ابتدائے آفرینش سے سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے مگر اب مغرب سے طلوع ہوگا۔ ماضی میں حکومتیں، وزارتیں، بادشاہتیں اور حکمرانیاں زوال کا شکار ہوتی رہیں مگر صدیوں سے لکھی تاریخ اور صحافت زندہ رہی۔تاہم اب پہیہ الٹا چلے گا۔ اب وزارتیں اور حکومتیں تا ابد رہیں گی صحافت ریٹائر ہوگی، صحافی گھر جاکر بیٹھیں گے اور وزیر خلیل خان کی طرح فاختہ اڑایا کرینگے۔ اب صحافت نہیں وزارت اور حکومت کا بول بالا ہوگا، اب عہدے اور طاقت تو قائم ودائم رہیں گے مگر الفاظ اور گزارشات مٹ جایا کریںگے۔ ایک مخلص، مشفق اور مہربان دوست نے میری بڑھتی عمر پر طنز کرتے ہوئے مجھے ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیا ہے انکے مشورے مجھے ہمیشہ عزیز رہے ہیں اور مجھے انکے مشورے پر عمل کرنے میں کوئی تردد بھی نہیں۔ صحافی کی نوکری کوئی وزارت کی طرح پکی تو ہوتی نہیں، ہوائی روزی ہے خدائے پاک تو کونے کھدروں میں پڑوں کو بھی دیتا ہے، بوڑھے صحافی پر بھی مہربانی فرمائے گا۔ تاریخ کا سبق مگر یہ ہے کہ وزارتیں اور حکومتیں عارضی ہیں اور آتی جاتی رہتی ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں میں کئی ایسے آئے جو تکبر اور غرور کی تجسیم تھے اور انہیں یہ زعم بھی تھا کہ ہم کبھی نہیں جائیں گے مگر سب کو جانا پڑا۔ صحافت نے رہنا ہے اور وزارت نے جانا ہے الفاظ محفوظ رہیں گے اور اقتدار ختم ہوجائیں گے۔
مجھے یقینِ واثق ہے کہ میرے محسن کو اقتدار سے کہیں زیادہ اقدار عزیز ہیں اسی لئے میری دعا ہے کہ خدا انہیں مزید ترقی، مزید طاقت، مزید اختیاراور اس سے بڑا عہدہ دے تاکہ وہ مزید محنت اور خلوص کے ساتھ عوام کی خدمت کریں،وہ میرے خلاف یا میرے بارے میں جوبھی کہتے رہیں میں ہمیشہ سے اپنے دوستوں کیلئے دعاگو ہوں اوررہوں گا وہ مجھ سے قطع تعلق کرلیں ناراض ہوں یا سرعام میری تردید کریں پھر بھی میں انکے اخلاص کے بوجھ تلے دبا ہونے کےباعث پلٹ کر انہیں جواب نہیں دونگا ۔ تاہم پہلے بھی انکی مرضی کیخلاف زبردستی مشورے دینے کی ہمیشہ سے کوشش کرتا رہا ہوں، اب تحریر کے ذریعے ایساکرنے پر مجبور ہوں۔
موجودہ حکومت پانچ بجٹ دے چکی ہے مگر اب تک اس نے کچھ دیا نہیں بس لیا ہی لیا ہے، اگر پانچویں بجٹ کے بعد حکومت کے زوال کی بات کرنے پر حکومتی مداح بھنّا اٹھے ہیں توسوال یہ ہے کہ کسی بھی منتخب حکومت کی مقررہ مدت5سال ہوتی ہے، وہ5سال تو آپ پورے کرچکے آپ اصلاحات کب لائیں گے، کب عوام کی حالت بدلینگے، کب مقامی حکومتوں کو اختیار دینگے، کب غریب کے بارے میں سوچیں گے، کب بیروزگاری میں کمی لائیں گے ؟ پانچ سال آپ بغیر جلسہ جلوس اور عوامی رابطے کے گزار چکے ، اب بھی آپ کو زوال کا انتباہ ناگوار گزرتا ہے توبتایئے مزید کتنے سال حکومت کا ارادہ ہے ؟ مارشل لا تو دس ،گیارہ سال تک کیلئے آتےرہے منتخب حکومتیں تو پانچ سال بھی پورا نہیں کر پاتیں۔ زوال کی بات پر ناراضی کیوں؟ کیا پانچ بجٹ دینےکے بعد عروج ملناہےیاآپ کا زوال شروع ہونا ہے؟کیا اکبر اعظم، اشوک اعظم یا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی طرح موجودہ حکومت نے نصف صدی تک حکومت کرنی ہے؟ یہ حکومت اوراس کے وزراء بہت تنک مزاج ہیں۔ذرا سے اعتراض یا گھرجانے کے سوال پر ناراض ہوجاتے ہیں جیسے انہوں نے کبھی گھر جانا ہی نہیں ۔
مجھے اعتراف ہے کہ مجھ جاہل کو علم ہی نہ ہوسکا کہ اب سورج مغرب سے طلوع ہوا کرے گا، اب حکومت تا ابد رہے گی، وزیر مستقل وزیرہی رہیں گے، اب لوگ پاؤں کی بجائے ہاتھوں کے بل چلا کریں گے، قانون قدرت تبدیل ہوچکا اب انسان منہ سے نہیں آنکھ سے بولا کریں گے، کھانا ناک سے کھایا جائیگا اور منہ سے صرف آہیں نکلا کریں گی چونکہ حکومت ہمیشہ رہے گی اسے کبھی زوال نہیں آئیگا ، وزیر اعظم کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔ بے وقوف صحافی غافل تھاکہ اسکے اردگردتو سب کچھ بدل گیا ہے اب شیر اور بکری ایک ہی گھا ٹ سے پانی پیتے ہیں ،ہر طرف دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ،سول اور مقتدرہ میں سب فرق مٹ چکے ہیں لہٰذااب پانی دریاؤں میں نہیں سڑکوں پر بہا کرئیگا اور قافلے سڑکوں پر نہیں دریاؤں میں محو سفر ہوا کریں گے کیونکہ حکومتیں ہمیشہ رہیں گی نہ ان کا زوال جولائی میں شروع ہوگا نہ اگست میں کیونکہ انہوں نے تو ہمیشہ رہنا ہے۔ لا علم صحافی کو کیا علم کہ تضادستان بدل چکا سب دوریاں ختم ہوچکیں ،سب بھائی بھائی بن چکے ہیں نہ اب لڑائی ہے اور نہ حکومت کوئی غلطی کررہی ہے، ملک دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہا ہے، پرندے خوشی کے ترانے گارہے ہیں، زراعت میں اسقدر ترقی ہوچکی ہے سب کھیت لہلہاتے ہوئے اس قدر جھوم رہے ہیںکہ ان کی سرسراہٹ مترنم موسیقی بن کےفضا میںگونجتی ہے، جب یہ سماں ہے تو حکومت نے تو تا ابد رہنا ہے، وزارتوں نے تا حشر چلنا ہے، یہ جون جولائی کیا اگلی صدی کی جون جولائی میں بھی یہی حکومت ہوگی۔
صرف سورج ہی مغرب سے طلوع نہیں ہوگا بیانیے بھی یکسرتبدیل ہوجائینگےمثلاًکانسٹیٹیوشن ایونیو بالکل صحیح بناہوا ہے اس کے باسی قانونی اور جائز مالک ہیں، وزیر اعظم کے تمام فیصلے اچھے ہوتے ہیں ان کا ویژن ، آج تک کے جتنے بھی وزیر اعظم آئے ہیں،سب سے بہتر ہے۔ وزیر اعظم سیکریٹریٹ شاندار کام کررہا ہے سب وزیر شاداں وفرحاں ہیں،ایک سینئر وزیر کی وزیر اعظم کے فیصلوں میں ویٹو پاور کی کہانیاں یکسر جھوٹی اور بے بنیاد ہیں ،وزیروں کی شکایات بے معنی ہیں۔ ملک میں حکومت کے حق میں زبردست سیاسی بیانیہ بن چکا ہے۔حکومت اسقدر مقبول ہوچکی ہے کہ عمران خان کا ووٹ بینک سرے سے غائب ہوگیا ہے آج اگر الیکشن ہوں تو موجودہ حکومت اپنی شاندار کارکردگی کی وجہ سے دو تہائی اکثریت حاصل کر لے گی یوں حکومت کو پھر سے اعتماد کا ووٹ مل جائیگا ۔ ویسے بھی یہ حکومت اکبر بادشاہ جتنی حکمرانی توکم ازکم کرے گی۔ اِس جیسی حکومت نہ آئی ہے نہ آنی ہے اور یہ وزیر بھی ہمیشہ وزیر ہی رہیں گے البتہ صحافی ریٹائر ہوجائیں گے، صحافت سوجائے گی اور یوں حکومتی سچ کا بول بالا ہوجائے گا۔
بے وقوف صحافی کو رموز مملکت کا کیا پتہ؟ اسے دنیا اور حکومت کا کیا علم ؟ یہ کیونکر ہماری شاندار اور آئیڈیل حکومت پر تبصرہ کرسکتا ہے۔ اس کا مقام کیا ہے؟ صحافی بچارے کب سےاتنےعقل مند ہوگئے کہ حکومتوں کے جانے اور آنے کے بارے میں جان سکیں۔ انکے کونسے ذرائع ہیں جو یہ فیصلہ سازوں تک رسائی حاصل کرلیں ۔یہ تو گھر میں بیٹھ کر جھوٹی کہانیاںگھڑکر پیش کرتے ہیں انہوں نے تو آج تک طاقت کے اصل مراکز کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تک نہیںپھر ان کو وہاں کے فیصلوں کا علم کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ سب صرف تُکےلگاتے ہیں اس ملک میں اصل علم اور طاقت، حکومت اور وزیروں کے پاس ہے باقی سب جاہل اور بے وقوف ہیں۔ نگوڑا صحافی تو بالکل ہی جاہل اورجھوٹا ہے اسکا اصل مقام ریٹائرمنٹ بلکہ زبان بندی ہے ۔نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری۔
آخر میں پھر یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہر خاص وعام کو اطلاع ہوکہ اس حکومت کا نہ جولائی، اگست سے زوال شروع ہوگا نہ یہ حکومت جارہی ہے، یہ حکومت تا ابد قائم رہے گی وزیر تا حشر وزیر رہیں گے اور حکومت کا یہ سچ سبھی کو بےچون و چرا تسلیم کرناہوگا۔