• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اعدادو شمار پر مبنی میڈیا رپورٹس کے مطابق مُلک میں حصولِ خُلع کے مقدمات دائر ہونے کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیاہے۔ وفاقی دارالحکومت جہاں تعلیم اور شعور قدرے زیادہ ہے، وہاں خُلع طلب کرنے کی شرح بھی دوسرے شہروں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اِس صورتحال کو کسی بھی طرح مُثبت قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ ایک پاکیزہ اور مُبارک بندھن کا کانچ کی طرح نازک اور کمزور ہو نا اِس مُقدس رشتے کی بے قدری اور بے توقیری کے مُترادف ہے۔ ربِ کریم نے قرآنِ پاک میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیاہے۔ ایک دیگر مقام پر ربِ کریم کا ارشاد ہے کہ میں نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی ہے۔ خُلع کے مقدمات کی تعداد میں اضافے کے پیچھے اِس کی ممکنہ یا قریب ترین وجوہات کا تعین کرنا ضروری ہے۔ دو تین دَہائیوں پہلے تک شادی کے بندھن خاندان کے بزرگ لوگ طے کیا کرتے تھے۔ کوئی بھی رشتہ طے کرتے وقت ہر طرح کے پہلو کو مدِ نظر رکھا جاتا تھا ۔ ہر اونچ نیچ اور کمی بیشی پر غور و خوض ہوا کرتا تھا۔ رشتے کا فیصلہ کرتے وقت دونوں خاندانوں کے حالات و معاملات اور موزونیت کو خاص طور پر پرکھا اور جانچا جاتھا۔ رشتوں کو بچانے کیلئے خاندان کے بزرگ جرگے کیا کرتے تھے۔ مذاکرات ہوا کرتے تھے ۔حتیٰ کہ علاقے کے معززین بھی اپنے ڈیروں پر بیٹھک لگایا کرتے تھے۔ لڑکے یا لڑکی کی کسی بھی کمی کوتاہی کو دُور کرنے کی بھر پور کوشش کی جاتی تھی ۔ دوسرے الفاظ میں یُوں کہہ لیجئے کہ رشتہ تو صرف میا ں بیوی کے مابین ہوا کرتا تھا مگر اِس کو تحفظ دینے والے پُورے پُورے خاندان ہوا کرتے تھے۔ یہ تمام باتیں اُس دور کی ہیں کہ جب دنیا وی تعلیم ابھی عام نہیں ہوئی تھی مگر لوگ مذہبی احکامات اور اخلاقیات پر کاربند رہتے ہوئے مستحکم اور مضبوط خانگی نظام کو بڑی کامیابی کیساتھ لیکر چل رہے تھے۔ طلاق کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی۔ بزرگ میاںبیوی کے درمیان جھگڑے کو حل کرادیا کرتے تھے۔ طلاق کو بڑی نفرت اور معیوبیت کے ساتھ دیکھا جاتا تھا۔ خلع کا تو تصوّر بھی نہیں تھا۔ اگر کوئی خاوند طلاق دے ہی دیتا تو اُس کا اور اُس کے پورے خاندان کا سماجی اور معاشرتی بائیکاٹ کیا جاتا تھا۔ جب وقت بدلنا شروع ہوا تو آہستہ آہستہ گھروں کے سربراہ بابے اور مائیاں راہی مُلک عَدم ہو گئے۔ گھروں کی سربراہی بکھرنے لگی۔ اختیارات اور فیصلہ سازی انفرادی ہاتھوں میں آگئی۔ اب اپنی انفرادی مرضی سے چَٹ پَٹ شادی کا رواج اپنے عروج پر ہے۔ وہ شادیاں جن میں گھر والے شریک یا شامل نہ ہوں اُسکا کامیاب ہونا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ راقم کی تین دہائیوں کی وکالت کا یہ مُشاہدہ ہے کہ وہ رشتے جو خاندان یا والدین کی مرضی و شمولیت کے بغیر ہوئے اُن میں سے تقریباََ 90 فیصد ناکام یا شدید مشکلات و مسائل کے شکار ہوئے ہیں۔ ایسی شادیاں بمشکل تین چار سال ہی چل سکی ہیں۔ مُلک بھر کی عدالتوں میں زیرِ التوا حصولِ خلع کے مقدمات کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ شادی کے ابتدائی پانچ سالوں ہی میں ناچاقی اور مسائل نے معاملہ اتنا سنگین کر دیا کہ نوبت طلاق یا خُلع تک جا پہنچی ۔ آج تعلیم بھی ہے، شعور بھی ہے ،اپنے اپنے حقوق سے بھر پور آگاہی بھی موجو د ہے۔ ہر ضلع میں فیملی کورٹس موجود ہیں۔ طرح طرح کی قانون سازی بھی ہے۔ مگر پھر بھی ہمارا خاندانی نظام بد قسمتی سے لڑ کھڑا رہا ہے اور لَرزہ بَرانَدام ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنا قانونی اہتمام ، انتظام و انصرام ہونے کے باوجود خانگی اور عائلی معاملات مشکلات سے دوچار اور دِگر گوں کیوں ہیں؟ کیا یہ دُرست نہیں کہ جب کسی گھر کی بات باہر نکل جائے یا پھر معاملہ پرائے ہاتھوں میں جا پہنچے تو پھر اُ س گھر کا شیرازہ بکھر کر ہی رہتا ہے۔ زیرِ بحث موضوع اور اسکی صورتحال کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اَب گھر یا خاندان کی سطح پر ایسے بزرگ موجو د نہیں ہیں کہ جو معاملات کو سُلجھا نے میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور اگر بزرگ موجود ہیں تو بد قسمتی سے اُن کو اب کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ وہ بالکل لا تعلق، غیر موثر ، بے اثر ، بے اختیار اور الگ تھلگ گھروں کے کسی کونے کھدرے میں پڑے اپنے دن گزار رہے ہیں۔ اگر وہ کچھ مداخلت یا رائے زنی کرنے کی کوشش کر ہی بیٹھیں تو اُنہیں یہ کہہ کر خاموش کرادیا جاتا ہے کہ آپ پرانے زمانے کے لوگ ہیں، ا ب دُنیا بدل چکی ہے۔ ہم آپ سے بہتر جانتے ہیں۔ اِن حالات میں آجا کر صرف عدالتی فورم ہی بچتا ہے کہ جہاں پر نالش دائر ہو سکتی ہے۔ اگر عدالتی نظام پر نظر ڈالیں تو ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ مجریہ 1964 کی دفعہ 10 میں Pre-Trial Proceedings کا ذکر کیا گیا ہے۔ جس میں مصالحت کی ایک کوشش کی جاتی ہے تاکہ گھر علیحدگی سے بچ جائے مگر یقین جانئے کہ مصالحت کی یہ کوشش انتہائی بے اعتنائی سے کی جاتی ہے ۔ عمومی طور پر صرف ایک ہی جملے میں سوال کیا جاتا ہے کہ صلح صفائی کا کوئی امکان ہے یا کہ نہیں ، خاتون جواب دیتی ہے کہ نہیں اور ساتھ ہی خلع کی ڈگری فوراََ جاری کر دی جاتی ہے۔ خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ مصالحت کیلئے دونوں خاندانوں کے بزرگوں پر مشتمل مصالحتی کونسل تشکیل دی جائے۔ یہی حکم قرآن مجید میں بھی ہے کہ میاں بیوی میں ناچاقی کی صورت میں دونوں خاندانوں کے افراد پر مشتمل ثالث مقرر کئے جائیں۔ ایسے مُصالحت کاروں کو ایک مقررہ مدت دی جانی چاہیے۔ مُصالحت کی کارروائی رسمی نہیں بلکہ انتہائی موثر ، جاندار ، جامع اور بھر پور انداز میں ہونی چاہئے۔ اِس مقصد کے حصول کیلئے مناسب قانون سازی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ہم سب پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم فیملی لائف کے تحفظ اور مضبوطی کیلئے اپنا اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

تازہ ترین