• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمیونسٹ پارٹی سالگرہ: امریکہ ایران تصادم

تاریخ کے سفر میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب ایک قوم کی داستان، دوسری قوموں کیلئے آئینہ بن جاتی ہے۔ یکم جولائی کا دن اسی نوع کا ایک لمحہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چین نے اپنے قیام کے ایک سو پانچ برس مکمل کیے ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی جماعت کی سالگرہ نہیں، بلکہ ایک ایسے مسلسل سفر کی علامت ہے جس میں ایک منتشر معاشرہ تدریج، نظم، علم اور محنت کے بل پر عالمی سیاست اور معیشت کے مرکز میں جا کھڑا ہوا۔کمیونسٹ پارٹی آف چین کے ایک سو پانچ برس ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ ترقی کا سفر نعروں، خواہشوں یا وقتی جوش سے طے نہیں ہوتا۔ اس کیلئے قومی مزاج میں نظم، پالیسی میں تسلسل اور اداروں میں استحکام پیدا کرنا پڑتا ہے۔ جو قومیں یہ اوصاف اختیار کر لیتی ہیں، تاریخ ان کیلئے نئی راہیں کھول دیتی ہے۔ پاکستان بھی ایران امریکا تنازع میں نئی راہيں کھولنے کیلئے ہمہ وقت مصروف ہے کیونکہ بعض اوقات گولیاں خاموش ہو جاتی ہیں مگر نظریات کی جنگ جاری رہتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات بھی اسی نوع کے ہیں۔ نصف صدی کے قریب عرصہ گزرنے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اصل اختلاف کسی ایک حکومت، کسی ایک معاہدے یا کسی ایک تنازعے کا نہیں، بلکہ مفادات اور نظریات کے اس تصادم کا ہے جس نے پورے خطے کی سیاست کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ امریکہ آج بھی ایران کو اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے تزویراتی مفادات کیلئے ایک بنیادی چیلنج سمجھتا ہے، جبکہ ایران کے اندر انقلاب کی سیاسی قوت بڑی حد تک اسی امریکہ مخالف بیانیے سے اپنی توانائی حاصل کرتی رہی ہے۔ ایران کے مذہبی اور انقلابی حلقوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد اب بھی یہ سمجھتی ہے کہ اگر یہ نعرہ کمزور پڑ گیا تو انقلاب کی نظریاتی بنیاد بھی متزلزل ہوسکتی ہے ۔اسی پس منظر میں ایرانی سپریم لیڈرسیدعلی خامنہ ای کی شہادت اور انکے جنازے کو محض ایک مذہبی یا قومی تقریب نہیں رہنے دیا گیا بلکہ اسے انقلاب کے تسلسل اور استحکام کی علامت بنا دیا گیا۔ اقتدار کی منتقلی کے اس مرحلے میں نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنےوالدکی تدفین میں ہر لمحہ موجود رہے اور اس جنازہ نے یہ سیاسی پیغام دیاکہ نظام میں تسلسل موجود ہے اور قیادت کے خلا کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوئی۔ان دنوں ایران کے بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملے ضرور ہوئے اور جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا، لیکن ان واقعات نے کسی ایسی ہمہ گیر بغاوت کی شکل اختیار نہیں کی جو ریاستی ڈھانچے کو ہلا سکتی۔ تہران سے لیکر دور دراز علاقوں تک ریاستی نظم برقرار رہا، اسی لیے یہ کہنا بےجا ہوگا کہ حکومت کو فوری طور پر کسی وجودی خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔دوسری طرف امریکہ کی پالیسی میں بھی ایک تدریجی تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ایک زمانہ تھا جب اسرائیل کی غیر مشروط حمایت واشنگٹن کی طاقت کی علامت سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہی تعلق بعض حوالوں سے امریکہ کیلئے سفارتی بوجھ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں میں امریکہ نے اسرائیل کو براہِ راست سامنے رکھنے کے بجائے خود زیادہ نمایاں کردار ادا کیا، تاکہ تنازع مزید وسیع نہ ہو اور اسکی سفارتی قیمت بھی کم رہے۔اسکے ساتھ ہی امریکہ عراق اور شام کو اس بات پر آمادہ کرنے میں بھی کامیاب ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایران نواز مسلح گروہوں کے خلاف زیادہ مؤثر کارروائیاں کریں۔ اگر یہ حکمتِ عملی مستقل شکل اختیار کرتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔ تاہم اسکے مضمرات صرف عراق اور شام تک محدود نہیں رہیں گے۔ ترکی، خلیجی ریاستیں اور پورا خطہ اسکے اثرات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی بھی بڑی تبدیلی ہمیشہ سرحدوں سے آگے جا کر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اختیار کیے گئے مؤقف اور اقدامات کو عالمی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ عالمی برادری نے بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ کو ترجیح دی، حتیٰ کہ چین جیسے قریبی شراکت دار نے بھی بین الاقوامی سمندری حدود میں ایسی کارروائیوں کی حمایت نہ کی۔ یورپ کا رویہ اس پورے بحران میں قابلِ غور رہا۔ یورپی قیادت نے شعوری طورپر خود کو ایران پر امریکی حملوں کی مکمل تائید سے الگ رکھا، جبکہ یورپی عوام کی بڑی تعداد نے جنگ کے اس راستے کی کھلے عام مخالفت کی۔ اسکے باوجود غزہ کے معاملے میں یورپ کی رائے یکساں نہیں۔ اگرچہ اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید تنقید اور ناپسندیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن ایک حلقہ اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ المیے کی ابتدا حماس کے سات اکتوبر کے حملے سے ہوئی تھی۔ اسی لیے یورپی رائے عامہ میں ہمدردی اور تنقید دونوں ایک ساتھ موجود ہیں۔

حماس کا ذکر آئے تو ایک اور اہم پہلو سامنے آتاہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونیوالی حالیہ مفاہمتی پیش رفت نے حماس کی توقعات پوری نہیں کیں۔ اس مفاہمتی فریم ورک میں نہ غزہ کا ذکر ہے اور نہ وہ خود کو اس عمل میں نظرانداز محسوس کرتی ہے۔ تاہم ایک مثبت تبدیلی یہ سامنے آئی ہے کہ حماس اب ایک نئی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام پر آمادہ دکھائی دیتی ہے، جو فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمت اور مشترکہ سیاسی نظم کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جنگ، سفارتکاری اور داخلی سیاست ایک دوسرے میں اس طرح گندھ چکے ہیں کہ کسی ایک واقعے کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ آنے والے مہینے یہ طے کریں گے کہ خطہ ایک نئے توازن کی طرف بڑھتا ہے یا پرانے تنازعات ایک بار پھر نئی شدت کے ساتھ سر اٹھاتے ہیں۔ البتہ ایک حقیقت اب پہلے سے زیادہ واضح ہے کہ بندوقیں میدان بدل سکتی ہیں، مگر پائیدار استحکام کا راستہ بالآخر مذاکرات، سیاسی حقیقت پسندی اور علاقائی توازن سے ہی نکلتا ہے۔

تازہ ترین