ہمارے ملک کی ہر نئی حکومت برسرِ اقتدار آنے کے بعد ملک کو ترقی اور خوشحالی کی اس راہ پر گامزن کرنے کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے جس کا تصور بانی پاکستان قائد اعظم محمد جناح نے ديا تھا تاہم حقیقی ترقی پسند جمہوری اور آزادمعاشرے کے نظریات کے مطابق کبھی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے یا پھر اُن اقدامات پرعمل درآمد نہیں کیا گیا جہاں لوگ ہم آہنگی سے رہ سکیں اور انہیں مساوی حقوق میسر ہوں۔ محمد علی جناح نے 11اگست 1947ء کے اپنے تاریخی خطاب میں کہا تھاکہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان ایک ترقی پسند،جمہوری ملک ہو جہاں سب کیساتھ انصاف کیا جائے اور اقلیتوں کیساتھ امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے۔جناح کو یقین تھا کہ ریاست کی اولین ذمہ داری تمام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انکی فلاح و بہبود ہے۔
جناح چاہتے تھے کہ پاکستان ، جو ایک نوزائیدہ ریاست ہے، اقوام عالم میں باہمی بھائی چارے اور خیر سگالی کے اصولوں پر عمل کرے۔ جناح نے پاکستان کے ایک جدید ، معتدل اور روشن خیال ریاست ہونیکاتصور پیش کیا تھا۔ تاہم پاکستان آج اس راستے سے بھٹک چکا ہے جسکا خواب بانی پاکستان قائد اعظم نے دیکھا تھا یا فیض احمد فیض کے الفاظ میں یوں کہیے کہ ’’یہ وہ سحرتونہیں‘‘۔
بدقسمتی سے آج پاکستان ایک بہت نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں انتہا پسند عناصر اور قوتیں دن بدن زور پکڑتی جا رہی ہیں اور ملک عملاً ایسی قوتوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ مختصر یہ کہ پاکستان کا مستقبل صرف اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ایک طویل المدتی اور جامع حکمت ِعملی تیار کرے ۔ ایسی حکمت ِعملی جو جناح کے نظریات اور اصولوں کو معاشرے کے ہر طبقے اور سطح پرعملی طور پر رائج کرے جن میں عوام، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور حتیٰ کہ مسلح افواج بھی شامل ہوں۔بد قسمتی سے ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ قائد اعظم ستمبر 1948 میں اس دنیا سے رخصت ہوئے، وہ مشکلات نہ دیکھ سکے جو بعد میں پاکستان کو درپیش آنیوالی تھیں۔ آج حکمران قوم کی تشکیل اور طرزِ حکمرانی میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور ملک میں امن وامان برقرار رکھنے یا شہریوں کا تحفظ کرنے سے قاصر ہیں۔ تاہم اس طرح کے مقاصد کے حصول کیلئے طویل المدت عملی اقدامات اور غیر متزلزل خواہش کے ساتھ ساتھ بغیر کسی سطحی حل کے ایک پختہ عزم کیساتھ حقیقت کا روپ دیا جانا چاہئے۔ملک کو طرز ِحکمرانی کے حوالے سے درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے موجودہ انتظامی نظام جسکی بنیاد وفاق اور چار صوبوں پر مبنی ہے، مضبوط نظم وضبط ، درست انتظامی صلاحیت اور منصفانہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا اب ہمارے لیے قابل عمل نہیں رہا۔ اس کا ایک ممکنہ حل یہ ہو سکتا ہے کہ ملک کو کم ازکم12 انتظامی اکائیوں یا ریاستوں میں تقسیم کیا جائے ۔اس سے متحدہ عرب امارات ،برطانیہ، امریکہ ، سابق سویت یونین جیسی فیڈریشن قائم ہو گی۔ مجوزہ انتظامی اکائیاں یا ریاستیں کسی بھی قسم کی لسانی یا نسلی تقسیم سے بالاتر جمہوری طریقے سے چلیں گی۔ اسی طرح ہر ریاست کا اپنا ایک دارالحکومت،گورنر، وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی ہوگی جسے مضبوط مقامی انتظامی ڈھانچے کی معاونت حاصل ہوگی۔ اس عمل سے حکومت لوگوں کے زیادہ قریب ہو سکے گی، امن و امان بہتر ہوگا اور لوگوں کے مسائل موثر انداز سے حل ہوں گے۔ اس سے میرٹ کی بنیاد پر نئی اور نوجوان قیادت کو فروغ ملے گا اور مقامی شناخت بھی بڑھے گی۔
اس بات پربھی غور کرنا چاہئےکہ قوم کیلئے کونسا نظامِ حکومت زیادہ مناسب ہے پارلیمانی یا صدارتی؟جاگیردارانہ نظام ایک بڑی رکاوٹ ہے، زیادہ انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے وڈیروں اور جاگیرداروں کی نچلی سطح پر طاقت کمزور ہوجائیگی ۔ پارلیمان کی مدت پانچ سے کم کرکے چار سال کرنے سے جمہوری اصولوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور جاگیرداروں کا اثرورسوخ کم کیا جاسکتا ہے۔قانون ساز کرداروں کو وزارتی تعیناتیوں سے الگ کرنے سے بدعنوانی میں بھی کمی آسکتی ہے۔ وزرا کو پارلیمنٹ کی رکنیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کی قابلیت، تجربے اور تعلیم کی بنا پر مقرر کیا جانا چاہئے، اس سے بالخصوص صحت، تعلیم، اور مالیاتی شعبوں میں باصلاحیت اور جوان قیادت میسر آئے گی۔
آخری لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ انتظامی امور میں فوجی مداخلت کو اگر معیار مانا جائے تو پھر ہم آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کوئی درمیانی راستہ کیوں نہیں نکال سکتے ، ایسا راستہ جسکے ذریعے ہم انہیں ساتھ رکھ کر ہی باہر رکھ سکیں؟ اس سلسلے میں قومی سلامتی کونسل NSC) ( کا قیام ہے جسکی تجویز 1990 میں اس کے وقت آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے دی تھی لیکن سیاسی پختگی میں کمی اور طاقت کے ایوانوں میں عملیت پسندی کے باعث اسے عملی جامہ نہیں پہنایاجاسکا۔ پورا نظام اس طرح کی کم نظری کی قیمت چکا رہا ہے ۔ اس تناظر میں ہم دیگر ممالک کا حوالہ دے سکتے ہیں جہاں اس طرح ادارے قومی سلامتی کی پالیسیوں میں معاونت کیلئے کامیابی کے ساتھ قائم کئے گئے۔پاکستان بھی ایک ایسے ماڈل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جو عسکری اداروں کی رائے کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازی کے عمل پر سویلین کنٹرول کو برقرار رکھے۔ یہ طریقہ شاید جناح کے پاکستان کے وژن کو آنیوالے سماجی و معاشی زوال سے بچانےاور ترقی کی راہ پر گامزنکرنے کا واحد راستہ ہو سکتا ہے۔