پاکستان کی ترقی میں جامعات کے کردار پر سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہماری جامعات نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم کی ضروریات پوری کیں بلکہ ریاستی استحکام، صنعتی ترقی، سائنسی تحقیق، انتظامی ڈھانچے اور قومی سلامتی میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔جامعہ پنجاب، جامعہ کراچی، جامعہ سندھ، جامعہ پشاور اور جامعہ بلوچستان جیسے تاریخی ادارے دراصل پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کی بنیاد ہیں۔ ان جامعات نے صرف طلبہ کو تعلیم نہیں دی بلکہ اپنے وسائل، اساتذہ اور علمی صلاحیت کے ذریعے بے شمار نئے اداروں کو جنم دیا۔ آج ملک کی کئی بڑی جامعات ابتدا میں انہی اداروں کے affiliated کالجز یا کیمپس تھیں۔
آج اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہماری جامعات موجودہ دور کی قومی ضروریات پوری کرنے اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ میرے نزدیک اس کا جواب یقیناً ہاں ہے۔ تاہم اس بحث کو صرف چند تاریخی جامعات تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستان میں آج بھی تقریباً تین سے چار درجن ایسے اعلیٰ تعلیمی ادارے موجود ہیں جن میں عالمی معیار تک پہنچنے کی بنیادی صلاحیت موجود ہے۔ اگر ان اداروں پر مسلسل سرمایہ کاری کی جائے، انہیں جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے، ان کی فیکلٹی، لیبارٹریز، تحقیقی ماحول اور گورننس کو مضبوط کیا جائے تو یہ نہ صرف پاکستان کی قومی ضروریات پوری کر سکتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی مؤثر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ان اداروں میں تاریخی جامعات بھی شامل ہیں اور نسبتاً نئے specialized ادارے بھی۔پاکستان میں اس وقت تقریباً ڈھائی ہزار affiliated کالجز مختلف جامعات سے منسلک ہیں جہاں لاکھوں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ تاہم ان میں سے کئی ادارے اساتذہ کی کمی، جدید لیبارٹریز کے فقدان اور تحقیق و تربیت کی محدود سہولیات جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو سنجیدگی سے یہ جائزہ لینا ہوگا کہ آیا یہ ادارے جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم فراہم کر رہے ہیں یا نہیں۔
پاکستان کے پاس آج بھی ایسے متعدد ادارے موجود ہیں جو مناسب سرمایہ کاری اور مؤثر پالیسی سپورٹ کے ذریعے عالمی معیار کی جامعات بن سکتے ہیں۔ میڈیکل سائنسز، انجینئرنگ، نیچرل سائنسز، ایگری کلچر، بائیولوجیکل سائنسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سوشل سائنسز، بزنس ایجوکیشن، کامرس، اکنامکس اور پبلک پالیسی جیسے شعبوں میں بھی ہمارے کئی ادارے نمایاں صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ان شعبوں میں focused investment اور academic reforms کی جائیں تو یہی ادارے مستقبل میں Centers of Excellence بن سکتے ہیں۔یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستانی جامعات کے فارغ التحصیل طلبہ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا بنیادی تعلیمی ڈھانچہ مضبوط ہے۔ قومی سطح پر بھی ہمارے سائنسدانوں، انجینئرز، ڈاکٹروں، سوشل سائنٹسٹ اور ٹیکنالوجسٹ نے مختلف شعبوں میں ملک کی ضروریات پوری کی ہیں۔تاہم ایک بڑا مسئلہ وسائل کا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ کئی برسوں سے محدود ہے، جبکہ دنیا کی بڑی جامعات تحقیق، اختراع اور انسانی وسائل پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ یہی سرمایہ کاری انہیں عالمی درجہ بندی میں ممتاز بناتی ہے۔اگر ہم عالمی جامعات کے مالیاتی ماڈلز کا جائزہ لیں تو فرق واضح نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کا سالانہ بجٹ پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے مجموعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا کی ممتاز جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اسی طرح یونیورسٹی آف کیمبرج کا بجٹ یونیورسٹی آف لیڈز سے کئی گنا زیادہ ہے، جس کے باعث وہ عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے وسائل اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں، اور یہی مسلسل سرمایہ کاری اسے دنیا کی صفِ اول کی جامعہ بناتی ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور اختراع میں جو قومیں زیادہ سرمایہ کاری کرتی ہیں، وہی علمی، معاشی اور تکنیکی میدان میں قیادت حاصل کرتی ہیں۔پاکستانی جامعات میں بھی یہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر پاکستان کے تقریباً پینتیس سے چالیس نمایاں اداروں پر مسلسل اور targeted reinvestment کی جائے، انہیں جدید تحقیقی سہولیات، عالمی معیار کی فیکلٹی، مؤثر گورننس اور مالی خودمختاری فراہم کی جائے تو یہ ادارے نہ صرف عالمی رینکنگ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کی معروف جامعات کا مؤثر مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی جامعات کے لیے مؤثر گورننس اور پائیدار مالیاتی ماڈل تشکیل دیا جائے۔ جامعات کو خودمختاری دی جائے، مگر ساتھ ہی انہیں جوابدہ بھی بنایا جائے۔ انہیں تحقیق، اختراعات اور اپنے اثاثوں کو commercialize کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ مالی طور پر مضبوط ہو سکیں۔ اسی طرح Public-Private Partnership کے ذریعے جامعات کو صنعت، معیشت اور قومی ترقی سے مؤثر انداز میں جوڑا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس علمی صلاحیت، انسانی وسائل اور تعلیمی بنیاد موجود ہے۔ ضرورت صرف اعتماد، درست پالیسی اور مسلسل سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر ہم اپنی جامعات کو مضبوط بناتے ہیں تو یہی ادارے پاکستان کے معاشی، صنعتی، زرعی، سائنسی، سماجی اور تکنیکی مسائل کا پائیدار حل فراہم کر سکتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، صنعت، پالیسی ساز ادارے اور معاشرہ مل کر یہ سوال کریں کہ ہم نے اپنی جامعات کو کیا دیا، اور ان جامعات نے محدود وسائل کے باوجود ہمیں کیا کچھ دیا۔ یہی سوال پاکستان کے تعلیمی مستقبل کا تعین کرے گا۔
(صاحب مضمون چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ہیں)