتی ہے کہ یہ صرف ایک موسمی پیش گوئی نہیں، ہیلتھ ایمرجینسی ہے۔ اس کے لیے فوری، درمیانی اور طویل المدّتی تینوں سطحوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ اِس بڑھتے مسئلے کے پیشِ نظر ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت بن چُکی ہے تاکہ جانی نقصان کم سے کم کیا جا سکے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ضلعی سطح پر ریلیف مراکز کے قیام اور عوام تک بروقت معلومات کی فراہمی اِس حکمتِ عملی کا بنیادی حصّہ ہے، جس کا مقصد اسپتالوں میں ہنگامی سہولتیں فعال، بجلی اور پانی کی بلا تعطّل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ فوری طور پر’’ہیٹ شیلٹرز‘‘ کا قیام ضروری ہے، جہاں شہری دن کے اوقات میں پناہ لے سکیں۔ این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ ہر ضلعے میں کم از کم20 ہیٹ شیلٹرز بنائے جائیں، جن میں پینے کا ٹھنڈا پانی، او آر ایس، پنکھے اور فرسٹ ایڈ موجود ہو۔

مصروف تجارتی علاقوں میں بھی عارضی ہیٹ شیلٹرز اور واٹر پوائنٹس قائم کیے جائیں۔ کُھلے مقامات پر میڈیکل کیمپس اور کولنگ زون لازمی بنائے جائیں۔ اسپتالوں میں ایمرجینسی نافذ کر کے طبّی عملے کی چھٹیاں منسوخ کرنا بھی ضروری ہے۔ اِسی طرح بجلی اور پانی کی بلا تعطّل فراہمی یقینی بنانا زندگی اور موت کا سوال بن چُکا ہے۔ حسّاس علاقوں، اسپتالوں، واٹر پمپنگ اسٹیشنز اور ہیٹ شیلٹرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینا ناگزیر ہے۔

موجودہ صُورتِ حال اِس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت اور تمام متعلقہ ادارے روایتی ردّ ِعمل سے آگے بڑھ کر ایک جامع، مربوط اور قابلِ عمل حکمتِ عملی اپنائیں۔ سب سے پہلے صوبائی اور شہری سطح پر ایک مؤثر ہیٹ ایکشن پلان فعال کیا جائے، جس میں پیشگی وارننگ سسٹم، ڈیٹا پر مبنی ریسپانس اور اداروں کے درمیان واضح ذمّے داریوں کا تعیّن شامل ہو۔

بلدیاتی اداروں کو ہدایت کی جائے کہ وہ ہر یونین کاؤنسل کی سطح پر عارضی کولنگ سینٹرز قائم کریں، جب کہ پانی کی منصفانہ فراہمی یقینی بنانے کے لیے ٹینکر سسٹم کی سخت نگرانی کی جائے۔ نیز، میڈیا اور کمیونٹی نیٹ ورکس کے ذریعے ایک مؤثر آگاہی مہم چلانا بھی ضروری ہے تاکہ شہری بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔

محکمۂ صحت سندھ: ہائی الرٹ اور فیلڈ ایکشن

محکمۂ صحت اِس پورے بحران میں مرکزی کردار رکھتا ہے اور اِسی تناظر میں حالیہ دنوں میں کیے گئے اقدامات ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سندھ میں تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کو ہائی الرٹ رہنے کی واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں، جب کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو فیلڈ مانیٹرنگ اور فوری ریسپانس یقینی بنانے کی ذمّے داری سونپی گئی ہے۔

اِن ہدایات میں ہیٹ اسٹروک سے نمٹنے کے لیے خصوصی وارڈز کی تیاری، اضافی بیڈز اور کولنگ سہولت کی فراہمی، اور آر ایس، IVفلوئڈز، ڈیکسٹروز، پیراسیٹامول اور بنیادی ادویہ کے ہنگامی ذخائر یقینی بنانے اور ایمبولینس سروسز مکمل طور پر فعال رکھنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔

نیز، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ اسٹاف کو متحرّک کر کے گھر گھر آگاہی اور او آر ایس کی فراہمی جیسے اقدامات بھی نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ مصروف تجارتی علاقوں میں موبائل میڈیکل کیمپس لگائے جائیں۔ مزید برآں، ہیلتھ انفارمیشن سسٹم فعال کر کے روزانہ کی بنیاد پر ہیٹ اسٹروک کیسز کی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ یقینی بنانا نہایت اہم ہے تاکہ بروقت فیصلے کیے جا سکیں اور وسائل کا درست استعمال ممکن ہو۔

سیکریٹری صحت نے ہدایت کی ہے کہ ہر شام6 بجے ڈیٹا سینٹرلائز کیا جائے۔ اگرچہ زمینی سطح پر کچھ چیلنجز اب بھی موجود ہیں، لیکن یہ کہنا بجا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ادارہ جاتی ردّ ِعمل میں بہتری آئی ہے اور ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اِس بحران سے نمٹنے کے لیے زیادہ منظّم انداز میں کام کر رہا ہے۔

احتیاط ہی علاج ہے

اِس تپتی صُورتِ حال میں انفرادی سطح پر احتیاطی تدابیر اور بچاؤ کے طریقے ہی سب سے زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اِن گرم ترین دنوں میں اپنی روزمرّہ زندگی میں نمایاں تبدیلیاں لائیں اور دھوپ کی شدّت سے بچنے کے لیے صبح گیارہ سے شام چار بجے کے دَوران غیر ضروری نقل و حرکت سے مکمل پرہیز کریں۔

اگر باہر نکلنا ہو، تو چھتری کا استعمال کریں، سر گیلے کپڑے سے ڈھانپیں اور ہر20 منٹ بعد سائے میں آرام کریں۔ جسم میں پانی کی کمی پوری کرنے کے لیے پیاس نہ لگنے کی صُورت میں بھی وقفے وقفے سے سادہ پانی، لیموں پانی، ستّو اور نمکیات والے مشروبات، جیسے او آر ایس، استعمال کرنے چاہئیں۔ روزانہ کم از کم3 سے4 لیٹر پانی پیئں۔

چائے، کافی، کولڈ ڈرنکس اور کیفین سے اجتناب برتیں کہ جسم سے پانی کا اخراج تیز کرتی ہیں۔ ہلکے رنگ جیسے سفید، ہلکے نیلے، ہلکے سبز رنگوں کے ڈھیلے ڈھالے سوتی کپڑوں کا انتخاب کریں۔ کالا اور سُرخ رنگ گرمی جذب کرتا ہے۔ باہر نکلتے وقت سَر اور گردن کو گیلے کپڑے یا ٹوپی سے ڈھانپنا ایک لازمی عمل ہونا چاہیے۔ سن گلاسز اور سن بلاک کا استعمال کریں۔ خاص طور پر بچّوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور ایسے افراد کی، جو دل، شوگر، بلڈ پریشر یا گُردوں کے امراض میں مبتلا ہیں، نگرانی بڑھا دینی چاہیے۔

بزرگوں کو اکیلا نہ چھوڑیں اور دن میں3 سے4 بار ضرور اُن کا حال پوچھیں۔ خریداری صبح11 بجے سے پہلے یا شام 6 بجے کے بعد کریں۔ باہر جاتے وقت ماسک، ٹوپی، چھتری اور پانی کی بوتل ساتھ رکھیں۔ مزدور وغیرہ ہر آدھے گھنٹے بعد سائے میں بیٹھ کر پانی پیئں۔ کھانے پینے کی اشیاء ٹھنڈی جگہ منتقل کریں، ورنہ خراب ہو کر فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتی ہیں۔ سماجی رابطوں کے لیے دن کے گرم اوقات سے گریز کریں، جب کہ بچّوں کو دوپہر میں باہر کھیلنے سے سختی سے منع کریں۔

علامات یاد رکھیں

اگر سر چکرانے، متلی، اُلٹی، تیز دھڑکن، سانس پُھولنے، جسم کا درجۂ حرارت104 فارن ہائیٹ سے اوپر جانے یا جِلد کے سُرخ اور خشک ہونے جیسی علامات ظاہر ہوں، تو ایسے شخص کو فوری طور پر ٹھنڈی جگہ منتقل کر کے طبّی امداد فراہم کی جائے۔ یہ ہیٹ اسٹروک کی علامات ہیں اور ان سے 30منٹ میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ متاثرہ شخص کے کپڑے ڈھیلے کریں، ٹھنڈے پانی کی پٹیاں گردن، بغلوں اور رانوں پر رکھیں، پنکھے کے نیچے لٹائیں اور اگر ہوش میں ہو، تو او آر ایس پلائیں۔

بے ہوش ہو تو کچھ نہ پلائیں اور فوری طور پر 1122، 115 یا 1020 پر رابطہ کریں۔ اسے نہلانے کے لیے برف والا پانی استعمال کریں۔ انفرادی احتیاط کے ساتھ ہمیں معاشرتی طور پر بھی ذمّے داری کا ثبوت دینا ہوگا۔ گھروں کے باہر، چھتوں پر، بالکونی میں پرندوں کے لیے مٹّی کے برتن میں پانی رکھنا صدقہ ہے۔2015ء میں ہزاروں پرندے پیاس سے مر گئے تھے۔ سڑکوں پر کام کرنے والے مزدوروں، ٹریفک پولیس، ڈیلیوری رائیڈرز کو بھی ٹھنڈا پانی، او آر ایس یا گیلا کپڑا پیش کریں۔

فیکٹری مالکان اور ٹھیکے داروں کو پابند کیا جائے کہ وہ دن11 سے4 بجے تک کُھلے آسمان تلے کام بند رکھیں، جو سندھ لیبر قانون کے تحت لازم ہے۔ مزدوروں کو سایہ، ٹھنڈا پانی، او آر ایس اور ہر گھنٹے بعد 10منٹ کا وقفہ فراہم کریں۔ خلاف ورزی پر فیکٹری سیل اور 5لاکھ روپے جرمانہ ہونا چاہیے۔ اعلانات کروائے جائیں کہ لوگ ظہر سے عصر تک گھروں پر رہیں۔

محلّے کی سطح پر رضاکار ٹیمز بنائی جائیں، جو بزرگوں، بیماروں اور تنہا افراد کو چیک کریں۔ بچّوں کو دوپہر میں باہر کھیلنے سے روکا جائے اور خواتین کو کچن میں مسلسل کام کرنے کی بجائے وقفے لینے کی تلقین کریں۔

طویل المدّتی حل

کراچی کی شہری منصوبہ بندی کو ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ بڑے پیمانے پر شجرکاری، خاص طور پر نیم، پیپل، برگد جیسے مقامی درخت لگانے ہوں گے، جو10 سے15 ڈگری تک درجۂ حرارت کم کرتے ہیں۔ کراچی کو25فی صد گرین کور چاہیے، جو اِس وقت صرف7فی صد ہے۔ گرین انفرا اسٹرکچر، ہیٹ ریفلیکٹو سفید چھتیں، عمارتوں میں کراس وینٹی لیشن اور پارکنگ ایریاز میں درخت لازمی قرار دیئے جائیں۔

عوامی آگاہی مہمّات بھی ضروری ہیں، جب کہ تعلیمی نصاب میں’’ہیٹ سیفٹی‘‘ کا چیپٹر شامل کیا جائے۔ بلڈنگ کوڈ میں ترمیم کر کے نئی عمارتوں کے لیے گرمی روکنے والا میٹریل لازمی قرار دیا جائے۔ تاہم، اِس نوعیت کے بڑے شہری اور موسمی بحران سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے صرف محکمۂ صحت کی کوششیں کافی نہیں۔ بلدیات، کے-الیکٹرک، واٹر بورڈ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں ’’ہیٹ ویو کنٹرول روم‘‘24/7 فعال ہونا چاہیے۔

ہیٹ ویو صرف قدرتی آفت نہیں رہی، بلکہ انسانی غفلت، ماحولیاتی تباہی اور انتظامی ناکامی کا مجموعہ ہے۔2015ء کا سانحہ ایک وارننگ تھی، جسے ہم نے سنجیدہ نہیں لیا۔ ہم نے درخت نہیں لگائے، بلڈنگ کوڈ نہیں بدلے، واٹر اور پاور سسٹم ٹھیک نہیں کیا۔

2026ء کی پیش گوئیاں اشارہ ہیں کہ اگر ہم نے اب بھی سنجیدگی نہ دِکھائی، تو تاریخ خود کو ایک زیادہ سنگین اور مہلک شکل میں دُہرا سکتی ہے۔ یاد رکھیں، ہیٹ ویو سے لڑنا نہیں، بچنا ہے اور بچاؤ صرف حکومت نہیں، ہر شہری کے ہاتھ میں ہے۔ احتیاط کریں، محفوظ رہیں کہ جان ہے، تو جہان ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، سروسز اسپتال کراچی، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سندھ ہیں)