سیاست کے خوانِ نعمت پر کئی سبزیاں سجی ہیں۔ م مرچ اپنی بہار دکھارہی ہے، ش شلجم کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے اور ب باتھو بھی تلخ وشیریں رنگ دکھارہا ہے۔ ہرسبزی خود کو ترکاری کا بادشاہ یا ملکہ سمجھتی ہے مگر فیصلہ تو ترکاری پکانے والے شیف نے کرنا ہے کہ اسے کونسی سبزی کو اقتدار کے گوشت میں ملاکر شہنشاہی کے سنگھاسن پر بٹھانا ہے۔ آج کا یہ سبز کالم مقابلے میں موجوداِنہی تین سبزیوں کی آئندہ جانشینی اور ان کی خوبیوں اور خامیوں پر ہے۔ تقابل کو سمجھنے کیلئے انکے آپس میں مکالمے کا اہتمام ہے ،دیکھیں کون اقتدار کی کرسی حاصل کرپاتا ہے۔
م مرچ: سیاست کو ذائقہ میں نے دے رکھا ہے وگرنہ تو سیاست بے ذائقہ،پھیکی اور بدمزہ ہوتی۔ میری رنگارنگی سے ہی سیاسی بحث میں تلخی ہے، میری ہی وجہ سے لباس تراش خراش اور نئے نئے منصوبوں پر تنازعات ہیں، میں نہ ہوں تو کچھ بھی نہ ہو۔
ش شلجم:مجھے گونگلو کہیں یا شلجم ۔میں نے وہ کردکھایا ہے جو آج تک کوئی نہیں کرسکا،سیاست اور طاقت کو کبھی کوئی ایک تانگے میں جوت سکاتھا؟ میں نےیہ کرکے دکھادیا کوئی ایک طاقتور بھی مجھ سے ناراض نہیں ۔میں ان کیلئے اس قدر ناگزیر ہوں کہ میرا متبادل ڈھونڈنا ان کیلئے ناممکن ہوگیا ہے۔
ب باتھو:میں ساگ میں شامل باتھو ہوں ، تھوڑا تلخ ضرور ہوں مگر یادرکھا جائے میرے بغیر ساگ میٹھا ہوجائیگا اور پھر کوئی اسے اصلی ساگ مانے گا نہ اسے آرگینک اور جمہوری قرار دے گا۔ میری باتیںیقیناًبہت سوںکو گراں گزرتی ہوں گی مگران باتوں کوسنے بغیر اقتدار کی جوبھی عمارت تعمیر کی جائیگی وہ کمزور اور ناقص ہوگی۔
م مرچ:مجھے تلخ گردانیں یا ترش ، مستقبل کی سیاسی حقیقت میں ہی ہوں ،میرے سوا اور کون پنج پانیوں کا نمائندہ ہے میرے سوا کس نے گندے دیہات کوستھرا کیا ہے، میرے علاوہ کون ہے جس نے کچی پکی سڑکوں پر الیکٹرک بسیں چلائی ہیں۔ میں کرشمہ ساز بھی ہوں اور حکمت کار بھی، میرے سوا سیاست پھیکی ہے۔
ش شلجم: اس وقت دستر خوان پر خوراک، زراعت اور معیشت کی کمی ہے۔ تدبر، برداشت اور حوصلے سے طاقت اور سیاست کوآگے لیجانے کی ضرورت ہے مرچ ہو یا باتھو دونوں نوجوان اور جذباتی ہیں دونوں میں تلخی، ترشی اور سختی ہے اب دور نرمی ، مصلحت اور مصالحت کا ہے، شلجم نے تین سال نظام چلایا ہے وہی آگے بھی چلا سکتا ہے نہ مرچ نہ باتھو، گونگلو زندہ باد۔
ب باتھو: میں زرداری ساگ کی مصلحت اور مصالحت کا کڑوا حصہ باتھو ہوں میں عوام کا پسندیدہ ہوں میں سب سے اوریجنل ، سب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سب سے جوان ہوں۔ مجھے نظر انداز کرکے آپکا خوانِ نعمت اپنی ساکھ کھو بیٹھے گا میں آپ کی مجبوری ہوں میں ہونگا تو دنیا خوان نعمت ِ کو اصلی اور جمہوری مانے گی وگرنہ نہیں۔
م مرچ:میرارنگ سبزہویاسرخ،خوانِ سیاست میں،میں ہی قابل ذکر ہوں میں نے دوسال میں بہترین حکمرانی ثابت کردی ہے لاہور کا مقابلہ کسی بھی اور شہر سے کرلیں صاف پتہ چل جائیگا ترقی کہاں ہوئی ہے ملکی دستر خوان کو خوبصورت بنانا ہے تو مرچ کو فروغ دینا ہوگا ،م مرچ آگے بڑھے گی تو خوشحالی آئیگی، ترقی ہوگی۔
ش شلجم:پنج پانیوں کی امارت کا راز وفاق کی طرف سے دیا گیا حصہ ہے ،وفاق اپنا پیٹ کاٹ کر مرچ اورباتھوکے دسترخوان کو سجاتا ہے آپ بےشک حکمرانی کی خواہش رکھیں مگرحکومتی ہاتھی کو چلانا نوآموزوں کاکام نہیں۔ طاقت کے مقابلے میں سیاست کرنا شو بوائے یاشو گرل کے بس کی بات نہیں۔ ہم نے نہ صرف پاک بھارت جنگ میں فوج کی سرپرستی کی اور اسے فری ہینڈ دیکر جتوایا بلکہ امریکہ کیساتھ تعلقات استوار کرنے میں بھی حکومت اور فوج نے شانہ بہ شانہ کام کیا، امریکہ ایران ثالثی میں بھی وزیر اعظم،وزیرخارجہ اور فیلڈ مارشل نے ایک ٹیم کی طرح کام کیا ہے۔ اگر اس ٹیم میں تبدیلی ہوئی تو یہ نظام چلنا مشکل ہوجائیگا معیشت تباہی کے دہانے پر تھی ہم نے اسے مستحکم کیا ہے۔
ب باتھو: یہ سارے کام تو ادارے اور اسکے سربراہ نے کئے ہیں وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کا ان کارناموں میں کیا کردار ہے؟فیلڈ مارشل نے بھارت کے عزائم کا دلیری سے جواب دیا ہے ہم وفاقی حکومت کا حصہ نہیں لیکن میرے بیانات نے بھارت کو پریشان کئے رکھا۔ ایران اور امریکہ کی صلح کے عمل سے حکومت نے ہمیں جان بوجھ کر دور رکھا تاکہ سارا کریڈٹ اُس کو مل سکے۔ اگر میں باتھو اس عمل میں شریک کیا جاتا تو اپنے بہترین مبلغ علم اور زبان دانی سے بہترکردار ادا کرسکتا تھا مگر افسوس مجھے دور دور رکھا گیاحالانکہ پاک بھارت جنگ کے بعد دنیا میں پاکستان کے حق میں بیانیہ بنانے میں میرا اہم کردار تھا۔
م مرچ: دیکھیں۔ دعوؤں سے کام نہیں چلتا۔ ہم نے عملی کام کئے ہیں ۔کراچی اور سندھ کا حال دیکھ لیں اور اسکا مقابلہ لاہور اور پنجاب سے کرلیں۔اگلا الیکشن جب بھی ہوگا اس میں جو پنجاب میںجیتے گا وہی اگلی حکومت بنائیگا ۔ باتھو پنجاب میں دس نشستیں تو جیت نہیں سکتا وہ اگلا حکمران کیسے بنے گا؟ یہ ہار پنجاب کی رانی کو ہی پہننا ہے اور کوئی نہ تو اہل ہے اور نہ ہی اس قابل۔
ش شلجم:۔ آپ دونوں جذباتی اور کم عمر ہیں دونوں کا تجربہ بھی بہت کم ہے آپ کی خواہش تو ہے کہ فوراً وزیر اعظم بن جائیں مگر آپ دونوں ترش اور تلخ ہیں۔ مرچ میں خاندانی انا ہے اور باتھو میں فخر اور شان۔ دونوں بہت اچھے ہیں مگر یہ خامیاں انہیں ہائبرڈ نظام میں کامیاب نہیں ہونے دیں گی، اس نظام میں ابھی کئی سال تک ضد نہیں لچک، انا نہیں عاجزی اور فخر نہیں بلکہ فروتنی سے کام چلانا پڑے گا۔
ب باتھو: آپ کی نصیحتیں بجا مگر وفاقی حکومت کی گونگلو پالیسی سے نہ سیاست بدلی ہے اور نہ معیشت۔ آپ نہ اٹھارہویں ترمیم پرکوئی واضح موقف لے رہے ہیں اور نہ ہی این ایف سی پر حالانکہ ان دونوں کاموں کی تکمیل میں آپ پیش پیش تھے ،آپ نہ سیاست کررہے ہیں نہ کوئی اسٹینڈ لے رہے ہیں یہ شلجم پالیسی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی ۔
م مرچ: زرداری کا ساگ ساتھ نہ ہوتا تو باتھو کہیں نظر بھی نہ آتا۔ ہمیں اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی پر طعنے دینے والا باتھو جب طاقتوروں کیخلاف مزاحمت کرے گا تب دیکھیں گے۔
ش شلجم:وقت کیساتھ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، راستہ نکالنا پڑتا ہے، ریاست اگر معاشی مشکل میں ہے تو اسے حل تو کرنا ہے، صوبے قربانی دیں اور ریاستی بوجھ کو ملکر اٹھائیں۔ لڑائی جھگڑے اور مباحثوں سے کام نہیں چلے گا ۔ اٹھارہویں ترمیم بچاتے بچاتے کہیں ہم سارے نظام کو ہی نہ گنوا بیٹھیں، ہمیں بڑی عقل وحکمت سے چلنا ہوگا۔
ب باتھو:نئے صوبے بنانے اور صوبوں سے مالی حصہ لینے سے ملک کمزور ہوگا، مسئلہ ضد کا نہیں اصول کا ہے جو کام پہلے غلط تھا آج بھی غلط ہے کیا ہم بار بار غلطیاں دہراتے رہیں گے؟ مشرقی پاکستان کا المیہ صوبائی حقوق غصب کرنے سے ہوا تھا اب دوبارہ وہی غلطی نہیں دہرانی چاہئے۔
م مرچ: ہمارا روڑے اٹکانے کا کوئی ارادہ نہیں نظام کو چلتے رہنا چاہیے وفاق کو مضبوط بنانا بھی صوبوں کی ذمہ داری ہے، وفاق کا بوجھ مل جل کر اٹھانا چاہیے۔
ش شلجم:مجھے اقتدار کا کوئی لالچ نہیں مگر آپ دونوں جلدی نہ کریں۔ فی الحال مرچ ہضم ہوگی نہ باتھو چلے گا اسلئے گونگلو کی حکمرانی رہنے دو ہائبرڈ میں یہی چلے گا مرچ زیادہ ہوئی تو لڑائی ہوجائیگی اور نظام دھڑام سے گرپڑے گا باتھو کا ساگ کڑوا ہوا تو تب بھی دسترخوان الٹ جائیگا۔