پاکستان کی سیاست میں بعض موضوعات ایسے ہیں جو وقتاً فوقتاً نئے انداز میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کا مطالبہ بھی انہی موضوعات میں سے ایک ہے۔ جب بھی شہر میں پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، تجاوزات یا شہری انتظامیہ کے مسائل زیر بحث آتے ہیں تو کچھ حلقے یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ کراچی کو سندھ سے الگ کرکے براہ راست وفاق کے ماتحت کر دینا چاہیے۔ بظاہر یہ تجویز کچھ لوگوں کو دلکش محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر جذبات کے بجائے تاریخ، آئین اور زمینی حقائق کی روشنی میں اس مطالبے کا جائزہ لیا جائے تو تصویر بالکل مختلف نظر آتی ہے۔
ایک اردو بولنے والے کراچی کے شہری کی حیثیت سے میرا یہ ماننا ہے کہ کراچی پاکستان کا معاشی دل ضرور ہے، مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سندھ کا دارالحکومت بھی ہے اور صدیوں سے سندھ کی سیاسی، ثقافتی اور معاشی زندگی کا اہم ترین مرکز رہا ہے۔ کراچی کی ترقی سندھ کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اور پاکستان کی خوشحالی سندھ کے استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کے حامی عموماً یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ سندھ حکومت اور بلدیاتی ادارے شہر کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف انتظامی حیثیت تبدیل کرنے سے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟ اگر ایسا ہوتا تو دنیا کے تمام وفاقی علاقے مثالی شہر بن چکے ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شہر کی کامیابی کا تعلق اس کی حکمرانی، منصوبہ بندی، ادارہ جاتی صلاحیت اور وسائل کے مؤثر استعمال سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف اس کے آئینی درجے سے۔
اس بحث میں جنرل پرویز مشرف کا دور خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس زمانے میں ایم کیو ایم کراچی کی سب سے طاقتور سیاسی قوت تھی۔ بلدیاتی نظام کے ذریعے شہر کے انتظامی معاملات پر اس کا نمایاں اثر و رسوخ موجود تھا جبکہ وفاقی حکومت میں بھی جماعت کی مؤثر نمائندگی تھی۔اگر اختیارات کی کمی ہی تمام مسائل کی بنیادی وجہ تھی تو پھر ان ادوار میں، جب ایم کیو ایم وفاقی حکومتوں کا حصہ رہی، کراچی کیلئے پانی کی فراہمی کے کون سے بڑے منصوبے منظور کروائے گئے؟ عوامی ٹرانسپورٹ کے کون سے جامع نظام متعارف کروائے گئے؟ حقیقت یہ ہے کہ شہر کے بیشتر بنیادی مسائل اس تمام عرصے میں برقرار رہے اور کئی معاملات میں مزید پیچیدہ ہوتے گئے۔کراچی کی سیاسی تاریخ کا ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جس دور میں ایم کیو ایم شہر کی سب سے بااثر سیاسی قوت تھی، اسی عرصے میں کراچی کی شناخت ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ بدامنی، لسانی کشیدگی اور سیاسی تشدد کے حوالے سے زیر بحث رہی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں اختیارات مختلف اداروں میں تقسیم ہیں۔ عوام اکثر میئر کراچی یا سندھ حکومت کو ہر مسئلے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ کراچی کے وسیع علاقے کنٹونمنٹ بورڈز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی، بندرگاہی اداروں، ریلوے، وفاقی ایجنسیوں اور دیگر خودمختار اداروں کے زیر انتظام ہیں۔ ان علاقوں میں بلدیاتی حکومت کا دائرہ اختیار محدود یا بعض صورتوں میں بالکل موجود نہیں ہوتا۔یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ کراچی کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں شہری ٹیکس تو مختلف وفاقی یا نیم وفاقی اداروں کو ادا کرتے ہیں، مگر مسائل کی صورت میں انگلیاں سندھ حکومت اور میئر کی طرف اٹھائی جاتی ہیں۔ اس انتظامی تقسیم نے جوابدہی کے نظام کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شہری کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے علاقے میں سڑک، سیوریج، پانی یا پارک کا ذمہ دار ادارہ کون سا ہے۔اسی لیے کراچی کے مسائل کا حل شہر کو سندھ سے الگ کرنا نہیں بلکہ مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مربوط نظام قائم کرنا ہے۔ دنیا کے کامیاب شہروں میں اختیارات کی وضاحت اور اداروں کے درمیان تعاون کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ کراچی میں بدقسمتی سے اکثر ادارے الگ الگ سمت میں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کراچی کے حوالے سے سیاسی بیانیہ اکثر جذباتی انداز اختیار کر لیتا ہے۔ کبھی شہری سندھ کو دیہی سندھ کے مقابلے میں کھڑا کیا جاتا ہے اور کبھی کراچی کو سندھ سے الگ شناخت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کراچی اور سندھ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ کراچی کی صنعتوں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد اندرون سندھ سمیت پورے پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح کراچی کی بندرگاہ اور تجارتی سرگرمیوں سے پورا ملک فائدہ اٹھاتا ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں سندھ حکومت نے کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا ہے۔ شاہراہوں کی تعمیر و مرمت، جدید بس سروسز، برساتی نالوں کی بحالی، پانی کے منصوبے، سڑکوں کی توسیع اور شہری انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ شہر کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ یقیناً ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ مسائل کے باوجود ترقیاتی عمل جاری ہے۔کراچی کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے اسے ایک مربوط شہری اکائی کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت، وفاقی حکومت، بلدیاتی اداروں، کنٹونمنٹ بورڈز اور دیگر متعلقہ اداروں کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ جب تک اختیارات اور ذمہ داریوں میں توازن پیدا نہیں ہوگا، اس وقت تک مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔
کراچی سندھ کا دل ہے اور سندھ کی ترقی کراچی کی ترقی سے وابستہ ہے۔ اس لیے کراچی کے مستقبل پر بحث کرتے وقت سیاسی نعروں، تقسیم کے تصورات اور ماضی کی متنازع بحثوں کے بجائے عملی اقدامات، بہتر طرز حکمرانی، بااختیار بلدیاتی نظام اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کو ترجیح دینی چاہیے۔لہٰذا کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کے نعروں کے بجائے ایک ایسے مربوط نظام کی ضرورت ہے جہاں ڈیفنس سے لے کر ملیر تک تمام شہری ادارے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں، بلدیاتی نمائندوں کو حقیقی اختیارات حاصل ہوں اور تمام متعلقہ ادارے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں۔ یہی راستہ کراچی کو ایک جدید، مستحکم اور خوشحال شہر بنا سکتا ہے۔