• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بادشاہی اور نمائندہ حکومت میں فرق جواب دہی کا ہوتا ہے۔ بادشاہ کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا مگر نمائندہ حکومت کی بنیاد ہی عوام اور منتخب اداروں کی طرف سے جوابدہی پررکھی گئی ہے ۔ہندوستان میں برطانوی راج سے آزادی کی تحریک چلی تو پہلا مطالبہ ہی نمائندہ یا ذمہ دار حکومت کا تھا چنانچہ 1892ء اور پھر 1919ء سے ہی ہندوستانی ہندوئوں اور مسلمانوں کو مختلف ذمہ داریاں ملنی شروع ہوگئی تھیں۔ اس ذمہ دار حکومت یا نمائندہ حکومت کا آغاز 107سال پہلے ہوا۔ ذمہ دار حکومت یا نمائندہ حکومت کا مطلب عوام کو اختیار دینا اور پھر انہیں جوابدہی کا حق دینا بھی تھا۔ برطانوی راج میں آقا اور غلام کا چلن تھا مگر ہر سطح پرتب بھی جوابدہی کا نظام رائج تھا۔ اخبارات تنقید کیلئے آزاد تھے، ایوانوں میں کھلے عام تنقیدی تقاریر ہوتی تھیں عوامی تنقید اور اعتراضات پہ پالیسیاں بدلی جاتی تھیں غلطی ہو جاتی تو عدالتی اور پارلیمانی کمیشن بنائے جاتے تھے۔ انڈیا ایکٹ 1935ء کے بعد سے تو باقاعدہ حکومتی پارٹی اور اپوزیشن موجود رہے، حکومتی احتساب اور جوابدہی کے فورم زیادہ موثر ہوگئے ۔قیام پاکستان کے بعد سے سیاسی حکومتیں رہیں یا فوجی حکومتیں ہر ایک نے ’’ذمہ دار حکومت‘‘ کی طرح فری پریس کا سامنا کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد کے گیارہ سال تو مکمل سیاسی حکومتیں تھیں جو اپنا سیاسی بیانیہ اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے پیش کرتی رہیں ،اسمبلی میں طویل مباحث ہوتے تھے اپوزیشن کے اعتراضات کے جواب دئیے جاتے تھے۔ 1958ء میں ایوب خانی مارشل لا آگیا مگر پھر بھی جوابدہی کا سلسلہ جاری رہا عوام سے مسلسل رابطہ اور انکو ملکی معاملات اور بین الاقوامی حالات پر اعتماد میں لیا جاتا رہا۔ ہم وطن مارشل لا میں بھی اتنے اہم رہے جتنے سیاسی حکومتوں میں تھے یہ سلسلہ ضیاء اور مشرف کے ادوارمیں بھی جاری رہا۔ جنرل ضیاء الحق اورجنرل مشرف اہم غیر ملکی دوروں کے بعد یا تو خود یا انکے وزرائےخارجہ، ملک کے ایڈیٹرز کو بریف کیا کرتے تھے۔ وزرائے اعلیٰ بھی صحافیوں اور اینکروں سے ملاقات کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم اسمبلی میں معمول کے مطابق شرکت کرتے اور سوالوں کے جواب دیاکرتے تھے۔ محمد خان جونیجو اور یوسف رضا گیلانی تو اسمبلی کے ہر اجلاس میں لازماً شریک ہوتے تھے اور بنفس نفیس سوالوں کے جواب دیا کرتے تھے۔ ذمہ دار حکومت یا نمائندہ حکومت کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔ یہ کوئی بادشاہت تھوڑی ہے کہ وزیر اعظم اور وزراء نہ ایوانوں میں آئیں، نہ وزرائے اعلیٰ پریس کانفرنس کریں، نہ کبھی عوام کے سامنے پیش ہوں اپنا دیدار اور درشن صرف ٹی وی اسکرینوں پر اونچے ایوانوں میں دعوت شیراز اڑاتے ہوئے دیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں سو خرابیاں ہونگی مگر خود عمران خان ہر ہفتے جلسوں سے خطاب کرتے، اپنے مخالفوں کو بھی انٹرویوز دیتے اور ہر فورم پر اپنے بیانیے کو پیش کرتے تھے انکے دور میں ہر وزارت کا ایک ترجمان تھا، آزاد میڈیا کیلئے عمران کی زیادتیاں ایک طرف لیکن انہیں میڈیا کی اہمیت کا مکمل احساس تھا اور وہ پوری ذمہ داری اور توجہ سے اس کو ترجیح دیتے تھے۔

موجودہ حکومت چاہے وہ پی ڈی ایم 2تھی یا موجودہ مخلوط حکومت، اسکے بارے میں تصور ہے کہ یہ تجربہ کار سیاستدانوں کی حکومت ہے جو کئی نشیب و فراز دیکھ کر بہت کچھ سیکھ چکے ہیں اور بنیادی طور پر سیاسی اور جمہوری لوگ ہیں انہیں سیاست کی مبادیات کا پوری طرح علم ہے یہ حق نمائندگی، جوابدہی، آزادی صحافت اور تمام اداروں کی بقا اور سلامتی سے نہ صرف پوری طرح واقف ہیں بلکہ کئی دہائیوں سے ان اہداف کےحصول کیلئے جدوجہدبھی کرتے رہے ہیں مگر گزشتہ چند برسوں میں حکومتی رویہ اپنے ماضی کی تاریخ سے بالکل برعکس رہا ہے۔ نمائندہ حکومت اور ذمہ دار حکومت کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے پختہ کار سیاستدانوں نے جوابدہی سے مکمل گریز کا رویہ اپنا لیا ہے۔ نمائندہ حکومت کی جوابدہی کیلئے پارلیمانی جوابدہی،عدالتی جوابدہی، میڈیا جوابدہی اور پھر انتخابی جوابدہی کا نظام رائج ہےمگر اب ان میں سے کسی بھی طرح کی جوابدہی موجود نہیں ہے۔اکثر وزیر ایوانوں سے غیر حاضر ہوتے ہیں وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ سال میں ایک بار اسمبلیوں میں درشن کروا دیں تو انکی کمال مہربانی ہوتی ہے، بدقسمتی سے تحریک انصاف کی اپوزیشن جماعت بھی انتہائی غیر سنجیدہ اور غیرتجربہ کار ہے جو تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن ہونے کے باوجود ابھی تک پارلیمان کو مباحث کا سرگرم فورم نہیں بنا سکی۔ کسی بڑے مسئلے پر حکومت سے جواب نہیں مانگ سکی اور اگر اپوزیشن کوئی ایسا سوال اٹھا بھی دے توالا ماشاء اللہ حکومت اسے درخور اعتنا ہی نہیں سمجھتی۔ میری یادداشت میں اچھی طرح محفوظ ہے کہ محمد خان جونیجو، بینظیر بھٹو اور یوسف رضا گیلانی خارجہ اور داخلہ امور پر اسمبلیوں میں اٹھائے گئے سوالات کے خود جواب دیا کرتے تھے۔ موجودہ حکومت، وزیر اعظم ،وفاقی وزراء اور صوبائی وزرائے اعلیٰ کے اس بادشاہی رویے کی وجہ سے اسمبلیوں کا فورم بے معنی اور بے توقیر ہو گیا ہے حالانکہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کا والد یہی ادارہ ہے اپنی ولدیت سے خود محروم ہونا اپنے پر کاٹنے کے مترادف ہے ۔ دنیا میں جہاں جہاں سیاسی آزادیاں ہیں اور تھوڑی بہت جمہوریت ہے وہاں صحافت یا میڈیا کو جوابدہی کا اہم ترین عنصر شمار کیا جاتا ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنا بیانیہ بناتے اور اسے عوام میں مقبول کرنے کیلئے میڈیا کا سہارا لیتے ہیں مگر موجودہ حکومت نے میڈیا کے ذریعے بیانیہ بنانے یا عوام تک پہنچانے کو فضول مشق سمجھتے ہوئے گویا یہ چلن ہی متروک قرار دے دیا ہے۔

پاکستان اس وقت اہم ترین بین الاقوامی تبدیلیوں کی آماجگاہ ہے۔ وزیراعظم صاحب دنیا بھر میں امن کی لَو جلا رہے ہیں بقول استاد دامن ’’کیہ کری جانا ایں، کدی شملے تےکدی مری جانا ایں، کیہ کری جانا ایں‘‘ یعنی کبھی جدہ اور کبھی واشنگٹن جا رہے ہیں مگر بے خبر پاکستانی عوام کو کچھ نہیں بتا رہے کہ ہم بین الا قوامی طور پر اڑ رہے ہیں یا پھر ابھی تک زمین پر ہی ہیں۔ مقتدرہ تو پھر بھی آئی ایس پی آر کے ذریعے بھارت اور خارجہ امور پر موقف کا اظہار کرتی ہے مگر وزیراعظم اور نہ وزیر خارجہ ابھی تک ایڈیٹرز اور نہ عام اخبار نویسوں کے ذریعے اردگرد ہونیوالی تبدیلیوں کی تفصیل اور پاکستانی موقف بتا سکے ہیں حالانکہ پہلے روایت تھی کہ ہر اہم عالمی واقعہ اور ہر اہم خارجی دورے کے بعد وزیرخارجہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں بریفنگ دیتے تھے مجھے اس طرح کی آخری بریفنگ یاد ہے جو جنرل مشرف کے زمانے میں وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے اسٹیٹ گیسٹ ہائوس لاہور میں دی تھی عوام کو یہ تو علم ہے کہ موجودہ حکومت کچھ بڑا اور کچھ اچھا کر رہی ہے مگر کیا کر رہی ہے یہ کسی کو علم نہیں۔ سعودی عرب کیساتھ دفاعی معاہدہ ہو یا متحدہ عرب امارات سے تعلقات میں سرد مہری، کیا اس حوالے سے حکومت کو عوام کو اعتماد میں نہیں لینا چاہئے تھا جوابدہی نہ سہی کم از کم اپنی فتوحات، شاندار کارناموں اور سفارتکاری کی داد ہی لے لیں تفصیل پتہ چلے گی تو داد دیں گے ابھی تو سنی سنائی پر بغیر سوچے سمجھے تالیاں پیٹ کر داد دی جارہی ہے سمجھائیں تو شاید زیادہ ہی داد سمیٹ لیں۔

آخر میں عرض ہے کہ حکومت بادشاہی کا نام نہیں ذمہ داری اور جواہدہی کا کام ہے۔ موجودہ حکومت جوابدہی سے چھپ کر ٹھنڈے کمروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔ وزیروں کی فوج ظفر موج، وزرائے اعلیٰ، انکے وزیر اور مشیر ابھی تک نمائندہ حکومت کا تاثر تک قائم نہیں کر سکے انہوں نے دلوں میں گھر کیا کرنا ہے انکا نہ میڈیا سے رابطہ ہے نہ وہ ایوانوں کو جوابدہ ہیں، عدالتیں بوجوہ جوابدہی سے محروم ہیں گویا جوابدہی کے میدان میں اُلو بول رہے ہیں۔ جوابدہی نہ ہو تو عوامی اعتماد قائم نہیں رہتا۔ جوابدہی سے ہی عوامی رشتہ مضبوط ہو سکتا ہے آخری جوابدہی انتخابات کے موقع پر ہوتی ہے مگر پہلے جوابدہی سے جواب رہے تو یاد رکھیے حلقۂ انتخاب بھی ’’چٹا جواب‘‘ دے دیتا ہے۔

تازہ ترین