• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہر کراچی ہو، 131.718ایکڑ زمین ہو وہ بھی شہر کے شاید مہنگے ترین علاقوں میں سے ایک اور اس پر طاقتور ’لینڈ مافیا‘ کی نظر نہ ہو یہ ممکن نہیں جس کیلئے یہ لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ آپ بھی سوچ رہے ہونگے میں کس زمین کی بات کر رہا ہوں تو جناب میں بات کر رہا ہوں بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کے ’مزار‘ کی جو نہ صرف ’سیکورٹی خطرات‘ کے باعث 2023سے عام آدمی کیلئے بند ہے بلکہ اسکے اردگرد کا علاقہ جو 1971کے ایکٹ کے تحت اسی کا حصہ تصور کیا جاتا ہے اسے لینڈ مافیا سے خطرہ ہے اور اس کی نگراں کمیٹی یا بورڈ کی بار بار شکایت کے باوجود تجاویزات میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ اب اس کو ملنے والے سالانہ اخراجات کی کہانی تو اپنی جگہ مگر اچھا ہوا کچھ تاخیر سے ہی سہی کم از کم سینٹ کی کمیٹی برائے قومی ورثہ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک سینیٹر پی پی پی کے وقار مہدی نے یہ مسئلہ اٹھایا اور حال ہی میں انہی کی صدارت میں اسکی سب کمیٹی نے اجلاس میں مزار قائد اور اس کے اردگرد کی زمینوں بشمول باغِ جناح کو محفوظ بنانےکیلئے چند اہم اقدامات کیے۔ جو حالات اس علاقے اور مزار کے احاطہ کے ہیں تو بس شکر کریں کہ جس بین الاقوامی سروے نے اس شہر قائد کو 173قابل رہائش شہروں میں 170ویں نمبر پر پہنچا دیا اس نے ادھر کا دورہ نہیں کیا ورنہ ہم آخری نمبر پر ہوتے۔

لگتا ہے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان خدشات کا اندازہ تھا اسی لئے کہتے ہیں کہ انہوں نےکسی تقریب یا جلسے میں اس وقت کے صوبائی وزیر بلدیات جام صادق علی کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہِ مذاق ہی سہی کہا، ’’مجھے زمینوں کی بندر بانٹ کی بڑی خبریں مل رہی ہیں بس مزار قائد کو بخش دینا۔ ‘‘ یہی نہیں 1975میں بھٹونے ایک ایکٹ کے ذریعے مزار کی باؤنڈری وال کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ مگر اس کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی انکشاف سامنے آیا کہ پچھلے 60سال سے اس کی مرمت ہی نہیں کی گئی۔ بات اب کچرا کنڈی سےلےکر ڈرگ مثلاً چرس اور ہیروئین پینے والوں سے ’تجاوزات‘ تک آ گئی ہے۔ بہرکیف اب اگر اس بات کا صرف نوٹس ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات کا فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تواس کی کوئی ڈیڈ لائن بھی مقرر ہونی چاہیے یعنی تجاوزات دنوں نہیں تو ہفتوں میںختم کی جاسکتی ہیں۔ اور اگر مقامی انتظامیہ کا یہی رویہ برقرار رہا تو ا ن افسران کو بھی فارغ کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اچھا پلان جو سامنے آیا وہ باغ جناح کے حوالےسے تھا جہاں ایک طرف شاندار پارک بنایا جا رہا ہے وہیں ایک اعلیٰ معیار کی جلسہ گاہ بھی کیونکہ اب بہرحال کراچی کا تاریخی نشتر پارک سیاسی جلسوں کے قابل نہیں رہا ایک تو گراؤنڈ بھی بہت بڑا نہیں تو دوسراچاروں طرف تجاوزات نے تقریباً گلیاں ختم کر دی ہیں۔ اب باغ جناح کا پلان یہ ہے کہ یہاں جلسوں کیلئے ایک مستقل اور مضبوط اسٹیج بنایا جائے جدید انتظامات کےساتھ جس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا جائے اور آدھا حصہ صرف اور صرف پارک کیلئے ہو۔ ویسے تو اس شہرکے لینڈ مافیا نے بڑے بڑے پارکوں اور کھیلوں کے میدانوں پر قبضہ کر کے بڑے بڑے پلازے کھڑے کر دیے اور ظاہر ہے اگر متعلقہ ادارے خاموش رہے اور کارروائی نہ ہوئی تو بس اسے ’ملاپ‘ہی کہہ سکتے ہیں۔ رہ گئی بات مالی معاملات کی تو غالباً وفاقی حکومت سالانہ 10کروڑ اور سندھ حکومت دوکروڑ دیتی ہے اب یہ پیسہ کیسے خرچ ہوتا ہے تو اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملازمین کو تنخواہیں، تزئین و آرائش، بجلی اور پانی کے بل کے بعد رقم کم پڑ جاتی ہے۔ اب پتا نہیں اس سب کا آڈٹ بھی ہوتاہے یا نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر معاملہ ’مزار قائد‘ کا ہی ہے تو صرف وفاق اور سندھ ہی کیوں رقم دیں پنجاب اور دیگر صوبے بھی گرانٹ دیں آخری بار صرف کے پی حکومت نے 2020 ءمیں 50لاکھ دیے تھے۔

رہ گئی بات سیکورٹی کی تو آخر2023ءمیں جب سیکورٹی الرٹ کی وجہ سے مزار، یعنی وہ حصہ جہاں لوگ فاتحہ پڑھنے جاتےتھے کو عام آدمی کیلئے بند کر دیا تو ان تین برسوں میں سیکورٹی کےکونسے اقدامات کئے گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں کچھ ناخوشگوار واقعات ہو چکے ہیں خود سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو کئی بار وہاں جانے سے روکا گیا ۔ مگر بی بی تو خیر پھر بھی گئیں اور ان کا اپنے ملٹری سیکورٹی کو یہ کہنا، اگر میں آج نہ گئی تو پھر کراچی بھی نہیں جا پاؤنگی ان کی بہادر ی کی مثال ہے تاہم اب کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہےجس میں انتظامیہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کے لوگ بھی شامل ہونگے۔

بظاہر پچھلے کئی سال سے اگر دوستوں کو برا نہ لگے ’مزار قائد ‘ کی اہمیت ترجیحات میں نہیں اور مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کسی غیرملکی سربراہ حکومت یا مملکت کو اس عرصے میں یہاں حاضری کیلئے لایا گیا ویسے تو ہمارے اپنے صدر وزیراعظم بھی شاذ و نادر ہی آتے ہیں کیونکہ اکثر وزیر اعظم ایئر پورٹ سے یا تو گورنر ہاؤس جاتے ہیں یا کوئی بڑی تقریب ہو تو سیدھا اس تقریب میں،شاید ہی کبھی انہوں نے ’مزار قائد‘ کا دورہ کیا ہو۔

’مزار قائد‘ صرف بانیٔ پاکستان، ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور دیگر کئی تحریک پاکستان کے قائدین کی آخری آرام گاہ نہیں بلکہ یہ کئی سیاسی تحریکوں کا محور بھی رہا ہے وہ چاہے فاطمہ جناح کی ایوب خان کے خلاف انتخابی مہم ہو یا 1983 ءمیں تحریک بحالی جمہوریت کا آغاز ۔ بات صرف ایک قائد یا بانی کےمزار کی نہیں بلکہ یہ سارے قائدین جن کی قبریں یہاں ہیں وہ تحریک پاکستان سے لے کر جمہوری پاکستان تک جدوجہد کا حصہ رہے ہیں۔ اب چونکہ ہمارا جمہوری ویژن ہی ختم ہوتا جا رہا ہے اور جمہوریت کی ہر نشانی کو ہی گنجلک کر دیا گیا ہے تو کیا ’شہر قائد‘ اور کیا ’مزار قائد‘۔ آخر سیاسی ورثہ بھی ہمارا قومی ورثہ ہے اور ہمارے اسکولوں کے نصاب میں نہ سہی ہم تو آنیوالی اور موجودہ نسل کو یہ بتا سکتے ہیں کہ پاکستان 1940 ءکو قرار داد اور تحریک کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا۔ اس شہر قائد کی سندھ اسمبلی میں ہی سب سے پہلے سائیں جی ایم سید نےقرارداد پیش کی۔ان تین برسوں میں جب سے مزار کو سیکورٹی تھریٹ ہوا کبھی ایک بار بھی ملک کی اعلیٰ قیادت صدر یا وزیر اعظم نے کوئی اجلاس بلایا۔ مزار کا دورہ کیا؟۔

کیا یہ ہمارا ’قومی المیہ‘ نہیں، باعث شرمندگی نہیں کہ جس شہر کو ہم ’شہر قائد‘ کہتے ہیں ِمنی پاکستان کہتے ہیں ، معاشی شہ رگ اور نا جانے کون کون سے القاب سے نوازتے ہیں۔ اس شہر کو دنیا کے قابل رہائش شہروں کی فہرست میں بنگلہ دیش، لیبیا اور شام کے بعد ناقص سہولتوں مثلاً پانی، صحت ، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور خراب سڑکوں کے باعث سب سے برا شہر قرار دیا جا رہا ہے۔ بات اب شہر قائد سےمزارقائد تک آ گئی ہے، کچھ تو سوچیں۔

تازہ ترین