• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ساڑھے تین ماہ کی جنگ کے بعد بالآخر امریکا اور ایران ایک مفاہمتی یادداشت تک پہنچ ہی گئے، جس پر امریکا اور ایران کے صدور کے ساتھ، پاکستان کے وزیرِ اعظم، میاں شہباز شریف نے بطور ثالث دست خط کیے۔ فریقین کے درمیان یہ تاریخی مفاہمت دراصل پاکستان، قطر، سعودی عرب اور تُرکیہ کی اَن تھک کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہو پائی۔ گو کہ اسرائیل کی جانب سے اِس مفاہمتی یاد داشت پر کسی کے دست خط نہیں ہوئے، تاہم وہ بھی اِس معاہدے کا حصّہ ہے۔18 جون کو ہونے والے الیکٹرانک دست خطوں کے بعد آبنائے ہرمز کھول دی گئی، جب کہ امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا بھی خاتمہ ہوگیا۔

دوسری طرف، امریکا اور ایران کے درمیان مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ طور پر مذاکرات کا آغاز ہوگیا۔ اِس مقصد کے لیے ساٹھ دن کا وقت طے کیا گیا، جس کے دَوران ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق کسی حل تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستان کی حکومت اور فیلڈ مارشل، عاصم منیر کی سفارتی کام یابی سے پوری دنیا نے سُکھ کا سانس لیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی برادری کے لیے بڑی آزمائش اور امتحان کی شکل اختیار کرچُکی تھی۔

خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے شہریوں نے تیل کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی صُورت بھاری قیمت چُکائی۔ فریقین میں مفاہمت کی خبر سامنے آتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی، جس کے ثمرات عوام تک بھی پہنچیں گے اور اُن کی مشکلات میں کمی آسکے گی، لیکن اِس جنگ کے اثرات بہرحال طویل عرصے تک نظر آتے رہیں گے۔

پاکستانی عوام کے لیے اِس جنگ کے اثرات تباہ کُن رہے، کیوں کہ ہم معاشی طور پر مشرقِ وسطیٰ پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ باقی مسلم دنیا کی کیا صُورتِ حال رہی اور کیا واقعی دنیا ہل کر رہ گئی، جیسا کہ ہمارے تجزیہ کار روز بتاتے ہیں؟یہ وہ سوالات ہیں، جن کے جوابات اُس دھند کو صاف کرنے میں مدد دیں گے، جن میں بہت سی خوش فہمیوں اور غلط فہمیوں نے جنم لیا۔

ایران، امریکا، اسرائیل جنگ سے جنم لینے والے اثرات کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ اثرات جو مسلم دنیا پر مرتّب ہوئے اور دوم، باقی دنیا کی صُورتِ حال۔ اِس جنگ میں سب سے زیادہ ذکر آبنائے ہرمز کا ہوا، یہ وہ آبی گزرگاہ ہے، جس پر ایک طرف ایرانی پورٹ بندر عباس اور دوسری طرف اومان کی بندر گاہ ہے۔ اس سے دنیا کا بیس فی صد تیل گزرتا ہے۔ باقی80 فی صد تیل کہاں کہاں سے گزرتا ہے، اِس کا ذکر بہت کم ہوا۔

یہ1974 ء کی چوتھی عرب، اسرائیل جنگ جیسے حالات نہیں، جب سعودی عرب کے فرماں روا، شاہ فیصل نے تیل کی سپلائی بند کردی تھی، جس سے دنیا ہل کر رہ گئی تھی۔ آج سولر پاور، ایٹمی بجلی گھر اور توانائی کے دیگر متبادل ذرائع آچُکے ہیں، جو آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات میں کمی کا ذریعہ بنے، مگر اِس پہلو کا کم ہی ذکر ہوتا ہے۔

دراصل جسے’’دنیا بدلنا‘‘ کہتے ہیں، وہ نت نئی ٹیکنالوجیز کی دریافتیں اور اُن کا استعمال ہے۔ اگر کورونا ویکسین محض آٹھ ماہ کی مدّت میں مارکیٹ میں آسکتی ہے، تو ٹیکنالوجی، فاسل فیولز کی جگہ بھی اُتنی ہی تیز رفتاری سے لے سکتی ہے اور ترقّی یافتہ دنیا اس ٹیکنالوجی سے لیس ہے، اگر ہمیں اِس کا علم نہیں، تو دنیا رُک تھوڑی جائے گی۔

غریب، پس ماندہ اور کم شعور رکھنے والے ممالک کا یہی المیہ ہے کہ اُن کے ماہرین ہر معاملہ مخصوص عینک سے دیکھتے ہیں اور یہی تصویر اپنے لاعلم عوام کو دِکھاتے ہیں، مگر جب ہوش آتا ہے، تو دنیا قیامت کی چال چل چُکی ہوتی ہے۔ خوش حالی کی دوڑ چین سے امریکا تک لگی ہوئی ہے، لیکن یہ سمجھنے کے لیے کُھلے ذہن اور ٹیکنالوجی کے عالمی اثرات پر نظر ہونی چاہیے۔

مشرقِ وسطیٰ میں تین قسم کے ممالک ہیں۔ ایک وہ جو تیل پیدا کرتے ہیں، جیسے سعودی عرب، یو اے ای، قطر، کویت، اومان، بحرین، عراق، لیبیا اور ایران۔ وہ عرب ممالک، جنہوں نے مصر کے جمال ناصر کی پیروی میں سوشلسٹ نظام اپنایا، اُن میں شام، عراق، فلسطینی اسٹیٹ، لبنان اور یمن شامل ہیں۔ اِن ممالک کے پاس تیل نہیں ہے۔ یہاں جمہوریت اور آمریت کا کھیل چلتا رہتا ہے، جب کہ ان ممالک کی پس ماندگی اور غربت بھی سب پر عیاں ہے۔

اِن کی سرپرست سوویت یونین بکھر چُکی۔ یہ عرب بلکہ اُن کے ساتھ کے افریقی مسلم ممالک مراکش، نائیجریا، سوڈان، لیبیا، چاڈ اور دیگر ممالک، تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی امداد پر اپنی معیشت دھکیلتے ہیں۔ ایران بنیادی طور پر ایک پلیٹو ہے، یعنی پہاڑی مُلک، اور اس کا بڑا حصّہ مغربی ایشیا میں ہے، تاہم اس کا مشرقِ وسطیٰ میں بھی اہم کردار رہا ہے۔ اِن کے علاوہ، اِس خطّے میں ایک غیر مسلم مُلک، اسرائیل بھی ہے، جس سے تُرکیہ، یو اے ای، بحرین اور مراکش سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔ حالیہ جنگ میں ایران کے لیے بڑھ چڑھ کر بیانات دینے کے باوجود اِن میں سے کسی نے بھی اسرائیل سے تعلقات نہیں توڑے۔

حالاں کہ پاکستانی تجزیہ کار یہ جانے بغیر کہ عالمی امور جذبات نہیں، ٹھوس مفادات پر چلتے ہیں، اِنہیں’’غیرت‘‘ دِلاتے رہے کہ اسرائیل سے تعلقات ختم کردیں۔ اُنہیں یہ نہیں معلوم کہ امریکا اور یورپ کے ساتھ، چین اور روس کے بھی اسرائیل سے گہرے تعلقات ہیں۔ تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک پر ایران کی خاص توجّہ رہی اور وہ اپنے چالیس سال سے جمع کیے گئے میزائلز اور ڈرونز اُن پر استعمال کرتا رہا، جس کے لیے امریکی فوجی اڈّوں کی موجودگی کو جواز بنایا گیا۔ دھویں کے بادل اُٹھے، نقصانات کا شور ہوا، لیکن کسی بھی عرب مُلک نے ایران کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کے نقصانات کی کیا نوعیت ہے۔ اِس صبر و برداشت اور تحمّل کا ایران سمیت تمام مسلم ممالک کو ادراک ہونا چاہیے، وگرنہ جواب دیا جاتا، تو جنگ مزید ہول ناک ہو جاتی۔ پھر یہ بھی ہے کہ امریکا اور اسرائیل اِن ممالک کی حفاظت کے لیے ایران پر ضرب لگاتے رہے۔ پھر ایران کا محاصرہ کرلیا گیا، جس نے اُسے ایک لینڈ لاکڈ مُلک میں تبدیل کر دیا۔ وہ اپنا تیل بیچ پایا، نہ باہر بھیج سکتا تھا۔ یوں وہاں ایک سو دنوں سے بھی زاید زندگی مفلوج رہی۔

پاکستان، عراق، شام، لبنان، یمن اور افریقا کے کچھ ممالک پہلے ہی قرضوں کی وجہ سے عدم استحکام کے شکار ہیں۔ منہگائی اور توانائی یوکرین جنگ کی وجہ سے مصیبت بنی اور اب مشرقِ وسطیٰ پر تمام تر انحصار نے آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق، اِس جنگ سے نہ صرف معیشت مزید غیر مستحکم کی، بلکہ افراطِ زر، بے روز گاری اور غربت میں اضافے کے خطرات بھی بڑھ گئے۔ مشکل یہ ہے کہ ان کی آبادیاں زیادہ، انفرا اسٹرکچر، سیاسی ادارے کم زور اور معیشت روز کی بنیادوں پر چلتی ہے، جب کہ گورنینس بہت خراب ہے۔

باہر سے فوری ریلیف بھی محدود ہوتا جارہا ہے، مگر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ پوری مسلم دنیا اِس جنگ سے متاثر ہوئی۔ خوش حال ممالک میں ہر روز عید اور ہر شب، شبِ برأت ہوتی ہے۔ گو کہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر براہِ راست ایرانی حملوں کی زَد میں رہے، لیکن اِن ممالک کی معیشتیں باآسانی اِس بحران سے گزر گئیں۔ توانائی سے کمائی ہوئی بے تحاشا دولت، لاجسٹک سیکٹر کی مضبوطی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری نے اُنہیں یہ جھٹکا برداشت کرنے کی صلاحیت دی۔

جو ماہرین اِن ممالک کے ڈوبنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں، وہ صرف عارضی عوامل سامنے رکھ کر بات کرتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے لاکھوں افراد یو اے ای میں رہتے ہیں، کتنے واپس آئے یا زرِ مبادلہ میں کتنی کمی آئی۔ مشرقِ وسطیٰ کا خوش حالی اور کُھلے پن کا امیج خراب ہوا، تو اس سے ایران کے مستقبل پر بھی بہت بُرا اثر پڑے گا، کیوں کہ اس کا بھی بنیادی سرمایہ فاسل فیول ہی ہے۔ جنگ میں آبنائے ہرمز’’ایٹم بم‘‘ جیسی طاقت تو ثابت ہوئی، تاہم اِس کی بندش ایران کے عوام کے لیے خوش حالی کی نوید نہیں۔

پھر ذرا دُور مشرقِ بعید پر نظر ڈالیں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا اور بنگلا دیش کی معیشتیں پیداوار، برآمدات، بڑی آبادیوں کی وجہ سے اندرونی تجارت، مال کی کھپت اور علاقائی ٹریڈ پر انحصار کرتی ہیں۔ اُنہیں اِس جنگ سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ان کی شرحِ ترقّی گزشتہ ایک دہائی سے بہت تیز رہی ہے۔ دو، چار مہینے میں یہ کسی بحران کا شکار ہونے والے نہیں۔

پھر ان میں سے زیادہ تر کی پُشت پر امریکا، چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسی مضبوط اور وسیع معیشتیں ہیں۔ اُن کے پاس سو، سو بلین ڈالرز کے ذخائر اور جدید ٹیکنالوجی ہے۔ پھر یہ کہ خطّے میں کوئی تنازع اُنہیں ترقّی سے ہٹانے کے لیے موجود نہیں۔ درحقیقت، امن ہی ترقّی کا ضامن ہے، اِسی لیے دوسری عالمی جنگ میں یورپ تباہ ہوا اور وہاں سے چھے ہزار میل دُور موجود امریکا، سُپر پاور بن گیا۔

مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ کے امریکا، چین، روس، جاپان، بھارت اور مشرقی ایشیا پر بہت کم اثرات مرتّب ہوئے۔ چین ہی کو دیکھ لیں، جو ایران کے کُل برآمدی تیل کا80 فی صد خریدتا ہے۔ اعداد وشمار کے مطابق، گزشتہ تین ماہ میں چین کی یہ طلب کم ہوتی گئی کہ وہ توانائی کی ضروریات روس سے پوری کر لیتا ہے۔ چین کا انڈسٹریل بیس بہت مضبوط ہے اور’’ دنیا کی مال کی فیکٹری‘‘ کہلاتا ہے۔ بھلا ایسی محدود جنگ کے اُس پر کیا اثرات ہوں گے۔

اُدھر، امریکا میں تیل کی بہتات ہے اور وینزویلا کا تیل اب اُس کی مارکیٹ میں شامل ہوچکا ہے۔ نیز، اُس کی معیشت بہت وسیع اور متنوّع ہے، وہ ٹیکنالوجی کا لیڈر ہے۔ روس تو پہلے ہی پانچ سال سے براہِ راست یوکرین سے جنگ میں ملوّث ہے اور مشکلات برداشت کر رہا ہے،لیکن توانائی اور غذائی اجناس اس کا مسئلہ نہیں۔ ایران باوجود یہ کہ جنگ میں ڈٹا رہا، مگر اُس کی معیشت کئی دہائیوں سے انتہائی کم زور ہے۔ اُس کا مرکزی بینک دنیا سے لین دین نہیں کرسکتا۔ تیل کُھلی مارکیٹ میں نہیں بیچ سکتا۔

بیس ارب ڈالرز کے فنڈز امریکا، چین، قطر اور یورپ میں منجمد ہیں۔ منہگائی اور پابندیوں نے عوام میں بے چینی پیدا کی۔ گزشتہ سالوں میں کئی مرتبہ اسے اندرونی عوامی ردّ ِعمل کا سامنا رہا، گو اسے سختی سے دَبا دیا گیا، جسے کبھی امریکی اور اسرائیلی سازش کہا گیا، تو کبھی انقلاب کی مخالفت کا نام دیا گیا۔ گزشتہ بیس سال سے ہر ایرانی صدارتی الیکشن معاشی بہتری ہی کے گرد گھومتا ہے۔ تاہم،18 جون کی مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں ایران پر عاید پابندیوں کے خاتمے کا امکان ہے، جب کہ اُس کے منجمد اثاثے بھی بحال کرنے کی اطلاعات ہیں۔

اِسی طرح مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے، تو ایران کے لیے معاشی مشکلات سے نکلنے کی راہ ہم وار ہوجائے گی۔ ایرانی عوام برسوں سے معاشی دباؤ میں ہیں، جب کہ جنگ کے دوران اُن کی حالت مزید دگرگوں ہوگئی، جس کا کم ہی ذکر ہوا۔ امریکا کے ساتھ مفاہمت سے عوام کی کمر پر لدا بوجھ بھی کم ہوسکے گا۔ ایرانی قیادت کے لیے بھی یہ امتحان ہوگا، کیوں کہ جس قدر جلد وہ اِس معاشی بحران سے نکلتے ہیں، اُتنا ہی اُنہیں فائدہ ہوگا۔

امریکا/اسرائیل/ایران جنگ کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ عرب ممالک میں اپنے دفاع سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا اور اب وہ اِس ضمن میں تیز رفتار اقدامات کریں گے۔ ایران کی جانب سے عرب ممالک پر مسلسل حملوں کے سبب اِس خطرے کا بھی اظہار کیا جارہا ہے کہ کہیں یہ حملے خطّے کو’’معاہدۂ براہیمی‘‘کی طرف نہ لے جائیں، جو صدر ٹرمپ کی بھی خواہش ہے۔

یہ کہنا کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنا مسلم اُمّہ سے دشمنی کے مترادف ہے، یہ موقف اب اِس لیے بھی زیادہ پُرکشش نہیں رہا کہ تُرکیہ جیسا مسلم مُلک اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھتا ہے اور اُسے کوئی مسلم اُمّہ کا دشمن نہیں کہتا، کوئی کہے بھی، تو تُرکیہ کون سا اُس کی پروا کرتا ہے کہ اُسے اپنے مقام اور مفاد کا پتا ہے۔

یہی صُورتِ حال مصر، اردن، یو اے ای اور بحرین کی ہے۔ مسلم دنیا، خاص طور پر ایران اور عرب ممالک کو خطّے کی نزاکتوں پر بہت غور کرنے کی ضرورت ہے، وگرنہ ابراہم اکارڈ کے لیے کسی ٹرمپ کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہ حالات کا جبر بن جائے گا۔ جنگ کے دوران ایک اہم عُنصر نظروں سے اوجھل رہا یا کسی وجہ سے اُس کا ذکر نہیں کیا گیا اور وہ ہے، بھارت، پاکستان اور بنگلا دیش کے شہریوں کی عرب ممالک میں بڑی آبادیاں۔

حالیہ دنوں میں خطّے میں کچھ ایسی پیش رفت دیکھی گئی، جس سے اِن ممالک میں موجود لوگوں کے روزگار خطرات میں پڑ سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا، تو وہاں سے آنے والے زرِمبادلہ میں کمی واقع ہوگی، جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک بڑا معاشی چیلنج بن سکتا ہے اور پھر اُس کی کوکھ سے سیاسی عدم استحکام بھی جنم لے سکتا ہے۔ اِس لیے اب ایسی حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ضروری ہے، جس سے دُوریوں میں کمی آسکے۔ فریقین کو سوچنا ہوگا کہ یہ صرف خلیج کا معاملہ نہیں ہے۔ ایران میں تو ایک بھی غیرمُلکی روزگار کے لیے موجود نہیں، گو وہ تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے۔

اِس پس منظر میں یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ ہے، جسے پوری سنجیدگی ہی سے حل کرنا ہوگا۔ ہمیں نہیں بُھولنا چاہیے کہ پاکستان کے پچاس، ساٹھ لاکھ ملازمت پیشہ افراد برسوں سے عرب ممالک میں روزی روٹی کما کر اپنے گھر چلا رہے ہیں، بلکہ مُلک کو بھی سہارا دیئے ہوئے ہیں۔

جہاں جنگوں میں ممالک اور عوام کو نقصان پہنچتا ہے، وہیں بہت سے ممالک اور ادارے جنگوں سے فائدہ بھی اُٹھاتے ہیں۔ حالیہ جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ کسی نے اپنا اسلحہ بیچا، تو کسی نے تیل اور غذائی اجناس بیچ کر کمائی کی۔ بہرکیف، ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان چالیس برس سے تنازعات ہیں، جن کا اب کوئی حل نکالنا ناگزیر ہوچُکا ہے۔