• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اگر آپ نے بھی گھرکی چھت پر لگا ٹی وی انٹینا ٹھیک کیا ہوا ہے تو آپ کو یاد ہوگا کہ تب کبھی کسی کو بے وقت کی بھوک نہیں لگا کرتی تھی۔آدھی قوم 8 بجے کا ڈرامہ دیکھ کر سونےکیلئے لیٹ جاتی تھی، باقی آدھی 9بجے کا سرکاری خبرنامہ بھی سن لیتی تھی۔ یوں کل ملا کے تقریباً 10بجے گلیاں سنُجیاں ہوجاتی تھیں اور گلی میں چوکیدار کی سیٹیاں گونجنے لگتی تھیں۔ جو تھوڑے بہت پھر بھی ٹی وی کھولے بیٹھے رہتے تھے ان کیلئے ’راگ رنگ‘ کی صورت میں موسیقی کا پروگرام نشر کیا جاتا تھا جو اکثر بے خوابی کا بہترین علاج ثابت ہوتا تھا۔ نئی نسل یقین نہیں کرئیگی لیکن یہ وہ وقت تھا جب ٹی وی باقاعدہ بند ہوجایا کرتا تھا اوراسکرین پر صرف ’لہریں‘ آنا شروع ہوجاتی تھیں۔بات ہورہی تھی بے وقت کی بھوک کی، تو اس وقت ناشتہ، دوپہر کاکھانا اور رات کا کھانا ہوتا تھا۔درمیان میں زیادہ سے زیادہ قلفی، بسکٹ، لچھے یا ٹافیوں کی عیاشی ہوجاتی تھی اور اُس پر بھی والدین سیخ پا ہوجاتےتھے کہ ’باہر کی چیزیں نہیں کھانی چاہئیں۔‘اُس وقت چونکہ فریج،سوئی گیس اور ایل پی جی کے سلنڈرہر گھر میں نہیں ہوتے تھے اس لیے کھانابھی ناپ تول کر بنتا تھاا ور ہرروز تازہ بنتا تھا۔اکٹھے بیٹھ کر کھانا مجبوری تھی کیونکہ پتا تھا کہ یہی کھانے کا وقت ہے ورنہ دوبارہ چولہا نہیں جلے گا۔پورے گھر میں ایک واٹر کولر ہوتا تھا جس میں دو وقت برف ڈالی جاتی تھی اور گزارا ہوجاتا تھا۔پاؤگوشت خریدنا تو معمول تھا۔فریج عام ہوئے تو ذخیرہ اندوزی کی ہوس بھی بڑھ گئی۔مائیکروویو اوون آیا تو اکٹھے بیٹھ کر کھانے کی عادت بھی گئی۔ اِن دوچیزوں نے دِن رات کا تصور ختم کرکے رکھ دیا ۔اب کوئی مسئلہ نہیں۔ جس کو بھوک لگتی ہے وہ فریج میں سے ٹھنڈا سالن نکال کر اوون میں گرم کرتاہے اور خود ہی کھا لیتاہے۔پہلے کھانا صرف مائیں بہنیں بنا کردیا کرتی تھیں اب ہوم ڈلیوری نے کام آسان کردیا ہے۔رات کے کسی بھی پہر کھانے کا آرڈر کیا جاسکتاہے اور فوری بھوک کی صورت میں نوڈلز بنا کر پیٹ بھرا جاسکتاہے۔اب موبائل کی اسکرین دیکھتے دیکھتے رات گزر جاتی ہے اور جماہیاں لیتے لیتے دن۔چوکیدار نے بھی ’جاگتے رہنا‘ کی آواز لگانی چھوڑ دی ہے۔

آج سے لگ بھگ تیس سال پہلے میری کتاب”نوخیزیاں“ شائع ہوئی تو مختلف احباب کی طرف سے اتنی کثیر تعداد میں ہتک عزت کے عدالتی سمن موصول ہونے لگے کہ میرا کمرہ ’سمن آباد‘ لگنے لگا۔اُن دنوں ایسا ہی ہوتا تھا،کسی کو ذرا سی بات بھی ناگوارِ خاطر گزرتی تو سیدھا چوبیس ہزار نو سو نناوے روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیتا تھا پورے پچیس ہزار کا اس لیے نہیں کیونکہ پچیس ہزار پر کورٹ فیس لگتی تھی۔ایک ہی ٹی وی چینل ہوتا تھا اس لیے یار لوگ اخباری کالموں میں دل کی بھڑاس نکالتے تھے۔جو کالم نگار ی اور صحافت سے ناواقف ہوتے تھے وہ اپنا اخبار نکال لیتے تھے اور جو ان تینوں چیزوں سے عاری ہوتے تھے وہ بڑے آرام سے دشنام طرازی کے تمام لوازمات سے بھرپور تحریر لکھتے،سو دوسو کاپیاں کرواتے اورساری ادیب برادری کو پوسٹ کر دیتے،نہ سنسر کا ڈر، نہ ایڈیٹر کی منتیں بلکہ اکثر تو نیچے نوٹ بھی لکھ دیتے تھے کہ اگر اس کی بیس کاپیاں کروا کے تقسیم نہ کروائیں تو ساری زندگی مشاعرے میں شرکت کیلئے ترستے رہو گے۔ پھر سوشل میڈیا آگیا۔ایک سے ایک تیکھا اور کرارا جملہ سننے کو ملنے لگا، میمز کی شکل میں نئی صنف تحریردیکھنے کو ملی لیکن عدم برداشت اور زیادہ بڑھ گئی۔مجھے یادہے میں نے بہت سال پہلے ایک اخبار میں ذات پات کے خلاف مزاحیہ کالموں کی ایک سیریز شروع کی تھی۔پڑھنے والوں نے بھی خوب انجوائے کیا لیکن آج سوچتا ہوں تو دہل جاتاہوں کہ کیا میں وہ سارے کالم آج اُسی صورت میں دوبارہ پیش کرسکتا ہوں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آج عدم برداشت پہلے کی نسبت نہ صرف بڑھ چکی ہے بلکہ لوگوں نے اسے ذاتی دشمنی کا روپ دے دیا ہے۔ رویوںکے تضاد کا عالم یہ ہے کہ معاشرے کی اکثریت عملی طور پر انٹرٹینمنٹ کے تمام ذرائع سے بھرپور لطف اندوزبھی ہوتی ہے لیکن ذاتی حیثیت میں اس کی سخت مخالف بھی ہے۔شاید یہ اُس خوف کا اثرہے جو ہماری رگوں میں سرایت کرچکا ہے۔ہمیں یقین ہوچکاہے کہ اگر ہم نے اجتماعی نقطہ نظر کے خلاف کوئی بات کی تو گرفت میں آجائیں گے۔جوفیصلے ہم معاشرے پر نافذ کرناچاہتے ہیں وہ اپنے وجود پر نافذ نہیں کرپاتے۔جس حق سچ کوہم عوامی طورپر بیان کرتے ہیں اس کا ایک فیصد بھی ہمارے گھروں یا ہماری ذات میں نظر نہیں آتا۔

نجم مزاری میرے اُن احباب میں شامل ہیں جو پختہ سوچ کے حامل ہیں، نہایت نپی تلی بات کرتے ہیں اور پوری دلیل سے کرتے ہیں۔پچھلے دنوں انہوں نے ایک بہت اہم مسئلے پربہت سے لوگوں کے دلی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔میں ان سے اجازت کے ساتھ ان کانقطہ نظرپیش کر رہا ہوں۔وہ لکھتے ہیں کہ’ ’مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام شہری، چھوٹے کاروبار، دکانداروں اور متوسط طبقے پر شدید مالی دباؤ ڈال دیا ہے۔ رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کے کرایوں میں ہر سال ہونے والا اضافہ اس دباؤ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ حکومت ایک محدود مدت کیلئے دو سالہ رینٹ فریز نافذ کرنے پر غور کرے تاکہ عوام اور کاروباروں کو معاشی استحکام حاصل ہو سکے۔اس سلسلے میں رہائشی اور کمرشل جائیدادوںکے موجودہ کرائے دو سال تک برقرار رکھے جائیں۔اس سے نہ صرف مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ لاکھوں کرایہ دار خاندانوں کو مالی ریلیف بھی ملے گا۔ چھوٹے کاروباروں اور دکانوں کو بند ہونے سے بچانے میں مدد ملے گی اور بے روزگاری میں ممکنہ کمی ہوگی۔جائیداد کے مالکان کو نقصان سے بچانےکیلئے پراپرٹی ٹیکس میں رعایت دی جائے اورکرایہ نہ ادا کرنے والے کرایہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کو تیز اور موثر بنائی جائے اس مقصد کیلئے خصوصی رینٹ ٹربیونلز کو فعال کیاجائے۔ کرائے دار کوضرور ریلیف ملنا چاہیے لیکن مالک مکان کا بھی نقصان نہیں ہونا چاہئے۔‘‘

تازہ ترین