پنجابی دسترخوان پر ککڑ دی لت یعنی مرغ کی ٹانگ سب سے اہم آدمی کو ملتی ہے۔ اگر کسی مہمان کی دعوت ہے تو اسے ککڑ دی لت پیش کی جائیگی، میزبان اپنے خلوص اور ایثار کے ثبوت کیلئےککڑ دی لت مہمان کو دے دیتا ہے۔ گھر پرمرغ پکا ہے اور کوئی مہمان مدعو نہیں تو ککڑ دی لت گھر کے سربراہ کے حصے میں آئیگی۔ گویا مرغ کی ٹانگ اہمیت، طاقت اوراثرورسوخ کی علامت ہے،افسروںکے میس (Mess)میںمرغ کی ٹانگ کانٹے یعنیForkمیں پھنسا کر میز پر لائی جاتی ہے اور سب سے سینئر اور معزز فرد کو پیش کی جاتی ہے وہ کانٹے کو پکڑتا ہے تو ککڑ کی لت خودبخود اسکی پلیٹ میں آجاتی ہے۔اس رسم کو آپ کھانے کے آداب کا حصہ سمجھ لیں ،پروٹوکول کا رعب گردانیں یا طاقتور اور کمزور سےاسکی حیثیت کے مطابق سلوک کرنا کہہ لیں۔ سچ یہی ہے کہ آج بھی تکلف، آداب ِ میزبانی یا دکھاوے کی خاطر اس رسم کی پوری طرح پابندی کی جاتی ہے گویا جسے ’ککڑ دی لت‘مل گئی وہی محفل کا بادشاہ ہوتا ہے۔
ککڑ دی لت سے ایک قصہ یاد آگیا ۔ایک بڑے گھر میں مدعو تھا ،غریب صحافی کے علاوہ تمام لوگ قریبی رشتہ دار تھے دولت انکے گھر کی باندی ہے مگر ایک ڈش پر باقاعدہ چھینا جھپٹی دیکھنا میرے لئے ایک نیا تجربہ تھا وہ ڈش چونکہ مقدار میں کم تھی اور ہر کوئی وہ کھانا چاہتا تھا مگر طاقتور میزبان کسی کواس میں حصہ دار بنانے پر تیار نہ تھا اسی کھانے کے دوران طاقتور میزبان نے خود کھانا پہلے ڈالا اور مرغ کی ٹانگیں اپنی پلیٹ میں ڈال لیں۔ سالن اپنی پلیٹ میں ڈالنے کے بعد میزبان نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کی طرف ڈونگہ بڑھایا تواس نے اونچی آواز میں کہا آپ بڑے گھر والے بھی عجیب لوگ ہیں مرغ کی ٹانگیں خود ڈال لیتے ہیں اور رشتہ دار مہمانوں کو بچی کھچی بوٹیوں اور ہڈیوں پر ٹرخادیتے ہیں۔ اس لیے ہم رشتہ داروں نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ جب بھی آپ دعوت پر بلاتے ہیںتو ہم گھر سے کھانا کھاکر آتے ہیں کیونکہ ککڑ دی لت تو آپ خود ڈال لیتے ہیں۔ ان کے اس جملے پر ہنسی کے فوارے چھوٹ گئے مگر غریب صحافی ان باتوں، معنوں میں کھو گیا کہ ککڑ دی لت خود اپنی پلیٹ میں ڈالنے اور اپنے رشتے داروں کو غیر اہم بوٹیاں تقسیم کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اور پھر یہ سوچ بھی آئی کہ کیا ساری دنیا میں یہی نہیں ہورہا بہترین بوٹیاں طاقتور کھارہے ہیں اور بچی کھچی کمزوروں کی طرف بڑھا دیتے ہیں ملکوں کی سیاست میں بھی طاقتور اور کمزور کی تقسیم میں یہی کچھ نظر آئیگا۔
دنیا کی تمام زبانیں محترم ہیں کیونکہ یہی وہ وسیلہ ہیں جنہوں نے بے زبان جانوروں کو بولنے والا انسان بنایا مگر کسی مادری زبان کی جوتفہیم وترجمہ مقامی لوگ سمجھتے ہیں،کسی دوسری زبان میں ترجمے یا تشریح سے بعض اوقات اس لفظ کی تاثیر اور ذائقہ مجروح ہوجاتا ہے۔
لفظ مرغ فارسی زبان سے آیا ہے اور ہر پرندہ مرغ ہے چاہے وہ عنقا اور دیومالائی سیمرغ ہو یا مرغابی ۔ مگر پنجابی زبان میں مرغ کو ککڑ کہنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ سنگا پور میں ایک دیسی ریسٹورنٹ کی ڈش کا نام تھا ’’ککڑ قیمہ‘‘ نام سے متاثر ہوکر وہ ڈش منگوائی تو خالص پنجابی ذائقے کا شاہکار تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تو پنجابی واروں( دلا بھٹی دی وار، راجہ رسالودی وار) کی طرح بھٹو بھی فوک لور یالوک کہانیوں کا حصہ بن گئے انکی پھانسی کے بعد پنجاب کے ادیبوں اور شاعروں کا ایک مجموعہ ’’ خوشبو کا سفر‘‘ کے نام سے شائع ہوا جس میں ایک لوک نظم کے الفاظ ککڑا دھمّی دیا( یعنی منہ اندھیرے بولنے والے مرغ) تھے۔ یاد رہے کہ پھانسی دینے کا وقت بھی وہی دھمّی والا ہوتا ہے، نسرین انجم بھٹی نے پنجابی کی جوEpic Poem اس موقع پر لکھی وہ امرتا پریتم کی تاریخی ’’ اج آکھاں وارث شاہ نوں‘‘ کے برابر تولنے کے قابل ہے۔’’ بھٹو دی وار‘‘ کے نام سے مشہور اس نظم میں نسرین بھٹی نے آغاز یوں کیا ’’ میں مرزا ساگر سندھ دا، میری راول جنج چڑھی؍ میں ٹریا سولی چم کے ‘‘ اس کتاب ’’ خوشبو کا سفر‘‘ کے شائع ہونے کے بعد اس مجموعے میں لکھنے والے شاعروں کیخلاف ضیاء الحقی کوڑے لہرانا شروع ہوگئے ،سرکاری ملازموں کا دور دراز شہروں میں تبادلہ کردیا گیا ہر صاحب ضمیر پرزمین تنگ کردی گئی۔ وہ وقت گزر گیا مگر تاریخ کا سبق یہ ہے کہ نسرین انجم بھٹی کی ’’ وار‘‘تا ابد زندہ رہےگی البتہ جبر کا دور اوراُس زمانے کے حکمران تاریخ کے اندھیروں میں کھوچکے ہیں۔
گزشتہ نصف صدی سے دنیا میں جو سائنسی اور مادی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئی ہیں انکا پنجابی دستر خوان یا مینو پر بھی فرق پڑا ہے نصف صدی پہلے برائلر یا ولایتی مرغ کا کوئی وجود نہ تھا دیسی مرغ ہی ککڑ کہلاتا تھا اور یہی کھایا جاتا تھا ۔پنجابی گھرانوں (مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس میں) میں مرغ تب پکتا تھا جب کوئی بیمار ہوتا یا پھر کسی مہمان کےآنے پر مرغ پکانے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ مجھے شہر اور دیہات دونوں میں مرغ پکانے کی تیاری کی کہانیاں اچھی طرح یاد ہیں۔ دیہات میں تقریباً ہر گھر میں مرغیاں پالی جاتی تھیں جب کوئی مہمان آتا تھا تو کسی نہ کسی چوچے کی شامت آجاتی تھی دیہاتی رواج کے مطابق مرغیوں کے چوچے گھر کے کسی نہ کسی بچے سے موسوم ہوتے تھے کوئی چوچا پپو کا ہوتا تھا تو کوئی گڈی یا ننھی اسکی نام نہاد مالکہ ہوتی تھی۔جب فیصلہ یہ ہوتا کہ آج پپو کا چوچا ذبح کرلیں تو ایک طرف پپو کے چوچے کا پیچھا شروع ہوجاتا دوسری طرف پپو کی چیخوں اور رونے کی آواز بلند ہونا شروع ہوجاتی۔ اس زمانے کے ککڑ برائلر کی طرح سست الوجود اور ساکت نہیں ہوتے تھے، وہ کبھی چھت پر چڑھ جاتے کبھی بستروں کے اوپر جاکر بیٹھ جاتے ،بڑی تگ ودو کے بعد ’’چوچا‘‘ گرفتار ہوتا تو ذبح کرنیوالے کی تلاش ہوتی یہ دیسی چوچے بڑی مشکل سے قابو آتے تھے انہیں پھڑ پھڑاتے اور زور لگاتے ہوئے پکڑ کر چھری پھیرنی پڑتی تھی پپو اس دوران رورو کے چپ ہوجاتا تھا اوردیسی مرغ کی ہانڈی تیار ہوتی۔ مہمان کیلئے ’’ ککڑ‘‘ کا پٹ اور پپو اور دیگر خاندان کو بھی بچی کھچی بوٹیاں مل جایا کرتی تھیں۔ میرے آبائی شہر جوہر آباد میں مرغ ایک ہی دکان سے ملتے تھے مجھے خود کئی بار وہاں سے دیسی مرغ خریدنے کا اتفاق ہوا۔ اس زمانے میں دیسی مرغ ، سونے کا نوالہ ہوتا تھا آج لوگوں کے فریج اور فریزر مرغوں سے بھرے ہوتے ہیں رزق کی اس فراوانی پر لوگ شکر ادا نہیں کرتے حالانکہ نصف صدی پہلے تک ایک پاؤ گوشت اور مرغ نصیبوں والے کھاتے تھے اب ہر کوئی کھاتا ہے۔ سب کچھ بدل گیا خوان بدل گئے ،اندازبدل گئے، فرشی نشستوں سے ڈائننگ ٹیبل تک سب کچھ نیا آگیا، ہاں البتہ ’’ککڑ کے پٹ‘‘ کی اہمیت آج بھی کم نہیں ہوئی۔ مرغ کی ٹانگ آج بھی مہمان کی ٹانگ یا مہمان کیلئے ٹانگ کی حیثیت سے ہی سماج میں موجود ہے۔
اگر مرغ کی ٹانگ کا اطلاق سیاست پر کریں یا اسکو حکمرانی کے اصولوں کے مطابق جانچیں تواب بھی مرغ کی ٹانگ انہی کو نصیب ہے جو طاقتور اور صاحب اقتدار ہیں باقی مخلوق تو صدیوں سے بچی ہوئی بوٹیاں کھاتی رہی ہے اب بھی کھا رہی ہے، بجٹ میں ’’ ککڑ‘‘ کے پٹ‘‘ بار بار انہی کو ملتے ہیں جو خاص ہیں۔ کاش یہ روایت بدلے اور عام بھی مرغ کی ٹانگ پر اپنا حق جتاسکیں۔