’’ہم کہاں کھڑے ہیں اور کیا ہم واقعی ترقّی کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ اگر ہم اِن سوالات کا جواب تلاش کریں، تو شاید ہی کوئی تسلّی بخش جواب یا وضاحت مل پائے۔24 کروڑ کے مُلک میں لوگ صبح اُٹھ کر کام پر جاتے اور شام کو گھر واپس آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے، ہر آدمی بہت کام کر رہا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، ہر شخص مطمئن ہے، معیارِ زندگی بلند، غربت کم اور روز گار کے مواقع بڑھ رہے ہیں، لیکن جس شخص سے بھی بات کرو، غیرمطمئن ہی نظر آتا ہے۔ کیا یہ ہمارا قومی چلن بن گیا ہے یا واقعی لوگوں کے لیے زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کا اعتماد اِس وقت آسمان پر ہے۔
وزیرِ اعظم کا چہرہ ہر وقت کِھلا رہتا ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مُلک آج چار سال پہلے کے مقابلے میں درست سمت اختیار کر چُکا ہے۔ ہم ترقّی کے لانچنگ پیڈ پر ہیں۔ منہگائی ہے، مگر کوئی تشویش نہیں کہ معاملات کنٹرول میں ہیں۔ کرنٹ اکائونٹ سرپلس میں اور زرِ مبادلہ کے ذخائر ہر سال ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ اب چالیس ارب ڈالرز سالانہ آرہے ہیں، یعنی ہر ماہ تین ارب ڈالرز، جو آئی ایم ایف کی دو اقساط سے بھی زیادہ ہیں۔ صوبے دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ ترقّی کی راہ پر گام زن ہیں۔ سندھ میں ٹرانسپورٹ اور صحت کے شعبے بہترین ہیں۔
پنجاب میں مریم نواز کی گرفت بہت مضبوط ہے، تو اِسی طرح بلوچستان اور پختون خوا سے بھی مختلف دعوے سُننے کو ملتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار بہت بلند ہوا۔ امریکا، ایران، چین، روس اور ساری دنیا نے پاکستان کی اعلیٰ ڈپلومیسی کی تعریفیں کیں۔ دفاعی معاملات میں ہم نے ایک بڑا قدم اُٹھایا اور معرکۂ حق اس کا ٹرننگ پوائنٹ ہے، جب بھارت کو بدترین شکست ہوئی۔
دوسری طرف افغان پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے دہشت گردوں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ یہ حکومتی دعوے خوش کُن بھی ہیں اور ان میں سے کئی درست بھی، لیکن سوال وہی ہے کہ عالمی سطح پر نام کمانے کے بعد بھی قوم کہاں کھڑی ہے؟
آج کے زمانے میں ترقّی کا پیمانہ معیشت کی مضبوطی اور عوام کے معیارِ زندگی سے تعلق رکھتا ہے، تو کیا ہم یہ دونوں اہداف حاصل کر رہے ہیں یا ان کی سمت پیش قدمی جاری ہے۔ یہ صرف حکومت کا معاملہ نہیں، بلکہ کسی بھی قوم کے مستقبل کا سوال ہے، جو ایک لحاظ سے پہلے ہی اپنے75 سال ضائع کر چُکی ہے۔ پاکستان، دنیا کی دوسری ریاستوں کی طرح ایک قومی ریاست ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر شہری کسی مذہبی تفریق یا لسانی اور صوبائی تعصّب کے بغیر پاکستانی ہے۔
تمام شہری مساوی حقوق کے حامل ہیں، لیکن جب سے مُلک وجود میں آیا، یہی طے نہیں ہو پایا کہ ہمارا نظامِ حکومت کیا ہے۔ کوئی قائدِ اعظم کی اگست کی تقریر کا حوالہ دیتا ہے، کوئی قراردادِ مقاصد کی بات کرتا ہے۔ کوئی اٹھارویں ترمیم اور صوبائی حقوق پر اَڑ جاتا ہے۔ کبھی اسلامی نظام نافذ ہوتا ہے، تو کبھی اسلام خطرے میں بتایا جاتا ہے۔ یہ ہمارا قومی بحران ہے، جو 75 سال سے جاری ہے، جس کے نتیجے میں کبھی ایک قسم کی حکومت آتی ہے، تو کبھی دوسری۔ ہر آنے والا اپنا’’نسخۂ کیمیا‘‘ ساتھ لاتا ہے، تجربے ہوتے ہیں اور آخر میں ناکامی ہی مقدّر ٹھہرتی ہے۔
پاکستان میں اہم ترین انتخابات 1970ء میں ہوئے، جس میں مُلک کے مغربی اور مشرقی بازو میں ایسی جماعتیں جیتیں، جو سوشلسٹ یا قوم پرست نظریات رکھتی تھیں، جب کہ مذہبی جماعتیں شکست سے دوچار ہوئیں۔ مشرقی بازو میں قوم پرست عوامی لیگ اور مغربی بازو میں سوشلسٹ پیپلز پارٹی فاتح ٹھہریں۔ بھٹو صاحب ہی نہیں، اُن کی پوری کابینہ چینی طرز کا لباس پہنتی تھی، جب کہ اُنھوں نے تاریخی اسلامی کانفرنس بھی کروائی۔ قوم پرستی نے مشرقی بازو الگ کردیا اور وہاں کوئی دوسرا نظریہ کام نہیں آیا۔
مغربی بازو کے دو چھوٹے صوبوں میں بھی قوم پرست جماعتیں یا اُن کے اتحادی اقتدار میں آئے۔ پھر ضیا الحق نے ساری کایا پلٹ دی اور ایک نیا نظام متعارف کروایا۔ اُسی زمانے میں افغان جنگ لڑی گئی اور وہاں سے متعلق مافوق الفطرت کہانیاں مشہور کی گئیں۔ افغان مہاجرین پاکستان آئے، اور وہ بھی ستّر لاکھ، تو اُنھوں نے یہاں کلاشن کوف، ہیروئن اور اسمگلنگ کلچر فروغ دیا۔ بات یہاں تک بڑھی کہ پاکستان کی عالمی پہچان ایک جہادی یا دہشت گرد مُلک کے طور پر ہونے لگی، لیکن ہمیں پھر بھی ہوش نہیں آیا۔
ایسے آمریت کے ماحول میں، جسے مذہبی رنگ بھی دیا گیا ہو، کس کی مجال تھی کہ معاشی ترقّی اور معیارِ زندگی کی بات کرے۔ اسی کش مکش میں کئی برس ضائع ہوگئے۔ جب کہ ہمارے چاروں طرف آباد ممالک، جن میں آہنی برادر چین بھی شامل ہے، معیشت اور صرف معیشت کی بات کر رہے ہیں۔ چین، جاپان اور پورے جنوب مشرقی ایشیا میں’’ایمرجنگ اکانومیز‘‘ کی ٹرم متعارف ہوئی۔ اور یہ دنیا میں سب سے تیز رفتار ترقّی کرنے والا خطّہ بنا۔ اب یہ بات کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو، مگر حقیقت یہی ہے کہ بھارت نے بھی اِسی ترقّی کا سِرا پکڑا اور دنیا کے تیز ترقّی کرنے والے ممالک میں شامل ہوگیا۔
اگر ہمیں دشمن کی اصل طاقت کا علم نہ ہو، تو پھر اُس کا مقابلہ کیا کریں گے۔ چین، روس، عرب ممالک، یورپ اور ہمارا قریب ترین دوست امریکا بھی بھارت کا شراکت دار ہے، وہی امریکا، جس سے ہمارے ایک درجن سے زیادہ معاہدے ہیں۔ اب بھارت اُس اسٹیج پر ہے کہ اُسے اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اُس کا سربراہ کون ہے، کیوں کہ ترقّی کی سمت تو من موہن سنگھ طے کر گئے، جو کانگریس کے تھے، جب کہ مودی اُن ہی کی پالیسی فالو کر رہے ہیں۔
دوسری طرف، ہم پڑوس کی مثالوں پر غور کی بجائے تجربات ہی میں اُلجھے ہوئے ہیں اور وہ بھی ناکام تجربات۔ ہم عالمی طور پر اپنے ثالثی کے کردار کی مثالیں دیتے ہیں، جو یقیناً قابلِ تعریف ہے۔ پھر ایران سے دوستی کا دَم بھرنے کے ساتھ، صدر ٹرمپ کے اعتبار کا بھی خُوب ذکر کرتے ہیں، لیکن عام پاکستانی پوچھتا ہے کہ یہ سب ٹھیک، مگر اُسے کیا ملا۔ سات لاکھ پاکستانی تارکینِ وطن کو اِس پالیسی کی قیمت یو اے ای میں ادا کرنی پڑ رہی ہے، کیوں کہ ہم نے کسی جذباتی فیصلے سے یو اے ای جیسے مخلص دوست کو کچھ ناراض کردیا ہے۔
کیا یہ بہت بڑی سفارتی کام یابی ہے؟پچاس سالہ تعلقات تیس دن میں گنوا بیٹھے اور وہ بھی دوسرے کے تنازعے میں۔ اِتنی بھاگ دوڑ کے باوجود عوام کو ڈیڑھ سو روپے منہگا پیٹرول اور بجلی کے ہوش رُبا بل مل رہے ہیں۔ حکومتیں ریلیف ہی نہیں دیتیں، بلکہ ایسا مضبوط معاشی نظام بناتی ہیں، جس میں جھٹکے برداشت کرنے کی صلاحیت ہو۔ ہمارے سامنے کورونا کی وَبا آئی، جس کے دَوران بڑے بڑے ماہرین یورپ اور امریکا کی تباہی کی پیش گوئی کرتے رہے، مگر وہیں ویکسین بنی، جو ہم نے بھی لگوائی۔
امریکا، ایران جنگ کے دَوران بھی چاند پر اُترنے کی تیاری کر رہا ہے اور اُس کا یہ ایک پروگرام90 بلین ڈالرز کا ہے، یعنی ہمارے پورے قومی قرضوں کے برابر۔ روس اور چین مسلسل ترقّی کر رہے ہیں، جب کہ پاکستانی قانونی، غیر قانونی طریقوں سے یورپ، کینیڈا اور عرب ممالک جانے کی تگ و دَو میں مصروف ہیں۔ حالت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ڈی پورٹیشن کی ہلکی سی دھمکی دیتے ہیں یا برطانیہ میں تارکینِ وطن کے قانون میں سختی آتی ہے، تو پاکستانی لرز اُٹھتے ہیں، کیوں کہ ایک کروڑ کے لگ بھگ پاکستانی بیرونِ مُلک رہتے ہیں۔
کراچی دو کروڑ سے زیادہ آبادی کا’’مِنی پاکستان‘‘ ہے، جو درحقیقت تمام پاکستانیوں کی پناہ گاہ ہے، مگر اِتنا بڑا اور اہم شہر کھنڈر بن چُکا ہے۔ شہریوں کو پانی، بجلی اور گیس جیسی سہولتیں میسّر نہیں۔ پھر ماحولیاتی مسائل نے بھی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ یہ کسی پارٹی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ ہے، جہاں اپنی سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی گردن خُود مروڑی جا رہی ہے۔ کہتے ہیں، کوئی اِس شہر کو اون نہیں کرتا اور پانچ، سات ادارے اِس کے مالک ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی طاقت کے مطابق، اپنی مرضی چلاتا ہے۔
کچھ کہو، تو اُسے تعصّب کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ایسی صُورتِ حال میں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم واقعی ترقّی کرنا چاہتی ہے یا پوری قوم یورپ، امریکا، کینیڈا، عرب ممالک یا کسی دوسرے ترقّی یافتہ مُلک میں بسنے کی خواہش مند ہے۔ ہم اپنی زمین کو’’ماں‘‘ کہتے ہیں، پھر اِس ماں کو خستہ حالی میں چھوڑ کر جانے کے لیے ہر طریقہ کیوں اپنا رہے ہیں۔ علمی درس گاہیں سنسان ہو رہی ہیں۔ لوگوں سے پوچھو، تو وہ یہی کہتے ہیں کہ’’ قوم کو آزادی سے لے کر آج تک کوئی قابل اور مخلص لیڈر نہیں ملا۔‘‘
ویسے اِس بات میں کچھ حقیقت بھی ہے، وگرنہ ہمارے47فی صد ہم وطن غربت میں زندگی بسر نہ کر رہے ہوتے۔ ہمارا اکثر بیرونِ ممالک جانا ہوتا ہے، تو پاکستانی تارکینِ وطن وہاں کی ترقّی کی بنیاد پر پاکستان کو کسی کھاتے ہی میں نہیں لاتے کہ اُن کے بقول پاکستانی، جدید دنیا سے بیس، تیس سال پیچھے ہیں اور ہم حکومت کے تمام تر دعووں کے باوجود، تارکینِ وطن کی اِس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ ویزوں کے لیے لگی طویل قطاریں کیا کہہ رہی ہیں اور لوگ جن ممالک کو گالیاں دیتے ہیں، وہیں جانے کے لیے سب کچھ لُٹانے کو کیوں تیار ہیں؟
پاکستان آج تک اپنا معاشی ویژن ہی طے نہیں کرسکا کہ اسے ترقّی کر کے کہاں جانا ہے، دنیا میں کس مقام پر کھڑا ہونا ہے۔ ثالثی اور جنگ جیتنا یقیناً قابلِ تحسین عمل ہے، لیکن کیا یہ قومی ہدف ہوسکتا ہے۔ پڑوس میں دیکھیں کہ آج ایران بالکل تباہ ہے۔ اس کے نو کروڑ شہری کس حال میں ہیں، کسی کو پتا نہیں۔ دس لاکھ ایرانی تارکینِ وطن صرف ایک امریکی ریاست میں رہتے ہیں۔ امریکا اور عرب ممالک سے متعلق تو خبریں آتی رہتی ہیں کہ وہاں کیا چل رہا ہے، مگر ایرانی عوام کے حالات دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔
یہی حال افغانستان کا ہے۔ امریکی انخلا کے بعد خُوب فتح کا جشن منایا گیا، مگر اب بھارت میں مسلم حُکم رانی کے بانی، سلطان محمّد غوری کے شہر’’غور‘‘ میں ایک ماں کھانے پینے کی اشیاء کے لیے ایک سڑک پر اپنے لختِ جگر فروخت کرتی دیکھی گئی۔ غیر مسلم ممالک میں معیشت اور ترقّی کی دھوم ہے۔ ویت نام جیسا انقلابی مُلک آج کپاس کی مصنوعات میں پاکستان سے آگے نکل چُکا ہے۔ یاد رہے، اِس وقت ویت نام، امریکا کا قریبی حلیف ہے، حالاں کہ اُسی کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی تھی۔
خطّے کے باقی رہنماؤں نے بھی ترقّی کی پالیسی اپنائی اور آج اُن کے ممالک کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ ہمارے ایک دوست جرمنی سے پاکستان آئے تاکہ یہاں اسپتال اور دیگر فلاحی ادارے قائم کرسکیں، ہر گھر کے آگے فور وہیلر گاڑیاں، ہوٹلز پر رش، لاہور، کراچی، اسلام آباد کی نائٹ لائف دیکھنے کے بعد وہ یہ کہتے واپس چلے گئے کہ’’بھئی، تم لوگ تو ہم سے زیادہ خوش حال ہو۔ تمہیں پیسے کی کیا ضرورت، گاڑیاں خریدتے رہو اور کھانے کھاتے رہو۔ تمہارے بازار رات دو بجے تک کُھلے رہتے ہیں، جب کہ ہم غریب یورپیئن تو شام چھے بجے ہی سب کچھ بند کر دیتے ہیں۔‘‘
پاکستانی قوم اگر واقعی ترقّی کرنا چاہتی ہے، تو اُسے ایک اکانومک ویژن کی ضرورت ہوگی۔ ایک ایسا ویژن، جو اس کے شہریوں کو بتا سکے کہ انہیں کیا حاصل کرنا ہے۔ جاپان میں آزادی کے ساٹھ سال بعد تک ہر سال نیا وزیرِ اعظم آتا رہا، لیکن مجال ہے کہ ترقّی کی رفتار میں رتّی بھر فرق آیا ہو۔ اُنہوں نے تو کبھی نہیں کہا کہ سیاسی عدم استحکام نے مار ڈالا۔
دنیا میں کہیں جنگ ہو رہی ہو، پاکستان پر اُس کے اثرات ضرور مرتّب ہوتے ہیں، اب بھلا یہ کوئی پالیسی ہے۔ مشکل فیصلے صرف عوام پر ٹیکس لگانا نہیں، بلکہ اُسے ویژن دے کر خود بھی عمل کرنا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے چھوٹے چھوٹے ممالک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر سیکڑوں ارب ڈالرز ہیں، وہاں کوئی نظریاتی کھینچا تانی نہیں، دنیا کے جھگڑوں سے دُور، اپنی ترقّی میں مگن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اُن ممالک کے شہری اِدھر اُدھر بھاگتے نہیں پِھرتے۔ ٹوٹی سڑکوں، پانی اور بجلی کے بحران کا تو اُنھیں شاید علم ہی نہیں۔ وہاں کے دانش وَر اور تجزیہ کار اپنے معاملات حل کرتے ہیں، نہ کہ دنیا بَھر کے جھگڑوں میں اُلجھے رہتے ہیں۔
ہماری لیڈرشپ کو بھی فرضی یک جہتی کی بجائے ٹھوس معاشی اہداف پر متفّق ہونا ہوگا۔ جو کام کل ایک ہفتے میں ہوتا تھا، اب ٹیکنالوجی کی مدد سے گھنٹوں میں ہوجاتا ہے۔ میلوں طویل سڑکیں اور فلائی اوورز چند دنوں میں تعمیر ہوجاتے ہیں۔ چین اپنے دیہات کو جدید شہروں کی شکل دے چُکا ہے اور ہمارے لیڈر وہاں کے خالی خولی دورے کرکے واپس آجاتے ہیں، حالاں کہ اِن لیڈرز کی بجائے انجینئرز یا ٹیکنالوجی ماہرین کو وہاں جانا چاہیے تاکہ وہاں کی ترقّی کا ماڈل سمجھ سکیں۔
سچ پوچھیں، تو لوگ پاکستانیوں پر ہنستے اور اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں، جب اُن کے بلند بانگ دعوے سُن کر مُلک کے عوام اور یہاں کے شہروں کی حالت دیکھتے ہیں۔ اگر اِس کے باوجود، ہم نے محنت سے اپنے لیے کوئی مقام نہیں بنایا، تو پھر کہنے سُننے کے لیے کیا رہ جاتا ہے۔ ہمیں ہر مُلک سے بات کرنے سے پہلے پاکستان کو اوّلیت دینی ہوگی۔ یعنی ہم اُس کے لیے کیا کرتے ہیں اور بدلے میں وہ ہمیں کیا دے گا۔
برادری، دوستی اور بھائی چارے کی باتیں بہت ہوچُکیں۔ اچھے تعلقات کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اپنے مفادات پسِ پُشت ڈال کر دوسروں کے بکھیڑوں میں پڑ جائیں۔ یہ کام تو امریکا اور چین جیسے ممالک ہی ٹائم پاس کے طور پر کرتے ہیں یا کرسکتے ہیں، ہمارے لیے تو ابھی کرنے کو بہت کچھ ہے۔ ہماری جو حالت ہے، وہ تو ہم سے صرف’’کام، کام اور کام‘‘ ہی کا تقاضا کرتی ہے۔