• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبادی میں مسلسل اضافہ، صورتحال گمبھیر سے گمبھیرتر

زمین، انسان کی بقا، ترقی اور روزگار کا واحد اور بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف خوراک، پانی اور رہائش جیسی اولّین ضروریات پوری کرتی ہے، بلکہ انسانی زندگی کے روحانی، معاشی اور ماحولیاتی پہلوؤں سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔زمین کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ تمام نباتات اور فصلوں کی آماج گاہ ہونے کے ساتھ انسان اور دیگر جان داروں کی خوراک کا سب سے بڑا ذریعہ بھی ہے۔ یہ انسان کو رہنے کے لیے جگہ فراہم کرتی ہے، اس پر مکانات، شہر، اور سڑکیں بنائی جاتی ہیں۔ پھر زمین کے اندر اور اوپر موجود معدنیات، کوئلہ، تیل، گیس اور لکڑی جیسے بے شمار وسائل، معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

زمین پر موجود جنگلات، سمندر اور پہاڑ آب و ہوا متوازن رکھتے ہیں اور آکسیجن فراہم کرکے ماحول کو سانس لینے کے قابل بناتے ہیں۔ غرض یہ کہ انسان کا زمین سے جذباتی و ثقافتی رشتہ بہت قدیم ہے۔ یہ انسان کی تہذیب و تمدن کی بنیاد ہے۔مذہبی نقطۂ نظر سے بھی زمین کو انسان کے لیے ایک بہترین تحفہ اور مسکن قرار دیا گیا ہے، جہاں انسان اپنی زندگی کے مقاصد پورے کرتا ہے۔تاہم، افسوس ناک امر یہ ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں سے دنیا ایسے دَور سے گزر رہی ہے ،جہاں ایک طرف، آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، تو دوسری طرف زرعی زمین تیزی سے سکڑتی جارہی ہے۔

جس کے سبب خوراک کا عالمی بحران مزید شدّت اختیار کرسکتا ہے۔ خشک سالی، بے موسم بارشوں، شدید گرمی اور پانی کی کمی نے زرعی نظام کو بُرے طریقے سے متاثر کرنا شروع کردیا ہے، جب کہ ماحولیات اور بقائے انسانی کے لیے اس کا تحفّظ انتہائی ناگزیر ہے۔

زمین اور اس کے تحفّظ کے پیشِ نظراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 1994ء میں ایک قرارداد کے تحت ہر سال17جون کو دنیا بھر میں ’’بنجر پن اور خشک سالی سے بچاؤ کا عالمی دن‘‘ (World Day to Combat Desertification and Drought) منانے کا فیصلہ کیا، جس کا بنیادی مقصد زمین کی زرخیزی برقرار رکھنا، صحرا زدگی روکنا اور عوام النّاس کو ماحولیاتی بحران، زمین کی زرخیزی میں کمی، پانی کی قلّت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کرنا، نیزعوامی شعور بے دار کرنا وغیرہ شامل ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ دنیا کے کئی خطّوں میں تیزی سے قابلِ کاشت زمین تباہ ہو رہی تھی، جس کے نتیجے میں غذائی قلّت، غربت اور معاشی مسائل میں اضافہ دیکھا جارہا تھا۔

قابلِ کاشت اراضی ایسی زمین کو کہا جاتا ہے، جو فصلوں کی کاشت کے لیے موزوں ہو اور جہاں مٹی، پانی، آب و ہوا اور دیگر قدرتی عوامل زراعت کے لیے سازگار ہوں۔ ایسی زمین میں غذائی اجزاء، مناسب نمی، نامیاتی مادّے اور مٹّی کی ساخت اس قابل ہوتی ہے کہ فصلیں اچھی پیداوار دے سکیں۔ گندم، چاول، مکئی، کپاس، سبزیوں اور پھلوں کی کاشت ایسی زمینوں پر ممکن ہوتی ہے۔ زمین کی زرخیزی صرف اس کی ظاہری حالت سے ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ اس ضمن میں معدنیات، نامیاتی مادّے، اُس کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت اور اُس کی مٹّی کی ساخت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر زمین میں نائٹروجن، فاسفورس اور پوٹاشیم جیسے عناصر کم ہوجائیں یا مٹّی کا قدرتی توازن بگڑ جائے، تو زمین بتدریج کم زور ہونا شروع ہوجاتی ہے اورپھر یہ بنجر اراضی اپنی زرعی پیداواری صلاحیت بڑی حد تک کھو دیتی ہے، جہاں فصلوں کی افزائش مشکل یا ناممکن ہوجاتی ہے، جب کہ صحرا زدگی ایک ایسا عمل ہے، جس میں زرخیز یا نیم زرخیز زمین رفتہ رفتہ اپنی پیداواری صلاحیت کھوکر خشک اور غیر پیداواری حالت اختیار کرلیتی ہے۔

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صحرا زدگی کا مطلب صرف صحراؤں کا پھیلنا ہے، مگر سائنسی طور پر اس کا مطلب زمین کی بتدریج تباہی اور اس کی زرعی صلاحیت میں کمی ہے۔ اوریہ کمی مختلف عوامل کے نتیجے میں رُوبہ عمل ہوتی ہے، جن میں شدید خشک سالی، موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، غیر ذمّے دارانہ زرعی سرگرمیاں، مٹّی کا کٹاؤ اور پانی کا غلط استعمال وغیرہ شامل ہے۔ شمالی افریقا، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور دنیا کے کئی خطّے اس خطرے سے دوچار ہیں۔ہمارے ملک میں قابلِ کاشت زمین کو سب سے زیادہ خطرات سیم و تھور، پانی کی قلّت، غیر متوازن آب پاشی، جنگلات کی کمی و کٹائی اوربے دریغ شہری توسیع کے سبب لاحق ہیں۔

علاوہ ازیں سندھ اور جنوبی پنجاب کے کئی زرعی علاقے زمین میں نمکیات میں اضافے کے مسئلے سے بھی دوچار ہیں، جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ بلوچستان کے دُور دراز کے تقریباً تمام ہی علاقے خشک سالی کے باعث زرعی بحران کی زد میں ہیں، جب کہ رہائشی منصوبوں کے سبب بھی زرعی زمینیں تیزی سے ختم ہوجاتی جارہی ہیں، خصوصاً کراچی، حیدرآباد، لاہور، ملتان، فیصل آباد، کوئٹہ، پشاور اور اسلام آباد کے گرد و نواح میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں رہائشی منصوبوں کی نذر ہو چکی ہیں اور یہ رجحان مستقبل میں غذائی تحفّظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

زرخیز زمینوں کی کمی کی بنیادی وجوہ میں موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عوامل کے ساتھ غیر سائنسی زرعی طریقے اور انسانی غفلت بھی شامل ہیں۔ تاہم، افسوس ناک امر یہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے اُن وسائل کا خود ہی خاتمہ کررہا ہے، جن پر اس کی بقا کا انحصار ہے۔

واضح رہے، زمین کی زرخیزی میں کمی کا سب سے پہلا اور براہِ راست اثر خوراک کی پیداوار پر پڑتا ہے۔ جب زرعی زمین سکڑنے لگتی ہے تو گندم، چاول، مکئی، دالوں، سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں غذائی قلت کے ساتھ منہگائی میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، جب کہ آبادی میں ہوش رُبا اضافے کے سبب ہمیں پہلے ہی خوراک کی کمی کا سامنا ہے، تو اگر قابلِ کاشت زمین اسی طرح کم ہوتی رہی، تو مستقبل میں غذائی تحفّظ ایک بڑا عالمی مسئلہ بن سکتا ہے۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

جب فصلوں کی پیداوار کم ہوتی ہے، تو کسانوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے، زرعی برآمدات میں کمی آتی ہے اور قومی اقتصادی ترقی کی رفتار سُست پڑ جاتی ہے۔خصوصاً چھوٹے کسان، جو محدود وسائل کے ساتھ کاشت کاری کرتے ہیں، زمین کی تباہی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات فصلوں کی مسلسل کاشت کے باوجود ناکامی انہیں قرضوں اور غربت کے دائرے میں دھکیل دیتی ہے۔ جب زمین بنجر ہوتی ہے، تو درخت، پودے، جانور، پرندے اور دیگر جان دار سب ہی متاثر ہوتے ہیں۔

زمین کی تباہی کے نتیجے میں سبزہ کم ہوتا ہے، جنگلی حیات کے مسکن ختم ہونے لگتے ہیں، مٹّی کی ساخت خراب ہوجاتی ہے، گردوغبار اور فضائی آلودگی بڑھتی ہے۔ مطلب، مقامی ماحولیاتی نظام بُری طرح عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’صحرا زدگی ‘‘ پورے ماحولیاتی نظام کے لیے خطرہ تصور کی جاتی ہے۔ زمین کی خرابی پانی کے ذخائر پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ زرخیز مٹّی، بارش کا پانی جذب کر کے زیرِ زمین ذخائر بہتر بناتی ہے، لیکن جب زمین سخت اور بنجر ہو جائے، تو پانی جذب ہونے کے بجائے ضائع ہونے لگتا ہے۔

یوں سمجھیے زمین کا بنجر ہونا اور موسمیاتی تبدیلی ایک دوسرے سےباہم منسلک ہیں۔ جب جنگلات ختم ہوتے ہیں اور زمین خشک ہوتی ہے، تو کاربن جذب کرنے کی قدرتی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس سے عالمی حدّت (Global Warming) میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اس وقت ملک کے مختلف حصّوں، خصوصاً تھر، بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ کے بعض علاقوں میں پانی کی قلّت، زمین میں نمکیات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں، ایسے میں اگر قابلِ کاشت زمین کے تحفّظ پر فوری توجّہ نہ دی گئی، تو مستقبل میں غذائی، معاشی اور سماجی بحران کے شدّت اختیار کرنے کے ساتھ معیشت کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ہمارا زرعی نظام زیادہ تر دریائے سندھ اور اس کے نہری نظام پر انحصار کرتا ہے، جسے دنیا کے بڑے آب پاشی نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن ماضی میں پانی کی غیر متوازن تقسیم، نہروں سے رِساؤ، زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال اور ناقص نکاسیٔ آب نے کئی علاقوں میں زمین کی زرخیزی متاثر کی۔ ماہرین کے مطابق، پانی جمع ہونے (Water logging) اور زمین میں نمکیات بڑھنے (Salinity) کے باعث لاکھوں ایکڑ زمین متاثر ہو رہی ہے۔

اس تناظر میں نہری نظام کو مزید مضبوط اور فعال کرنے کے ساتھ ہر سال نئے چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے کی اشد ضرورت ہے، تا کہ پانی کی کمی پوری کی جا سکے۔ اسی طرح سیم و تھور سے نمٹنے کے اقدامات بھی بے حد ضروری ہیں۔ ہماری لاکھوں ایکڑ زرعی زمین نمکیات اور پانی جمع ہونے کے مسئلے سے متاثر ہے، جس سے فصلوں کی پیداوار میں نمایاں کمی آتی ہے۔

اگرچہ ماضی میں سیم و تھور اور پانی جمع ہونے کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کئی منصوبے متعارف کروائے گئے،جن سے بعض علاقوں میں بہتری بھی آئی، لیکن ہنوززمین کی بحالی، جدید آب پاشی، جنگلات کے فروغ اور زرعی اصلاحات کے میدان میں مزید مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

اس ضمن میں ہمیں بھی دنیا کے زرعی ممالک کی حکمت عملیوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کام کرنا ہو گا۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہمارے پڑوسی ممالک چین اور بھارت ہیں۔ چین نے صحرا کو سبزہ زار میں بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے دنیا کے بڑے شجرکاری منصوبے شروع کیے، جنھیں عام طور پر‘‘گرین گریٹ وال’’کہا جاتا ہے۔

ان منصوبوں کے تحت وسیع پیمانے پر درخت لگائے گئے تاکہ ریت کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے، مٹی کا کٹاؤ کم ہو اور زرعی زمین محفوظ رہے۔چین نے جدید آب پاشی نظام، مٹی کے تحفّظ، بارش کا پانی ذخیرہ کرنے اور زراعت میں سائنسی طریقوں کو فروغ دے کر کئی خشک علاقوں میں زمین کی بحالی کا عمل شروع کیا۔ اس کے علاوہ چین اور بھارت نے اپنی کئی ریاستوں میں بارش کا پانی ذخیرہ کرنے، چھوٹے ڈیمز بنانے اور مٹّی کے تحفّظ کے منصوبے شروع کیے۔

بعض علاقوں میں کسانوں کو فصلوں کی گردش (Crop Rotation)، نامیاتی کھادوں اور کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف راغب کیا گیا۔بھارت کے بعض خشک علاقوں میں بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی (Rainwater Harvesting) نے زرعی زمین کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح افریقا کے کئی ممالک میں صحرا زدگی کے حل کے لیے علاقائی منصوبے شروع کیے گئے، جن کا مقصد لاکھوں ایکڑ زمین پر سبزہ اُگانا اور بنجر زمین کو بحال کرنا ہے۔

جب کہ مغربی ممالک نے زمین کی حفاظت کے لیے سخت زرعی قوانین نافذ کیے۔ کسانوں کو مٹی کی جانچ، محدود کیمیائی کھاد، قدرتی طریقۂ کاشت، اور ماحول دوست زراعت کی تربیت دی گئی۔ بعض ممالک میں زرعی زمین کو رہائشی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر سخت پابندی لگانے کے ساتھ قانونی ضوابط نافذ کیے گئے، تاکہ مستقبل کے لیے خوراک کی پیداوار محفوظ رکھی جا سکے۔ ترقی یافتہ ممالک کی ان مثالوں سے کئی اہم اسباق ملتے ہیں، جن پر فوری عمل درآمد کی ضرورت ہے۔

اس ضمن میں سب سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ شجرکاری کو قومی ترجیح بنایا جائے، جنگلات کی کٹائی پر مستقل پابندی عائد کی جائے تاکہ مٹی کا کٹاؤ کم ہو، جدید آب پاشی نظام خصوصاً ڈرپ اری گیشن کو فروغ دیا جائے۔ قابلِ کاشت اراضی کو بنجر ہونے سے بچانے اور اس کی زرخیزی برقرار رکھنے کے لیے جدید زرعی طریقے اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ یاد رہے، ایک ہی زمین پر بار بار ایک ہی فصل کاشت کرنے سے زمین کی مخصوص غذائیت ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا، مختلف فصلیں مثلاً گندم، کپاس، اور دالیں باری باری کاشت کی جائیں۔

کھیتی باڑی کرنے والے کاشت کار،کسان زمین میں قدرتی اجزاء کی کمی پوری کرنے کے لیے گوبر کی کھاد (Farmyard Manure) اور ہری کھاد کا استعمال یقینی بنائیں۔زمین کو سیم و تھور سے بچانے کے لیے نکاسیِ آب کا بہترین نظام بنائیں۔ فصل کو ضرورت کے مطابق پانی دیں اور قطرہ قطرہ آب پاشی کا طریقہ استعمال کریں۔سال میں کم از کم ایک بار لیبارٹری سے مٹی کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ زمین میں کن غذائی اجزاء (مثلاً نائٹروجن، فاسفورس) کی کمی ہے، اور اسی حساب سے کھاد کا استعمال کریں۔ کھیتوں کے اطراف گھنے درخت اور باڑیں لگائیں تاکہ تیز ہواؤں سے مٹّی اُڑ نہ سکے۔

علاوہ ازیں، حکومتی سطح پر بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے شروع کیے جائیں۔ زرعی زمین کو ہاؤسنگ اسکیمز سے محفوظ رکھنے کے لیے واضح قانون سازی اور سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ کسانوں کی تربیت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھائی جائے۔ زمین کی سائنسی جانچ اور مٹّی کی بحالی کے پروگرام شروع کیے جائیں۔ جس طرح دنیا کے کئی ممالک نے محدود وسائل کے باوجود قابلِ کاشت زمین کے تحفّظ میں کام یابیاں حاصل کی ہیں۔

اگر پاکستان میں بھی سنجیدہ پالیسی کے تحت سائنسی تحقیق اور عوامی شمولیت کو ترجیح دی جائے، تو زمین کو بنجر ہونے سے بچاکر غذائی خودکفالت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، زرعی تحقیقاتی اداروں کو بھی مزید فعال بنایا جائے، تا کہ مٹّی کی صحت کی نگرانی ہو، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا تجزیہ کیا جا سکے، کم پانی میں زیادہ پیداوار دینے والے بیج اور فصلیں متعارف کروائی جائیں، مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجی سے زرعی منصوبہ بندی بہتر بنائی جائے۔ اس حوالے سے عوام کو اس بات کی آگہی دینا ازحد ضروری کہ کیسے زرخیز زمینیں آہستہ آہستہ بنجر ہو کر صحرا میں تبدیل ہو رہی ہیں اور اس رجحان کو روکنا کیوں ناگزیر ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید